محفوظات برائے 'قرآن' زمرہ


معوذتین

الناس الفلق

نام

اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں، اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام ” مُعَوِّذَتَیُن” (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام معوذتین ہے۔ ہم یہاں دونوں پر یک ہی دیباچہ لکھ رہے ہیں کیونکہ ان سے متعلقہ مسائل و مباحث بالکل یکساں ہیں۔ البتہ آگے ان کی ترجمانی و تفسیر الگ الگ کی جائے گی۔

زمانۂ نزول

حضرت حسن بصر، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ مگر ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور قتادہ کا بھی ہے۔ اس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک مسلم، ترمذی، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز مجھ سے فرمایا: ” الم تر اٰ یاتٍ اُنزلَت اللیلۃ، لم یُرَ مثلھن، اَعُوُذُ بَرَبّ الُفَلَق، اَعُوذ بِرَبِ النَّاس ” تمہیں کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں؟ یہ بے مثل آیات ہیں۔ اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ الناس۔” یہ حدیث اس بنا پر ان سورتوں کے مدنی ہونی کی دلیل ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود ان کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ دوسری روایات جو اس قول کی تقویت کی موجب بنی ہیں وہ ابن سعد، مُحیّ السُّنّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَہَیقَی، حافظ ابن حَجَر، حافظ بدر الدین عَینی، عَبُدبن حُمیّد وغیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں کہ جب مدینے میں یہود نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضور ﷺ بیمار ہوگئے تھےاس وقت یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ابن سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سنہ 7 ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عُیَینَہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم سورۃ اخلاص کے دیباچے میں بیان کرچکے ہیں، کسی سورۃ یا آیت کےمتعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازما یہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہوچکی تھی، اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورت حال پیش آنے پر اللہ تعالی کی طرف سے اسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور ﷺ کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ معوذتین کا بھی ہے۔ ان کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ ابتداءً مکہ میں اس وقت نازل ہوئی ہوں گی جب وہاں حضور ﷺ کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں جب مدینہ طیبہ میں منافقین، یہود، اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضور ﷺ کو پھر انہی دونوں سورتوں کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ پر جادو کیا گیا اور آپ ﷺ کی علالت مزاج نے شدت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل علیہ السلام نےآکر پھر یہی سورتیں پڑھنے کی آپ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مفسرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو ان دونوں سورتوں کو مکی قرار دیتے ہیں۔ جادو کے معاملہ کے ساتھ ان کو مخصوص سمجھے میں تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اس کے ساتھ صرف سورۂ فلق کی صرف ایک آیت وَمِنُ شَرِّ النّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے، سورۂ فلق کی باقی آیات اور پوری سورۂ الناس کا اس معاملہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

موضوع اور مضمون

مکۂ معظمہ میں یہ دونوں سورتیں جن حالات میں نازل ہوئی تھیں وہ یہ تھے کہ اسلام کی دعوت شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے گویا بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ جوں جوں آپ کی دعوت پھیلتی گئی، کفارِ قریش کی مخالفت بھی شدید ہوتی چلی گئی۔ جب تک اُنہیں یہ امیدرہی کہ شاید وہ کسی طرح کی سودے بازی کر کے، یا بہلا پُھسلا کر آپ ﷺ کو اس کام سے باز رکھ سکیں گے، اُس وقت تک تو پھر بھی عَناد کی شدت میں کچھ کمی رہی۔ لیکن جب حضور ﷺ نے ان کو اس طرف سےبالکل مایوس کر دیا کہ آپﷺ ان کے ساتھ دین کے معاملہ میں کوئی مصالحت کرنے پر آمادہ ہو سکیں گے، اور سورۂ کافرون میں صاف صاف ان سے کہہ دیا گیا کہ جن کی بندگی تم کرتے ہو ان کی بندگی کرنے والا میں نہیں ہوں، اور جس کی بندگی میں کرتا ہوں اس کی بندگی کرنے والے تم نہیں ہو، اس لیے میر راستہ الگ ہے اور تمہارا راستہ الگ، تو کفار کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خصوصیت کے ساھت جن خاندانوں کے افراد ( مردوں یا عورتوں، لڑکوں یا لڑکیوں) نے اسلام قبول کرلیا تھا ان کے دلوں میں تو حضور ﷺ کے خلاف ہر وق بھٹیاں سلگتی رہتی تھیں۔ گھر گھر آپ ﷺ کو کوسا جارہا تھا۔ خفیہ مشورے کیے جا رہے تھے کہ کسی وقت رات کو چھپ کر آپﷺ کو قتل کردیا جائے تاکہ بنی ہاشم کو قاتل کا پتہ نہ چل سکے اور بدلہ نہ لےسکیں۔ آپ ﷺ کے خلاف جادو ٹونے کیے جارہے تھے تاکہ آپﷺ یا تو وفات پا جائیں یا سخت بیمار پڑ جائیں، یا دیوانے ہوجائیں۔ شیاطین جن وانس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہوکر آپﷺ سے دور بھاگنے لگیں۔ بہت سے لوگوں کےدلوں میں حسد کی آگ بھی جل رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے سوا، یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا، دوسرے کسی شخص کا چراغ جلتےنہ دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طورپر، ابو جہل جس بنا پر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں حد سے بڑھتا چلا جاتا تھا اس کی وجہ وہ خود یہ بیان کرتا ہے کہ ” ہمارا اور بنی عبد مناف ( یعنی رسول اللہ ﷺ کے خاندان ) کا باہم مقابلہ تھا۔ انہوں نے کھا نے کھلا ئے تو ہم نے بھی کھلائے۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دیے تو ہم نے بھی دیے۔ یہاں تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں برابر کی ٹکر ہوگئے تو اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔ بھلا اس میدان میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ خد اکی قسم ہم ہر گز اس کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے” ( ابن ہشام، جلد اول ص ، 337۔ 33 ان حالات میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں طلوع صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادو گروں اور جادو گرنیوں کے شر سے، اور حاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے خواہ و ہ شیاطین جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں ان کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا اِنِّی عُذُتُ بِرَبّیِ وَرَبِّکُم مِن کُلِّ مُتکبّرٍ لَّا یؤمِنُ بِیَومِ الحِسَابِ میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا” ( المؤمن-27) وَاِنِّی عُذتُ بَربِّی وَرَبکم اَن تَرُجُمُونِ ” اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو” (الدخان-20) ۔ دونوں مواقع پر اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا مقابلہ بڑی بے سر وسامانی کی حال تمیں بڑے سرو سامان اور وسائل و ذرائع اور قوت و شوکت رکھنے والوں سے تھا۔ دونوں مواقع پر وہ طاقت ور دشمنوں کے آگے اپنی دعوت حق پر ڈٹ گئے درانحالیکہ ان کے پاس کوئی مادی طاقت ایسی نہ تھی جس کے بل پر وہ ان کا مقابلہ کر سکتے۔ اور دونوں مواقع پر انہوں نے دشمنوں کی دھمکیوں اور خطرناک تدبیروں اور معاندانہ چالوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا کہ تمہارے مقابلے میں ہم نے رب کائنات کی پناہ لے لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اولوالعزمی اور ثابق قدمی وہی شخص دکھا سکتا ہے جس کو یہ یقین ہو کہ اس رب کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہیں، اور اس کی پناہ جسے حاصل ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ حق کے اعلان سے ہرگز نہیں ہٹوں گا، تم جو چاہو کر لو، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ میں تمہارے اور اپنے اور ساری کائنات کے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

الاخلاص

نام

الاخلاص اس سورہ کا محض نام ہی نہیں ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے، کیونکہ اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو، لیکن اس سورہ میں لفظ اخلاص کہیں وارد نہیں ہوا ہے۔ اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے۔ جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائیگا۔

زمانہ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف ان روایات کی بنا پر ہے جو اس کے سبب نزول کے بارے میں منقول ہوئی ہیں۔ ذیل میں ہم ان کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں۔
(1) حضرت عبداللہؓ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی (طبرانی) ۔
(2) ابو العالیہ نے حضرت ابی بن کعبؓ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالی نے یہ سورۃ نازل فرمائی (مسند احمد، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ترمذی، بخاری فی التاریخ، ابن المنذر، حاکم، بیہقی) ۔ ترمذی نے اسی مضمون کی ایک روایت ابو العالیہ سے نقل کی ہے جس میں حضرت ابی بن کعبؓ کا حوالہ نہیں ہے اور اسے صحیح تر کہا ہے۔
(3) حضرت جابرؓ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے (اور بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے) نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالی نے یہ سورت نازل فرمائی (ابو یعلیٰ، ابن جریر، ابن المنذر، طبرانی فی الاوسط، بیہقی، ابو نعیم فی الحلیہ) ۔
(4) عکرمہ نے ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب وغیرہ شامل تھے اور انہوں نے کہا “اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں بتائیے کہ آپ کا وہ رب کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔” اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابن ابی حاتم، ابن عدی، بیہقی فی الاسما و الصفات) ۔
ان کے علاوہ مزید چند روایات ابن تیمیہ نے اپنی تفسیر سورہ اخلاص میں نقل کی ہیں جو یہ ہیں:
(5) حضرت انس کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا “اے ابو القاسمؐ، اللہ نے ملائکہ کو نور حجاب سے، آدم کو مٹی کے سٹرے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے، آسمان کو دھوئیں سے، اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے) ۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جبریلؑ آئے اور انہوں نے کہا اے محمدؐ، ان سے کہیے ھواللہ احد۔۔۔۔۔۔
(6) عامر بن الطفیل نے حضورؐ سے کہا “اے محمدؐ، آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں؟” آپ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا، “اچھا تو اس کی کیفیت مجھے بتائیے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا لوہے سے؟” اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔
(7) ضحاک اور قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضورؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا “اے محمدؐ، اپنے رب کی کیفیت ہمیں بتائیے، شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں نازل کی ہے۔ آپ بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ کس جنس سے ہے؟ سونے سے بنا ہے یا تانبے سے، یا پیتل سے، یا لوہے سے، یا چاندی سے؟ اور کیا وہ کھاتا اور پیتا ہے؟ اور کس سے اس نے دنیا وراثت میں پائی ہے اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا؟” اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
(8) ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سات پادریوں کے ساتھ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضورؐ سے کہا “ہمیں بتائیے آپ کا رب کیسا ہے، کس چیز سے بنا ہے؟” آپ نے فرمایا میرا رب کسی چیز سے نہیں بنا ہے۔ وہ تمام اشیاء سے جدا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معبود کی ماہیت اور کیفیت دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپؐ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے، اور ہر موقع پر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو جواب میں یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکہ میں قریش کے مشرکین نے آپ سے کیا اور اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مدینہ طیبہ میں کبھی یہودیوں نے، کبھی عیسائیوں نے، اور کبھی عرب کے دوسرے لوگوں نے حضورؐ سے اسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالی کی طرف سے اشارہ ہوا کہ جواب میں یہی سورت آپ ان کو سنا دیں۔ ان روایات میں سے ہر ایک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، اس سے کسی کو یہ خیال نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں باہم متضاد ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورۃ نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں جب کبھی حضورؐ کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت آ جاتی تھی کہ اس کا جواب فلاں آیت یا سورۃ میں ہے، یا اس کے جواب میں وہ آیت یا سورۃ لوگوں کو پڑھ کر سنا دی جائے۔ احادیث کے راوی اس چیز کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جب فلاں معاملہ پیش آیا، یا فلاں سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورۃ نازل ہوئی۔ اس کو تکرار نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ایک آیت یا سورۃ کا کئی مرتبہ نازل ہونا۔
پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورۃ دراصل مکی ہے بلکہ اس کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بیان میں قرآن کی مفصل آیات ابھی نازل نہیں ہوئی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت الی اللہ کو سن کر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر آپ کا وہ رب ہے کیسا جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورت ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مکہ میں جب حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف ان کو دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بڑا سا پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ احد احد پکارتے تھے۔ یہ لفظ احد اسی سورہ سے ماخوذ تھا۔

موضوع اور مضمون

شان نزول کے بارے میں جو روایات اوپر درج کی گئی ہیں ان پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کی دعوت لے کر اٹھے تھے اس وقت دنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ بت پرست مشرکین ان خداؤں کو پوج رہے تھے جو لکڑی، پتھر، سونے، چاندی وغیرہ مختلف چیزوں کے بنے ہوئے تھے۔ شکل، صورت اور جسم رکھتے تھے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی باقاعدہ نسل چلتی تھی۔ کوئی دیوی بے شوہر نہ تھی اور کوئی دیوتا بے زوجہ نہ تھا۔ ان کو کھانے پینے کی ضرورت بھی لاحق ہوتی تھی اور ان کے پرستار ان کے لیے اس کا انتظام کرتے تھے۔ مشرکین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں ظہور کرتا ہے اور کچھ لوگ اس کے اوتار ہوتے ہیں۔ عیسائی اگرچہ ایک خدا کو ماننے کے مدعی تھے، مگر ان کا خدا بھی کم از کم ایک بیٹا تو رکھتا ہی تھا، اور باپ بیٹے کے ساتھ خدائی میں روح القدس کو بھی حصہ دار ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حتیٰ کہ خدا کی ماں بھی ہوتی تھی اور اس کی ساس بھی۔ یہودی بھی ایک خدا کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے، مگر ان کا خدا بھی مادیت اور جسمانیت اور دوسری انسانی صفات سے خالی نہ تھا۔ وہ ٹہلتا تھا۔ انسانی شکل میں نمودار ہوتا تھا۔ اپنے کسی بندے سے کشتی بھی لڑ لیتا تھا۔ اور ایک عدد بیٹے (عزیر) کا باپ بھی تھا۔ ان مذہبی گروہوں کے علاوہ مجوسی آتش پرست تھے اور صائبی ستارہ پرست۔ اس حالت میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو ماننے کی دعوت لوگوں کو دی گئی تو ان کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا کہ وہ رب ہے کس قسم کا جسے تمام ارباب اور معبودوں کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی رب اور معبود تسلیم کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ قران مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے ان سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کر دیا جو تمام مشرکانہ تصورات کا قلع قمع کر دیتا ہے اور اس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔

فضیلت اور اہمیت

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اس کو پڑھیں اور عوام الناس میں اسے پھیلائیں، کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے (توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کر دیتی ہے جو فوراً انسان کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، طبرانی وغیرہ میں اس مضمون کی متعدد احادیث ابو سعید خدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدرداء، معاذ بن جبل، جابر بن عبداللہ، ابی بن کعب، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط، ابن عمر، ابن مسعود، قتادہ بن النعمان، انس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں۔ مفسرین نے حضورؐ کے اس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اس کی بنیاد تین عقیدے ہیں۔ ایک توحید۔ دوسرے رسالت۔ تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔
حضرت عائشہؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر سردار بنا کر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں ان کا مستقل طریقہ یہ رہا کہ ہر نماز میں وہ قل ھو اللہ احد پر قرات ختم کر تے تھے۔ واپسی پر ان کے ساتھیوں نے حضورؐ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں رحمان کی صفت بیان کی گئی ہےاس لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ حضورؐ نے یہ بات سنی تو لوگوں سے فرمایا اخبروہ ان اللہ تعالیٰ یحبہ “ان کو خبر دے دو کہ اللہ تعالی انہیں محبوب رکھتا ہے۔”
اسی سے ملتا جلتا واقعہ بخاری میں حضرت انس سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک صاحب مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قل ہو اللہ احد پڑھتے، پھر کوئی اور سورت تلاوت کرتے۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان سے کہا کہ یہ تم کیا کرتے ہو کہ قل ہو اللہ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اس کے ساتھ ملا لیتے ہو؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یا تو صرف اسی کو پڑھو، اور یا اسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھو۔ انہوں نے کہا میں اسے نہیں چھوڑ سکتا، تم چاہو تو میں تمہیں نماز پڑھاؤں ورنہ امامت چھوڑ دوں۔ لیکن لوگ ان کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آخر کار معاملہ حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اسے قبول کرنے میں تم کو کیا امر مانع ہے؟ تمہیں ہر رکعت میں یہ سورت پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ آپ نے فرمایا حبک ایاھا اد خلک الجنتہ “اس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔”

اللھب

نام

پہلی آیت کے لفظ لھب کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کے مکی ہونے میں تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ مکی دور کے کس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ البتہ ابو لہب کا جو کردار رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی دعوتِ حق کے خلاف تھا اُس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس سورت کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہوگا جب وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عداوت میں حد سے گزر گیا تھا اور اُس کا رویہ اسلام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں کہ اِس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے خاندان والوں کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں نے اُن کو شِعبِ ابی طالب میں محصور کر دیا تھا اور تنہا ابو لہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر دشمنوں کا ساتھ دیا تھا۔ اِس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چچا تھا، اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلم کھلا مذمت کرانا اُس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں علانیہ سب کے سامنے نہ آ گئی ہوں۔ اس سے پہلے اگر ابتدا ہی میں یہ سورت نازل کر دی گئی ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا اپنے چچا کی اِس طرح مذمت کرے۔

پس منظر

قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اُس کی مذمت کی گئی ہے، حالانکہ مکے میں بھی اور ہجرت کے بعد مدینے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اِس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی؟ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے، اور اُس میں ابو لہب کے کردار کو دیکھا جائے۔ قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملکِ عرب میں ہر طرف بد امنی، غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی، اور صدیوں سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اُس کے اپنے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی، اور قطعِ رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپ کی مخالفت نہیں کی، بلکہ وہ کھلم کھلا آپ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی نبوت پر ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اِن خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر کے اپنے دینِ آبائی سے منحرف ہو گئے ہو۔ وہ اِس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اُس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے اور اُن کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہل عرب، سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔ اس اخلاقی اصول کو، جسے زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے، صرف ایک شخص نے اسلام دشمنی میں توڑ ڈالا، اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطلب۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چجا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد ماجد اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصاً جبکہ بھتیجے کا باپ وفات پا چکا ہو تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں ان تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دعوتِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا “یا صباحاہ” (ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں یہ صدا وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھٹ پٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر محلہ کرنے کے لیے آتے دیکھ کر لیتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ آواز سن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندان کے لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آ سکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آ سکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی کو بھیج دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانوں گے؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے۔ اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا “تبا لک الھٰذا جمعتنا؟” (ستیاناس جائے تیرا، کیا اس لیے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟” ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کھینچ مارے۔ حوالہ: مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر ابن زید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا “تبا لھٰذا الدین تبا ان اکون وھٰؤلاء سوآءً” (ناس جائے اِس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں) (حوالہ ابن جریر) مکہ میں ابو لہب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار بیچ واقع تھے۔ اس کے علاوہ حکم بن عاص (مروان کا باپ)، عقبہ بن ابی معیط عدی بن حمراء اور ابن الصداء الہذلی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپ پر پھینک دیتے۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے “اے بنی عبد مناف، یہ کیسی ہمسایگی ہے؟ ابو لہب کی بیوی ام جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپ کے گھر کے دروازے پر خار دار جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی، تاکہ صبح سویرے جب آپ یا آپ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چبھ جائے (حوالہ: بیہقی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عساکر، ابن ہشام) نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ نبوت کے جب جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی اور عتیبہ تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضور کے سامنے آ کر اس نے کہا میں “النجم اذا ھوٰی” اور “الذی دنا فتدلی” کا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف تھوکا جو آپ پر نہیں پڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا خدایا، اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کر دے۔ اس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دورانِ سفر میں ایک ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہل قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بد دعا کا خوف ہے۔ اس قافلے والوں نے عتیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کے اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔ (حوالہ الاستیعاب لا بن عبد البر، الاصابہ لابن حجر، دلائل النبوۃ لا بی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسہیلی)۔ روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے کو اعلان نبوت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ تبت یدا ابی لھب کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عتبہ تھا یا عتیبہ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد عتبہ نے اسلام قبول کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عتبیبہ تھا۔ اُس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہو گیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بے نام و نشان ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے جاتے، یہ آپ کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بات سننے سے روکتا۔ ربیعہ بن عباد الدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ کہہ رہے تھے “لوگو، کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فلاح پاؤ گے” اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ “یہ جھوٹا ہے، دینِ آبائی سے پھر گیا ہے”۔ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ مسند احمد، بیہقی۔ دوسری روایت انہی حضرت ربیعہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا آپ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں “اے بنی فلاں، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔” آپ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ “اے بنی فلاں، یہ تم کو لات و عزیٰ سے پھیر کر اُس بدعت اور گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہر گز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو” میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ مسند احمد، طبرانی۔ طارق بن عبد اللہ المحاربی رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذو المجاز کے بازار میں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ “لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے” اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپ کو پتھر مار رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں اور وہ کہتا جاتا ہے کہ “یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو” میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے حوالہ ترمذی۔ نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا یہی ابو لہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفار قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی نوبت آ گئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شعب ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اِن سے اِتنی قیمت مانگوں کہ یہ خرید نہ سکیں، تمہیں جو خسارہ بھی ہوگا اسے میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابو لہب انہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا حوالہ ابن سعد، ابن ہشام یہ اس شخص کی حرکات تھیں جن کی بنا پر اس سورت میں نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے۔ خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ مکہ سے باہر کے اہل عرب جو حج کے لیے آتے، یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے، ان کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا چچا آپ کے پیچھے لگ کر آپ کی مخالفت کرتا، تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ بات خلافِ توقع سمجھتے تھے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے اور اس پر الزام تراشیاں کرے۔ اسی وجہ سے وہ ابو لہب کی بات سے متاثر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں شک میں پڑ جاتے مگر جب یہ سورت نازل ہوئی اور ابو لہب نے غصے میں بپھر کر اول فول بکنا شروع کر دیا تو لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت میں اِس شخص کا قول قابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ نام لے کر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کو یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ جب علی الاعلان رسول کے اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔ اس معاملے میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔

النصر

نام

پہلی آیت اذا جآءَ نصر اللہ کے لفظ نصر کو اِس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے، یعنی اس کے بعد کوئی مکمل سورت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل نہیں ہوئی حوالہ: مسلم، نسائی، طبرانی، ابن ابی شیبہ، ابن مردویہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ سورت حجۃ الوداع کے موقع پر ایامِ تشریق کے وسط میں بمقامِ منٰی نازل ہوئی اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اونٹنی پر سوار ہو کر اپنا مشہور خطبہ ارشاد فرمایا (حوالہ: ترمذی، بزار، بیہقی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو یعلٰی، ابن مردویہ)۔ بیہقی نے کتاب الحج میں حضرت سراء بن بنہان کی روایت سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وہ خطبہ نقل کیا ہے جو آپ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ:
” میں نے حجۃ الوداع میں حضورصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے سنا کہ لوگو جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ ایامِ تشریق کے بیچ کا دن ہے۔ پھر آپ نے پوچھا جانتے ہو یہ کون سا مقام ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ مشعرِ حرام ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا، شاید اس کے بعد میں تم سے نہ مل سکوں۔ خبردار رہو، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اُسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن اور یہ مقام حرام ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب کے سامنے حاضر ہو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے۔ سنو، یہ بات تم میں سے قریب والا دور والے تک پہنچا دے۔ سنو، کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا؟ اس کے بعد جب ہم لوگ مدینہ واپس ہوئے تو کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہو گیا “

ان دونوں روایتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ نصر کے نزول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے درمیان تین مہینے کچھ دن کا فصل تھا، کیونکہ تاریخ کی رو سے حجۃ الوداع اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وِصال کے درمیان اتنا ہی زمانہ گزرا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ہے اور میرا وقت آن پورا ہوا (حوالہ: مسند احمد، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)۔ دوسری روایات جو حضرت عبد اللہ بن عباس صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہوئی ہیں اُن میں بیان کیا گیا ہے کہ اِس سورت کے نزول سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دے دی گئی ہے حوالہ: مسند احمد، ابن جریر، نسائی ابن ابی حاتم، ابن مردویہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس سال میرا انتقال ہونے والا ہے۔ یہ بات سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رو دیں۔ اس پر آپ نے فرمایا میرے خاندان میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملو گی۔ یہ سن کر وہ ہنس دیں حوالہ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔ قریب قریب اِسی مضمون کی روایت بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑے شیوح کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھے۔ یہ بات بعض بزرگوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا ہمارے لڑکے بھی تو اسی لڑکے جیسے ہیں، اس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریکِ مجلس کیا جاتا ہے؟ (امام بخاری اور ابن جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اس کا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں۔ پھر ایک روز انہوں نے شیوخِ بدر کو بلایا اور مجھے بھی اُن کے ساتھ بلا لیا۔ میں سمجھ گیا کہ آج مجھےیہ دکھانے کے لیے بلایا گیا ہے کہ مجھ کو ان کی مجلس میں کیوں شریک کیا جاتا ہے۔ دورانِ گفتگو میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شیوخ بدر رضی اللہ عنہم اجمعین سے پوچھا کہ آپ حضرات اذا جآءَ نصر اللہ والفتح کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ بعض نے کہا اس میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ کی نصرت آئے اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کریں۔ بعض نے کہا اس سے مراد شہروں اور قلعوں کی فتح ہے۔ بعض خاموش رہے۔ اس کے بعد حضرت رضی اللہ عنہ نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ، کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا، نہیں۔ انہوں نے پوچھا پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اجل ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر دی گئی ہے جب اللہ کی نصرت آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وقت آن پورا ہوا، اس کے بعد آپ اللہ کی حمد اور استغفار کریں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اُس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم نے کہا ہے۔ ایک روایت میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمر نے شیوخِ بدر سے فرمایا آپ لوگ مجھے کیسے ملامت کرتے ہیں جبکہ اِس لڑکے کو اس مجلس میں شریک کرنے کی وجہ آ نے دیکھ لی۔ (حوالہ: بخاری، مسند احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن مردویہ، بغوی، بیہقی، ابن المنذر)

