محفوظات برائے March, 2010

الجمعہ

قرآن مجید کی 62 ویں سورت جس کے دو رکوع میں 11 آیات ہیں۔

نام

آیت 9 کے فقرے اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اس سورت میں نماز جمعہ کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں لیکن “جمعہ” بحیثیت مجموعی اس کے مضامین کا عنوان نہیں ہے، بلکہ دوسری سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام بھی علامت ہی کے طور پر ہے۔

زمانۂ نزول

پہلے رکوع کا زمانۂ نزول 7ھ ہے، اور غالباً یہ فتح خیبر کے موقع پر یا اس کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن جریر نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے جب یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح خیبر سے پہلے ایمان لائے تھے اور خیبر کی فتح ابن ہشام کے بقول محرم اور ابن سعد کے بقول جمادی الاولٰی 7ھ میں ہوئی ہے۔ پس قرین قیاس ہے کہ یہودیوں کے اس آخری گڑھ کو فتح کرنے کے بعد اللہ تعالٰی نے ان کوخطاب کرتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائی ہوں گی، یا پھر ان کا نزول اس وقت ہوا ہوگا جب خیبر کا انجام دیکھ کر شمالی حجاز کی تمام یہودی بستیاں اسلامی حکومت کی تابع فرمان بن گئی تھیں۔ دوسرا رکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانے میں ہی نازل ہوا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ طیبہ پہنچتے ہی پانچویں روز جمعہ قائم کر دیا تھا، اور اس رکوع کی آخری آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازماً کسی ایسے زمانے میں پیش آیا ہوگا جب لوگوں کو دینی اجتماعات کے آداب کی پوری تربیت ابھی نہیں ملی تھی۔

