محفوظات برائے May, 2010

6 روزہ جنگ

روزہ جنگ (عربی: حرب الأيام الستة ) جسے عرب اسرائیل جنگ 1967ء، تیسری عرب اسرائیل جنگ اور جنگ جون بھی کہا جاتا ہے مصر، عراق، اردن اور شام کے اتحاد اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی جس میں اسرائیل نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔

پس منظر

مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی جانب سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سب سے نمایاں مثال یمن کی ہے۔ یہاں انہوں نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں کے ایک گروہ سے سازش کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑگئی تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لئے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے لئے تباہ کن ثابت ہوا۔

صدر ناصر کی غلط فہمی

صدر ناصر یمن کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ اسرائیل کے مقابلے میں روس پر مکمل بھروسہ کرسکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لئے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ اقوام متحدہ کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور آبنائے عقبہ کو جہاز رانی کے لئے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔

واقعات جنگ

اسرائیل نے جو جنگ کے لئے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسہ تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہوگیا۔

ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سعودی عرب اور اردن سے مفاہمت پیدا کی اور شاہ فیصل سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔

اسرائیل کا امریکی بحری جہاز پر حملہ

مصری سمندر کے قریب اسرائیلی جہازوں نے امریکی بحریہ کے جہاز لبرٹی پر حملہ کیا، جس میں 34 امریکی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اسے غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا مگر اس کی امریکہ نے باقاعدہ تحقیقات سے گریز کیا۔ بعض محققین نے دعوٰی کیا ہے کہ حملہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ارادہ یہ تھا کہ جہاز ڈوبنے کے بعد ملبہ مصر پر ڈال کر امریکہ کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹ لیا جائے۔ مگر جہاز ڈوبا نہیں اور اس لیے مصر پر الزام نہیں لگایا جا سکا۔

پاک فضائیہ

6 روزہ جنگ میں پاک فضائیہ کے ہوا بازوں (پائلٹوں) نے بھی حصہ لیا ۔ پاکستانی ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

نتائج

اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زحمی اور 6 ہزار قیدی بنالئے گئے جبکہ اندازا 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے 779 فوجی مارے گئےجبکہ 2563 زخمی اور 15 قیدی بنالئے گئے۔

جون 1967ء کی جنگ میں شکست کے نتیجے میں غزہ (فلسطین) اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ان کا استعفی واپس لینے کے لئے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔

مصر کو معاشی نقصانات

1967ء کی جنگ نے مصر کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مصر کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ نہر سوئز تھی جس کی وجہ سے مصر کو ہر سال ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ نہر کے مشرقی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ہوجانے کے بعد نہر سوئز میں جہاز رانی بند ہوگئی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ مصر کو اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے سرمائے کی ضرورت تھی نہر سوئز کی آمدنی کا بند ہونا بڑا تباہ کن ثابت ہوتا لیکن سعودی عرب، کویت اور لیبیا آڑے آئے اور تینوں نے مل کر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرکے نہر سوئز کی بندش سے ہونے والے نقصان کی تلافی کردی۔

جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔

مغربی زرائع ابلاغ

اگرچہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا تھا، مگر دوسرے دن یورپ کی کئی معزز اخبارات نے چیختی ہوئی سرخیاں لگائیں جس میں عربوں کو جارح بتایا گیا تھا۔

جنگ یوم کپور

جنگ یوم کپور، جنگ رمضان یا جنگ اکتوبر (عربی: حرب أكتوبر) جسے عرب اسرائیل جنگ 1973ء یا چوتھی عرب اسرائیل جنگ بھی کہا جاتا ہے 6 اکتوبر سے 26 اکتوبر 1973ء کے درمیان مصر و شام کے عرب اتحاد اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی۔

اس جنگ کا آغاز یہودیوں کے تہوار یوم کپور کے موقع پر ہوا جب مصر اور شام نے اچانک جزیرہ نما سینا اور جولان کی پہاڑیوں پر حملہ کردیا۔ جزیرہ نما سینا پر اسرائیل نے 1967ء میں جنگ شش روزہ کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔

وجوہات

نہر سوئز کو مصر کی معیشت میں بنیادی اہمیت حاصل تھی لیکن یہ نہر 6 روزہ جنگ میں اسرائیلی قبضے کے بعد سے بند پڑی تھی۔ آمدنی کے اس ذریعے سے محروم ہوجانے کے بعد مصر کو سعودی عرب، کویت اور لیبیا کی اقتصادی امداد پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ اس مسئلےکو حل کرنے کے لئے مصر کے صدر انور سادات نے یہ پیشکش کی کہ اگر اسرائیلی نہر کے مشرقی ساحل سے واپس ہوجائیں تو نہر سوئز کھول دی جائے گی لیکن یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا جس پر مصر نے حملے کا فیصلہ کرلیا۔

واقعات جنگ

کوششوں میں کامیابی نہ ملنے پر مصر نے تو 6 اکتوبر 1973ء کو مصر نے حملہ کردیا اور مصری افواج نے نہر پار کرکے اسرائیلی فوجوں کو مشرقی ساحل سے بے دخل کردیا۔

اگرچہ 24 اکتوبر کو جنگ بندی سے پہلے اسرائیلی افواج نے جوابی حملہ کرکے نہر کے جنوب مغربی کنارے پر 300 مربع میل پر مشتمل مصری علاقے پر قبضہ کرلیا تھا لیکن مذاکرات کی میز پر اسرائیل کو ناکامی ہوئی اور اسے نہ صرف نو مفتوحہ علاقہ چھوڑنا پڑا بلکہ ستمبر 1975ء میں ایک معاہدے کے تحت اسرائیلی جزیرہ نما سینا کے ڈھائی ہزار مربع میل کے علاقے سے بھی محروم ہوگیا۔ اس طرح مصر نے 27 سال کی کشمکش کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کے مقابلے میں ایسی کامیابی حاصل کی جس نے 1967ء کی شرمناک شکست کی جزوی طور پر تلافی کردی۔ انور سادات نے مصر کا قومی دن 23 جولائی کے بجائے 6 اکتوبر مقرر کرکے اس شاندار کامیابی کو یادگار دن بنادیا۔ 1975ء میں نہر سوئز بین الاقوامی جہاز رانی کے لئے کھول دی گئی اور اس سے ہونے والی آمدنی سے مصر عربوں ملکوں کی مالی امداد کی محتاجی سے آزاد ہوگیا۔

کہا جاتا ہے کہ جنگ یوم کپور میں اگر امریکہ پس پردہ اسرائیل کی بھر پور امداد نہ کرتا تو فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا تھا۔ امریکہ بظاہر جنگ میں حصہ نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز جزیرہ نما سینا کے شمال میں بحیرہ روم میں ہر طرح سے لیس موجود تھا اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی ۔

اسرائیلی کمانڈوز نے پورٹ سعید کا محاصرہ کر لیا جو کئی دن جاری رہا ۔ وہاں مصری فوج موجود نہ تھی کیونکہ اسے جغرافیائی لحاظ سے کوئی خطرہ نہ تھا ۔ اپنے دور حکومت میں جمال عبدالناصر نے ہر جوان کے لئے 3 سال کی ملٹری ٹریننگ لازمی کی تھی جو اس وقت کام آئی ۔ پورٹ سعید کے شہریوں نے اسرائیلی کمانڈوز کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور انہیں شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ پھر امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے زور ڈال کر اقوام متحدہ کی قرارداد 338 کے ذریعے جنگ بندی کرا دی۔

اس جنگ میں اسرائیل کے 2656 فوجی ہلاک اور 7250 زخمی ہوئے۔ 400 ٹینک تباہ اور 600 کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مصری افواج نے اسرائیل کے 102 طیارے مار گرائے۔

پاک فضائیہ کا کردار

اس جنگ کے دوران پاکستان نے مصر اور شام کی مدد کے لئے 16 ہوا باز مشرق وسطیٰ بھیجے لیکن ان کے پہنچنے تک مصر جنگ بندی کرچکا تھا تاہم شام ابھی بھی اسرائیل سے حالت جنگ میں تھا۔ اس لئے 8 پاکستانی ہوا بازوں نے شام کی جانب سے جنگ میں حصہ لیا اور مگ-21 طیاروں میں پروازیں کیں۔ پاکستان کے فلائٹ لیفٹیننٹ اے ستار علوی یوم کپور جنگ میں پاکستان کے پہلے ہوا باز تھے جنہوں نے اسرائیل کے ایک میراج طیارے کو مار گرایا۔ انہیں شامی حکومت کی جانب سے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ان کے علاوہ پاکستانی ہوا بازوں نے اسرائیل کے 4 ایف 4 فینٹم طیارے تباہ کئے جبکہ پاکستان کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ یہ پاکستانی ہوا باز 1976ء تک شام میں موجود رہے اور شام کے ہوا بازوں کو جنگی تربیت دیتے رہے ۔

