محفوظات برائے July, 2010

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RWB یا RSF) (انگریزی: Reporters Without Borders، فرانسیسی: Reporters sans frontières) پیرس، فرانس میں واقع ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو دنیا بھر میں آزادی صحافت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ اسے 1985ء میں موجودہ معتمد عام (Secretary General) رابرٹ مینارڈ (Robert Ménard) نے رونی برومین (Rony Brauman) (جو اس وقت Doctors Without Borders کے صدر تھے) اور صحافی جین-کلاڈ گوئل بیڈ کے ہمراہ قائم کیا تھا۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا قیام 1985ء میں مونٹ پیلیر کے مقام پر عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کے قیام کا مقصد متبادل صحافت کا فروغ تھا لیکن اس منصوبے کی ناکامی سے قبل تینوں بانیوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ بالآخر صرف رابرٹ مینارڈ بچے جو اس کے معتمد عام بنے۔ مینارڈ نے ادارے کے مقاصد میں تبدیلی کر کے اسے آزادی صحافت سے منسوب کر دیا۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی عالمی میثاق 1948ء کی شق 19 سے متاثر ہو کر کام کر رہی ہے جس میں ہر شخص کو رائے اور اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے اور وہ سرحدوں سے بالا تر ہو کر اطلاعات اور خیالات کی خواہش، حصول اور انہیں پھیلانے کا حق رکھتا ہے۔ یورپ میں یہ قانون 1950ء کے میثاق برائے تحفظ حقوق انسانی و بنیادی آزادی کا حصہ ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز غیر سرکاری اداروں کے ایک نیٹ ورک انٹرنیشنل فریڈم آف ایکسپریشن ایکسچینج (International Freedom of Expression Exchange) کا بانی رکن ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں آزادی اظہار کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتا ہے اور ایسے صحافیوں، مصنفین اور دیگر متعلقہ افراد کا دفاع کرتا ہے جنہیں آزادی اظہار کی پاداش میں ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ 2005ء میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے مشترکہ طور پر یورپی پارلیمان کا سخاروف انعام برائے آزادی اظہار حاصل کیا۔ RWB کئی سالوں سے دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کو درپیش خطرات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے کتب شائع کرتا آ رہا ہے۔ حال ہی میں ادارے نے Handbook for Bloggers and Cyber-Dissidents کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس میں معروف بلاگر صحافیوں ڈین گلمور، جے روزن اور ایتھن زوکرمین کی کاوشیں شامل ہیں۔

آزادی صحافت اشاریہ

RWB ہر سال آزادی صحافت کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کی درجہ بندی تیار اور شائع کرتا ہے جو آزادی صحافت کا اشاریہ (Press Freedom Index) کہلاتا ہے۔ مالٹا اور انڈورا جیسے چھوٹے ممالک اس درجہ بندی کا حصہ نہیں بنائے جاتے۔ ادارے نے 2007ء کا اشاریہ 16 اکتوبر 2007ء کو شائع کیا۔ یہ رپورٹ “رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز“ کے شراکت دار اداروں کو بھیجے گئے سوالنامے اور دنیا بھر میں ادارے کے 130 نمائندوں کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے جن میں صحافی، محققین، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ اس اشاریہ میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ اس میں صرف آزادی صحافت کو شمار کیا جائے، صحافت کے معیار کو نہیں۔ درجہ بندی میں صحافیوں کو غیر سرکاری اداروں کی جانب سے درپیش دباؤ کو بھی نمایاں کیا جاتا ہے جیسے اسپین میں باسک دہشت گرد گروہ ETA اور روس میں مافیا کی جانب سے صحافیوں کو درپیش خطرات وغیرہ، جو ان ممالک میں آزادی صحافت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔

بلیک ہاک ڈاؤن (فلم)