موضوع اور مضامین

جیسا کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں، اس سورت کے دو رکوع دو الگ زبانوں میں نازل ہوئے ہیں۔ اسی لیے دونوں کے موضوع الگ ہیں اور مخاطب بھی الگ۔ اگرچہ ان کے درمیان ایک نوع کی مناسبت ہے جس کی بنا پر انہیں ایک سورت میں جمع کیا گیا ہے، لیکن مناسبت سمجھنے سے پہلے ہمیں دونوں کے موضوعات کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔ پہلا رکوع اس وقت نازل ہوا جب یہودیوں کی وہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں جو اسلام کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے پچھلے چھ سال کے دوران میں انہوں نے کی تھیں۔ پہلے مدینہ میں ان کے تین تین طاقتور قبیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی تک کا زور لگاتے رہے اور نتیجہ یہ دیکھا کہ ایک قبیلہ پوری طرح تباہ ہو گیا اور دو قبیلوں کو جلا وطن ہونا پڑا۔ پھر وہ سازشیں کر کے عرب کے بہت سے قبائل کو مدینے پر چڑھا لائے، مگر غزوۂ احزاب میں ان سب سے منہ کی کھائی۔ اس کے بعد ان کا سب سے بڑا گڑھ خیبر رہ گیا تھا جہاں مدینہ سے نکلے ہوئے یہودیوں کی بھی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ ان آیات کے نزول کے وقت وہ بھی بغیر کسی غیر معمولی زحمت کے فتح ہو گیا، اور یہودیوں نے خود درخواست کر کے وہاں مسلمانوں کے کاشتکاروں کی حیثیت سے رہنا قبول کر لیا۔ اس آخری شکست کے بعد عرب سے یہودی طاقت کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ وادی القریٰ، فدک، تیما، تبوک، سب ایک ایک کر کے ہتھیار ڈالتے چلے گئے، یہاں تک کہ عرب کے تمام یہودی اسی اسلام کی رعایا بن کر رہ گئے جس کے وجود کو برداشت کرنا تو درکنار، جس کا نام سننا تک انہیں گوارا نہ تھا۔ یہ موقع تھا جب اللہ تعالٰی نے اس سورت میں ایک مرتبہ پھر ان کو خطاب فرمایا، اور غالباً یہ آخری خطاب تھا جو قرآن مجید میں ان سے کیا گیا۔ اسی میں انہیں مخاطب کر کے تین باتیں فرمائی گئی ہیں: 1. تم نے اِس رسول کو اس لیے ماننے سے انکار کیا کہ یہ اُس قوم میں مبعوث ہوا تھا جسے تم حقارت کے ساتھ “اُمی” کہتے ہو۔ تمہارا زعم باطل یہ تھا کہ رسول لازماً تمہاری اپنی قوم ہی کا ہونا چاہیے۔ تم یہ فیصلہ کیے بیٹھے تھے کہ تمہاری قوم سے باہر کا جو شخص رسالت کا دعویٰ کرے وہ ضرور جھوٹا ہے، کیونکہ یہ منصب تمہاری نسل کے لیے مختص ہو چکا ہے اور “امیوں” میں کبھی کوئی رسول نہیں آ سکتا۔ لیکن اللہ نے انہی امیوں میں سے ایک رسول اٹھایا ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اس کی کتاب سنا رہا ہے، نفوس کا تزکیہ کر رہا ہے، اور ان لوگوں کو ہدایت دے رہا ہے جن کی گمراہی کا حال تم خود جانتے ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ اس کے فضل پر تمہارا اجارہ نہیں ہے کہ جسے تم دلوانا چاہو اسی کو وہ دے اور جسے تم محروم رکھنا چاہو اسے وہ محروم رکھے۔ 2. تم کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا، مگر تم نے اس کی ذمہ داری نہ سمجھی، نہ ادا کی۔ تمہارا حال اس گدھے کا سا ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اسے کچھ نہیں معلوم کہ وہ کس چیز کا بار اٹھائے ہوئے ہے۔ بلکہ تمہاری حالت گدھے سے بھی بدتر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، مگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو اور پھر کتاب اللہ کے حامل ہونے کی ذمہ داری سے فرار ہی نہیں کرتے، دانستہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں رہتے۔ اور اس پر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور رسالت کی نعمت ہمیشہ کے لیے تمہارے نام لکھ دی گئی ہے۔ گویا تمہاری رائے یہ ہے کہ خواہ تم اللہ کے پیغام کا حق ادا کرو یا نہ کرو، بہرحال اللہ اس کا پابند ہے کہ وہ اپنے پیغام کا حامل تمہارے سوا کسی کو نہ بنائے! 3. تم اگر واقعی اللہ کے چہیتے ہوتے اور تمہیں اگر یقین ہوتا کہ اس کے ہاں تمہارے لیے بڑی عزت اور قدر و منزلت کا مقام محفوظ ہے تو تمہیں موت کا ایسا خوف نہ ہوتا کہ ذلت کی زندگی قبول ہے مگر موت کسی طرح قبول نہیں۔ یہی موت کا خوف ہی تو ہے جس کی بدولت پچھلے چند سالوں میں تم شکست پر شکست کھاتے چلے گئے ہو۔ تمہاری یہ حالت آپ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اپنے کرتوتوں سے تم خود واقف ہو، اور تمہارا ضمیر خوب جانتا ہے کہ ان کرتوتوں کے ساتھ مرو گے تو اللہ کے ہاں اس سے زیادہ ذلیل و خوار ہو گے جتنے دنیا میں ہو رہے ہو۔ یہ ہے پہلے رکوع کا مضمون۔ اس کے بعد دوسرا رکوع، جو کئی سال پہلے نازل ہوا تھا، اس سورت میں لا کر اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے یہودیوں کے سبت کا مقابلہ میں مسلمانوں کو جمعہ عطا فرمایا ہے، اور اللہ تعالٰی مسلمانوں کو متنبہ فرمانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے جمعہ کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو یہودیوں نے سبت کے ساتھ کیا تھا۔ یہ رکوع اس وقت نازل ہوا تھا جب مدینے میں ایک روز عین نماز جمعہ کے وقت ایک تجارتی قافلہ آیا اور اس کے ڈھول تاشوں کی آواز سن کر 12 آدمیوں کے سوا تمام حاضرین مسجد نبوی سے قافلے کی طرف دوڑ گئے، حالانکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس پر یہ حکم دیا گیا کہ جمعہ کی اذان ہونے کے بعد ہر قسم کی خرید و فروخت اور ہر دوسری مصروفیت حرام ہے۔ اہل ایمان کا یہ کام ہے کہ اس وقت سب کام چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑیں۔ البتہ جب نماز ختم ہو جائے تو انہیں حق ہے کہ اپنے کاروبار چلانے کے لیے زمین میں پھیل جائیں۔ احکام جمعہ کے بارے میں یہ رکوع ایک مستقل سورت بھی بنایا جا سکتا تھا، اور کسی دوسری سورت میں بھی شامل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے خاص طور پر اسے یہاں اُن آیات کے ساتھ لا کر ملایا گیا جن میں یہودیوں کو ان کے انجام بد کے اسباب پر متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت ہمارے نزدیک وہی ہے جو جو اوپر بیان کی ہے۔

الصف

قرآن مجید کی 61 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 14 آیات ہیں۔

نام

چوتھی آیت کے فقرے یقاتلون فی سبیلہ صفًا سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ صف آیا ہے۔

