محفوظات برائے June, 2010

بصریٰ

بصریٰ جنوبی شام کا ایک قدیم شہر ہے جو دمشق سے تقریباً 150 میل جنوب اور اردن کی سرحد سے 19 میل شمال میں واقع ہے۔ یہ دمشق سے عمان جانے والی شاہراہ پر واقع ایک اہم شہر ہے۔ بصریٰ کے معنی بلند قلعہ ہیں اور اسے بصریٰ الشام بھی کہا جاتا ہے۔ بائبل میں اسے “ادومکا” اور “بصورہ” کہا گیا ہے۔ 106ء میں قدیم نبطی سلطنت کے سلطنت روما سے الحاق کے بعد بصری رومی صوبہ عرب کا صدر مقام بن گیا۔ بازنطینی عہد میں اسے بوسترا کہا جانے لگا۔ اُن دنوں اسقفی کا مرکز تھا۔

عہد نبوی میں بصری الشام رومی سلطنت کے تحت غسانی حکومت کا صدر مقام تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حاکم بصری شرجیل بن عمرو غسانی کو بھی اسلام کی دعوت دی مگر اس بد بخت نے موتہ کے مقام پر سفیر نبوت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا جس کے نتیجے میں جنگ موتہ کا واقعہ پیش آیا۔

مسلمانوں نے یہ شہر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 13ھ میں فتح کیا۔ قرامطہ کے ہاتھوں یہ شہر تباہ و برباد ہوا تاہم سلجوقیوں نے اس کی ماضی کی عظمتیں لوٹانے کی کوشش کی اور پھر ایوبی عہد میں بھی تعمیر نو کا کام ہوا۔ تاتاریوں کے ہاتھوں تباہی کے بعد یہ شہر گمنامی میں چلا گیا تاہم مملوک سلطان ملک الظاہر بیبرس نے قلعہ بصریٰ کو پھر مستحکم کیا۔

کوتاہیہ

مغربی ترکی کا ایک شہر جس کی آبادی 2004ء کے اندازوں کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار باشندوں پر مشتمل ہے۔ کوتاہیہ دریائے بورسک کے کنارے سطح سمندر سے 930 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ صوبہ کوتاہیہ کا صدر مقام ہے۔

کوتاہیہ زمانۂ قدیم سے صنعتی علاقے کے طور پر معروف رہا ہے خاص طور پر ظروف سازی اور سفال گری کی صنعت کے حوالے سے اسے قدیم دور سے ہی ممتاز مقام حاصل رہا۔ جدید صنعتوں میں شکر سازی اور دباغت اور زرعی صنعت میں اناج، پھل اور شکر قندی شامل ہیں۔

کوتاہیہ ریل اور سڑکوں کے ذریعے مغرب میں 250 کلو میٹر دور بالکیسر، جنوب مغرب میں 450 کلومیٹر دور قونیہ، شمال مشرق میں 70 کلومیٹر دور اسکی شہر اور مشرق میں 300 کلومیٹر دور انقرہ سے ملا ہوا ہے۔

کوتاہیہ کے قدیم علاقوں میں روایتی عثمانی طرز کے مکانات بکثرت ملتے ہیں۔ شہر میں آثار قدیمہ بھی ملتے ہیں جن میں ایک بازنطینی دور کا قلعہ اور گرجا بھی شامل ہیں۔

1071ء میں سلجوقیوں سے اس شہر کو فتح کیا اور اگلے چند سالوں تک اس پر مسلمانوں کی حکومت رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں 1095ء میں یہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ سلجوقیوں نے دوسری مرتبہ اسے 1182ء میں فتح کیا۔ 1402ء میں جنگ انقرہ کے بعد امیر تیمور نے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 1482ء میں یہ عثمانی سلطنت کا حصہ بنا جس کے دوران اس نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی لیکن 19 ویں صدی میں صرف 70 کلو میٹر دور اسکی شہر کے تیزی سے پھیلنے کے بعد کوتاہیہ کی ترقی گہنا گئی اور یہ علاقائی و اقتصادی اہمیت کھو بیٹھا۔

1831ء عثمانی سلطنت کے والئ مصر محمد علی پاشا کی بغاوت کے بعد اس کا بیٹا ابراہیم پاشا شہر پر شہر فتح کرتے ہوئے کوتاہیہ تک پہنچ گیا تھا لیکن عالمی قوتوں کی مداخلت کے باعث محمد علی کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔

ترکی کے معروف سیاح اور مصنف اولیاء چلبی کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

انطاکیہ

انطاکیہ (انگریزی: Antioch، ترکی:Antakya) ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ حطائے کا صدر مقام ہے جو بحیرۂ روم سے 20 میل دور دریائے آسی کے کنارے واقع ہے۔ 2000ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 144،190ہے۔

یہ شہر 4 صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کے ایک جرنیل سلیوکس اول نے قائم کیا تھا۔ 638ء میں بازنطینی شہنشاہ ہراکلیس کے دور حکومت میں مسلمانوں نے اسے فتح کیا لیکن وہ اناطولیہ میں زیادہ آگے نہ جا سکے اور انطاکیہ کی حیثیت دو عظیم طاقتوں کے درمیان سرحدی علاقے کے ایک قصبے کی ہو گئی جو اگلے 350 سالوں تک دونوں سلطنتوں کے ٹکراؤ کا نشانہ بنتا رہا۔

969ء میں مائیکل بورزا اور پیٹر دی یونوچ نے اسے دوبارہ بازنطینی سلطنت کا حصہ بنایا۔ 1084ء میں سلجوقیوں سے اس شہر کو فتح کیا لیکن یہ صرف 14 سال ان کے قبضے میں رہا اور صلیبی جنگیں شروع ہو گئیں۔

پہلی صلیبی جنگ کے دوران عیسائیوں نے شہر کا 9 ماہ طویل محاصرہ کیا اور شہر پر قبضہ کرکے پوری مسلم آبادی کو ختم کر ڈالا۔ اس عظیم قتل عام کے بعد اس شہر کو عیسائی امارت انطاکیہ کا صدر مقام قرار دیا گیا اور اگلی 2 صدیوں تک یہ شہر عیسائیوں کے قبضے میں رہا۔ بالآخر 1268ء میں مملوک سلطان رکن الدین بیبرس نے انطاکیہ کو فتح کرکے صلیبیوں کا خاتمہ کر دیا۔ بعد ازاں یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا۔

جنگ عظیم اول اور ترک جنگ آزادی کے بعد ترک جمہوریہ قائم ہوئی، اُس وقت یہ شہر فرانس کے زیر انتظام شام میں شامل ہوا۔

لیکن ترکوں کا دعویٰ تھا کہ یہ ترکی کے علاقے ہیں۔ یہاں کی آبادی ترکوں، عربوں اور ارمنی باشندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن ترکوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ شام بھی ان اضلاع کا دعویدار تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے انطاکیہ اور اسکندرون کے علاقوں میں مئی 1937ء میں ایک نیم خود مختار حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اس حکومت کی منتخب مجلس کے 40 میں سے 22 ارکان ترک تھے۔ اس مجلس نے اتفاق رائے سے ترکی سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 23 جولائی 1939ء کو یہ دونوں اضلاع ترکی میں شامل ہو گئے۔ انطاکیہ کا نام بدل کر حطائے (Hatay) کر دیا گیا لیکن یہ آج بھی انطاکیہ کے نام سے ہی مشہور ہے۔

اسکندرون

اسکندرون (سابق:Alexandretta، ترکی:İskenderun) ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ حطائے کا ایک شہر ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے خلیج اسکندرون پر واقع ہے۔ 2000ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 159،149 ہے۔

اسکندرون ایک مصروف تجارتی مرکز اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں پر ترکی کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ سیاحت کے حوالے سے بھی معروف مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے معروف سیاحتی مقامات میں دورتیول، جہاں 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے دارا سوم کو شکست دی تھی، اور عثمانیہ، جہاں صلیبیوں کا قائم کردہ قلعہ آج بھی موجود ہے، شامل ہیں۔ یہ شہر 333 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے قائم کیا تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد اسکندرون کی سنجق فرانس کے زیر انتظام شام میں شامل ہوئی لیکن ترکوں کا دعویٰ تھا کہ یہ ترکی علاقہ ہے۔ یہاں کی آبادی ترکوں، عربوں اور ارمنی باشندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن ترکوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ شام بھی ان اضلاع کا دعویدار تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے انطاکیہ اور اسکندرون کے علاقوں میں مئی 1937ء میں ایک نیم خود مختار حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اس حکومت کی منتخبہ مجلس کے 40 میں سے 22 ارکان ترک تھے۔ اس مجلس نے اتفاق رائے سے ترکی سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 23 جولائی 1939ء کو یہ دونوں اضلاع ترکی میں شامل ہو گئے۔

اسکی شہر

اسکی شہر (ترکی:Eskişehir) شمال مغربی ترکی کا ایک شہر اور صوبہ اسکی شہر کا صدر مقام ہے۔ 2000ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 482،793 ہے۔ یہ دریائے بورسک کے کنارے سطح سمندر سے 790 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ انقرہ سے 250 کلو میٹر مغرب، استنبول سے 350 کلو میٹر جنوب مشرق اور کوتاہیہ سے 90 میل شمال مشرق میں واقع ہے۔

اسکی شہر ترکی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب قدیم شہر ہے۔ یہ شہر ایک ہزار قبل مسیح میں بسایا گیا۔ اس شہر کو اناطولیہ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

آج یہ ترکی کے بڑے صنعتی مراکز میں سے ایک ہے۔ جن میں روایتی آٹا چکیوں اور اینٹوں کے بٹھوں کے علاوہ ریلوے ورکشاپ اور ترکی کی پہلی ہوا بازی کی صنعت بھی شامل ہیں۔ ترک فضائیہ کا صدر دفتر بھی یہیں واقع ہے جو سرد جنگ کے دوران نیٹو کا جنوبی بازو تھا۔

شہر کا بیشتر حصہ ترک جنگ آزادی کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

اگلا صفحہ »