محفوظات برائے January, 2010

القمر

قرآن مجید کی 54 ویں سورت جس میں 3 رکوع اور 55 آیات ہیں۔

نام

پہلی ہی آیت کے فقرہ وانشق القمر سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس میں لفظ القمر آیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس میں شق القمر کے واقعے کا ذکر آیا ہے جس سے اس کا زمانۂ نزول متعین ہو جاتا ہے۔ محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکۂ معظمہ میں منٰی کے مقام پر پیش آیا تھا۔

موضوع اور مضمون

اس میں کفار مکہ کی اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں دونوں پھر ملگئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے، وہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں، بکھر سکتے ہیں، ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں اور وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتہ بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حیثیت سے لوگں کو اس واقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورت میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔ کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہو جائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داورِ محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ اس کے بعد ان کے سامنے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دوچار ہوئیں، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کےبعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ راست پر آ جائے تو ان عذابوں کی نوبت نہیں آ سکتی جو ان قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اس آسان ذریعے سے نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی اسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔ اس طرح پچھلی قوموں کی تاریح سے عبرتناک مثالیں دینے کے بعد کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جس طرز عمل پر دوسری قومیں سزا پا چکی ہیں وہی طرز عمل اگر تم اختیار کرو تو آخر تم کیوں نہ سزا پاؤ گے؟ کیا تمہارے کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ تمہارے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ کیا جائے؟ یا کوئی خاص معافی نامہ تمہارے پاس لکھا ہوا آ گیا ہے کہ جس جرم میں دوسرے پکڑے گئے ہیں وہی تم کرو گے تو تمہیں نہ پکڑا جائے گا؟ اور اگر تم اپنی جمعیت پر پھولے ہوئے ہو تو عنقریب تمہاری یہ جمعیت شکست کھا کر بھاگتی ہوئی نظر آئے گی، اور اس سے زیادہ سخت معاملہ تمہارے ساتھ قیامت کے روز ہوگا۔ آخر میں کفار کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کو قیامت لانے کے لیے کسی بڑی تیاری کی حاجت نہیں ہے۔ اس کا بس ایک حکم ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائیں گے۔ مگر ہر چیز کی طرح نظام عالم اور نوع انسانی کی بھی ایک تقدیر ہے۔ اس تقدیر کے لحاظ سے جو وقت اس کام کے لیے مقرر ہے اسی وقت پر وہ ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جب کوئی چیلنج کرے اس کو قائل کرنے کے لیے قیامت لا کھڑی کی جائے۔ اس کو آتے نہ دیکھ کر تم سرکشی اختیار کرو گے تو اپنی شامت اعمال کا نتیجہ بھگتو گے۔ تمہارا کچا چٹھا خدا کے ہاں تیار ہو رہا ہے جس میں تمہاری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ثبت ہونے سے رہ نہیں گئی ہے۔

النجم

قرآن مجید کی 53 ویں سورت جس میں 3 رکوع اور 62 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی لفظ والنجم سے ماخوذ ہے۔ یہ مضمون کے لحاظ سے سورت کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

بخاری، مسلم، ابو داؤد اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اول سورۃ انزلت فیھا سجدۃ النجم (پہلی سورت جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے)۔ اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید، ابو اسحاق اور زہیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابو مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریش کے ایک مجمع عام میں (اور ابن مردویہ کی روایت کے مطابق حرم میں) سنایا تھا۔ مجمع میں کافر اور مسلمان سب موجود تھے۔ آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک، جو مخالفت میں پیش پیش تھے، سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں صرف ایک شخص امیہ بن خلف کو دیکھا اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔ اس واقعے کے دوسرے عینی شاہد حضرت مطلب بن ابی وداعہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ نسائی اور مسند احمد میں ان کا اپنا بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سورہ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورت کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب 5 نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش کی طرف ہجرت کر چکی تھی۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریش کے مجمع عام میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آ گئے۔ مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی۔ آخر کار دوسری ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ سورت رمضان 5 نبوی میں نازل ہوئی۔

تاریخی پس منظر

زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورت نازل ہوئی۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقع نہ مل سکا تھا، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں کس بلا کی کشش، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے۔ اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود سنیں، نہ کسی کو سننے دیں، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریقِ کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حرم پاک میں، جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجع موجود تھا، یکا یک تقریر کرنے کھڑے ہو گئے اور اس وقت اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کی زبانِ مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورہ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا یہ حال تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کا ہوش ہی نہ رہا، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سر زد ہوگئی، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ سجدہ بھی کر گذرے۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے افرءیتم اللٰت و العزٰی، و منٰوۃ الثالثۃ کے بعد محمد کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العلٰی، و ان شفاعتھن لترجٰی (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرورت متوقع ہے)، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمد ہمارے طریقے پر واپس آ گئے ہیں، حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورت کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں۔