موضوع اور مضمون

جیسا کہ مندرجۂ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے، اِس سورہ میں اللہ تعالٰی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہو جائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا ہے جس کے لیے آپ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول ہو جائیں کہ اُس کے فضل سے آپ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہوئے، اور اُس سے دعا کریں کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپ سے ہوئی ہو اُسے وہ معاف فرما دے۔ اس مقام پر آدمی غور کرے تو دیکھ سکتا ہے کہ ایک نبی اور ایک عام دنیوی رہنما کے درمیان کتنا عظیم فرق ہے۔ کسی دنیی رہنما کو اگر اپنی زندگی ہی میں وہ انقلاب عظیم برپا کرنے میں کامیابی نصیب ہو جائے جس کے لیے وہ کام کرنے اٹھا ہو تو اس کے لیے یہ حشن منانے اور اپنی قیادت پر فخر کرنے کا موقع ہوتا ہے لیکن یہاں اللہ کے پیغمبر کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُس نے 23 سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کے عقائد، افکار، عادات، اخلاق، تمدن، تہذیب، معاشرت، معیشت، سیاست اور حربی قابلیت کو بالکل بدل ڈالا اور جہالت و جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم کو اٹھا کر اس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کو مسخر کر ڈالے اور اقوامِ عالم کی امام بن جائے، مگر ایسا عظیم کارنامہ اُس کے ہاتھوں انجام پانے کے بعد اُسے جشن منانے کا نہیں بلکہ اللہ کی حمد اور تسبیح کرنے اور اُس سے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، اور وہ پوری عاجزی کے ساتھ اِس حکم کی تعمیل میں لگ جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی وفات سے پہلے سبحٰنک اللھم و بحمدک استغفرک و اتوب الیک (بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں سبحان اللہ و بحمدہ استغفر اللہ و اتوب الیہ) کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپ نے اب پڑھنے شروع کر دیے ہیں؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اُسے دیکھوں تو یہ الفاظ کروں اور وہ ہے اذا جآء نصر اللہ والفتح (حوالہ: مسند احمد، ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)۔ اسی سے ملتی جلتی بعض روایات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہتے تھے سبحٰنک اللھم و بحمدک اللھم اغفرلی۔ یہ قرآن (یعنی سورۂ نصر) کی تاویل تھی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمائی تھی (حوالہ: بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر)۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانِ مبارک پر آپ کے آخری زمانۂ حیات میں اٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے یہ الفاظ جاری رہتے: سبحان اللہ و بحمدہ میں نے ایک روز پوچھا یا رسول اللہ، آپ کثرت سے یہ ذکر کیوں کرتے رہتے ہیں؟ فرمایا مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے پھر آپ نے یہ سورت پڑھی حوالہ ابن جریر۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کثرت سے یہ ذکر فرماتے رہتے: سبحانک اللھم و بحمدک اللھم اغفرلی، سبحانک ربنا و بحمدک، اللھم اغفرلی، انک انت التواب الغفور۔ (حوالہ ابن جریر، مسند احمد، ابن ابی حاتم) ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخرت کے لیے محنت و ریاضت کرنے میں اِس قدر شدت کے ساتھ مشغول ہو گئے جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے۔ (حوالہ: نسائی، طبرانی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)

الکافرون

نام

پہلی ہی آیت قل یایھا الکٰفرون کے لفظ الکافرون کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضر حسن بصری اور عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ سورت مکی ہے، حضرت عبد اللہ زبیر کہتے ہیں کہ مدنی ہے، اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ لیکن جمہورِ مفسرین کے نزدیک یہ مکی سورت ہے اور اس کا مضمون خود اس کے مکی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