عرب اسرائیل جنگ 1948

1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی عرب اور اسرائیلی میں پہلی بار ایک دوسرے سے ٹکراۓ اور اس ٹکراؤ کو عرب اسرائیل جنگ 1948ء کا نام دیا گیا جبکہ اسرائیلی اسے “جنگ آزادی” کہتے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطین پر قابض ہوتے ہی علاقے کی عرب اقلیت پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے جس کی وجہ سے عربوں کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ بے خانماں عربوں کی تعداد جلد ہی 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔ عرب پوری طرح مسلح یہودی دستوں کا مقابلہ نہ کرسکے اور 15 مئی 1948ء تک اندرون فلسطین عربوں کی مزاحمت ختم ہوگئی۔ 14 اور 15 مئی کی درمیانی شب 12 بجے یہودیوں نے تل ابیب میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔

عربوں نے اس ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور مصر، شام، اردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ یہ جنگ 1949ء کے امن معاہدوں کے تحت ختم ہوگئی۔

پس منظر

پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جمعیت الاقوام نے موجودہ ترکی کے جنوب کے اضلاع فرانس اور برطانیہ کے قبضے میں دے دیے۔ دونوں قوتوں نے ان علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کرتے ہوئے عراق، شام اور لبنان تشکیل دیے جو آج بھی قائم ہیں۔ چوتھا علاقہ فلسطین کا تھا اور دریائے اردن کے ایک جانب فلسطین اور دوسری جانب اردن تھا۔

مصر میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ہنری میک موہن نے 1916ء میں وعدہ کیا کہ عربوں کے وہ علاقے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل تھے آزاد کردیئے جائیں گے مگر برطانیہ نے عیّاری برتتے ہوۓ ایک خفیہ معاہدہ “سائیکس پِیکاٹ” کیا جس کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے عربوں کے علاقہ کو اپنے مشترکہ اِنتظام کے تحت تقسیم کر لیا۔

واقعات جنگ

چنانچہ مصر سے بدعہدی کرتے ہوۓ انگریزوں نے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر 1918ء میں فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔ جمعیت الاقوام (لیگ آف نیشنز) نے 25 اپریل 1920 کو فلسطین پر انگریزوں کے قبضہ کو جائز قرار دے دیا ۔ برطانیہ نے مزید عیّاری یہ کی کہ 1917ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور نے برطانیہ کی طرف سے لارڈ راتھ شِلڈ نامی صیہونی لیڈر کو ایک خط لکھا جس میں فلسطین میں یہودی ریاست بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس طرح 14 مئی کو ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ کیونکہ عربوں کی مزاحمت ختم ہوچکی تھی اس لیے 15 مئی کی صبح مصر، اردن اور عراق کی فوجیں عربوں کے مفاد کے تحفظ میں فلسطین میں داخل ہونا شروع ہوگئیں۔ بعد میں سعودی عرب ایک دستہ بھی مصری فوج سے آن ملا لیکن عربوں کی اس متحدہ فوج کو بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ شام اور لبنان جو ایک سال قبل آزاد ہوئے تھے ان کے حملے بھی قطعی بے اثر رہے۔ مصری فوج غزہ شہر اور اس سے متصل مختصر علاقے کے علاوہ اور کسی علاقے پر قبضہ نہیں کرسکی۔ تاہم اردن کے عرب لیجن نے وسطی فلسطین کے بیشتر حصے اور بیت المقدس کے قدیم شہر کو یہودیوں کے قبضے میں جانے سے بچالیا۔

