محفوظات برائے 'تاریخ اسلام' زمرہ


سرد جنگ

ریاستہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین اور ان کے متعلقہ اتحادیوں کے درمیان 1940ء سے 1990ء کی دہائی تک جاری رہنے والے تنازع، تناؤ اور مقابلے کو سرد جنگ کہا جاتا ہے۔ اس پورے عرصے میں یہ دو عظیم قوتیں مختلف شعبہ ہائے حیات میں ایک دوسرے کی حریف رہیں جن میں عسکری اتحاد، نظریات، نفسیات، جاسوسی، عسکری قوت، صنعت، طرزیاتی ترقی، خلائی دوڑ، دفاع پر کثير اخراجات، روایتی و جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور کئی دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ یہ امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست عسکری مداخلت کی جنگ نہ تھی لیکن یہ عسکری تیاری اور دنیا بھر میں اپنی حمایت کے حصول کے لیے سیاسی جنگ کی نصف صدی تھی۔ حالانکہ امریکہ اور سوویت یونین دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف متحد تھے لیکن بعد از جنگ تعمیر نو کے حوالے سے ان کے نظریات بالکل جدا تھے۔ چند دہائیوں میں سرد جنگ یورپ اور دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی۔ امریکہ نے اشتراکی نظریات کی روک تھام کے لیے خصوصاً مغربی یورپ، مشرق وسطٰی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ممالک سے اتحاد قائم کیے۔ اس دوران کئی مرتبہ ایسے تنازعات پیدا ہوئے جو دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لے آئے جن میں برلن ناکہ بندی (1948ء-1949ء)، جنگ کوریا (1950ء-1953ء)، جنگ ویتنام (1959ء-1975ء)، کیوبا میزائل بحران (1962ء) اور سوویت افغان جنگ (1979ء-1989ء) قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے ادوار بھی آئے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی واقع ہوئی۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں سرد جنگ اس وقت اختتام پذیر ہونے لگی جب سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے امریکی صدر رونالڈ ریگن سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ساتھ ساتھ اپنے ملک میں اصلاحاتی منصوبہ جات کا اعلان کیا۔ اس دوران روس مشرقی یورپ میں اپنی قوت کھوتا رہا اور بالآخر 1991ء میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

صبیحہ گوکچن

صبیحہ گوکچن (پیدائش: 22 مارچ 1913ء، بورصہ، انتقال: 22 مارچ 2001ء، انقرہ) ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں۔ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لیے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔

داستان زندگی

ترک ذرائع اور صبیحہ گوکچن کے مطابق وہ مصطفٰی عزت بے اور خیریہ خانم کی صاحبزادی تھیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ہانس-لوکاس کیسر کا کہنا ہے کہ وہ آرمینیائی نژاد تھیں۔

1925ء میں جب اتاترک نے بروصہ کا دورہ کیا تو وہ صرف 12 سال کی تھیں اور انہوں نے اتاترک سے گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور ایک بورڈنگ اسکول میں پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے والدین کے پسماندہ معاشی حالات اور خواہش کو سامنے رکھتے ہوئے اتاترک نے انہیں گود لینے کا فیصلہ کیا اور صبیحہ کے بھائی کی اجازت سے انہیں اپنے ساتھ انقرہ لے آئے۔ انقرہ میں وہ صدارتی رہائش گاہ میں اتاترک کی دیگر چار گود لی گئی بیٹیوں زہرہ، عفت اور رقیہ کے ساتھ رہائش پذیر ہوئیں۔ انہوں نے پہلے چنکایا پرائمری اسکول، انقرہ میں اور بعد ازاں اسکودار کیز لسیسی (اسکودار گرلز اسکول)، استنبول میں داخلہ لیا۔

21 جون 1934ء کو خاندانی نام اختیار کرنے کے قانون کے بعد اتاترک نے اسی سال 19 جون کو صبیحہ کو گوکچن کا خاندانی نام دیا۔ ترک زبان میں گوک کا مطلب “آسمان” ہوتا ہے اس لیے گوکچن کا مطلب ہوا “آسمان سے نسبت”۔ انہوں نے یہ نام اختیار کرنے کے چھ ماہ بعد ہوا بازی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

مصطفٰی کمال اتاترک ہوا بازی کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے 1925ء میں ترکش ایروناٹیکل ایسوسی ایشن قائم کی۔ 5 مئی 1935ء کو ترکشو (طائرِ ترکی) فلائٹ اسکول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وہ صبیحہ کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ اس موقع پر کئی ممالک کے گلائیڈرز اور چھاتہ برداروں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں صبیحہ نے انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور اتاترک کے سامنے اپنی اڑان کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسکول کے سربراہ فواد بولجا کو صبیحہ کو پہلی خاتون تربیتی کارکن کی حیثیت سے بھرتی کرنے کی ہدایت کی۔ صبیحہ ہوا بازی کی تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں سات مرد ہوا بازوں کے ساتھ روس روانہ ہوئیں اور وہاں تربیتی مکمل کی۔

ماسکو میں قیام کے دوران انہیں زہرہ کے انتقال کی خبر ملی جس نے انہیں ذہنی طور پر بہت زیادہ متاثر کیا اور وہ ترکی واپس آ گئیں اور کچھ عرصے سے معاشرتی سرگرمیوں سے بالکل کٹ گئیں۔

1936ء کے آغاز میں اتاترک نے انہیں فضائیہ میں شمولیت کی ہدایت کی تاکہ وہ ترکی کی پہلی خاتون پائلٹ بن جائیں۔ انہوں نے اسکی شہر کے ہوائی اڈے کی پہلی ایئر کرافٹ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور ہوائی جہاز اڑانے میں مہارت حاصل کرتی گئیں۔ 1937ء میں ایجین اور تھریس کی مشقوں میں حصہ لے کر اپنے تجربے میں اضافہ کیا۔ اسی سال انہوں نے درسم فسادات کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن میں حصہ لیا اور اس طرح دنیا کی پہلی خاتون پائلٹ بن گئیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔

1938ء انہوں نے بلقان کے ممالک پر 5 روز تک پرواز کی اور اس کارنامے پر دنیا بھر میں سراہی گئیں۔ بعد ازاں انہیں ترکشو فلائٹ اسکول میں اعلٰی تربیت کار کے طور پر تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے 1955ء تک خدمات انجام دیں اور اس دوران ترک ہوابازی کے ادارے کی ایگزیکٹو بورڈ کی رکن رہیں۔ صبیحہ گوکچن 1964ء تک 28 سال دنیا بھر میں محوِ پرواز رہیں۔ ان کی کتاب “اتاترک کی راہوں پر زندگی” 1981ء میں اتاترک کی 100 ویں سالگرہ پر شائع ہوئی۔

ترک فضائیہ میں اپنے دور میں انہوں نے 22 مختلف اقسام کے جہازوں میں 8 ہزار سے زائد گھنٹے پرواز کی جس میں 32 گھنٹے جنگوں میں صرف کیے۔

وہ 1996ء میں امریکی فضائیہ کے شائع کردہ پوسٹر تاریخ کے 20 عظیم ترین ہوا باز میں واحد خاتون تھیں۔ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں واقع دوسرا بڑا ہوائی اڈہ ان کے نام سے “صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈہ” کہلاتا ہے۔

پہلوی خاندان

ایران کا آخری شاہی خاندان، جس کی حکومت کا آغاز 1925ء میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی کے ساتھ اور خاتمہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح ایران میں ملوکیت کی قدیم روایت کا خاتمہ ہوا۔

سلطنت کا آغاز

1921ء میں رضا خان (بعد ازاں رضا شاہ پہلوی) جو ایران کی فوج میں ایک افسر تھے اپنے دستوں کو استعمال کرتے ہوئے قاچار خاندان کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ چار سالوں کے اندر تمام مخالفتوں کو کچل انہوں نے خود کو ملک کا طاقتور ترین فرد ثابت کر دیا۔ 1925ء میں وہ قاچار خاندان کے آخری فرمانروا احمد شاہ قاچار کو معزول کر کے خاص طور پر بلائے گئے ایوان کے ذریعے نئے بادشاہ بن گئے۔

وہ ایران کو جدید ریاست بنانے کے وسیع تر منصوبے کے حامل تھے اور اس میں بڑے پیمانے پر صنعتوں کے قیام کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ذرائع نقل و حمل کی ملک بھر میں تیاری، قومی سرکاری تعلیمی نظام کے قیام، عدلیہ میں اصلاحات اور صحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ جات شامل تھے۔ وہ ایک مستحکم اور مرکزی حکومت پر یقین رکھتے تھے۔

انہوں نے اپنے صاحبزادے سمیت سینکڑوں ایرانیوں کو یورپ تربیت کے لیے بھیجا۔ ان کے 16 سالہ دور اقتدار (1925ء تا 1941ء) میں ان کے منصوبہ جات نے ایران کو ایک ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ ان کی اصلاحات سے ایک پیشہ ور متوسط اور صنعتوں میں کام کرنے والے طبقات ابھرے۔

لیکن 1930ء کی دہائی میں رضا شاہ کے آمرانہ انداز کے طرز حکومت نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا مذہبی طبقے میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ 1935ء میں رضا پہلوی نے فارس کی جگہ ملک کے لیے ایران کا لفظ منتخب کیا۔ چند دانشوروں کے احتجاج کے بعد ان کے جانشیں محمد رضا شاہ پہلوی نے 1959ء میں اعلان کیا کہ فارس اور ایران دونوں ہی قابل قبول ہیں۔

رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ حالانکہ ان کے ترقیاتی منصوبہ جات کو غیر ملکی تکنیکی تجربات کی ضرورت رہی لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ حالانکہ برطانیہ نے اینگلو-ایرانین آئل کمپنی کے ذریعے ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا لیکن رضا شاہ نے تکنیکی مدد جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک سے حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ اس لیے 1939ء کے بعد اس وقت ایران کے لیے مسائل کھڑے ہو گئے جب جرمنی اور برطانیہ دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن کے طور پر آمنے سامنے ہوئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا لیکن برطانیہ بضد رہا کہ ایران میں جرمن مہندس اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ بنانا ہے۔ برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبہ جات پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم

جون 1941ء میں جرمنی کی سوویت یونین میں مداخلت کے بعد برطانیہ اور سوویت روس اتحادی بن گئے۔ دونوں نے اپنی توجہ ایران کی جانب مبذول کی۔ برطانیہ اس وقت حال ہی میں تیار ہونے والی ریل کے نظام کو خلیج فارس کے راستے سوویت روس کو ذرائع نقل و حمل کی فراہمی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر اگست 1941ء میں برطانیہ اور روس نے ایران پر چڑھائی کر دی اور رضا شاہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا اور ایران کے ریل راستوں پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے دوران برطانیہ اور روس کے اتحادی امریکہ نے ریل راستوں کی دیکھ بھال اور اسے رواں رکھنے میں مدد کے لیے فوجی دستہ بھیجا۔ برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کے نظام حکومت کو ختم کرتے ہوئے آئینی حکومتی اختیارات کو محدود کر دیا۔ انہوں نے رضا شاہ کے صاحبزادے محمد رضا پہلوی کو تخت پر فائز کرنے کی اجازت دی۔

جنوری 1942ء میں انہوں نے ایران سے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایران کی آزادی کے احترام اور جنگ کے خاتمے کے چھ ماہ کے اندر فوج نکال دینے کا اعلان کیا گیا۔ 1943ء میں تہران کانفرنس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اس وعدے کا اعادہ کیا۔ 1945ء میں روس نے ایران کے شمال مغربی صوبوں مشرقی آذربائیجان اور مغربی آذربائیجان سے نکلنے کے لیے نظام الاوقات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں علاقوں میں روس کی مدد سے خود مختاری کی تحریکیں تیار کی گئیں۔

روس نے مئی 1946ء میں اپنے دستے واپس بلا لیے لیکن تناؤ کی کیفیت کئی ماہ برقرار رہی۔

غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ایران کے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی مکمل اجازت دی گئی اور 1944ء میں مجلس کے انتخابات ہوئے جو 20 سے زائد سالوں کے عرصے میں پہلے حقیقی انتخابات تھے۔ غیر ملکی مداخلت تمام جماعتوں کے لیے بدستور سب سے حساس مسئلہ تھا۔ اینگلو-ایرانین آئل کمپنی جو حکومت برطانیہ کی ملکیت تھی، ایران کا تیل پیدا اور فروخت کرتی جا رہی تھی۔ 1930ء کی دہائی کے اوائل میں چند حلقوں سے ملک کے تیل کے ذخائر کو قومیانے کی صدا بلند ہوئی اور 1946ء تک یہ مطالبہ ایک مقبول سیاسی تحریک بن گیا۔

سرد جنگ

محمد رضا پہلوی نے 16 ستمبر 1941ء کو والد کی جگہ تخت شاہی سنبھالا۔ وہ اپنے والد کی اصلاحات کی پالیسیوں پر قائم رہے لیکن جلد ہی حکومت پر اثر و رسوخ رکھنے کے لیے شاہ اور معروف سیاست دان محمد مصدق کے درمیان کشمکش کا آغاز ہو گیا۔

آئینی شہنشاہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے اور پارلیمانی حکومت کو جوابدہ ہونے کے دعووں کے باوجود محمد رضا پہلوی حکومت معاملات میں بہت زیادہ مداخلت کرتے۔ ان کی توجہ افواج میں اصلاحات اور اس امر کو یقینی بنانے پر مرکوز رہی کہ وہ بدستور شاہی اثر و رسوخ کے زیر اثر رہے۔ 1949ء میں شاہ پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور شاہ کے آئینی اختیارات میں اضافہ ہو گیا۔

1951ء میں برطانوی تیل نکالنے والی صنعت کو قومیانے (دیکھیے: ابادان بحران) کے فورا بعد مجلس نے محمد مصدق کو 12 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ شاہ اس معاملے پر مصدق کے مخالف تھے کیونکہ انہیں مغرب کی جانب سے تیل پر پابندی عائد کرنے کا خطرہ تھا جو ایران کو اقتصادی طور پر بحران سے دوچار کرسکتا تھا۔ شاہ ایران سے فرار ہو گئے لیکن جب برطانیہ اور امریکہ نے اگست 1953ء میں مصدق کے خلاف بغاوت ترتیب دی (دیکھیے آپریشن ایجیکس) تو وہ وطن واپس آ گئے۔ مصدق کو شاہ نواز افواج نے گرفتار کر لیا۔

علاقائی بے چینی اور سرد جنگ کے تناظر میں شاہ نے خود کو مغرب کا اہم اتحادی قرار دے دیا۔ اس دوران انہوں نے مزید اصلاحات کیں جنہیں انقلاب سفید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں ملکیت زمین، عورتوں کے حق رائے دہی اور ناخواندگی کے خاتمے کے حوالے سے اعلانات شامل تھے۔ ایران میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے عظیم تر منصوبہ جات ترتیب دیے گئے جس کے نتیجے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا اور صرف دو دہائیوں میں ایران غیر متنازع طور پر مشرق وسطٰی کی بڑی اقتصادی و فوجی قوت بن گئی۔ لیکن ساتھ ساتھ معاشرے پر مغربی اثرات گہرے ہوتے گئے۔

عوام میں غیر اسلامی اقدار کے فروغ کے باعث مذہبی رہنماؤں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور آمرانہ طرز حکومت کے باعث سنجیدہ حلقے بھی جمہوری اصلاحات کے خواہشمند تھے۔ ان مخالفین نے شاہ کی اصلاحات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں آئین کی خلاف ورزی قرار دیا کیونکہ وہ شاہی اختیارات کو محدود کرتا تھا۔

شاہ خود کو قدیم ایران کے شہنشاہوں کا جانشیں سمجھتے تھے اور 1971ء میں انہوں نے فارسی شہنشاہیت کے ڈھائی ہزار سال کی تکمیل پر جشن کا اہتمام کیا۔ 1976ء میں انہوں نے اسلامی ہجری تقویم (سال 1355ھ) کی جگہ شمسی “شاہی” تقویم (سال 2595) کو رائج کر دیا جو 25 صدی قبل پہلی فارسی سلطنت کے قیام سے شروع ہوتا ہے۔ شاہ کے ان اقدامات کو غیر اسلامی سمجھا گیا اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف مذہبی رہنماؤں کی مخالفت میں مزید شدت آ گئی۔

خاتمہ

عوامی سطح پر ردعمل کو دبانے کے لیے شاہ کی حکومت اپنے خفیہ جاسوسی کے ادارے ساواک کے ذریعے مخالفین کے بے دردی سے کچلنے لگی۔ ان مخالفین میں مذہبی طبقات کے علاوہ اشتراکی نظریات کی حامل تودہ پارٹی بھی شامل تھی جس نے کئی مرتبہ شاہ اور ان کے صاحبزادوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

1970ء کی دہائی کے وسط تک تیل کے ذریعے بڑھتی ہوئی آمدنی کے نتیجے میں شاہ نے ملکی ترقی کے لیے مزید اہم اور بڑے منصوبہ جات کے سلسلے کا آغاز کیا۔ لیکن مغربی اثرات کے تلے روز بروز دبنے کی وجہ سے مذہبی طبقے کی بے چینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اسلامی رہنماؤں خصوصا جلا وطن آیت اللہ روح اللہ خمینی نے شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اسلامی روایات کی جانب واپس پلٹنے کا اعلان کیا جسے اسلامی انقلاب کا نام دیا گیا۔ 1978ء اور 1979ء میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کے بعد شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ شاہ ملک سے فرار ہو گئے اور مصر اور پاناما سے ہوتے ہوئے دوبارہ مصر میں انور سادات کے مہمان بنے۔ ان کے انتقال پر ان کے صاحبزادے شہزادہ رضا پہلوی نے پہلوی خاندان کے سربراہ کی حیثیت سنبھالی۔ آج پہلوی خاندان امریکہ کی ریاست میری لینڈ میں تقریباً گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے۔

فرح دیبا پہلوی

فرح دیبا (پیدائش: 14 اکتوبر 1938ء) ایران کی آخری ملکہ اور پہلوی خاندان کے آخری فرمانروا محمد رضا پہلوی کی تیسری اہلیہ تھیں۔

ابتدائی زندگی

وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہوئیں۔ اپنے والدین سہراب دیبا اور فریدہ قطبی کی واحد اولاد تھیں۔ والدہ کا تعلق گیلان سے تھا جبکہ والد ایران کی شاہی فوج میں عہدیدار تھے جن کے آبا و اجداد ایرانی آذربائیجان سے تعلق رکھتے تھے۔ فرح کے والد کا انتقال ان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔

تعلیم و شادی

فرح نے تہران کے فرنچ اسکول اور پیرس کے École Spéciale d’Architecture میں تعلیم حاصل کی۔ طالبعلمی کے زمانے میں ان کا شاہ سے تعارف ہوا اور 21 دسمبر 1959ء کو وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ فرح سے شاہ کی چار اولادیں ہوئیں جن میں دو صاحبزادے اور ایک دو صاحبزادیاں تھیں۔

* رضا پہلوی (پیدائش: 30 اکتوبر 1960ء)
* فرح ناز پہلوی (پیدائش: 12 مارچ 1963ء)
* علی رضا پہلوی (پیدائش: 28 اپریل 1966ء)
* لیلا پہلوی (پیدائش: 27 مارچ 1970ء – انتقال: 10 جون 2001ء)

شادی اور تاجپوشی کے بعد بھی ملکہ کی حیثیت سے وہ فن و ثقافت کے شعبے میں متحرک رہیں۔

انقلاب و جلاوطنی

انقلاب ایران کے ساتھ ہی وہ شاہ کے ہمراہ ملک چھوڑ گئیں۔ اس سے چند روز قبل ہی تمام بچوں کو امریکہ میں رہائش پذیر فریدہ دیبا (والدۂ ملکہ) کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ شاہ اور ملکہ پہلے مصر گئے پھر مراکش، بہاماس، میکسیکو، امریکہ اور پاناما میں قیام کے بعد دوبارہ مصر واپس آئے جہاں دونوں 27 جولائی 1980ء کو شاہ کی وفات تک قیام پذیر رہے۔ بعد ازاں فرح نے گرینوچ، کنیکٹیکٹ میں ایک گھر خریدا اور 2001ء میں لیلا پہلوی کے انتقال (خودکشی) کے بعد اس گھر میں بھی رہائش ترک کر دی اور اور واشنگٹن ڈی سی کے قریب پوٹوماک، میری لینڈ میں ایک گھر خرید لیا تاکہ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے قریب رہ سکیں۔ اب ان کا بیشتر وقت واشنگٹن، نیویارک، پیرس اور قاہرہ میں گزرتا ہے۔ ان کے صاحبزادے رضا پہلوی ایران میں شہنشاہیت کی بحالی کے لیے سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ رضا اور ان کی اہلیہ یاسمین سے فرح کے تین پوتے پوتیاں (ایمان، نور اور فرح) ہیں۔

سوانح عمری

2003ء میں فرح پہلوی نے اپنی سوانح عمری تحریر کی جس کا نام انہوں نے ” An Enduring Love: My Life with the Shah” رکھا۔ یہ کتاب 2004ء میں امریکہ میں شائع ہوئی۔

خطابات

حالانکہ انقلاب کے بعد حکومت ایران نے سابق شاہی خاندان کو تمام اعزازات اور خطابات سے محروم کر دیا ہے اور قانونی طور پر کوئی بھی شاہی خطاب ممنوع ہے لیکن فرح دیبا اپنے نام کے ساتھ ملکہ یا شاہبانو استعمال کرتی ہیں جبکہ ایران کی موجودہ حکومت سے ناراض مغربی ذرائع ابلاغ اور شاہ کے حامیان بھی انہیں ملکہ یا شاہبانو کے نام سے پکارتے ہیں۔

ابو الحسن اشعری

ابو الحسن اشعری عباسی دور کے مشہور مسلمان عالم دین تھے۔ وہ 873ء میں پیدا ہوئے اور 935ء میں انتقال فرمایا۔ آپ اس زمانے میں پیدا ہوئے جب غیر مسلم باشندوں سے میل جول اور ان کی کتابوں کے عربی ترجمے ہونے کے باعث مسلمانوں میں غیر اسلامی خیالات تیزی سے پھیل رہے تھے۔ امام احمد بن حنبل اور امام شافعی وغیرہ نے ان خیالات کی روک تھام کی لیکن ان گمراہ کن خیالات کا عقلی بنیاد پر جس نے کامیاب مقابلہ کیا وہ امام ابو الحسن اشعری کی شخصیت تھی۔ آپ نے پہلی مرتبہ دلائل سے اور عقلی بنیاد پر اسلامی عقائد اور نظریات کی صداقت ثابت کی اور ایک نئے علم کی بنیاد ڈالی جو علم کلام کہلاتا ہے۔ جس کا مقصد عقلی دلائل سے اسلام کی سچائی ثابت کرنا ہے۔ وہ تقریباً ڈھائی سو کتابوں کے مصنف تھے جن میں اَلاِبَانہ اور مقالات الاسلامیین مشہور کتابیں ہیں۔

اگلا صفحہ »