موضوع اور مضمون

تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اُس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پھر رہے ہو، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعے سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی ہے اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے۔ اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں:

  • اولاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے۔ تم نے لات اور منات اور عزٰی جیسی چند دیویوں کو معبود بنا رکھا ہے، حالانکہ الوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے، حالانکہ خود اپنے لیے تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کر لیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالٰی سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں، حالانکہ تمام ملائکہ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہو جائے۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے، وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھیراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے،بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے۔ اس لیے نہ تمہیں علم حقیقت کی کوئی طلب ہے، نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں۔
  • ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئي نہیں ہے۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہونا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو، بلکہ فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ درگزر فرمائے گا۔
  • ثالثاً دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآں مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی علیہم السلام کے صحیفوں میں بیان ہو چکے تھے، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں، بلکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ یہ وہ اصولی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالٰی نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔

یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا۔ اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ جسے تم سننا نہیں چاہتے اور شور مچاتے ہو تاکہ کوئی اور بھی اسے نہ سننے پائے؟ اپنی اس نادانی پر تمہیں رونا نہیں آتا؟ باز آجاؤ اپنی اس روش سے، جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اس کی بندگی کرو۔ یہی وہ مؤثر خاتمۂ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔

الطور

قرآن مجید کی 52 ویں سورت جس میں 2 رکوع اور 49 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی لفظ والطور سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول

مضامین کی اندرونی شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ معظمہ کے اسی دور میں نازل ہوئی ہے جس میں سورہ ذاریات نازل ہوئی تھی۔ اس کو پڑھتے ہوئے یہ تو ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی،مگر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ظلم و ستم کی چکی زور و شور سے چلنی شروع ہو گئی تھی۔

موضوع و مباحث

اس کے پہلے رکوع کا موضوع آخرت ہے۔ سورہ ذاریات میں اس کے امکان اور وجوب اور وقوع کے دلائل دیے جاچکے تھے، اس لیے یہاں ان کا اعادہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ آخرت کی شہادت دینے والے چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ یقیناً واقع ہو کر رہے گی اور کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اسے برپا ہونے سے روک دے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آئے گی تو اس کے جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور اسے مان کر تقویٰ کی روش اختیار کرنے والے کس طرح اللہ کے انعامات سے سرفراز ہوں گے۔ اس کے بعد دوسرے رکوع میں سرداران قریش کے اس رویے پر تنقید کی گئی ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ وہ آپ کو کبھی کاہن، کبھی مجنون اور کبھی شاعر قرار دے کر عوام الناس کو آپ کے خلاف بہکاتے تھے تاکہ لوگ آپ کے لائے ہوئے پیغام کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ دیں۔ وہ آپ کی ذات کو اپنے حق میں بلائے ناگہانی سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ کوئی آفت ان پر نازل ہو جائے تو ہمارا ان سے پیچھا چھوٹے۔ وہ آپ پر الزام لگاتے تھے کہ یہ قرآن آپ خود گھڑ گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کر رہے ہیں اور یہ معاذ اللہ ایک فریب ہے جو آپ نے بنا رکھا ہے۔ وہ بار بار طنز کرتے تھے کہ خدا کو نبوت کے لیے ملے بھی تو بس یہ صاحب ملے۔ وہ آپ کی دعوت و تبلیغ سے ایسی بیزاری کا اظہار کرتے تھے جیسے آپ کچھ مانگنے کے لیے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے آپ سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ وہ آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچتے تھے کہ آپ کے خلاف کیا ایسی چال چلی جائے جس سے آپ کی اس دعوت کا خاتمہ ہو جائے اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں اس امر کا کوئی احساس نہ تھا کہ وہ کیسے جاہلانہ عقائد میں مبتلا ہیں جن کی تاریکی سے لوگوں کو نکالنے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بالکل بے غرضانہ اپنی جان کھپا رہے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے ان کے اسی رویے پر تنقید کرتے ہوئے پے در پے کچھ سوالات کیے ہیں جن میں سے ہر سوال یا تو ان کے کسی اعتراض کا جواب ہے یا ان کی کسی جہالت پر تبصرہ۔ پھر فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت کا قائل کرنے کے لیے کوئی معجزہ دکھانا قطعی لا حاصل ہے، کیونکہ یہ ایسے ہٹ دھرم لوگ ہیں کہ انہیں خواہ کچھ بھی دکھا دیا جائے، یہ اس کی کوئی تاویل کر کے ایمان لانے سے گریز کر جائیں گے۔ اس رکوع کے آغاز میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان مخالفین و معاندین کے الزامات و اعتراضات کی پرواہ کیے بغیر اپنی دعوت و تذکیر کا کام مسلسل جاری رکھیں، اور آخر میں بھی آپ کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ صبر کے ساتھ ان مزاحمتوں کا مقابلہ کیے چلے جائیں یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کا فیصلہ آ جائے۔ اس کے ساتھ آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو دشمنانِ حق کے مقابلے میں اٹھا کر اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ برابر آپ کی نگہبانی کر رہا ہے۔ جب تک اس کے فیصلے کی گھڑی آئے، آپ سب کچھ برداشت کرتے رہیں اور اپنے رب کی حمد و تسبیح سے وہ قوت حاصل کرتے رہیں جو ایسے حالات میں اللہ کا کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

الذاریات

قرآن مجید کی 51 ویں سورت جس میں 3 رکوع اور 60 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی لفظ والذاریات سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس کی ابتدا لفظ الذاریات سے ہوتی ہے۔

زمانہ نزول

مضامین اور انداز بیاں سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کا مقابلہ تکذیب وہ استہزاء اور جھوٹے الزامات سے تو بڑے زور و شور کے ساتھ ہو رہا تھا، مگر ابھی ظلم و تشدد کی چکی چلنی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ بھی اسی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے جس میں سورہ ق نازل ہوئی ہے۔

موضوع اور مباحث

اس کا بڑا حصہ آخرت کے موضوع پر ہے اور آخرت میں توحید کی دعوت پیش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بات نہ ماننا اور اپنے جاہلانہ تصورات پر اصرار کرنا خود انہی قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جنہوں نے یہ روش اختیار کی ہے۔ آخرت کے متعلق جو بات اس سورت کے چھوٹے چھوٹے مگر نہایت پر معنی فقروں میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مآل و انجام کے بارے میں لوگوں کے مختلف اور متضاد عقیدے خود اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ ان میں سے کوئی عقیدہ بھی علم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے قیاسات دوڑا کر اپنی جگہ جو نظریہ قائم کر لیا اسی کو وہ اپنا عقیدہ بنا کر بیٹھ گیا۔ کسی نے سمجھا کہ زندگی کے بعد موت نہیں ہوگی۔ کسی نے اس کو مانا تو تناسخ کی شکل میں مانا۔ کسی نے حیات اخروی اور جزا و سزا کو تسلیم کیا تو جزائے اعمال سے بچنے کے لیے طرح طرح کے سہارے تجویز کر لیے۔ اتنے بڑے اور اہم ترین بنیادی مسئلے پر، جس کے بارے میں آدمی کی رائے کا غلط ہو جانا اس کی پوری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے مستقبل کو برباد کر ڈالتا ہے،علم کے بغیر محض قیاسات کی بنا پر کوئی عقیدہ بنا لینا ایک تباہ کن حماقت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا رہ کر ساری عمر جاہلانہ غفلت میں گذار دے اور مرنے کے بعد اچانک ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہو جس کے لیے اس نے قطعاً کوئی تیاری نہ کی تھی۔ ایسے مسئلے کے بارے میں جو صحیح رائے قائم کرنے کا بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو آخرت کے متعلق جو علم خدا کی طرف سے اس کا نبی دے رہا ہے اس پر وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرے اور زمین و آسمان کے نظام اور خود اپنے وجود پر نگاہ ڈال کر کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ کیا اس علم کے صحیح ہونے کی شہادت ہر طرف موجود نہیں ہے؟ اس سلسلے میں ہوا اور بارش کے انتظام کو، زمین کی ساخت اور اس کی مخلوقات کو، انسان کے اپنے نفس کو، آسمان کی تخلیق کو اور دنیا کی تمام اشیاء کے جوڑوں کی شکل میں بنائے جانے کو آخرت کی شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح ایک قانونِ مکافات کا مقتضی نظر آ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑے مختصر انداز میں توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے خالق نے تم کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ وہ تمہارے بناوٹی معبودوں کی طرح نہیں ہے جو تم سے رزق لیتے ہیں اور تمہاری مدد کے بغیر جن کی خدائی نہیں چل سکتی۔ وہ ایسا معبود ہے جو سب کا رزاق ہے، کسی سے رزق لینے کا محتاج نہیں اور جن کی خدائی خود اس کے اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ جب بھی کیا گیا ہے کسی معقول بنیاد پر نہیں بلکہ اسی ضد اور ہٹ دھرمی اور جاہلانہ غرور کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو آج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ برتی جا رہی ہے، اور اس کی محرک بجز سر کشی کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان سرکشوں کی طرف التفات نہ کریں اور اپنی دعوت و تذکیر کا کام کیے جائیں، کیونکہ وہ ان لوگوں کے لیے چاہے نافع نہ ہو، مگر ایمان لانےوالوں کے لیے نافع ہے۔ رہے وہ ظالم جو اپنی سر کشی پر مصر رہیں، تو ان سے پہلے اسی روش پر چلنے والے اپنے حصے کا عذاب پا چکے ہیں اور ان کے حصے کا عذاب تیار ہے۔

سورہ ق

قرآن مجید کی 50 ویں سورت جس میں 3 رکوع اور 45 آیات ہیں۔

نام

آغاز ہی کے حرف ق سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس کا افتتاح حرف ق سے ہوتا ہے۔

زمانہ نزول

کسی معتبر روایت سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ ٹھیک کس زمانے میں نازل ہوئی ہے، مگر مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکہ معظمہ کا دوسرا دور ہے جو نبوت کے تیسرے سال سے شروع ہو کر پانچویں سال تک رہا۔ اس دور کی خصوصیات ہم سورہ انعام کے مضمون میں لکھ چکے ہیں۔ ان خصوصیات کے لحاظ سے اندازاً یہ قیاس کیا جا سکتا ہے یہ سورت پانچویں سال میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ کفار کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی، مگر ابھی ظلم و ستم کا آغاز نہیں ہوا تھا۔

موضوع و مباحث

معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اکثر عیدین کی نمازوں میں اس سورت کی تلاوت فرمایا کر تے تھے۔ ایک خاتون ام ہشام بن حارثہ، جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پڑوسن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ مجھے سورہ ق یاد ہی اس طرح ہوئی کہ جمعہ کے خطبوں میں آپ کی زبان مبارک سے اس کو سنتی تھی۔ بعض اور روایات میں آیا ہے کہ فجر کی نماز میں بھی آپ بکثرت اس کو پڑھا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ میں ایک بڑی اہم سورت تھی۔ اس لیے آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بار بار اس کے مضامین پہنچانے کا اہتمام فرماتے تھے۔ اس اہمیت کی وجہ سے سورت بغور پڑھنے سے با آسانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ پوری سورت کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مکہ معظمہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو سب سے زیادہ اچنبھا آپ کی جس بات پر ہوا وہ یہ تھی کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تو بالکل انہونی بات ہے، عقل باور نہیں کرتی کہ ایسا ہو سکتا ہے، آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہمارا ذرہ ذرہ زمین میں منتشر ہو چکا ہو تو ان پراگندہ اجزاء کو ہزار ہا برس گذرنے کے بعد پھر سے اکٹھا کر کے ہمارا یہی جسم از سر نو بنا دیا جائے اور ہم زندہ اٹھ کھڑے ہوں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ تقریر نازل ہوئی۔ اس میں بڑے مختصر طریقے سے چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک طرف آخرت کے امکان اور اس کے وقوع کے دلائل دیے گئے ہیں اور دوسرے طرف لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم خواہ تعجب کرو، بعید از عقل سمجھو، یا جھٹلاؤ، بہرحال اس سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔حقیقت اور قطعی اٹل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے جسم کا ایک ایک ذرہ جو زمین میں منتشر ہوتا ہے، اس کے متعلق اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں گیا ہے اور کس حال میں کس جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالٰی کا ایک اشارہ اس کے لیے کافی ہے اور یہ تمام منتشر ذرات پھر جمع ہوجائیں اور تم کو اسی طرح دوبارہ بنا کھڑا کیا جائے جیسے پہلے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ خیال کہ تم یہاں شتر بے مہار بنا کر چھوڑ دیے گئے ہو اور کسی کے سامنے تمہیں جواب دہی نہیں کرنی ہے،ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی براہ راست خود بھی تمہارے ہر قول و فعل سے، بلکہ تمہارے دل میں گذرنےوالے خیالات تک سے واقف ہے اس کے بعد فرشتے بھی تم میں سے ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے تمام حرکات سکنات کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں۔ جب وقت آئے گا تو ایک پکار پر تم بالکل اسی طرح نکل کھڑے ہوگے جس طرح بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی زمین سے نباتات کی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اس وقت یہ غفلت کا پردہ جو آج تمہاری عقل پر پڑا ہوا ہے، تمہارے سامنے سے ہٹ جائے گا اور تم اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لو گے جس کا آج انکار کر رہے ہو۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تم دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں تھے بلکہ ذمہ دار اور جواب دہ تھے۔ جزا و سزا، عذاب و ثواب اور جنت و دوزخ، جنہیں آج فسانۂ عجائب سمجھ رہے ہو، اس وقت یہ ساری چیزیں تمہاری مشہود حقیقتیں ہوں گی۔ حق سے عناد کی پاداش میں اسی جہنم کے اندر پھینکے جاؤ گے جسے آج عقل سے بعید سمجھتے ہو، اور خدائے رحمان سے ڈر کر راہ راست کی پلٹ آنے والے تمہاری آنکھوں کے سامنے اسی جنت میں جائیں گے جس کا ذکر سن کر آج تمہیں تعجب ہو رہا ہے۔

اگلا صفحہ »