الحشر

March 8, 2010

قرآن مجید کی 59 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 24 آیات ہیں۔

نام

دوسری آیت کے فقرے اخرج الذین کفرو من اھل الکتٰب من دیارھم لاول الحشر سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ الحشر آیا ہے۔

زمانۂ نزول

بخاری و مسلم میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سورۂ حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوۂ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس طرح سورۂ انفال غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سعید بن جبیر کی دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ قل سورۃ النضیر یعنی یوں کہو کہ یہ سورۂ نضیر ہے۔ یہی بات مجاہد، قتادہ، زہری، ابن زید، یزید بن رومان، محمد بن اسحاق وغیرہ حضرات سے بھی مروی ہے۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی النضیر ہی ہیں۔ یزید بن رومان، مجاہد اور محمد بن اسحاق کا قول یہ ہے کہ از اول تا آخر یہ پوری سورت اسی غزوہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ غزوہ کب واقع ہوا تھا؟ امام زہری نے اس کے متعلق عروہ بن زبیر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ جنگ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا ہے۔ لیکن ابن سعد، ابن ہشام اور بلاذری اسے ربیع الاول 4ھ کا واقعہ بتاتے ہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ یہ غزوہ بئر معونہ کے سانحہ کے بعد پیش آیا تھا اور اور یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بئر معونہ کا سانحہ جنگ احد کے بعد رونما ہوا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔

تاریخی پس منظر

اس سورہ کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینۂ طیبہ اور حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈال لی جائے کیونکہ اس کے بغیر آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آخر کار ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے حقیقی اسباب کیا تھے۔ عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑ سکے اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آ کر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑ گئے تھے، اور دنیا کے یہودی سرے سے ان کو اپنوں مین شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتٰی کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں ان میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہود عرب کی تاریخ کا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلایا ہوا تھا۔ حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے آخر عہد میں یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عمالقہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کو کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آ کر فرمان نبی کی تعمیل کی، مگر عمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا، اسے انہوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین پہنچے۔ اس وقت حضرت موسٰی کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بنا پر انہوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا اور اسے مجبوراً یثرت واپس آ کر یہیں بس جانا پڑا۔ [1] ۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ 1200 برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں لیکن در حقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔ دوسری یہودی مہاجرت، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق 587 قبل مسیح میں ہوئي جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتر بتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آ کر وادی القریٰ، تیماء اور یثرب میں آباد ہو گئے تھے۔ [2] لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70ء میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور پھر 132ء میں انہیں اس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہو گئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آ کر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سر سبز باغات دیکھے، وہاں ٹھیر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعہ سے ان پر قبضہ جما لیا۔ ایلہ، مقنا، تبوک، تیماء، وادی القریٰ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا اور بنی قریظہ، بنی نضیر، بنی یبدل اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوئے۔ یثرب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے کیونکہ وہ کاہنوں (Priest یا Cohens) کے طبقہ میں سے تھے، انہیں یہودیوں میں عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے اس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انہوں نے دبا لیا اور عملاً اس سر سبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباًً تین صدی بعد 450ء یا 451ء میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۂ سبا کے دوسرے رکوع میں کیا گیا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کے عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غسانی شام میں، لخمی حیرہ (عراق) میں، بنی خزاعہ جدہ و مکہ کے درمیان اور اوس و خزرج یثرب میں جا کر آباد ہوئے۔ یثرب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے، اس لیے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چاروناچار بنجر زمینوں پر بس گئے جہاں ان کو قوت لایموت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخرکار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اوس و خزرج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے، بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہو گئے۔ تیسرے قبیلے بنی قینقاع کی چونکہ ان دونوں یہودی قبیلوں سے ان بن تھی، اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لیے اسے قبیلۂ خزرج کی پناہ لینی پڑی اور اس کے مقابلے میں بنی نضیر و بنی قریظہ نے قبیلۂ اوس کی پناہ لی تاکہ اطراف یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری سے پہلے، آغاز ہجرت تک، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خدوخال یہ تھے: * زبان، لباس، تہذیب اور تمدن، ہر لحاظ سے انہوں نے پوری طرح عربیت کا رنگ اختیار کر لیا تھا، حتٰی کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہو گئے تھے۔ 12 یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زعوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ ان کے چند گنے چنے علماء کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا۔ زمانۂ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انہیں ممیز کرتی ہو۔ ان کے اور عربوں کے درمیان شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ در حقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے، اور انہوں نے شدت کے ساتھ یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔ یہ ظاہری عربیت انہوں نے صرف اس لیے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہ سکتے تھے۔ * ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے، یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سرگرمی دکھائی ہو، یا ان کے علماء نصرانی پادریوں اور مشنریوں کی طرح اہل عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہل عرب کو وہ اُمی (Gentiles) کہتے تھے، جس کے معنی صرف ان پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے۔ سرداران عرب کے ماسوا، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انہیں دین یہود میں داخل کر کے برابر کا درجہ دے دیں۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، نہ روایات عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرورملتا ہے جو یہودی ہو گئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجائے صرف اپنے کاروبار سے دلچسپی تھی۔ اسی لیے حجاز میں یہودیوں ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض اسرائیلی قبیلوں کا سرمایۂ فخر و ناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علماء نے تعویذ گنڈوں اور فال گیری اور جادوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا جس کی وجہ سے عربوں پر ان کے “علم” اور “عمل” کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ * معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے، اس لیے وہ بہت سے ایسے فنون جانتے تھے جو اہل عرب میں رائج نہ تھے اور باہر کی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ ان وجوہ سے یثرب اور بالائی حجاز میں غلے کی درآمد اور یہاں سے چھوہاروں کی برآمد ان کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پربھی زیادہ تر انہی کا قبضہ تھا۔ پارچہ بافی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا۔ جگہ چگہ میخانے بھی انہوں نے قائم کر رکھے تھے جہاں شام سے شراب لا کر فروخت کی جاتی تھی۔ بنی قینقاع زیادہ تر سنہار اور لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے۔ اس سارے بنج بیوپار میں یہ یہودی بے تحاشا منافع خوری کرتے تھے لیکن اس کا سب سے بڑا کاروبار سود خواری کا تھا جس کے جال میں انہوں نے گرد و پیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھا تھا اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار جنہیں قرض لے لے کر ٹھاٹھ جمانے اور شیخی بگھارنے کی بیماری لگی ہوئي تھی، ان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ یہ بھاری شرح سود پر قرضے دیتے، اور پھر سود در سود کاچکر چلاتے تھے جس کی گرفت میں آ جانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا۔ اس طرح انہوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا، مگر اس کا فطری نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی۔ * ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ عربوں میں سے کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد کا تقاضا یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں، اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے، وہ ان بڑی بڑی جائیدادوں اور باغات اور سر سبز زمینوں پر انہیں قابض نہ رہنے دیں گے جو انہوں نے اپنی منافع خوری اور سود خواری سے پیدا کی تھی۔ مزید برآں اپنی حفاظت کے لیے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقت ور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے، تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس بنا پر بارہا انہیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا، بلکہ بسا اوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلہ کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہو جاتا تھا جس کے حلیفہ تعلقات فریق مخالف ہوتے تھے۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اوس کے حلیف تھے اور بنی قینقاع خزرج کے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جو خونریز لڑائی بعاث کے مقام پر ہوئی تھی اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔ (دیکھیے: جنگ بعاث) یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اولین کام کیے ان مین سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی (دیکھیے: مؤاخات) اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے (دیکھیے: میثاق مدینہ)اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی:

یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا، اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئي ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے۔ اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکائے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا

یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑی وجوہات تین تھیں: 1. ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود ان کے اپنے رسولوں اور کتب پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت جھوڑ کر ان احکام الٰہی کی اطاعت اختیار کرنے اور ان کی اخلاقی حدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ ان کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگر چل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔ 2. دوسرے یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ گرد و پیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملت بنتے جا رہے ہیں، انہیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ ته ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ 3. تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کر رہے ہیں اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدباب شامل تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود کو بھی آپ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہو گئی تو آپ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔ ان وجوہ سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بدگمان ہو جائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے برگشتہ ہو جائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے برپا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کا ہدف تھے جن سے ان کے مدتہائے دراز سے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہو جائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا، ان میں سے جونہی کوئي شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے تھے۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کا ناک میں دم کر دیتے، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا، اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔ معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کر چکے تھے۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ اس جنگ سے وہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کرمسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہید ہو گئے، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی، اور اب ابو جہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔ بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ

خدا کی قسم اگر محمد نے ان اشرافِ عرب کو قتل کر دیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اُس کی پیٹھ سے بہتر ہے

پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سردارانِ قریش مارے گئے تھے ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفا کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہارِ عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ربیع الاول 3ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرادیا [3] یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا، بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ سنہار، لوہار اور ظروف ساز تھے، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔ آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مردانِ جنگی ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلۂ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبد اللہ بن ابی ان کا پشتیبان تھا۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو برسرِ عام برہنا کر دیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا۔ جب حالات اس حد تک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی مگر انہوں نے جواب دیا “اے محمد! تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انہیں مار لیا۔ ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں”۔ یہ گویا صاف صاف اعلانِ جنگ تھا۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شوال (اور بروایت بعض ذی القعدہ) 2ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کر لیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبد اللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کر دیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی درخواست قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلاتِ صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں۔ [3] ان دو سخت اقدامات (یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی مگر اس کے بعد شوال 3ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے، اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں، تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکۂ احد میں مسلمانوں کو نقصانِ عظیم پہنچا تو ان کی جراتیں اور بڑھ گئیں، یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہو گئی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ (صفر 4ھ) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کے قتل کر دیا جو دراصل ایک معاہد قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آ گیا تھا، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خوں بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میںلگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اُس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے جس کی دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے، اللہ تعالٰی نے آپ کو بروقت خبردار کر دیا، اور آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آ گئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ، اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھیرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبد اللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے، تم ڈٹ جاؤ اور ہر گز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر لیجیے۔ اس پر ربیع الاول 4ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا محاصرہ کر لیا، اور صرف چند روز کے محاصرے کے بعد (جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہو گئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کر لے جا سکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سرزمین خالی کرا لی گئی۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہوکر یہاں ٹھیر گئے۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔ یہی واقعہ ہے جس سے اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔

موضوع اور مضامین

سورت کا موضوع، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے۔ اس میں بحیثیت مجموعی چار مضامین بیان ہوئے ہیں: 1. پہلی چار آیتوں میں دنیا کو اس انجام سے عبرت دلائی گئی ہے جو ابھی ابھی بنی نضیر نے دیکھا تھا۔ ایک بڑا قبیلہ جس کے افراد کی تعداد اس وقت مسلمانوں کی تعداد سے کچھ کم نہ تھی، جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھا ہوا تھا، جس کے پاس جنگی سامان کی بھی کمی نہ تھی، جس کی گڑھیاں بڑی مضبوط تھیں، صرف چند روز کے محاصرے کی تاب بھی نہ لا سکا اور بغیر اس کے کہ کسی ایک آدمی کے قتل کی بھی نوبت آئی ہوتی وہ اپنی صدیوں کی جمی جمائی بستی چھوڑ کر جلا وطنی قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طاقت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے نبرد آزما ہوئے تھے اور جو لوگ اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کی جرات کریں وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ 2. آیت 5 میں قانون جنگ کا یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے دشمن کے علاقے میں جو تخریبی کارروائی کی جائے وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی۔ 3. آیت 6 سے 10 تک یہ بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی زمینوں اور جائیدادوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے جو جنگ یا صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے زیر نگیں آئیں۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک مفتوحہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا اس لیے یہاں اس کا قانون بیان کر دیا گیا۔ 4. آیت 11 سے 17 تک منافقین کے اس رویہ پر تبصرہ کیا گیا ہے جو انہوں نے جنگ بنی نضیر کے موقع پر اختیار کیا تھا، اور ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جو درحقیقت ان کے اس رویے کی تہ میں کام کر رہے تھے۔ 5. آخری رکوع پورا کا پورا ایک نصیحت ہے جس کے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہوں، مگر ایمان کی اصل روح سے خالی رہیں۔ اس میں ان کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا کیا ہے، تقویٰ اور فسق میں حقیقی فرق کیا ہے، جس قرآن کو ماننے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے، اور جس خدا پر ایمان لانے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ کن صفات کا حامل ہے۔

حوالہ جات

1. ^ کتاب الاغانی، ج 19، ص 94 2. ^ فتوح البلدان، البلاذری 3. ^ 3.0 3.1 ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری

المجادلہ

March 8, 2010

قرآن مجید کی 58 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 22 آیات ہیں۔

نام

اس سورت کا نام المجادَلہ بھی ہے اور المجادِلہ بھی۔ یہ نام پہلی ہی آیت کے لفظ “تجادلک” سے ماخوذ ہے۔ چونکہ سورت کے آغاز میں ان خاتون کا ذکر آیا ہے جنہوں نے اپنے شوہر کے ظہار کا قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پیش کر کے بار بار اصرار کیا تھا کہ آپ کوئی ایسی صورت بتائیں جس سے ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے، اور اللہ تعالٰی نے ان کے اس اصرار کو لفظِ مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے، اس لیے یہی اس سورت کا نام قرار دیا گیا۔ اس کو اگر مجادَلہ پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے “بحث و تکرار” اور مجادِلہ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے “بحث و تکرار کرنے والی”

زمانۂ نزول

کسی روایت میں اس امر کی تصریح نہیں کی گئی ہے کہ مجادلہ کا یہ واقعہ کب پیش آیا تھا۔ مگر ایک علامت اس سورت کے مضمون میں ایسی ہے جس کی بنا پر یہ بات تعین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس کا زمانہ غزوۂ احزاب (شوال 5ھ) کے بعد کا ہے۔ سورۂ احزاب میں اللہ تعالٰی نے منہ بولے بیٹے کے حقیقی بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے صرف یہ ارشاد فرما کر چھوڑ دیا تھا کہ “اور اللہ نے تمہاری اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا ہے۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ظہار کرنا کوئی گناہ یا جرم ہے، اور نہ یہ بتایا گیا تھا کہ اس فعل کا شرعی حکم کیا ہے۔ بخلاف اس کے اس سورت میں ظہار کا پورا قانون بیان کر دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مفصل احکام اس مجمل ہدایت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔

موضوع اور مباحث

اس سورت میں مسلمانوں کو ان مختلف مسائل کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں جو اس وقت درپیش تھے۔ آغاز سورت سے آیت 6 تک ظہار کے شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں، اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ متنبہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے بعد بھی جاہلیت کے طریقوں پر قائم رہنا اور اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنا، یا ان کی پابندی سے انکار کرنا، یا ان کے مقابلے میں خود اپنی مرضی سے کچھ اور قاعدے اور قوانین بنا لینا، قطعی طور پر ایمان کے منافی حرکت ہے، جس کی سزا دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی اس پر سخت باز پرس ہونی ہے۔ آیات 7 تا 10 میں منافقین کی اس روش پر گرفت کی گئی ہے کہ وہ آپس میں خفیہ سرگوشیاں کر کے طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بناتے تھے، اور ان کے دلوں میں جو بغض چھپا ہوا تھا اس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہودیوں کی طرح ایسے طریقے سے سلام کرتے تھے جس سے دعا کے بجائے بد دعا کا پہلو نکلتا تھا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ سرگوشیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، اس لیے تم اللہ کے بھروسے پر اپنا کام کرتے رہے، اور اس کے ساتھ ان کو یہ اخلاقی تعلیم بھی دی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان کا کام گناہ اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشیاں کرنا نہیں ہے، وہ اگر آپس میں بیٹھ کر تخلیے میں کوئی بات کریں بھی تو وہ نیکی اور تقویٰ کی بات ہونی چاہیے۔ آیت 11 تا 13 میں مسلمانوں کی مجلسی تہذيب کے کچھ آداب سکھائے گئے ہیں اور بعض ایسے معاشرتی عیوب کو دور کرنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں جو پہلے بھی لوگوں میں پائے جاتے تھے اور آج بھی پائے جاتے ہیں۔ کسی مجلس میں اگر بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور باہر سے کچھ لوگ آ جائیں تو پہلے سے بیٹھے ہوئے اصحاب اتنی سی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ذرا سمٹ کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کر دیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعد کے آنے والے کھڑے رہ جاتے ہیں، یا دہلیز پر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یا واپس چلے جاتے ہیں، یا یہ دیکھ کر کہ مجلس میں ابھی کافی گنجائش موجود ہے، حاضرین کے اوپر سے پھاندتے ہوئے اندر گھستے ہیں۔ یہ صورتحال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلسوں میں اکثر پیش آتی رہتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالٰی نے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائي کہ اپنی مجلسوں میں خود غرضی اور تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کیا کریں بلکہ بعد کے آنے والوں کو کھلے دل سے جگہ دے دیا کریں۔ اس طرح ایک عیب لوگوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کے ہاں (خصوصاً کسی اہم شخصیت کے ہاں) جاتے ہیں تو جم کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس بات کا کچھ خیال نہیں کرتے کہ ضرورت سے زیادہ اُس کا وقت لینا اُس کے لیے باعث زحمت ہوگا۔ اگر وہ کہے کہ حضرت اب تشریف لے جائیے تو برا مانتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر اٹھ جائے تو بد اخلاقی کی شکایت کرتے ہیں۔ اشارے کنایے سے ان کو بتائے کہ اب کچھ دوسرے ضروری کاموں کے لیے اس کو وقت ملنا چاہیے تو سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں۔ لوگوں کے اس طرز عمل سے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی سابقہ پیش آتا تھا اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کے شوق میں اللہ کے بندے اس بات کا لحاظ نہ کرتے تھے کہ وہ بہت زیادہ قیمتی کاموں کا نقصان کر رہے ہیں۔ آخر کار اللہ تعالٰی نے یہ تکلیف دہ عادت چھڑانے کے لیے حکم دیا کہ جب مجلس برخاست کرنے کے لیے کہا جائے تو اٹھ جایا کرو۔ ایک اور عیب لوگوں میں یہ بھی تھا کہ ایک ایک آدمی آ کر خواہ مخواہ حضور سے تخلیہ میں بات کرنے کی خواہش کرتا تھا یا مجلس عام میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کے قریب جا کر سرگوشی کے انداز میں آپ سے بات کرے۔ یہ چیز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے بھی تکلیف دہ تھی اور دوسرے لوگ جو مجلس میں ہوتے، ان کو بھی ناگوار ہوتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالٰی نے یہ پابندی لگا دی کہ جو شخص بھی آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے۔ اس سے مقصود صرف یہ تھا کہ لوگوں کو اس بری عادت سے متنبہ کیا جائے تاکہ وہ اسے چھوڑ دیں۔ چنانچہ یہ پابندی بس تھوڑی دیر تک باقی رکھی گئی اور جب لوگوں نے اپنا طرز عمل درست کر لیا تو اسے منسوخ کر دیا گیا۔ آیت 14 سے آخر سورہ تک مسلم معاشرے کے لوگوں کو، جن میں مخلص اہل ایمان اور منافقین اور مذبذبین سب ملے جلے تھے، بالکل دو ٹوک طریقے سے بتایا گیا ہے کہ دین میں آدمی کے مخلص ہونے کا معیار کیا ہے۔ ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر اس دین سے غداری کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے جس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف طرح طرح کے شبہات اور وسوسے پھیلا کر اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں، مگر چونکہ وہ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہیں اس لیے ان کا جھوٹا اقرار ایمان ان کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔ دوسرے قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اللہ کے دین کے معاملے میں کسی اور کا لحاظ تو درکنار، خود اپنے باپ، بھائی، اولاد اور خاندان تک کی پروا نہیں کرتے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جو خدا اور رسول اور اس کے دین کا دشمن ہے اس کے لیے ان کے دل میں کوئی محبت نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی نے ان آیات میں صاف فرما دیا ہے کہ پہلی قسم کے لوگ چاہے کتنی ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلائیں، درحقیقت وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں، اور اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے کا شرف صرف دوسری قسم کے مسلمانوں کو حاصل ہے۔ وہی سچے مومن ہیں۔ انہی سے اللہ راضی ہے۔ فلاح وہی پانے والے ہیں۔

الحدید

March 8, 2010

قرآن مجید کی 57 ویں سورت جس کے 4 رکوع میں 29 آیات ہیں۔

نام

آیت 25 کے فقرے “وانزلنا الحدید” سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول

یہ بالاتفاق مدنی سورت ہے اور اس کے مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ غالباً یہ جنگ احد اور صلح حدیبیہ کے درمیان کسی زمانے میں نازل ہوئی ہے۔ وہی زمانہ تھا جب مدینہ کی مختصر سی اسلامی ریاست کو ہر طرف سے کفار نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا اور سخت بے سر و سامانی کی حالت میں اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پورے عرب کی طاقت کا مقابلہ کر رہی تھی۔ اس حالت میں اسلام کو اپنے پیرووں سے صرف جانی قربانی ہی درکار نہ تھی بلکہ مالی قربانی بھی درکار تھی، اور اس سورت میں اسی قربانی کے لیے پر زور اپیل کی گئی ہے۔ اس قیاس کو آیت 10 مزید تقویت پہنچاتی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کی جماعت کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ فتح کے بعد جو لوگ اپنے مال خرچ کریں گے اور خدا کی راہ میں جنگ کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں ہو سکتے جو فتح سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ اور اسی کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن مَردُویہ نے نقل کیا ہے۔ وہ آیت “الم یان للذین اٰمنوآ ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ” کے متعلق فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے آغاز سے 17 برس بعد اہل ایمان کو جھنجھوڑنے والی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حساب سے اس کا زمانۂ نزول 4ھ یا 5ھ کے درمیان قرار پاتا ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے۔ اسلام کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں، جبکہ عرب کی جاہلیت سے اسلام کا فیصلہ کن معرکہ برپا تھا، یہ سورت اس غرض کے لیے نازل فرمائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو خاص طور پر مالی قربانیوں کے لیے آمادہ کیا جائے اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی جائے کہ ایمان محض زبانی اقرار اور کچھ ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے دین کے لیے مخلص ہونا اس کی اصل روح اور حقیقت ہے۔ جو شخص اس روح سے خالی ہو اور خدا اور اس کے دین کے مقابلے میں اپنی جان و مال اور مفاد کو عزیز تر رکھے اور اس کا اقرار ایمان کھوکھلا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے ہاں نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالٰی کی صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ سامعین کو اچھی طرح یہ احساس ہو جائے کہ کس عظیم ہستی کی طرف سے ان کو مخاطب کیا جا رہا ہے اس کے بعد حسب ذیل مضامین سلسلہ وار ارشاد ہوئے ہیں: 1. ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی راہ خدا میں مال صرف کرنے سے پہلو تہی نہ کرے۔ ایسا کرنا صرف ایمان ہی کے منافی نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ مال دراصل خدا ہی کا مال ہے جس پر تم کو خلیفہ کی حیثیت سے تصرف کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ کل یہی مال دوسروں کے پاس تھا، آج تمہارے پاس ہے اور کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔ آخر کار اسے خدا ہی کے پاس رہ جانا ہے جو کائنات کی ہر چیز کا وارث ہے۔ تمہارے کام اس مال کا کوئی حصہ اگر آ سکتا ہے تو صرف وہ جسے تم اپنے زمانۂ تصرف میں خدا کے کام پر لگا دو۔ 2. خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا اگرچہ ہر حال میں قابل قدر ہے، مگر ان قربانیوں کی قدر و قیمت مواقع کی نزاکت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی طاقت بڑی زبردست ہو اور ہر وقت یہ خطرہ ہو کہ کہیں اسلام اس کے مقابلے میں مغلوب نہ ہو جائے۔ دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر و اسلام کی کشمکش میں اسلام کی طاقت کا پلڑا بھاری ہو جائے اور اہل ایمان کو دشمنان حق کے مقابلے میں فتح نصیب ہو رہی ہو۔ یہ دونوں حالتیں اپنی اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔ اس لیے جو قربانیاں ان مختلف حالتوں میں دی جائیں وہ بھی اپنی قیمت میں برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اسلام کے ضعف کی حالت میں اس کو سربلند کرنے کے لیے جانیں لڑائیں اور مال صرف کریں ان کے درجہ کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو اسلام کے غلبے کی حالت میں اس کو مزید فروغ دینے کے لیے جان و مال قربان کریں۔ 3. راہ حق میں جو مال بھی صرف کیا جائے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے، اور اللہ اسے نہ صرف یہ کہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دے گا بلکہ اپنی طرف سے مزید اجر بھی عنایت فرمائے گا۔ 4. آخرت میں نور انہی اہل ایمان کو نصیب ہوگا جنہوں نے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا ہو۔ رہے وہ منافق جو دنیا میں اپنے ہی مفاد کو دیکھتے رہے اور جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہی کہ حق غالب ہوتا ہے یا باطل، وہ خواہ دنیا کی اس زندگی میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہے ہوں، مگر آخرت میں ان کو مومنوں سے الگ کر دیا جائے گا، نور سے وہ محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔ 5. مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی طرح نہ ہو جانا چاہیے جن کی عمریں دنیا پرستی میں بیت گئی ہیں اور جن کے دل زمانۂ دراز کی غفلتوں سے پتھر ہو گئے ہیں۔ وہ مومن ہی کیا جس کا دل خدا کے ذکر سے نہ پگھلے اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے نہ جھکے۔ 6. اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید صرف وہ اہل ایمان ہیں جو اپنا مال کسی جذبۂ ریا کے بغیر صدق دل سے اس کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔ 7. دنیا کی زندگی محض چند روز کی بہار اور ایک متاع غرور ہے۔ یہاں کا کھیل کود، یہاں کی دلچسپیاں، یہاں کی آرائش و زیبائش، یہاں کی بڑائیوں پر فخر اور یہاں کا دھن دولت، جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوششیں کرتے ہیں، سب کچھ ناپائیدار ہے۔ اس کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جو پہلے سرسبز ہوتی ہے، پھر زرد پڑ جاتی ہے اور آخر کار بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ پائیدار زندگی دراصل آخرت کی زندگی ہے جہاں بڑے نتائج نکلنے والے ہیں۔ تمہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی ہے تو یہ کوشش جنت کی طرف دوڑنے میں صرف کرو۔ 8. دنیا میں راحت اور مصیبت جو بھی آتی ہے اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق آتی ہے۔ مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ مصیبت آئے تو ہمت نہ ہار بیٹھے، اور راحت آئے تو اِترا نہ جائے۔ یہ تو ایک منافق اور کافر کا کردار ہے کہ اللہ اس کو نعمت بخشے تو وہ اپنی جگہ پھول جائے، فخر جتائے، اور اسی نعمت دینے والے خدا کے کام میں خرچ کرتے ہوئے خود بھی تنگ دلی دکھائے اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کا مشورہ دے۔ 9. اللہ نے اپنے رسول کھلی کھلی نشانیوں اور کتاب اور میزان عدل کے ساتھ بھیجے تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور اس کے ساتھ لوہا بھی نازل کیا تاکہ حق قائم کرنے اور باطل کا سر نیچا کرنے کے لیے طاقت استعمال کی جائے۔ اس طرح اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسانوں میں سے کون لوگ ایسے نکلتے ہیں جو اس کے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کی خاطر جان لڑا دیں۔ یہ مواقع اللہ نے تمہاری اپنی ہی ترقی و سرفرازی کے لیے پیدا کیے ہیں ورنہ اللہ اپنے کام کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ 10. اللہ تعالٰی کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے۔ پھر عیسٰی علیہ السلام آئے جن کی تعلیم سے لوگوں میں بہت سی اخلاقی خوبیاں پیدا ہوئیں، مگر ان کی امت نے رہبانیت کی بدعت اختیار کر لی۔ اب اللہ تعالٰی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھیجا ہے۔ ان پر جو لوگ ایمان لائیں گے اور خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے، اللہ ان کو اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی راہ صاف دیکھ کر چل سکیں گے۔ اہل کتاب چاہے اپنے آپ کو اللہ کے فضل کا ٹھیکہ دار سمجھتے رہیں، مگر اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، اسے اختیار ہے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے۔

الواقعہ

March 8, 2010

قرآن مجید کی 56 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 96 آیات ہیں۔

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ “الواقعه” کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

حضرت عبد اللہ بن عباس نے سورتوں کی جو ترتیبِ نزول بیان کی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ پہلے سورۂ طٰہٰ نازل ہوئی، پھر الواقعہ اور اس کے بعد الشعرآء [1]۔ یہی ترتیب عکرمہ نے بھی بیان کی ہے۔ [2] اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورۂ طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں نے قرآن کے اوراق چھپا لیے۔ حضرت عمر پہلے تو بہنوئی پر پل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمر کو سخت ندامت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے۔ بہن نے کہا “آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں، و انه لا یمسھا الا الطاھر” اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے۔” چنانچہ حضرت عمر نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورۂ واقعہ نازل ہو چکی تھی کیونکہ اس میں آیت “لا یمسه الا المطھرون” وارد ہوئی تھی۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمر ہجرت حبشہ کے بعد سن 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع آخرت، توحید اور قرآن کے متعلق کفار مکہ کے شبہات کی تردید ہے۔ وہ سب سے زیادہ جس چیز کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے وہ یہ تھی کہ کبھی قیامت برپا ہوگی جس میں زمین و آسمان کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پھر تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ جلا اٹھائے جائیں گے اور ان کا محاسبہ ہوگا اور نیک انسان جنت کے باغوں میں رکھے جائیں گے اور گناہ گار انسان دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کا عالمِ واقعہ میں پیش آنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب وہ واقعہ پیش آ جائے گا اس وقت کوئی یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہوگا کہ وہ پیش نہیں آیا ہے، نہ کسی کی یہ طاقت ہوگی کہ اسے آتے آتے روک دے، یا واقعہ سے غیر واقعہ بنا دے۔ اس وقت لازماً تمام انسان تین طبقات میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک سابقین۔ دوسرے، عام صالحین۔ تیسرے وہ لوگ جو آخرت کے منکر رہے اور مرتے دم تک کفر و شرک اور گناہ کبیرہ پر جمے رہے۔ ان تینوں طبقات کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اسے تفصیل کے ساتھ آیت 7 سے 56 تک بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت 57 سے 74 تک اسلام کے ان دونوں بنیادی عقائد کی صداقت پر پے در پے دلائل دیے گئے ہیں جن کو ماننے سے کفار انکار کر رہے تھے، یعنی توحید اور آخرت۔ ان دلائل میں زمین و آسمان کی دوسری تمام چیزوں کو جھوڑ کر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی طرف اور اس غذا کی طرف جسے وہ کھاتا ہے اور اس پانی کی طرف جسے وہ پیتا ہے اور اس آگ کی طرف جس سے وہ اپنا کھانا پکاتا ہے، توجہ دلائی گئی ہے اور اسے اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تو جس خدا کے بنانے سے بنا ہے اور جس کے دیے ہوئے سامان زیست پر پل رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں خود مختار ہونے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی بجا لانے کا آخر تجھے حق کیا ہے؟ اور اس کے متعلق تونے یہ کیسے گمان کر لیا کہ وہ ایک دفعہ تجھے وجود میں لے آنے کے بعد ایسا عاجز و درماندہ ہو جاتا ہے کہ دوبارہ تجھ کو وجود میں لانا چاہے بھی تو نہیں لا سکتا؟ پھر آیت 75 سے 82 تک قرآن کے بارے میں ان کے شکوک کی تردید کی گئی ہے اور ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ بدنصیبو، یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آئی ہے اور تم نے اپنا حصہ اس نعمت میں یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹی بے اعتنائی برتتے ہو۔ قرآن کی صداقت پر دو مختصر سے فقروں میں یہ بے نظیر دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس پر کوئی غور کرے تو اس کے اندر ویسا ہی محکم نظام پائے گا جیسا کائنات کے تاروں اور سیاروں کا نظام محکم ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مصنف وہی ہے جس نے کائنات کا یہ نظام بنایا ہے۔ پھر کفار سے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اس نوشتۂ تقدیر میں ثبت ہے جو مخلوقات کی دسترس سے باہر ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس شیاطین لاتے ہیں، حالانکہ لوح محفوظ سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک جس ذریعہ سے یہ پہنچتی ہے اس میں پاک نفس فرشتوں کے سوا کسی کا ذرا برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ آخر میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ تو کتنی ہی لن ترانیاں ہانکے اور اپنی خود مختاری کے گھمنڈ میں کتنا ہی حقائق کی طرف اندھا ہو جائے، مگر موت کا وقت تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت تو بالکل بے بس ہوتا ہے۔ اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکتا، اپنی اولاد کو نہیں بچا سکتا۔ اپنے پیروں اور پیشواؤں اور محبوب ترین لیڈروں کو نہیں بچا سکتا۔ سب تیری آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں اور تو دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی بالاتر طاقت تیرے اوپر فرمانروا نہیں ہے اور تیرا یہ زعم درست ہے کہ دنیا میں بس تو ہی تو ہے، کوئی خدا نہیں ہے، تو کسی مرنے والے کی نکلتی ہوئی جان کو پلٹا کیوں نہیں لاتا؟ جس طرح تو اس معاملے میں بے بس ہے اسی طرح خدا کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا کو بھی روک دینا تیرے اختیار میں نہیں ہے۔ تو خواہ مانے یا نہ مانے، موت کے بعد ہر مرنے والا اپنا انجام دیکھ کر رہے گا۔ مقربین میں سے ہو تو مقربین کا انجام دیکھے گا۔ صالحین میں سے ہو تو صالحین کا انجام دیکھے گا اور جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو تو وہ انجام دیکھے گا جو ایسے مجرموں کے لیے مقدر ہے۔

حوالہ جات

1. ^ الاتقان للسیوطی 2. ^ بیہقی، دلائل النبوۃ

الرحمن

March 8, 2010

قرآن مجید کی 55 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 78 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی لفظ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جو لفظ الرحمٰن سے شروع ہوتی ہے۔ تاہم اس نام کو سورت کے مضمون سے بھی گہری مناسبت ہے، کیونکہ اس میں شروع سے آخر تک اللہ تعالٰی کے مظاہر و ثمرات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

علمائے تفسیر بالعموم اس سورت کو مکی قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض روایات میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور عکرمہ اور قتادہ سے یہ قول منقول ہے کہ یہ سورت مدنی ہے، لیکن اول تو انہی بزرگوں سے بعض دوسری روایات اس کے خلاف بھی منقول ہوئی ہیں، دوسرے اس کا مضمون مدنی سورتوں کی بہ نسبت مکی صورتوں سے زیادہ مشابہ ہے، بلکہ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور کی معلوم ہوتی ہے۔ اور مزید برآں متعدد معتبر روایات سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ ہی میں ہجرت سے کئی سال قبل نازل ہوئی تھی۔ مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا جس میں حجر اسود نصب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ ابھی فاصدع بما تومر (جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے ہانکے پکارے کہہ دو) کا فرمانِ الٰہی نازل نہیں ہوا تھا۔ مشرکین اس نماز میں آپ کی زبان سے فبای اٰلآءِ ربکما تکذبٰن کے الفاظ سن رہے تھے”۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورت سورۂ الحجر سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ البزار، ابن جریر، ابن المنذر، دارقطنی (فی الافراد)، ابن مدویہ اور الخطیب (فی التاریخ) نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورۂ رحمٰن خود تلاوت فرمائی، یا آپ کے سامنے یہ سورت پڑھی گئی۔ پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ: “کیا وجہ ہے کہ میں تم سے ویسا اچھا جواب نہیں سن رہا ہوں جیسا جنوں نے اپنے رب کو دیا تھا؟” لوگوں نے عرض کیا وہ کیا جواب تھا؟ آپ نے فرمایا “جب میں نے اللہ تعالٰی کا ارشاد فبای اٰلآء ربکما تکذبٰن پڑھتا تو جن اس کے جواب میں کہتے جاتے تھے لا بشی من نعمۃ ربنا تکذب ہم اپنے رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے۔” اسی سے ملتا جلتا مضمون ترمذی، حاکم اور حافظ ابو بکر بزار نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے۔ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں جب لوگ سورۂ رحمٰن کو سن کر خاموش رہے تو حضور نے فرمایا لقد قراتھا علی الجن لیلۃ الجن فکانو احسن مردودا منکم، کنت کلما اتیت علٰی قولب فبای اٰلآءِ ربکما تکذبان قالو لا بشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد۔ یعنی “میں نے یہ سورت اس رات جنوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے۔ جب میں اللہ تعالٰی کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے اے ہمارے پروردگار، ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، حمد تیرے ہی لیے ہے۔” اس روایت سے معلوم ہوا ہے کہ سورۂ احقاف (آیات 29 تا 32) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گيا ہے، اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز میں سورۂ رحمٰن تلاوت فرما رہے تھے۔ یہ 10 نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھیرے تھے۔ اگرچہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ معلوم نہ تھا کہ جن آپ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالٰی نے آپ کو یہ خبر دی کہ وہ آپ کی تلاوت سن رہے تھے، لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جنوں کی سماعتِ قرآن پر مطلع پر مطلع فرمایا تھا اسی طرح اللہ تعالٰی نے آپ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہو کہ سورۂ رحمٰن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جا رہے تھے۔ ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ رحمن سورۂ حجر اور سورۂ احقاف سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابۂ کرام نے آپس میں کہا کہ قريش نے کبھی کسی کو علانیہ با آواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے، ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو یہ کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں۔ صحابہ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو، میرا محافظ اللہ ہے۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جبکہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عبد اللہ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورۂ رحمٰن کی تلاوت شروع کر دی۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبد اللہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر جب انہیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے۔ مگر حضرت عبد اللہ نے پروا نہ کی۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔ جب تک ان کے دم میں دم رہا قرآن سناتے چلے گئے۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا۔ انہوں نے جواب دیا آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر انہیں قرآن سناؤں۔ سب سے کہا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انہیں سنا دیا [1]

موضوع اور مضمون

قرآن مجید کی یہ ایک ہی سورت ہے جس میں انسان کے ساتھ زمین کی دوسری با اختیار مخلوق، جنوں کو بھی براہ راست خطاب کیا گيا ہے، اور دونوں کو اللہ تعالٰی کی قدرت کے کمالات، اس کے بے حد و حساب احسانات، اسی کے مقابلے میں ان کی عاجزی و بے بسی اور اس کے حضور ان کی جوابدہی کا احساس دلا کر اس کی نافرمانی کے انجامِ بد سے ڈرایا گیا ہے اور فرمانبرداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جن بھی ایک ذی اختیار اور جواب دہ مخلوق ہیں جنہیں کفر و ایمان اور طاقت و عصیان کی آزادی بخشی گئی ہے اور ان میں بھی انسانوں ہی کی طرح مومن اور مطیع و سرکش پائے جاتے ہیں، اور ان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور کتبِ آسمانی پر ایمان لائے ہیں، لیکن یہ سورت اس امر کی قطعی صراحت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں کے لیے ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔ سورت کے آغاز میں تو خطاب کا رخ انسانوں کی طرف ہی ہے، کیونکہ زمین کی خلافت انہی کو حاصل ہے، خدا کے رسول انہی میں آئے اور خدا کی کتابیں انہی کی زبانوں میں نازل کی گئی ہیں، لیکن آگے چل کر آیت 13 سے انسان اور جن دونوں کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے اور ایک ہی دعوت دونوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ سورت کے مضامین چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک خاص ترتیب سے ارشاد ہوئے ہیں: آیت 1 سے 4 تک یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ اس قرآن کی تعلیم اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور یہ عین اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس تعلیم سےنوعِ انسانی کی ہدایت کا سامان کرے، کیونکہ انسان کو ایک ذی عقل و شعور مخلوق کی حیثیت سے اسی نے پیدا کیا ہے۔ آیت 5-6 میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ تعالٰی کی فرمانروائی میں چل رہا ہے اور زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تابع فرمان ہے۔ یہاں کوئی دوسرا نہیں ہے جس کی خدائی چل رہی ہو۔ آیت 7-9 میں ایک دوسری اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالٰی نے کائنات کے اس پورے نظام کو ٹھیک ٹھیک توازن کے ساتھ عدل پر قائم کیا ہے اور اس نظام کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں رہنے والے اپنے حدودِ اختیار میں بھی عدل ہی پر قائم ہوں اور توازن نہ بگاڑیں۔ آیت 10 سے 25 تک اللہ تعالٰی کی قدرت کے عجائب و کمالات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ان نعمتوں کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جن سے انسان اور جن متمتع ہو رہے ہیں۔ آیت 26 سے 30 تک انسان اور جن دونوں کو یہ حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی غیر فانی اور لازوال نہیں ہے، اور چھوٹے سے بڑے تک کوئی موجود ایسا نہیں جو اپنے وجود اور ضروریات وجود کے لیے خدا کا محتاج نہ ہو۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک شب و روز جو کچھ ہو رہا ہے اسی کی کار فرمائی سے ہو رہا ہے۔ آیت 31 سے 36 تک ان دونوں گروہوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تم سے باز پرس کی جائے گی۔ اس باز پرس سے بچ کر تم کہیں نہیں جا سکتے۔ خدا کی خدائی تمہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس سے نکل کر بھاگ جانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اگر تم اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ اس سے بھاگ سکتے ہو تو بھاگ کر دیکھو۔ آیت 37-38 میں بتایا گیا ہے کہ یہ باز پرس قیامت کے روز ہونے والی ہے۔ آیت 39 سے 45 تک ان مجرم انسانوں اور جنوں کا انجام بتایا گیا ہے جو دنیا میں اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرتے رہے ہیں۔ اور آیت 46 سے آخر سورت تک تفصیل کے ساتھ وہ انعامات بیان کیے گئے ہیں جو آخرت میں ان نیک انسانوں اور جنوں کو عطا کیے جائیں گے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کی زندگی بسر کی ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کام کیا ہے کہ ہمیں ایک روز اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ پوری تقریر خطابت کی زبان میں ہے۔ ایک پرجوش اور نہایت بلیغ خطبہ ہے جس کے دوران میں اللہ تعالٰی کی قدرت کے ایک ایک عجوبے، اور اس کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ایک نعمت، اور اس کی سلطانی و قہاری کے مظاہر میں سے ایک ایک مظہر، اور اس کی جزا و سزا کی تفصیلات میں سے ایک ایک چیز کو بیان کر کے بار بار جن و انس سے سوال کیا گیا ہے کہ فبای اٰلآءِ ربکما تکذبان۔

حوالہ جات

سیرت ابن ہشام، جلد اول، ص 336