اس دوران سلامتی کونسل کے حکم پر 11 جون 1948ء کو طرفین نے جنگ بندی کردی۔ اس کے بعد جنگ شروع اور بند ہوتی رہی یہاں تک کہ 1949ء میں عرب ملکوں کو اسرائیل سے علیحدہ علیحدہ جنگ بندی کے معاہدے کرنا پڑے اور اسرائیل کے وجود کو عملا تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ 11 مئی 1949ء کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنالیا گیا۔

اس جنگ میں اسرائیل کے 6 ہزار 373 باشندے مارے گئے جن میں 4 ہزار فوجی اور باقی شہری تھے۔ عربوں کے جانی نقصان کے حتمی اعداد و شمار آج تک معلوم نہیں ہوسکے تاہم یہ تعداد 5 سے 15 ہزار کے درمیان ہے۔

سقوط بغداد 1258ء

1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافت عباسیہ کے خاتمے کو سقوط بغداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ہلاکو خان کی زیر قیادت منگول افواج نے خلافت عباسیہ کے دارالحکومت بغداد کا محاصرہ کرکے شہر فتح کرلیا اور عباسی حکمران مستعصم باللہ کو قتل کردیا۔ شہر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور کتب خانوں کو نذر آتش اور دریا برد کردیا گیا۔ جنگ کے بعد منگولوں نے شام پر حملہ کیا اور دمشق، حلب اور دیگر شہروں پر قبضہ کرلیا۔

اس شکست کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے عروج کا دور اول ختم ہوگیا۔

منگولوں کی پیشقدمی کا خاتمہ مملوک سلطان سیف الدین قطز اور اس کے سپہ سالار رکن الدین بیبرس نے فلسطین کے شہر نابلوس کے قریب عین جالوت کے مقام پر ایک جنگ میں کیا جس میں منگولوں کو پہلی مرتبہ شکست ہوئی۔ اس جنگ میں منگولوں کی قیادت ہلاکو خان کا نائب کتبغا کررہا تھا جو جنگ میں مارا گیا۔

سقوط بغداد 2003ء

2003ء میں عراق پر اتحادی افواج کے حملے کے ہفتوں بعد امریکی افواج نے دارالحکومت بغداد کی جانب پیش قدمی کی اور شہر کے جنوبی علاقوں میں عراقی افواج کی کمزور مزاحمت کے بعد 5 اپریل کو بغداد کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دو روز بعد صدام حسین کے محلات پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں چھاؤنیاں قائم کیں۔ محلات پر قبضے اور اس کی خبر پوری دنیا میں نشر ہونے کے بعد امریکی افواج نے بغداد میں عراقی افواج کو ہتھیار ڈالنے کی ہدایت کی اور بصورت دیگر شہر پر دھاوا بولنے کی دھمکی دی۔ عراقی حکومت کے عہدیداران اپنی روپوش تھے اور 9 اپریل 2003ء کو عراق کا دارالحکومت بغداد ایک مرتبہ پھر بیرونی حملہ آوروں کا نشانہ بن گیا اور صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔

اس موقع پر جس واقعے کی سب سے زیادہ تشہیر کی گئی وہ وسطی بغداد میں صدر صدام حسین کے مجسمے کی زمین بوسی تھی۔

سقوط بغداد کے ساتھ ہی ملک بھر میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوگئی اور عراق کے شہروں کوت اور ناصریہ نے تو ایک دوسرے کے خلاف جنگ تک کا اعلان کردیا۔ عراق کی یہ صورتحال آج تک قائم ہے جہاں اب تک لاکھوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

سقوط بغداد کے وقت فرار ہونے والے عراقی صدر صدام حسین اور ان کے صاحبزادے عودے اور قوصے حسین بعد ازاں گرفتار اور قتل ہوئے۔ عودے اور قوصے 22 جولائی 2003ء کو ایک چھاپے میں مارے گئے جبکہ صدام حسین 13 دسمبر 2003ء کو تکریت کے نواح میں (امریکی زرائع کے مطابق) ایک زیر زمین پناہ گاہ سے گرفتار ہوئے۔

وجوہ

مبصرین کے مطابق امریکی حملے کا مقصد مشرق وسطٰیٰ کے تیل کے زخائر پر قبضہ کرنا تھا۔ اس رائے کی تائید امریکی فیڈرل ریزرو بنک کے سابق سربراہ ایلن گرینسپین نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ اسپین کے وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی گفتگو فاش ہونے سے بھی ثبوت ملا ہے کہ امریکہ عراق پر حملہ کرنے کا عزم کر چکا تھا چاہے اقوام متحدہ کی security council سے اجازت ملے یا نہ۔