تاریخی پس منظر

مکۂ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوتِ اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہو چکا تھا، لیکن ابھی قریش کے سردار اِس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا۔ اس لیے وقتاً فوقتاس وہ آپ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے تاکہ آپ اُن میں سے کسی کو مان لیں اور وہ نزاع ختم ہو جائے جو آپ کے اور اُن کے درمیان رونما ہو چکی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا ہم آپ کو اتنا مال دیے دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی برائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپ کو منظور نہیں، تو ہم ایک اور تجویز آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبودوں لات اور عزیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اچھا، ٹھیرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی درجہ میں بھی اس تجویز کو قابل قبول کیا معنی قابلِ غور بھی سمجھتے تھے، اور آپ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کی منظوری آ جائے۔ بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بے جا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابل قبول نہیں ہے، مگر وہ خود صاف انکار کر دینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں سے کہے کہ میں آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں، جو کچھ وہاں سے جواب آئے گا وہ آپ کو بتا دوں گا۔ اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کر دے تو لوگوں کا اصرار رہتا ہے لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت کا جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔ بہرحال اس پر وحی نازل ہوئی “قل یایھا الکٰفرون ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ “ان سے کہو، اے نادانو! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں” (الزمر، آیت 64) حوالہ ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا “اے محمد، اگر تم ہمارے معبود بتوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔” اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ حوالہ عبد بن حمید سعید بن میناء (ابو البحتری کے آزاد کردہ غلام) کی روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملے اور آپ سے کہا “اے محمد، آؤ ہم تمہارے معبود کی عبادت کرتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں میں تمہیں شریک کیے لیتے ہیں۔ اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اُس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اُس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اُس سے پا لیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اُس سے بہتر ہوئی جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ اس میں شریک ہو گے اور اس سے اپنا حصہ پا لو گے۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ وحی نازل فرمائی قل یایھا الکٰفرون حوالہ ابن جریر و ابن ابی حاتم۔ ابن ہشام نے بھی سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا اگر آپ پسند کریں تو ایک سال ہم آپ کے دین میں داخل ہو جائیں اور ایک سال آپ ہمارے دین میں داخل ہو جایا کریں حوالہ عبد بن حمید۔ ابن ابی حاتم ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفارِ قریش نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے اس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں اور اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے کر اُن کی اِس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین کے معاملے میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر اُن سے کوئی مصالحت کر لیں گے۔

موضوع اور مضمون

اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں، بلکہ اِس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفار کے دین اور ان کی پوجا پاٹ اور ان کے معبودوں سے قطعی براءت، بیزاری اور لا تعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور انہیں بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتداءً قریش کے کفار کو مخاطب کر کے اُن کی تجاویزِ مصالحت کے جواب میں کہی گئی تھی، لیکن یہ اُنہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے قرآن میں درج کر کے تمام مسلمانوں کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دینِ کفر جہاں جس شکل میں بھی ہے اُن کو اس سے قول اور عمل میں براءت کا اظہار کرنا چاہیے اور بلا رو رعایت کہہ دینا چاہیے کہ دین کے معاملے میں وہ کافروں سے کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت نہیں کر سکتے۔ اسی لیے یہ سورت اُس وقت بھی پڑھی جاتی رہی جب وہ لوگ مر کھپ گئے تھے جن کی باتوں کے جواب میں اِسے نازل فرمایا گیا تھا، اور وہ لوگ بھی مسلمان ہونے کے بعد اسے پڑھتے رہے جو اِس کے نزول کے وقت کافر و مشرک تھے، اور اُن کے گزر جانے کے صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لا تعلقی ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ میں اِس سورت کی کیا اہمیت تھی، اس کا اندازہ ذیل کی چند احادیث سے کیا جا سکتا ہے: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بار ہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں میں قل یایھا الکٰفرون اور قل ھو اللہ احد پڑھتے دیکھا ہے۔ (اس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، ترمذی، نسائی ابن ماجہ، ابن حبان اور ابن مردویہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں)۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹو تو قل یایھا الکٰفرون پڑھ لیا کرو” حوالہ ابو یعلٰی طبرانی حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا سوتے وقت قل یایھا الکٰفرون پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے حوالہ بیہقی فی الشعب فروہ بن نوفل اور عبد الرحمٰن بن نوفل، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ الاشجعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قل یایھا الکٰفرون آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے حوالہ مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ابی شیبہ، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بن حارثہ کے بھائی حضرت جبلہ بن حارثہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا۔ (حوالہ مسند احمد، طبرانی)

اگلا صفحہ »