زمانۂ نزول

کسی معتبر روایت سے اس کا زمانۂ نزول معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباً جنگ احد کے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے بین السطور میں جن حالات کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے وہ اسی دور میں پائے جاتے تھے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع ہے مسلمانوں کو ایمان میں اخلاص اختیار کرنے اور اللہ کی راہ میں جان لڑانے پر ابھارنا۔ اس میں ضعیف الایمان مسلمانوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے، اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسلام میں داخل ہو گئے تھے، اور ان کو بھی جو مخلص تھے۔ بعض آیات کا خطاب پہلے دونوں گروہوں سے ہے، بعض میں صرف منافقین مخاطب ہیں، اور بعض کا روئے سخن صرف مخلصین کی طرف ہے۔ اندازِ کلام سے خود معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں کون مخاطب ہے۔ آغاز میں تمام ایمان لانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں وہ لوگ جو کہیں کچھ اور کریں کچھ، اور نہایت محبوب ہیں وہ لوگ جو راہ حق میں لڑنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ پھر آیت 5 سے 7 تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے رسول اور اپنے دین کے ساتھ تمہاری روش وہ نہ ہونی چاہیے جو موسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی۔ حضرت موسٰی کو وہ خدا کا رسول جاننے کے باوجود جیتے جی تنگ کرتے رہے، اور حضرت عیسٰی سے کھلی کھلی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود وہ ان کو جھٹلانے سے باز نہ آئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس قوم کے مزاج کا سانچا ہی ٹیڑھا ہو کر رہ گیا اور اس سے ہدایت کی توفیق سلب ہو گئی۔ یہ کوئی ایسی قابل رشک حالت نہیں ہے کہ کوئی دوسری قوم اس میں مبتلا ہونے کی تمنا کرے۔ پھر آیت 8 – 9 میں پوری تحدی کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور ان سے ساز باز رکھنے والے منافقین اللہ کے اس نور کو بجھانے کی چاہے کتنی کوشش کر لیں، یہ پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا میں پھیل کر رہے گا اور مشرکین کو خواہ کتنا ہی ناگوار ہو، رسول برحق کا لایا ہوا دین ہر دوسرے دین پر غالب آ کر رہے گا۔ اس کے بعد آیات 10 – 13 میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ آخرت میں اس کا ثمرہ خدا کے عذاب سے نجات، گناہوں کی مغفرت اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا حصول ہے، اور دنیا میں اس کا انعام خدا کی تائید و نصرت اور فتح و ظفر ہے۔ آخر میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے کہ جس طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی راہ میں ان کا ساتھ دیا تھا اسی طرح وہ بھی “انصار اللہ” بنیں تاکہ کافروں کے مقابلے میں ان کو بھی اسی طرح اللہ کی تائید حاصل ہو جس طرح پہلے ایمان لانے والوں کو حاصل ہوئی تھی۔

الممتحنہ

قرآن مجید کی 60 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 13 آیات ہیں۔

نام

اس سورت کی آیت نمبر 10 میں حکم دیا گیا ہے کہ جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں ان کا امتحان لیا جائے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام الممتحنہ رکھا گیا ہے۔ اس کا تلفظ مَمتَحَنہ بھی کیا جاتا ہے اور مَمتَحِنہ بھی۔ پہلے تلفظ کے لحاظ سے معنی ہیں “وہ عورت جس کا امتحان لیا جائے” اور دوسرے تلفظ کے معنی ہیں “امتحان لینے والی سورت”۔

زمانۂ نزول

اس میں دو ایسے معاملات پر کلام فرمایا گیا ہے جن کا زمانہ تاریخی طور پر معلوم ہے۔ پہلا معاملہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا ہے جنہوں نے فتح مکہ سے کچھ مدت پہلے ایک خفیہ خط کے ذریعہ سے قریش کے سرداروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس ارادے کی اطلاع بھیجی تھی کہ آپ ان پر حملہ کرنے والے ہیں اور دوسرا معاملہ ان مسلمان عورتوں کا ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آنے لگی تھیں اور ان کے بارے میں یہ سوال پیدا ہو گیا تھا کہ شرائطِ صلح کی رو سے مسلمان مردوں کی طرح کیا ان عورتوں کو بھی کفار کے حوالے کر دیا جائے؟ ان دو معاملات کے ذکر سے یہ بات قطعی طور پر متعین ہو جاتی ہے کہ یہ سورت صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی دور میں نازل ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا معاملہ بھی ہے جس کا ذکر سورت کے آخر میں آیا ہے، اور وہ یہ کہ جب عورتیں ایمان لا کر بیعت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان سے کن باتوں کا عہد لیں۔ اس حصے کے متعلق بھی قیاس یہی ہے کہ یہ بھی فتح مکہ کے کچھ پہلے نازل ہوا ہے کیونکہ فتح مکہ کے بعد قریش کے مردوں کی طرح ان کی عورتیں بھی بہت بڑی تعداد میں بیک وقت داخل اسلام ہونے والی تھیں اور اسی موقع پر یہ ضرورت پیش آئی تھی کہ اجتماعی طور پر ان سے عہد لیا جائے۔

موضوع اور مباحث

اس سورت کے تین حصے ہیں: 1. پہلا حصہ آغازِ سورت سے آیت 9 تک چلتا ہے اور سورت کے خاتمہ پر آیت 13 بھی اسی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے اس فعل پر سخت گرفت کی گئی ہے کہ انہوں نے محض اپنے اہل و عیال کو بچانے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایک نہایت اہم جنگی راز سے دشمنوں کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی جسے اگر بروقت ناکام نہ کر دیا گیا ہوتا تو فتح مکہ کے موقع پر بڑا کشت و خون ہوتا، مسلمانوں کی بھی بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوتیں، قریش کے بھی بہت سے وہ لوگ مارے جاتے جو بعد میں اسلام کی عظیم خدمت انجام دینے والے تھے، وہ تمام فوائد بھی ضائع ہو جاتے جو مکہ کو پرامن طریقے سے فتح کرنے کی صورت میں حاصل ہو سکتے تھے، اور اتنے عظیم نقصانات صرف اس وجہ سے ہوتے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص اپنے بال بچوں کو جنگ کے خطرات سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ اس شدید غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے اللہ تعالٰی نے تمام اہل ایمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ کسی مومن کو کسی حال میں اور کسی غرض کے لیے بھی اسلام کے دشمن کافروں کے ساتھ محبت اور دوستی کا تعلق نہ رکھنا چاہیے اور کوئی ایسا کام نہ کرنا چاہیے جو کفر و اسلام کی کشمکش میں کفار کے لیے مفید ہو۔ البتہ جو کافر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عملاً دشمنی اور ایذا رسانی کا برتاؤ نہ کر رہے ہوں ان کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 2. دوسرا حصہ آیت 10 – 11 پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک اہم معاشرتی مسئلے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اس وقت بڑی پیچیدگی پیدا کر رہا تھا۔ مکہ میں بہت سی مسلمان عورتیں ایسی تھیں جن کے شوہر کافر تھے اور وہ کسی نہ کسی طرح ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاتی تھیں۔ اسی طرح مدینہ میں بہت سے مسلمان مرد ایسے تھے جن کی بیویاں کافر تھیں اور وہ مکہ ہی میں رہ گئی تھیں۔ ان کے بارے میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ان کے درمیان رشتۂ ازدواج باقی ہے یا نہیں۔ اللہ تعالٰی نے اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ فیصلہ فرما دیا کہ مسلمان عورت کے لیے کافر شوہر حلال نہیں ہے اور مسلمان مرد کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ مشرک بیوی کو اپنے نکاح میں رکھے۔ یہ فیصلہ بڑے اہم قانونی نتائج رکھتا ہے۔ 3. تیسرا حصہ آیت 12 پر مشتمل ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جو عورتیں اسلام قبول کریں ان سے آپ ان بڑی بڑی برائیوں سے بچنے کا عہد لیں جو جاہلیتِ عرب کے معاشرے میں عورتوں کے اندر پھیلی ہوئی تھیں اور اس بات کا اقرار کرائیں کہ آئندہ وہ بھلائی کے ان تمام طریقوں کی پیروی کریں گی جن کا حکم اللہ کے رسول کی طرف سے ان کو دیا جائے۔

الحشر

قرآن مجید کی 59 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 24 آیات ہیں۔

نام

دوسری آیت کے فقرے اخرج الذین کفرو من اھل الکتٰب من دیارھم لاول الحشر سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ الحشر آیا ہے۔

زمانۂ نزول

بخاری و مسلم میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سورۂ حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوۂ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس طرح سورۂ انفال غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سعید بن جبیر کی دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ قل سورۃ النضیر یعنی یوں کہو کہ یہ سورۂ نضیر ہے۔ یہی بات مجاہد، قتادہ، زہری، ابن زید، یزید بن رومان، محمد بن اسحاق وغیرہ حضرات سے بھی مروی ہے۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی النضیر ہی ہیں۔ یزید بن رومان، مجاہد اور محمد بن اسحاق کا قول یہ ہے کہ از اول تا آخر یہ پوری سورت اسی غزوہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ غزوہ کب واقع ہوا تھا؟ امام زہری نے اس کے متعلق عروہ بن زبیر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ جنگ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا ہے۔ لیکن ابن سعد، ابن ہشام اور بلاذری اسے ربیع الاول 4ھ کا واقعہ بتاتے ہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ تمام روایات اس امر پر متفق ہیں کہ یہ غزوہ بئر معونہ کے سانحہ کے بعد پیش آیا تھا اور اور یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بئر معونہ کا سانحہ جنگ احد کے بعد رونما ہوا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔

تاریخی پس منظر

اس سورہ کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینۂ طیبہ اور حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈال لی جائے کیونکہ اس کے بغیر آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آخر کار ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے حقیقی اسباب کیا تھے۔ عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑ سکے اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آ کر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑ گئے تھے، اور دنیا کے یہودی سرے سے ان کو اپنوں مین شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتٰی کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں ان میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہود عرب کی تاریخ کا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلایا ہوا تھا۔ حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے آخر عہد میں یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عمالقہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کو کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آ کر فرمان نبی کی تعمیل کی، مگر عمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا، اسے انہوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین پہنچے۔ اس وقت حضرت موسٰی کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بنا پر انہوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا اور اسے مجبوراً یثرت واپس آ کر یہیں بس جانا پڑا۔ [1] ۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ 1200 برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں لیکن در حقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔ دوسری یہودی مہاجرت، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق 587 قبل مسیح میں ہوئي جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتر بتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آ کر وادی القریٰ، تیماء اور یثرب میں آباد ہو گئے تھے۔ [2] لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70ء میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور پھر 132ء میں انہیں اس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہو گئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آ کر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سر سبز باغات دیکھے، وہاں ٹھیر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعہ سے ان پر قبضہ جما لیا۔ ایلہ، مقنا، تبوک، تیماء، وادی القریٰ، فدک اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا اور بنی قریظہ، بنی نضیر، بنی یبدل اور بنی قینقاع بھی اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوئے۔ یثرب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے کیونکہ وہ کاہنوں (Priest یا Cohens) کے طبقہ میں سے تھے، انہیں یہودیوں میں عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے اس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انہوں نے دبا لیا اور عملاً اس سر سبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباًً تین صدی بعد 450ء یا 451ء میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۂ سبا کے دوسرے رکوع میں کیا گیا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کے عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غسانی شام میں، لخمی حیرہ (عراق) میں، بنی خزاعہ جدہ و مکہ کے درمیان اور اوس و خزرج یثرب میں جا کر آباد ہوئے۔ یثرب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے، اس لیے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چاروناچار بنجر زمینوں پر بس گئے جہاں ان کو قوت لایموت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخرکار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اوس و خزرج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے، بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہو گئے۔ تیسرے قبیلے بنی قینقاع کی چونکہ ان دونوں یہودی قبیلوں سے ان بن تھی، اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لیے اسے قبیلۂ خزرج کی پناہ لینی پڑی اور اس کے مقابلے میں بنی نضیر و بنی قریظہ نے قبیلۂ اوس کی پناہ لی تاکہ اطراف یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری سے پہلے، آغاز ہجرت تک، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خدوخال یہ تھے: * زبان، لباس، تہذیب اور تمدن، ہر لحاظ سے انہوں نے پوری طرح عربیت کا رنگ اختیار کر لیا تھا، حتٰی کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہو گئے تھے۔ 12 یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زعوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ ان کے چند گنے چنے علماء کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا۔ زمانۂ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انہیں ممیز کرتی ہو۔ ان کے اور عربوں کے درمیان شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ در حقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے، اور انہوں نے شدت کے ساتھ یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔ یہ ظاہری عربیت انہوں نے صرف اس لیے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہ سکتے تھے۔ * ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے، یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سرگرمی دکھائی ہو، یا ان کے علماء نصرانی پادریوں اور مشنریوں کی طرح اہل عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہل عرب کو وہ اُمی (Gentiles) کہتے تھے، جس کے معنی صرف ان پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے۔ سرداران عرب کے ماسوا، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انہیں دین یہود میں داخل کر کے برابر کا درجہ دے دیں۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، نہ روایات عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرورملتا ہے جو یہودی ہو گئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجائے صرف اپنے کاروبار سے دلچسپی تھی۔ اسی لیے حجاز میں یہودیوں ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض اسرائیلی قبیلوں کا سرمایۂ فخر و ناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علماء نے تعویذ گنڈوں اور فال گیری اور جادوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا جس کی وجہ سے عربوں پر ان کے “علم” اور “عمل” کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ * معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے، اس لیے وہ بہت سے ایسے فنون جانتے تھے جو اہل عرب میں رائج نہ تھے اور باہر کی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ ان وجوہ سے یثرب اور بالائی حجاز میں غلے کی درآمد اور یہاں سے چھوہاروں کی برآمد ان کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پربھی زیادہ تر انہی کا قبضہ تھا۔ پارچہ بافی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا۔ جگہ چگہ میخانے بھی انہوں نے قائم کر رکھے تھے جہاں شام سے شراب لا کر فروخت کی جاتی تھی۔ بنی قینقاع زیادہ تر سنہار اور لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے۔ اس سارے بنج بیوپار میں یہ یہودی بے تحاشا منافع خوری کرتے تھے لیکن اس کا سب سے بڑا کاروبار سود خواری کا تھا جس کے جال میں انہوں نے گرد و پیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھا تھا اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار جنہیں قرض لے لے کر ٹھاٹھ جمانے اور شیخی بگھارنے کی بیماری لگی ہوئي تھی، ان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ یہ بھاری شرح سود پر قرضے دیتے، اور پھر سود در سود کاچکر چلاتے تھے جس کی گرفت میں آ جانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا۔ اس طرح انہوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا، مگر اس کا فطری نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی۔ * ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ عربوں میں سے کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد کا تقاضا یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں، اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے، وہ ان بڑی بڑی جائیدادوں اور باغات اور سر سبز زمینوں پر انہیں قابض نہ رہنے دیں گے جو انہوں نے اپنی منافع خوری اور سود خواری سے پیدا کی تھی۔ مزید برآں اپنی حفاظت کے لیے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقت ور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے، تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس بنا پر بارہا انہیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا، بلکہ بسا اوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلہ کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہو جاتا تھا جس کے حلیفہ تعلقات فریق مخالف ہوتے تھے۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اوس کے حلیف تھے اور بنی قینقاع خزرج کے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جو خونریز لڑائی بعاث کے مقام پر ہوئی تھی اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔ (دیکھیے: جنگ بعاث) یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اولین کام کیے ان مین سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی (دیکھیے: مؤاخات) اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے (دیکھیے: میثاق مدینہ)اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی:

یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا، اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئي ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے۔ اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکائے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا

یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑی وجوہات تین تھیں: 1. ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود ان کے اپنے رسولوں اور کتب پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت جھوڑ کر ان احکام الٰہی کی اطاعت اختیار کرنے اور ان کی اخلاقی حدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ ان کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگر چل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔ 2. دوسرے یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ گرد و پیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملت بنتے جا رہے ہیں، انہیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ ته ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ 3. تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کر رہے ہیں اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدباب شامل تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود کو بھی آپ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہو گئی تو آپ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔ ان وجوہ سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بدگمان ہو جائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے برگشتہ ہو جائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جاتے تھے تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے برپا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کا ہدف تھے جن سے ان کے مدتہائے دراز سے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہو جائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا، ان میں سے جونہی کوئي شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے تھے۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کا ناک میں دم کر دیتے، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا، اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔ معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کر چکے تھے۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ اس جنگ سے وہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کرمسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہید ہو گئے، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی، اور اب ابو جہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔ بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ

خدا کی قسم اگر محمد نے ان اشرافِ عرب کو قتل کر دیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اُس کی پیٹھ سے بہتر ہے

پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سردارانِ قریش مارے گئے تھے ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفا کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہارِ عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ربیع الاول 3ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرادیا [3] یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا، بنی قینقاع تھا۔ یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ سنہار، لوہار اور ظروف ساز تھے، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کو کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔ آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مردانِ جنگی ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلۂ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبد اللہ بن ابی ان کا پشتیبان تھا۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو برسرِ عام برہنا کر دیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گیا۔ جب حالات اس حد تک پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی مگر انہوں نے جواب دیا “اے محمد! تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انہیں مار لیا۔ ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں”۔ یہ گویا صاف صاف اعلانِ جنگ تھا۔ آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شوال (اور بروایت بعض ذی القعدہ) 2ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کر لیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبد اللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کر دیں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی درخواست قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلاتِ صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں۔ [3] ان دو سخت اقدامات (یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی مگر اس کے بعد شوال 3ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے، اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں، تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکۂ احد میں مسلمانوں کو نقصانِ عظیم پہنچا تو ان کی جراتیں اور بڑھ گئیں، یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہو گئی۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ (صفر 4ھ) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کے قتل کر دیا جو دراصل ایک معاہد قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آ گیا تھا، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خوں بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میںلگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اُس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے جس کی دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے، اللہ تعالٰی نے آپ کو بروقت خبردار کر دیا، اور آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آ گئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ، اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھیرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبد اللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے، تم ڈٹ جاؤ اور ہر گز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر لیجیے۔ اس پر ربیع الاول 4ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا محاصرہ کر لیا، اور صرف چند روز کے محاصرے کے بعد (جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہو گئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کر لے جا سکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سرزمین خالی کرا لی گئی۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہوکر یہاں ٹھیر گئے۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔ یہی واقعہ ہے جس سے اس سورت میں بحث کی گئی ہے۔

موضوع اور مضامین

سورت کا موضوع، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے۔ اس میں بحیثیت مجموعی چار مضامین بیان ہوئے ہیں: 1. پہلی چار آیتوں میں دنیا کو اس انجام سے عبرت دلائی گئی ہے جو ابھی ابھی بنی نضیر نے دیکھا تھا۔ ایک بڑا قبیلہ جس کے افراد کی تعداد اس وقت مسلمانوں کی تعداد سے کچھ کم نہ تھی، جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھا ہوا تھا، جس کے پاس جنگی سامان کی بھی کمی نہ تھی، جس کی گڑھیاں بڑی مضبوط تھیں، صرف چند روز کے محاصرے کی تاب بھی نہ لا سکا اور بغیر اس کے کہ کسی ایک آدمی کے قتل کی بھی نوبت آئی ہوتی وہ اپنی صدیوں کی جمی جمائی بستی چھوڑ کر جلا وطنی قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طاقت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے نبرد آزما ہوئے تھے اور جو لوگ اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کی جرات کریں وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ 2. آیت 5 میں قانون جنگ کا یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے دشمن کے علاقے میں جو تخریبی کارروائی کی جائے وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی۔ 3. آیت 6 سے 10 تک یہ بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی زمینوں اور جائیدادوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے جو جنگ یا صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے زیر نگیں آئیں۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک مفتوحہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا اس لیے یہاں اس کا قانون بیان کر دیا گیا۔ 4. آیت 11 سے 17 تک منافقین کے اس رویہ پر تبصرہ کیا گیا ہے جو انہوں نے جنگ بنی نضیر کے موقع پر اختیار کیا تھا، اور ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جو درحقیقت ان کے اس رویے کی تہ میں کام کر رہے تھے۔ 5. آخری رکوع پورا کا پورا ایک نصیحت ہے جس کے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہوں، مگر ایمان کی اصل روح سے خالی رہیں۔ اس میں ان کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا کیا ہے، تقویٰ اور فسق میں حقیقی فرق کیا ہے، جس قرآن کو ماننے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے، اور جس خدا پر ایمان لانے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ کن صفات کا حامل ہے۔

حوالہ جات

1. ^ کتاب الاغانی، ج 19، ص 94 2. ^ فتوح البلدان، البلاذری 3. ^ 3.0 3.1 ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری

المجادلہ

قرآن مجید کی 58 ویں سورت جس کے 3 رکوع میں 22 آیات ہیں۔

نام

اس سورت کا نام المجادَلہ بھی ہے اور المجادِلہ بھی۔ یہ نام پہلی ہی آیت کے لفظ “تجادلک” سے ماخوذ ہے۔ چونکہ سورت کے آغاز میں ان خاتون کا ذکر آیا ہے جنہوں نے اپنے شوہر کے ظہار کا قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پیش کر کے بار بار اصرار کیا تھا کہ آپ کوئی ایسی صورت بتائیں جس سے ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے، اور اللہ تعالٰی نے ان کے اس اصرار کو لفظِ مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے، اس لیے یہی اس سورت کا نام قرار دیا گیا۔ اس کو اگر مجادَلہ پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے “بحث و تکرار” اور مجادِلہ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے “بحث و تکرار کرنے والی”

زمانۂ نزول

کسی روایت میں اس امر کی تصریح نہیں کی گئی ہے کہ مجادلہ کا یہ واقعہ کب پیش آیا تھا۔ مگر ایک علامت اس سورت کے مضمون میں ایسی ہے جس کی بنا پر یہ بات تعین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس کا زمانہ غزوۂ احزاب (شوال 5ھ) کے بعد کا ہے۔ سورۂ احزاب میں اللہ تعالٰی نے منہ بولے بیٹے کے حقیقی بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے صرف یہ ارشاد فرما کر چھوڑ دیا تھا کہ “اور اللہ نے تمہاری اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا ہے۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ظہار کرنا کوئی گناہ یا جرم ہے، اور نہ یہ بتایا گیا تھا کہ اس فعل کا شرعی حکم کیا ہے۔ بخلاف اس کے اس سورت میں ظہار کا پورا قانون بیان کر دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مفصل احکام اس مجمل ہدایت کے بعد نازل ہوئے ہیں۔

موضوع اور مباحث

اس سورت میں مسلمانوں کو ان مختلف مسائل کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں جو اس وقت درپیش تھے۔ آغاز سورت سے آیت 6 تک ظہار کے شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں، اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ متنبہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے بعد بھی جاہلیت کے طریقوں پر قائم رہنا اور اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنا، یا ان کی پابندی سے انکار کرنا، یا ان کے مقابلے میں خود اپنی مرضی سے کچھ اور قاعدے اور قوانین بنا لینا، قطعی طور پر ایمان کے منافی حرکت ہے، جس کی سزا دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی اس پر سخت باز پرس ہونی ہے۔ آیات 7 تا 10 میں منافقین کی اس روش پر گرفت کی گئی ہے کہ وہ آپس میں خفیہ سرگوشیاں کر کے طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بناتے تھے، اور ان کے دلوں میں جو بغض چھپا ہوا تھا اس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہودیوں کی طرح ایسے طریقے سے سلام کرتے تھے جس سے دعا کے بجائے بد دعا کا پہلو نکلتا تھا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ سرگوشیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، اس لیے تم اللہ کے بھروسے پر اپنا کام کرتے رہے، اور اس کے ساتھ ان کو یہ اخلاقی تعلیم بھی دی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان کا کام گناہ اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشیاں کرنا نہیں ہے، وہ اگر آپس میں بیٹھ کر تخلیے میں کوئی بات کریں بھی تو وہ نیکی اور تقویٰ کی بات ہونی چاہیے۔ آیت 11 تا 13 میں مسلمانوں کی مجلسی تہذيب کے کچھ آداب سکھائے گئے ہیں اور بعض ایسے معاشرتی عیوب کو دور کرنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں جو پہلے بھی لوگوں میں پائے جاتے تھے اور آج بھی پائے جاتے ہیں۔ کسی مجلس میں اگر بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور باہر سے کچھ لوگ آ جائیں تو پہلے سے بیٹھے ہوئے اصحاب اتنی سی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ذرا سمٹ کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کر دیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعد کے آنے والے کھڑے رہ جاتے ہیں، یا دہلیز پر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یا واپس چلے جاتے ہیں، یا یہ دیکھ کر کہ مجلس میں ابھی کافی گنجائش موجود ہے، حاضرین کے اوپر سے پھاندتے ہوئے اندر گھستے ہیں۔ یہ صورتحال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلسوں میں اکثر پیش آتی رہتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالٰی نے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائي کہ اپنی مجلسوں میں خود غرضی اور تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کیا کریں بلکہ بعد کے آنے والوں کو کھلے دل سے جگہ دے دیا کریں۔ اس طرح ایک عیب لوگوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کے ہاں (خصوصاً کسی اہم شخصیت کے ہاں) جاتے ہیں تو جم کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس بات کا کچھ خیال نہیں کرتے کہ ضرورت سے زیادہ اُس کا وقت لینا اُس کے لیے باعث زحمت ہوگا۔ اگر وہ کہے کہ حضرت اب تشریف لے جائیے تو برا مانتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر اٹھ جائے تو بد اخلاقی کی شکایت کرتے ہیں۔ اشارے کنایے سے ان کو بتائے کہ اب کچھ دوسرے ضروری کاموں کے لیے اس کو وقت ملنا چاہیے تو سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں۔ لوگوں کے اس طرز عمل سے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی سابقہ پیش آتا تھا اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کے شوق میں اللہ کے بندے اس بات کا لحاظ نہ کرتے تھے کہ وہ بہت زیادہ قیمتی کاموں کا نقصان کر رہے ہیں۔ آخر کار اللہ تعالٰی نے یہ تکلیف دہ عادت چھڑانے کے لیے حکم دیا کہ جب مجلس برخاست کرنے کے لیے کہا جائے تو اٹھ جایا کرو۔ ایک اور عیب لوگوں میں یہ بھی تھا کہ ایک ایک آدمی آ کر خواہ مخواہ حضور سے تخلیہ میں بات کرنے کی خواہش کرتا تھا یا مجلس عام میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کے قریب جا کر سرگوشی کے انداز میں آپ سے بات کرے۔ یہ چیز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے بھی تکلیف دہ تھی اور دوسرے لوگ جو مجلس میں ہوتے، ان کو بھی ناگوار ہوتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالٰی نے یہ پابندی لگا دی کہ جو شخص بھی آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے۔ اس سے مقصود صرف یہ تھا کہ لوگوں کو اس بری عادت سے متنبہ کیا جائے تاکہ وہ اسے چھوڑ دیں۔ چنانچہ یہ پابندی بس تھوڑی دیر تک باقی رکھی گئی اور جب لوگوں نے اپنا طرز عمل درست کر لیا تو اسے منسوخ کر دیا گیا۔ آیت 14 سے آخر سورہ تک مسلم معاشرے کے لوگوں کو، جن میں مخلص اہل ایمان اور منافقین اور مذبذبین سب ملے جلے تھے، بالکل دو ٹوک طریقے سے بتایا گیا ہے کہ دین میں آدمی کے مخلص ہونے کا معیار کیا ہے۔ ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر اس دین سے غداری کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے جس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف طرح طرح کے شبہات اور وسوسے پھیلا کر اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں، مگر چونکہ وہ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہیں اس لیے ان کا جھوٹا اقرار ایمان ان کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے۔ دوسرے قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اللہ کے دین کے معاملے میں کسی اور کا لحاظ تو درکنار، خود اپنے باپ، بھائی، اولاد اور خاندان تک کی پروا نہیں کرتے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جو خدا اور رسول اور اس کے دین کا دشمن ہے اس کے لیے ان کے دل میں کوئی محبت نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی نے ان آیات میں صاف فرما دیا ہے کہ پہلی قسم کے لوگ چاہے کتنی ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلائیں، درحقیقت وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں، اور اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے کا شرف صرف دوسری قسم کے مسلمانوں کو حاصل ہے۔ وہی سچے مومن ہیں۔ انہی سے اللہ راضی ہے۔ فلاح وہی پانے والے ہیں۔

اگلا صفحہ »