دنیا بھر کے 65 سے 73 ملین افراد کی زبان جن کی اکثریت ترکی میں رہتی ہے تاہم قبرص، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ مغربی یورپ خصوصاً جرمنی میں رہائش پذیر تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی ترک زبان بولتی ہے۔ اس زبان کی جڑیں وسط ایشیا سے جا ملتی ہیں اور پہلا تحریری ثبوت 1200 سال تک قدیم ہے۔ مغرب میں عثمانی ترک زبان کے اثرات عثمانی سلطنت کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتے رہے۔ اس دور میں ترکی زبان کو عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اسے عثمانی ترکی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں سال تک کا ادبی، ثقافتی اور تاریخی مواد اسی رسم الخط میں ترکی اور کچھ دیگر ممالک کے عجائب گھروں میں موجود ہے۔ 1928ء میں اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں عربی رسم الخط کا خاتمہ کر کے نئے لاطینی رسم الخط کو رائج کیا گیا۔ اصلاحات کے نتیجے میں عربی اور فارسی کے الفاظ کو بڑی تعداد میں ترک زبان سے نکالا گیا اور ان کی جگہ ترک زبان کے مقامی لہجوں اور قدیم الفاظ رائج کیے گئے۔”بلیک ہاک ڈاؤن” (انگریزی: Black Hawk Down) معروف ہدایت کار رڈلے اسکاٹ کی پیش کردہ ایک فلم ہے جو 2001ء میں دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ مارک بوڈن کی کتاب “بلیک ہاک ڈاؤن” سے ماخوذ ہے۔ اس فلم میں جنگ موغادیشو کو فلمایا گیا ہے جو 1993ء میں امریکی فوج کی صومالی رہنما فرح عدید کو گرفتار کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔ فلم میں جوش ہارٹنیٹ، ٹوم سائزمور، ایون بریمنر، ولیم فچنر اور کم کوٹس نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ یہ تمام اداکار اس سے قبل جیری برک ہیمر کی فلم “پرل ہاربر” میں بھی ایک ساتھ تھے۔

کہانی

فلم ڈیلٹا فورس آپریٹر، آرمی رینجر اور اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ کے مشترکہ آپریشن کی حقیقی داستان ہے جو صومالی دارالحکومت موغادیشو کی بکارا مارکیٹ میں فرح عدید کے دو اہم نائبین کی گرفتاری کے لیے کیا گیا تھا۔ مشن کی قیادت میجر جنرل ولیم گیریزن کر رہے تھے۔ آپریشن کے بارے میں اندازا لگایا گیا تھا کہ اس مشن کی تکمیل میں نصف گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ڈیلٹا فورس کا مشن تو کامیاب رہا لیکن مسلح صومالی ملیشیا نے امریکی فوج کے 2 بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز مار گرائے جس کے بعد پوری مہم ان ہیلی کاپٹروں میں سوار سپاہیوں کو بچانے کی کوشش میں کی گئی اور اس طرح یہ آپریشن 15 گھنٹے طویل ہو گیا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران امریکی فوج کو پہلا مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب ایک ہیلی کاپٹر کو آر پی جی (Rocket propelled grenade) سے بچانے کی کوشش میں پی ایف سی ٹوڈ بلیک برن نیچے گر جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی صومالی ملیشیا کے ساتھ ایک خونی مقابلے کا آغاز ہو جاتا ہے جس کے دوران دو امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جاتے ہیں جن میں سپر سکس ون اور سپر سکس فور شامل ہیں جنہيں بالترتیب کلف “ایلوس” والکوٹ اور مائیک ڈیورینٹ چلا رہے تھے۔ بعد ازاں ڈیورنٹ کو صومالی ملیشیا گرفتار کر لیتی ہے۔ بہرحال ایک ہزار سے زائد صومالی شہریوں و جنگجوؤں اور 19 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج کی مدد سے امریکی اپنے فوجیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ فلم کا اختتام 19 امریکی فوجیوں اور تقریباً ایک ہزار صومالی شہریوں کی ہلاکت، مائیک ڈیورنٹ کی رہائی اور 1996ء میں محمد فرح عدید کی ہلاکت کی خبر کے ساتھ ہوتا ہے۔

پس منظر اور پیش کاری

دراصل اس کتاب پر فلم بنانے کا منصوبہ ہدایت کار سائمن ویسٹ نے بنایا تھا جنہوں نے جیری برک ہیمر پر زور دیا کہ وہ فلم کی ہدایات دینے کو ذہن میں رکھ کر اس کتاب کے حقوق حاصل کریں۔ تاہم ویسٹ نے لارا کرافٹ: ٹومب ریڈر کی ہدایات کے لیے اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ حالانکہ فلم آپریشن میں شریک تمام جوانوں پر بنائی گئی ہے لیکن جون اسٹیبنز کی جگہ جون گرائمز کا خیالی کردار تشکیل دیا گیا کیونکہ اسٹیبنز 1999ء میں اپنی بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے باعث کورٹ مارشل کا نشانہ بنے۔ بوڈن نے دعویٰ کیا کہ پینٹاگون نے اس تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ فلم میں رینجر کے کردار ادا کرنے والے 40 سے زائد افراد کو دو ہفتے کی تربیت کے لیے فورٹ بیننگ بھیجا گیا جبکہ ڈیلٹا فورس کی تربیت کے لیے تین اداکار فورٹ بریگ، جنوبی کیرولائنا گئے جہاں انہوں دو ہفتوں کا کمانڈو کورس کرایا گیا۔ رون ایلڈرڈ اور ہوا بازوں کے کردار ادا کرنے والے دیگر اداکاروں کو فورٹ کیمبل بھیجا گیا جہاں انہیں لٹل برڈ اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں نے دروس دیے۔ ہدایت کار نے فلم بندی کے لیے امریکی فوج کی مدد بھی طلب کی اور فلم میں دکھائے گئے بلیک ہاک اور لٹل برڈ ہیلی کاپٹرز 160 ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن ریجمنٹ (ایس او اے آر) سے تعلق رکھتے تھے اور بیشتر پائلٹ 3 اور 4 اکتوبر 1993ء کو ہونے والے حقیقی آپریشن میں بنفس نفیس شریک بھی رہے تھے۔ امریکی بری افواج نے فلم کے لیے زمینی گاڑیاں اور ہتھیار بھی فراہم کیے جبکہ امریکی آرمی رینجرز کی ایک پلاٹون بھی مختلف مناظر (جیسے رسیوں سے اترنے وغیرہ) کی فلم بندی کے لیے موجود تھی۔ بیشتر فلم مراکش کے شہروں رباط اور سالے میں فلمائی گئی حالانکہ فلم سازوں نے صومالیہ میں فلم بندی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن خطرات کے باعث مراکش کا انتخاب کیا گیا۔

اداکار

* جوش ہارٹ نیٹ – اسٹاف سارجنٹ میٹ ایورس مین، امریکی رینجرز
* ایرک بانا – سارجنٹ فرسٹ کلاس نورم ہوٹ گبسن، ڈیلٹا فورس آپریٹر
* ایوان میک گریگور – اسپیشلسٹ جون گرائمز، امریکی آرمی رینجرز
* ٹوم سائز مور – لیفٹیننٹ کرنل ڈینی میک نائٹ، کمانڈر تیسری رینجر بٹالین
* ولیم فچنر –سارجنٹ فرس کلاس جیف سینڈرسن، ڈیلٹا فورس آپریٹر
* ایون بریمنر – اسپیشلسٹ شان نیلسن، امریکی آرمی رینجر
* سام شیپرڈ – میجر جنرل ولیم ایف گیریزن، ٹاسک فورس رینجر کمانڈر
* کم کوٹس – سارجنٹ ٹم گرز، ڈیلٹا فورس آپریٹر
* ہوو ڈانسی – سارجنٹ فرسٹ کلاس کورٹ شمڈ، امریکی ڈیلٹا فورس میڈک۔ فلم میں آرمی رینجر کے طور پر پیش ہوئے۔
* رون ایلڈرڈ – چیف وارنٹ افسر مائیکل ڈیورنٹ، 160 ویں ایس او اے آر کے پائلٹ
* ایون گروفوڈ – لیفٹیننٹ جون بیلز، امریکی آرمی رینجر
* ٹوم گیوری – اسٹاف سارجنٹ ایڈ یورک، امریکی آرمی رینجر
* چارلی ہوف ہیمر – کارپورل جیمز جمیی اسمتھ،امریکی آرمی رینجر
* ڈینی ہوچ – سارجنٹ ڈومینک پلا، امریکی آرمی رینجر
* جیسن آئزکس – کیپٹن مائیک لڈی اسٹیل، کمانڈر کمپنی بی، تیسری رینجر بٹالین
* زیلکو ایوانیک – لیفٹیننٹ کرنل ہیرل، ڈیلٹا فورس کمپوننٹ کمانڈر
* گلین مورشوور – لیفٹیننٹ کرنل ٹام میتھیوز، کمانڈر پہلی بٹالین، 160 ویں ایس او اے آر
* جیریمی پیون – چیف وارنٹ افسر کلفٹن ایلوس والکوٹ، 160 ویں ایس او اے آر پائلٹ
* برینڈن سیکسٹن III – اسپیشلسٹ رچرڈ الفابیٹ کووالیوسکی، امریکی آرمی رینجر
* جونی اسٹرونگ – سارجنٹ فرسٹ کلاس رینڈ شوگہارٹ، ڈیلٹا فورس اسنائپر
* رچرڈ ٹائسن – اسٹاف سارجنٹ ڈینیئل بوش، ڈیلٹا فورس آپریٹر
* برائن وان ہولٹ—اسٹاف سارجنٹ جیف اسٹریوکر، امریکی آرمی رینجر
* اسٹیفن فورڈ – لیفٹیننٹ کرنل جو کربز
* ٹوم ہارڈی – اسپیشلسٹ لانس ٹومبلی، امریکی آرمی رینجر
* کارمائن گیوینازو – سارجنٹ مائیکل گوڈیل، امریکی آرمی رینجر
* کرس بیٹم – سارجنٹ جیمز کیسی جوائس، امریکی آرمی رینجر
* میتھیو مارسڈین – اسپیشلسٹ ڈیل سائزمور، امریکی آرمی رینجر
* اورلانڈو بلوم – پرائیوٹ فرسٹ کلاس، ٹوڈ بلیک برن، امریکی آرمی رینجر
* اینرک مورسیانو – سارجنٹ لورینزو روئز، امریکی آرمی رینجر
* جارج ہیرس۔ عثمان علی اٹو، فرح عدید کا لیفٹیننٹ

خیرمقدم

باکس آفس کارکردگی

جب 28 دسمبر 2001ء کو پہلی بار فلم چھوٹے پیمانے پر 4 سینماؤں میں پیش کی گئی تو اس نے پہلے اختتام ہفتہ پر صرف 179،823 امریکی ڈالرز کی آمدنی حاصل کی۔ لیکن 18 جنوری 2002ء کو فلم بڑے پیمانے پر 3101 سینماؤں میں پیش کی گئی اور اس نے پہلے اختتام ہفتہ پر 28،611،736 ڈالرز کا کاروبار کیا اور اس طرح 2002ء میں پہلے ہفتہ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بن گئی۔ جب 14 اپریل 2002ء کو فلم سینماؤں سے اٹھائی گئی تو وہ 108،638،745 ڈالرز مقامی اور 64،350،906 ڈالرز بین الاقوامی طور پر کما چکی تھی اس طرح فلم کی کل عالمی آمدنی 172،989،651 ڈالرز بنتی ہے۔

اعزازات

فلم نے مندرجہ ذیل اعزازات حاصل کیے:

* 2002ء اکیڈمی ایوارڈ برائے بہترین تدوین (پیٹرو اسکالیا)
* 2002ء اکیڈمی ایوارڈ برائے بہترین آواز (مائیکل منکلر، مائرون نیٹنگا، کرس منرو)
* موشن پکچر ساؤنڈ ایڈیٹرز، امریکہ کی جانب سے 2002ء کا گولڈن ریل ایوارڈ برائے بہترین صوتی تدوین، صوتی اثرات اور فولے، مقامی فیچر فلم
* 2002ء ہیری ایوارڈ

بسنت

بسنت (Basant) یا بسنت پنچمی موسم بہار میں منائے جانے والا بنیادی طور پر ہندوؤن کا ایک تہوار ہے۔ یہ پانچویں ہندو مہینہ ماگھ کی 5 تاریخ کو ہوتا ہے اور ویدوں میں اس کا تعلق سرسوتی دیوی سے بتایا جاتا ہے جو ہندو مت میں موسیقی اور آرٹ (فن) کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔

بسنت کی بنیاد

بسنت کا سنسکرت میں لفظی مطلب بہار کا ہے۔ اسے بسنت پنچمی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماگھ کی پانچ تاریخ کو منایا جاتا ہے جو عموماً فروری کے مہینے میں آتا ہے۔ ویدوں میں لکھا ہے کہ یہ سرسوتی دیوی کا دن ہے۔ اس دن خوشی منائی جاتی ہے اور سرسوتی دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔ خوشی کے اظہار کے لیے نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور موسیقی سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ ہندوستان کے دیگر مذاہب کے افراد بھی اب یہ تہوار ثقافت کی آڑ میں مناتے ہیں۔

بسنت کے بارے میں مختلف نقطہ نظر

بسنت کو ہندوستان کے بعض علاقوں میں دیگر مذاہب کے افراد بھی مناتے ہیں اور اس کی تاویل یہ دیتے ہیں کہ سردیوں کا موسم ختم ہو رہا ہوتا ہے لوگ جو موسم کی شدت کی وجہ سے گھروں میں بند تھے۔ درجہ حرارت مناسب ہونے پر گھروں سے باہر آتے ہیں اور خزاں اور سرما کی بے رنگی اور بدمزگی جو انکے مزاج اور آنکھوں پر چھائی ہوئی ہے اسے باہر آکر تیز رنگوں والے کپڑے پہن کر باہر گھوم پھر کر یا پتنگ بازی کر کے طبیعت کے اس زنگ کو اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شوق کا زیادہ اظہار پتنگ بازی کی شکل میں نکلتا ہے۔ سپاٹ آسمان اچانک رنگوں سے سج جاتا ہے۔ فطرت انگڑائیاں لیتی ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ خاکی رنگ کی زمین سرسوں کے پیلے اور ہرے رنگ کی وجہ سے رنگین ہو جاتی ہے۔ بہار کے دوسرے پھول اور پرندوں کی چہچہاہٹ خوشیوں کے پیغام لاتی ہیں کہ یہ بسنت ہے یہ جشن بہاراں ہے۔ فطرت کے اس رنگوں بھرے اور خوشیوں بھرے جشن میں انسان بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ وہ تمام کام کرتے ہیں جو اہل ہنود کرتے ہیں سوائے سرسوتی دیوی کی پوجا کے۔

جبکہ بسنت کے مخالفین کے مطابق اس تہوار کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ایک شخص سے جوڑتے ہیں جس کا ذکر ایک ہندو مؤرخ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

اس مکتبۂ فکر کے مطابق بسنت ہندوؤں اور سکھوں کا مشترکہ تہوار ہے۔ ایک ہندو مؤرخ بی ایس نجار نے اپنی کتاب “Punjab under the later Mughals” میں لکھا ہے کہ:

“حقیقت رائے باگھ مل پوری سیالکوٹ کے ایک ہندو کھتری کا اکلوتا لڑکا تھا۔ حقیقت رائے نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں انتہائی گستاخانہ اور نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کے لئے لاہور بھیجا گیا جہاں اسے سزائے موت کا حکم سنادیا گیا۔ اس واقعے سے پنجاب کے ہندوؤں کو شدید دھچکا لگا اور کچھ ہندو افسر سفارش کے لئے اُس وقت کے پنجاب کے گورنر ذکریا خان (1707ء تا 1759ء) کے پاس گئے کہ حقیقت رائے کو معاف کردیا جائے لیکن ذکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی کرنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا اس گستاخ رسول کی گردن اڑادی گئی۔ اس پر ہندوؤں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہندوؤں نے حقیقت رائے کی ایک مڑہی (یادگار) قائم کی جو کوٹ خواجہ سعید (کھوجے شاہی) لاہور میں واقع ہے اور اب یہ جگہ “باوے دی مڑہی” کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقام پر ایک ہندو رئیس کالو رام نے حقیقت کی یاد میں اس کی موت کے دن کو ایک میلے کی شکل دی اور ہر سال بہار کے موسم میں بسنت میلے کا آغاز کیا۔ پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔”

یہ مکتبۂ فکر بسنت کو ایک موسمی نہیں بلکہ مذہبی تہوار سمجھتا ہے چونکہ اس کا ذکر پرانی ہندو مذہبی کتب میں آتا ہے۔ پرانی کتابوں کے مطابق پتنگ پر دو آنکھیں یا دوسرے شکلیں بنا کر آسمان سے نازل ہونے والی بلائیں دور کی جاتی ھیں۔ یہ خیالات جنوب مشرقی ایشیاء کے کچھ ممالک میں بھی پائے جاتے ھیں جیسے سنگاپور، تھائی لینڈ وغیرہ۔

بسنت پر دوسرا بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ بسنت منانےکے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ھیں جس کی وجہ پتنگ کی ڈور کا گلے پر پھر جانا ہے۔ کچھ بچے پتنگ بازی کرتے ہوئے چھت سے بھی گر جاتے ھیں اور کچھ ان گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جو پتنگ باز چلاتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بناء پر ہر سال بسنت کے موقع پر پاکستانی عدالتوں اس تہوار کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور کبھی کبھار تو پتنگ بازی پر پابندی بھی لگا دی جاتی ہے۔

ترک زبان

دنیا بھر کے 65 سے 73 ملین افراد کی زبان جن کی اکثریت ترکی میں رہتی ہے تاہم قبرص، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ مغربی یورپ خصوصاً جرمنی میں رہائش پذیر تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی ترک زبان بولتی ہے۔ اس زبان کی جڑیں وسط ایشیا سے جا ملتی ہیں اور پہلا تحریری ثبوت 1200 سال تک قدیم ہے۔ مغرب میں عثمانی ترک زبان کے اثرات عثمانی سلطنت کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتے رہے۔ اس دور میں ترکی زبان کو عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اسے عثمانی ترکی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں سال تک کا ادبی، ثقافتی اور تاریخی مواد اسی رسم الخط میں ترکی اور کچھ دیگر ممالک کے عجائب گھروں میں موجود ہے۔ 1928ء میں اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں عربی رسم الخط کا خاتمہ کر کے نئے لاطینی رسم الخط کو رائج کیا گیا۔ اصلاحات کے نتیجے میں عربی اور فارسی کے الفاظ کو بڑی تعداد میں ترک زبان سے نکالا گیا اور ان کی جگہ ترک زبان کے مقامی لہجوں اور قدیم الفاظ رائج کیے گئے۔

منگول

منگول موجودہ منگولیا، روس اور چین اور خصوصا وسط ایشیائی سطح مرتفع صحرائے گوبی کے شمال اور سائبیریا کے جنوب سے تعلق رکھنے والی ایک قوم ہے۔

اس وقت منگولوں کی کل آبادی 10 ملین ہے جو منگول زبان بولتے ہیں۔ منگولیا میں کل 2.7 ملین، چین کے ملحقہ صوبے میں 5 ملین اور روس میں ایک ملین منگول موجودہیں۔

تاریخ عالم میں منگولوں کی اولین مشہور شخصیت چنگیز خان (پیدائش 1160ء، وفات: 1227ء) تھی۔ جس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر یورپ کے وسط تک ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ یہ تاریخ عالم کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو مغرب میں ہنگری، شمال میں روس، جنوب میں انڈونیشیا اور وسط کے بیشتر علاقوں مثلاً افغانستان، ترکی، ازبکستان، گرجستان، آرمینیا، روس، ایران، پاکستان، چین اور بیشتر مشرق وسطیٰ پر مشتمل تھی۔

اگلا صفحہ »