لوٹ مار

امریکی حملے کے بعد عراق میں میسوپوٹامیہ اور سمیرا کے آثارِ قدیمہ کو بے دردی سے مکمل طور پر لوٹ لیا گیا۔ اس کے علاوہ بہت سے تاریخی نوادرات تباہ کر دیے گئے۔ امریکی تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ ان قدیم تہذیبوں کے نوادرات کو عراق سے باہر لے جانے اور ان کی تجارت پر صدر صدام حسین کی لگائی گئی پابندی ختم ہونی چاہیے۔ قبضہ کے بعد پوری پوری فیکٹریاں اکھاڑ کر لوہا، تانبا، اور دوسری معدنیات ٹرکوں کے زریعہ عراق سے چوری کر کے اردن کے راستے باہر بھیج دی گئیں، جس کی اقوام متحدہ نے تصدیق کی۔ قیمتی یورینیم 550 میٹرک ٹن 2008ء میں چوری کر کے انٹاریو پہنچایا گیا۔

قتل و غارت

امریکی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد کا تخمینہ ساڑھے سات (7.5) لاکھ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسی (80) لاکھ افراد زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ ایک اور اندازے کے مطابق دس لاکھ عراقی ہلاک ہوئے جسے نسل کشی کہا جا سکتا ہے۔

2004ء میں عراقی شہر فالوجہ پر حملے کے دوران اور بعد امریکی افواج بدترین قتلِ عام میں ملوث رہی۔

امریکی افواج نے جینوا ماہدہ (Geneva convention) کی رو سے جنگی جرائم سرزد کیے، مگر اس میں ملوث فوجیوں کو کاغذی کاروائی کے بعد امریکی فوجی عدالتوں نے چھوڑ دیا۔ چھوٹی سطح کے فوجی بھی نظم و ضبط سے عاری من مانی کرتے ہوئے قتل کرتے رہے۔

مارچ 2008ء میں امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بغداد میں واقع صدر شہر اور جنوب میں بصرہ پر بمباری کی۔ یہ کاروائی عراق کی کٹھ پتلی حکومت کی فوجوں کی امداد میں کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سابق اہلکار البرادی کے مطابق، عراق پر حملے کے نتیجہ میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کی پامالی

امریکی افواج نے جینیوا معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور قیدیوں پر بے انتہا ظلم و تشدد میں ملوث رہی۔

قبضہ

امریکی فوج عراق میں بڑے فوجی اڈے قائم کر رہی ہے، اور ستمبر 2007ء کی تقریر میں امریکی صدر نے عراق پر مستقل فوجی قبضے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عراقی کٹھ پتلی حکومت نے “تیل قانون” کی منظوری دی جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے عراق کے تیل کے زخائر پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار ہو گئی اور انھوں نے قبضہ کا عمل شروع کر دیا۔ یاد رہے کہ صدر صدام حسین کے تحت تیل کے زخائر اور صنعت قومی ملکیت تھی۔ 2008 میں امریکی حکومت نے مطالبہ کیا کہ اسے عراق میں 50 مستقل فوجی اڈے فراہم کرنا ہونگے، اس کے علاوہ فضا میں کھلی آزادی اور اس کی فوج اور کرائے کے ملازموں کو قانون سے آزادی۔ اگر کٹھ پتلی عراقی حکومت نے چوں چراں کی تو امریکی بنکوں میں عراق کے 25 بلین ڈالر ہتھیا لیے جائیں گے۔ جون 2009ء میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فوجیں عراقی شہروں سے “ہٹا” رہا ہے۔ ساتھ ہی عراقی تیل میدانوں کی مغربی کمپنیوں کو “نیلامی” کا فیصلہ بھی ہوا۔

ماحولیاتی تباہی

امریکی فوج کی جانب سے برسوں مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے ملک میں وسیع پیمانے پر نیوکلائی اور ریڈیائی تابکاری پھیلنے کی وجہ سے صحت عامہ پر شدید اثرات نمودار ہوئے ہیں۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »