محفوظات برائے 'تاریخ اسلام' زمرہ


مسیلمہ کذاب

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انتقال کے بعد عرب میں جو نبوت کے دعویدار سامنے آئے ان میں سب سے طاقتور مسیلمہ کذاب تھا۔ جب مسلمان دیگر کذابوں کے خاتمے میں مصروف تھے اس دوران مسیلمہ اپنا دعویٰ نبوت عام کرنے میں مصروف رہا اور اس نے اتنی طاقت حاصل کر لی کہ اس کا چالیس ہزار کا لشکر یمامہ کی وادیوں میں پھیل گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلے لیے عکرمہ بن ابی جہل کو یمامہ کی طرف روانہ کیا اور عکرمہ کی مدد کے لیے شرجیل کو بھی روانہ کیا۔ شرجیل کے پہنچنے سے قبل ہی عکرمہ نے لڑائی کا آغاز کر دیا لیکن انہیں شکست ہوئی۔ اس عرصے میں شرجیل بھی مدد کو آ پہنچے لیکن دشمن کی قوت بہت بڑھ چکی تھی۔ مسیلمہ کی نبوت کی تائید بنی حنیفہ نے بھی کی اس وقت ان کا بہت زور تھا۔ شرجیل نے بھی پہنچتے ہی دشمن سے مقابلہ شروع کر دیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس عرصے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دیگر مرتدین سے نمٹ چکے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں عکرمہ اور شرجیل کی مدد کے لیے یمامہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مسیلمہ بھی خالد کی روانگی کی اطلاع سن کر مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہوا اور یمامہ سے باہر صف آرائی کی۔ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی۔ فریقین میں نہایت سخت مقابلہ ہوا۔ پہلا مقابلہ بنو حنیفہ سے ہوا۔ اسلامی لشکر نے اس دلیری سے مقابلہ کیا کہ بنو حنیفہ بد حواس ہو کر بھاگ نکلے اور مسیلمہ کے باقی آدمی ایک ایک کر کے خالد رضی اللہ عنہ کی فوجوں کا نشانہ بنتے رہے۔ جب مسیلمہ نے لڑائی کی یہ صورتحال دیکھی تو اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا اور میدان جنگ سے کچھ دور ایک باغ میں پناہ لی لیکن مسلمانوں کو تو اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا تھا اس لے خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ سے تنگ آ کر مسیلمہ ایک گروہ کے ساتھ باہر نکل آیا۔ اس کے باہر آتے ہی وحشی نامی ایک مسلمان نے ایسا نیزہ مارا کہ وہ کذاب وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس کے گروہ کے تمام آدمی مارے گئے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے اہل یمامہ سے صلح کرلی۔ یہ جنگ جنگ یمامہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدین کے خاتمے سے اسلامی سلطنت کے لیے ایک بہت بڑا خطرے کا خاتمہ ہو گیا جس میں اہم کردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دینی و سیاسی بصیرت کا تھا۔ اسلام کو انتشار سے بچانے کے لیے یہ آپ کا نہایت اہم کارنامہ ہے۔

قتیبہ بن مسلم

قتیبہ بن مسلم اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور کے مشہور مسلم سپہ سالاروں میں سے ایک تھا، جس نے ترکستان کی مہمات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ قتیبہ 48ھ میں پیدا ہوا۔ ابن اشعث کے خلاف معرکہ آرائی میں حجاج بن یوسف نے اس کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ عبدالملک نے حجاج بن یوسف کے مشورے سے قتیبہ کو خراسان کا والی مقرر کر دیا جس نے قتیبہ کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع فراہم کر دیا اور اپنی انہی صلاحیتوں اس نے بنی امیہ کی سلطنت کو وسعت دے کر اپنا نام اہم سپہ سالاروں کی صف میں شامل کیا۔

قتیبہ فتوحات اور جہاد کے شوق میں چین کی سرحد تک جا پہنچا۔ ولید کا دور قتیبہ کی فتوحات اور ترقی کا دور تھا لیکن سلیمان بن عبدالملک کے دور میں حالات ایسے پیدا ہوئے کہ قتیبہ نے بغاوت کر دی۔

قتیبہ حجاج کا حامی تھا جبکہ سلیمان حجاج سے نفرت کرتا تھا اس لیے نے اس نے یزید بن مہلب کو قتیبہ کی جگہ خراسان کا والی مقرر کیا جو قتیبہ کی بغاوت کی وجہ ثابت ہوئی لیکن اس کی فوج نے اس کا ساتھ نہ دیا اور اسے قتل کر کے سر کاٹ کے ولید کے پاس بھیج دیا۔ اس طرح سلیمان کے دور کے تین عظیم سپہ سالار موسیٰ بن نصیر، محمد بن قاسم اور پھر قتیبہ بن مسلم سلیمان کے دور میں اپنے انجام کو پہنچے۔

لودھی سلطنت

دہلی کی آخری سلطنت، جو 1451ء سے 1526ء تک قائم رہی۔

1412ء میں سلطان محمود تغلق کے انتقال کے بعد سلطنت دہلی میں کئی سال تک ہنگامے رہے اور سیدوں کا خاندان مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ لیکن 1451ء میں لاہور اور سرہند کے پٹھان صوبے دار بہلول لودھی (1451ء تا 1489ء) نے دہلی پر قبضہ کر کے ایک بار پھر مضبوط حکومت قائم کر دی جو لودھی سلطنت کہلائی۔ اس نے جونپور بھی فتح کر لیا جہاں ایک آزاد حکومت قائم ہو گئی تھی۔

دہلی کی یہ لودھی سلطنت اگرچہ جونپور سے ملتان تک پھیلی ہوئی تھی،لیکن دہلی کی مرکزی حکومت کے مقابلے میں بہت چھوٹی تھی۔ اس کی حیثیت سب مقامی حکومتوں کی طرح صرف ایک صوبائی حکومت کی تھی.

لودھی خاندان میں سب سے زیادہ شہرت بہلول کے لڑکے سکندر لودھی (1489ء تا 1517ء) کو حاصل ہے۔ آگرہ کے شہر کی بنیاد اس نے ڈالی۔ اس زمانے میں آگرہ کا نام سکندر آباد تھا۔ شہر آباد ہو جانے کے بعد سکندر لودھی نے دہلی کے بجائے آگرہ کو دارالحکومت بنا لیا۔

وہ سادہ طبیعت کا حامل تھا شاہی لباس میں تکلف پسند نہ کرتا تھا۔ انتظام مملکت اور رعایا کو خوشحالی کے لیے اقدامات میں مشغولیت، جاڑے میں کپڑے اور شالوں کی تقسیم اور محتاجوں کو کھانے کی فراہمی میں خوشی محسوس کرتا تھا۔ ہر چھ ماہ بعد محتاجوں اور مسکینوں کی فہرست اس کے سامنے پیش ہوتی اور وہ چھ ماہ کے لیے ان کے وظیفے جاری کرتا۔

البتہ سکندر لودھی غصے کا تیز تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی کبھی ہندوؤں سے زیادتی کر جاتا تھا لیکن وہ وفادار ہندوؤں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کرتا تھا۔

سلطان کے زمانے میں ہندوؤں نے پہلی بار فارسی پڑھنا شروع کی اور اس نے ان ہندوؤں کو سرکاری ملازمتیں دیں۔ اس کے عہد میں سنسکرت کی کتابوں کا فارسی ترجمہ کیا گیا۔

سکندر کے بعد اس کا بیٹا ابراہیم لودھی (1517ء تا 1526ء) تخت پر بیٹھا۔ انتہائی نا اہل حکمران تھا۔ اس کو دہلی کے قریب پانی پت کے میدان میں کابل کے مغل حکمران ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں شکست ہوگئی اور اس طرح لودھی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ یہ فیصلہ کن جنگ پانی پت کی پہلی لڑائی کہلاتی ہے۔

ابو عبداللہ

ابو عبد اللہ (مکمل نام: ابو عبد اللہ محمد الثانی عشر) (1460ء-1533ء) امارت غرناطہ یعنی بنو نصر کا آخری فرمانروا تھا جو اندلس میں مسلمانوں کی آخری حکومت تھی۔ وہ طائفہ غرناطہ کے حکمران مولائے ابو الحسن کا بیٹا تھا۔

1483ء میں ابو عبداللہ گرفتار ہوکر لوسینا میں قید ہو گیا اور اسے اس شرط پر رہائی نصیب ہوئی کہ امارت غرناطہ عیسائیوں کی باجگذار ہوگی۔ سقوط غرناطہ سے قبل اس نے چند سال اپنے والد مولائے ابو الحسن اور عزیز عبد اللہ الزغال کے خلاف جدوجہد میں گزارے۔

1489ء میں قشتالہ و ارغون کے شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ آئزابیلا نے ابو عبد اللہ کو غرناطہ خالی کرنے کا حکم دیا اور انکار پر شہر کا محاصرہ کر دیا۔ 2 جنوری 1492ء کو ابو عبد اللہ نے ہتھیار ڈال دیے اور اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

بعد ازاں وہ آبنائے جبل الطارق عبور کر کے مراکش آگیا جہاں فاس شہر میں اس کا انتقال ہو گیا۔

آل سعود

آل سعود سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے۔ جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ء میں پڑی تاہم جزیرہ نما عرب میں آل سعود کا اثر و رسوخ چند صدیاں قبل شروع ہو گیا تھا۔ مملکت کے بانی عبد العزیز ولد سعود سے قبل یہ خاندان نجد میں حکمران تھا اور کئی مواقع پر عثمانی سلطنت اور مکہ کے راشدیوں سے ان کا ٹکراؤ ہوا جس میں انگریزوں نے انہیں ترکی خلافت کے خلاف استعمال کیا۔ آل سعود تین مرتبہ حکومتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جن میں پہلی سعودی ریاست، دوسری سعودی ریاست اور جدید سعودی عرب شامل ہیں۔

موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے جن میں شہزادوں کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ خاندان کے موجودہ سربراہ اور سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمٰن آل سعود ہیں۔

بانئ سلطنت عبدالعزیز ولد سعود کی اولاد ہی سعودی ریاست کا شاہ یا ولی عہد قرار دی جا سکتی ہے۔

سربراہان آل سعود

پہلی سعودی ریاست

* محمد ولد سعود
* عبد العزیز ولد محمد ولد سعود
* سعود ولد عبد العزیز ولد محمد بن سعود
* عبد اللہ ولد سعود

دوسری سعودی ریاست

* فیصل ولد ترکی
* فرحان عبدل

سعودی عرب

* عبد العزیز بن عبد الرحمن ولد فيصل آل سعود
* سعود ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود
* فیصل ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود
* خالد ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود
* فہد ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود
* عبد اللہ ولد عبد العزیز ولد عبد الرحمن آل سعود

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »