اذان
اسلام میں نماز کے لئے پکار کو کہتے ہیں۔ دن میں 5 مرتبہ فرض نمازوں کے لئے موذن یہ فریضہ انجام دیتا ہے۔ نماز سے قبل صف بندی کے لئے دی جانی والی اذان اقامت کہلاتی ہے۔
اذان رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے مدنی دور ميں شروع ہوئى۔
صحيح بخارى میں بیان ہے کہ جب مسلمان مدينہ آئے تو وہ نماز كے ليے جمع ہوا كرتے تھے، اور نماز كے ليے اذان نہيں ہوتى تھى، چنانچہ اس سلسلہ ميں ايك روز انہوں نے بات چيت كى تو كچھ لوگ كہنے لگے عيسائيوں كى طرح ناقوس بنا ليا جائے، اور بعض كہنے لگے: يہوديوں كے سينگ كى طرح كا بگل بنا ليا جائے۔
چنانچہ حضرت عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: تم كسى شخص كو كيوں نہيں مقرر كرتے كہ وہ نماز كے ليے منادى كرے، تو رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمايا: “بلال اٹھ كر نماز كے ليے منادى كرو ” حديث نمبر (569)
ابن عمير بن انس اپنے ايك انصارى چچا سے بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كو يہ مسئلہ درپيش آيا كہ لوگوں كو نماز كے ليے كيسے جمع كيا جائے؟ كسى نے كہا كہ نماز كا وقت ہونے پر جھنڈا نصب كر ديا جائے جب وہ اسے ديكھيں گے تو ايك دوسرے كو بتا ديں گے، ليكن رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كو يہ طريقہ پسند نہ آيا۔
چنانچہ عبد اللہ بن زيد بن عبد ربہ وہاں سے نكلے تو انہيں نبى كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے اسى معاملہ كى فكر كھائے جارہى تھى اور وہ اسى سوچ ميں غرق تھے، چنانچہ انہيں خواب ميں اذان دكھائى گئى، جب وہ صبح رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے پاس آئے تو انہيں اپنا خواب بيان كرتے ہوئے كہنے لگے:
ميں اپنى نيند اور بيدارى كى درميان والى حالت ميں تھا كہ ايك شخص آيا اور مجھے اذان سكھائى، راوى كہتے ہيں: اس سے قبل عمر رضى اللہ تعالى عنہ بھى يہ خواب ديكھ چكے تھے، ليكن انہوں نے اسے بيس روز تك چھپائے ركھا اور بيان نہ كيا۔
پھر انہوں نے بھى رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كو اپنا خواب بيان كىا تو رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے: تمہيں خواب بيان كرنے سے كس چيز نے منع كيا تھا؟ توانہوں نے جواب ديا عبد اللہ بن زيد مجھ سے سبقت لے گئے ميں نے بيان كرنے سے شرم محسوس كى چنانچہ رسول كريم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمايا:
بلال اٹھو اور ديكھو تمہيں عبد اللہ بن زيد كيا كہتے ہيں تم بھى اسى طرح كرو، چنانچہ بلال رضى اللہ تعالى عنہ نے اذان كہى۔ (سنن ابو داود حديث نمبر 420)
اس طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے موذن قرار پائے۔
صفر تبصرہ