جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم
جنوبی ایشیائی اقوام کی تنظیم جو “آسیان” کے نام سے معروف ہے جنوب مشرقی ایشیا کے 10 ممالک کی قائم کردہ سیاسی و اقتصادی انجمن ہے جو دسمبر 1967ء کو انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے مل کر قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد اشتراکیت کے ویت نام سے آگے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متحد ہونا تھا۔ اس کے علاوہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں رکن ممالک کو ترقی دینا اور علاقائی امن کی ترویج تھا۔
2005ء کے مطابق اس اتحاد کا مشترکہ جی ڈی پی (فرضی/پی پی پی) 884 ارب امریکی ڈالرز /2.755 ٹریلین ڈالرز تھا جو سالانہ تقریباً 4 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے۔
رکنیت
آسیان 5 ممالک فلپائن، انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے قائم کی۔ برونائی نے 8 جنوری 1984ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے 6 روز بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ ویت نام، لاؤس اور میانمار بعد میں تنظیم میں شامل ہوئے۔ ویت نام 28 جولائی 1995ء اور لاؤس اور میانمار 23 جولائی 1997ء کو آسیان کے رکن بنے۔ کمبوڈیا 30 اپریل 1999ء کو تنظیم کا آخری رکن قرار پایا۔
پاپوا نیو گنی 1976ء سے تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے داخل ہے۔ 23 جولائی 2006ء کو مشرقی تیمور کے وزیراعظم ہوزے راموس ہورتا نے بھی تنظیم میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔ آسٹریلیا بھی رکن بننے کا خواہشمند ہے لیکن چند ارکان اس کی شمولیت کے خلاف ہیں۔
ارکان
مندرجہ ذیل ممالک آسیان کے باقاعدہ ارکان ہیں:
* برونائی
* کمبوڈیا
* انڈونیشیا
* لاؤس
* ملائشیا
* میانمار
* فلپائن
* سنگاپور
* تھائی لینڈ
* ویت نام
امیدوارِ رکنیت
* مشرقی تیمور
مبصر
* پاپوا نیو گنی (1976ء سے)
آسیان پلس تھری
* چین
* جاپان
* جنوبی کوریا
مشرقی ایشیا کانفرنس
* آسٹریلیا
* بھارت
* نیوزی لینڈ
آسیان علاقائی فورم
* بنگلہ دیش
* کینیڈا
* یورپی یونین
* منگولیا
* شمالی کوریا
* پاکستان
* پاپوا نیو گنی
* روس
* مشرقی تیمور
* ریاستہائے متحدہ امریکہ
صفر تبصرہ