محفوظات برائے 'قرآن' زمرہ


الکوثر

نام

انآ اعطینٰک الکوثر کے لفظر الکوثر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن الزبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے، کلبی اور مقاتل بھی اسے مکی کہتے ہیں اور جمہور مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ لیکن حضرت حسن بصری، عکرمہ، مجاہد اور قتادہ اس کو مدنی قرار دیتے ہیں۔ امام سیوطی نے اتقان میں اسی قول کو صحیح ٹھیرایا ہے، اور امام نووی نے شرح مسلم میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ وجہ اس کی وہ روایت ہے جو امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ محدثین نے حضرت انس بھی مالک سے نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر آپ نے سورۂ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے ۔ اس روایت سے اس سورہ کے مدنی ہونے پر اس وجہ سے استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ مکہ میں نہیں بلکہ مدینے میں تھے، اور ان کا یہ کہنا کہ ہماری موجودگی میں یہ سورت نازل ہوئی، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مدنی ہے۔ مگر اول تو انہی حضرت انس سے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور ابن جریر نے یہ روایات نقل کی ہیں کہ جنت کی یہ نہر (کوثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معراج میں دکھائی جا چکی تھی، اور سب کو معلوم ہے کہ معراج ہجرت سے پہلے مکہ میں ہوئی تھی۔ دوسرے، جب معراج میں آپ کو اللہ تعالٰی کے اِس عطیہ کی نہ صرف خبر دی جا چکی تھی بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا گیا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ حضور کو اُس کی خوشخبری دینے کے لیے مدینۂ طیبہ میں سورۂ کوثر نازل کی جاتی۔ تیسرے، اگر صحابہ ایک مجمع میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود سورۂ کوثر کے نزول کی خبر دی ہوتی جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مذکورۂ بالا روایت میں بیان ہوئی ہے اور اُس کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلی مرتبہ یہ سورت اِسی وقت نازل ہوئی ہے، تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے باخبر صحابہ اس سورت کو مکی قرار دیتے اور جمہور مفسرین اس کے مکی ہونے کے قائل ہو جاتے؟ اس معاملہ پر غور کیا جائے تو حضرت انس کی روایت میں خلا صاف محسوس ہوتا ہے کہ اُس میں یہ تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے کہ جس مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اُس میں پہلے سے کیا گفتگو چل رہی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی مسئلے پر کچھ ارشاد فرما رہے ہوں، اُس کے دوران میں وحی کے ذریعہ آپ کو مطلع کیا گیا ہو کہ اِس مسئلے پر سورۂ کوثر سے روشنی پڑتی ہے، اور آپ نے اِسی بات کا ذکر یوں فرمایا ہو کہ مجھ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔ اِس قسم کے واقعات متعدد مواقع پر پیش آئے ہیں جن کی بنا پر مفسرین نے بعض آیات کے متعلق کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں۔ اس دوسرے نزول کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ آیت تو پہلے نازل ہوچکی تھی، مگر دوسری بار کسی موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بذریعۂ وحی اُسی آیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ایسی روایات میں کسی آیت کے نزول کا ذکر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ وہ مکی ہے یا مدنی، اور اس کا اصل نزول فی الواقع کسی زمانے میں ہوا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اگر شک پیدا کرنے کی موجب نہ ہو تو سورۂ کوثر کا پورا مضمون بجائے خود اِس امر کی شہادت دیتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ میں نازل ہوئی تھی اور اُس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو انتہائی دل شکن حالات سے سابقہ درپیش تھا۔

تاریخی پس منظر

اس سے پہلے سروۂ ضحٰی اور سورۂ الم نشرح میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ نبوت کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے، پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی، مزاحمتوں کے پہاڑ راستے میں حائل تھے، مخالفت کا طوفان ہر طرف برپا تھا، اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور تک کہیں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے تھے، اُس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالٰی نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔ سورۂ ضحٰی میں فرمایا
” اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں وہ کچھ دے گا جس سے تم خوش ہو جاؤ گے “

اور الم نشرح میں فرمایا
” اور ہم نے تمہارا آوازہ بلند کر دیا “

یعنی دشمن تمہیں ملک بھر میں بدنام کرتے پھر رہے ہیں مگر ہم نے ان کے علی الرغم تمہارا نام روشن کرنے اور تمہیں ناموری عطا کرنے کا سامان کر دیا ہے اور
” پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، یقیناً تسگی کے ساتھ فراخی بھی ہے “

یعنی اِس وقت حالات کی سختیوں سے پریشان نہ ہو، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں کا دور آنے ہی والا ہے۔

ایسے ہی حالات تھے جن میں سورۂ کوثر نازل کر کے اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشینگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں اور اُن کی حیثیت ایک بے کس اور بے یار و مددگار انسان کی سی ہو گئی ہے۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے “محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہو گئے ہیں جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقع یہی ہے کہ کچھ مدت بعد وہ سوکھ کر پیوند خاک ہو جائیں گے” حوالہ: ابن جریر۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مکہ کے سردار عاص بن وائل سہمی کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا “اجی چھوڑو انہیں، وہ تو ایک ابتر (جڑ کٹے) آدمی ہیں، ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں، مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لیوا بھی نہ ہوگا”۔ شمر بن عطیہ کا بیان ہے کہ عقبہ بن ابی معیط بھی ایسی ہی باتیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق کہا کرتا تھا حوالہ: ابن جریر۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ کعب بن اشرف (مدینہ کا یہودی سردار) مکہ آیا تو قریش کے سرداروں نے اس سے کہا “بھلا دیکھو تو سہی، اس لڑکے کو جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے بہتر ہے، حالانکہ ہم حج اور سدانت اور سقایات کے منتظم ہیں حوالہ: بزار۔ اسی واقعہ کے متعلق عکرمہ کی روایت یہ ہے کہ قریش والوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے “کمزور، بے یار و مددگار اور بے اولاد آدمی جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے” کے الفاظ استعمال کیے تھے حوالہ: ابن جریر۔ ابن سعد اور ابن عساکر کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سب سے بڑے صاحب زادے قاسم رضی اللہ عنہ تھے، ان سے چھوٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے چھوٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ تھے، پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں ام کلثوم، فاطمہ اور رقیہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ ان میں سے پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہوا، پھر حضرت عبد اللہ نے بھی وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا کہ “اُن کی نسل ختم ہو گئی۔ اب وہ ابتر ہیں” (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔ بعض روایات میں یہ اضافہ ہے کہ عاص نے کہا “محمد ابتر ہیں، ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے جو ان کا قائم مقام بنے، جب وہ مر جائیں گے تو ان کا نام دنیا سے مٹ جائے گا اور ان سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا”۔ عبد بن حمید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صاحبزادے عبد اللہ کی وفات پر ابو جہل نے بھی ایسی ہی باتیں کہی تھیں۔ شمر بن عطیہ سے ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس غم پر خوشی مناتے ہوئے ایسے ہی کمینہ پن کا مظاہرہ عقبہ بن ابی معیط نے کیا تھا۔ عطاء کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا چچا ابو لہب (جس کا گھر بالکل حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر سے متصل تھا) دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور اُن کو یہ “خوشخبری” دی کہ “آج رات محمد لا ولد ہو گئے یا ان کی جڑ کٹ گئی” یہ تھے وہ انتہائی دلشکن حالات جن میں سورۂ کوثر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے تھے کہ آپ صرف اللہ ہی کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے علانیہ رد کر دیا تھا۔ اِسی وجہ سے پوری قوم میں جو مرتبہ و مقام آپ کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔ آپ کے چند مٹھی بھر ساتھی بھی سب بے یار و مددگار تھے اور مارے کھدیڑے جا رہے تھے۔ اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے بجائے وہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی باتیں تھیں جس نے اپنے تو اپنے غیروں تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالٰی نے آپ کو اِس مختصر ترین سورت کے ایک فقرے میں وہ خوش خبری دی ہے جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔

الماعون

نام

آخری آیت کے آخری لفظ الماعون کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا۔

زمانۂ نزول

ابن مردویہ نے ابن عباس اور ابن الزبیر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور یہی قول عطاء اور جابر کا بھی ہے۔ لیکن ابو حیان نے البحر المحیط میں ابن عباس اور قتادہ اور ضحاک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کے اندر ایک داخلی شہادت ایسی موجود ہے جو اس کے مدنی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس میں اُن نماز پڑھنے والوں کو تباہی کی وعید سنائی گئی ہے جو اپنی نمازوں سے غفلت برتتے اور دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ منافقین کی یہ قسم مدینے میں ہی پائی جاتی تھی،کیونکہ وہیں اسلام اور اہل اسلام کو یہ قوت حاصل ہوئي تھی کہ بہت سے لوگوں کو مصلحتاً ایمان لانا پڑا تھا اور وہ مجبوراً مسجد میں آتے تھے، جماعت میں شریک ہوتے تھے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھتے تھے تاکہ انہیں مسلمانوں میں شمار کیا جائے اس کے برعکس مکے میں ایسے حالات سرے سے موجود ہی نہ تھے کہ وہاں کسی کو دکھاوے کی نماز پڑھنا پڑتی۔ وہاں تو اہل ایمان کے لیے نماز باجماعت کا اہتمام بھی مشکل تھا۔ ان کو چھپ چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی اور کوئی علانیہ پڑھتا تھا تو جان پر کھیل کر پڑھتا تھا۔ منافقین کی جو قسم وہائی پائی جاتی تھی وہ ریاکارانہ ایمان لانے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھنے والوں کی نہیں، بلکہ ان لوگوں کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے برسر حق ہونے کو جان اور مان گئے تھے، مگر ان میں سے کوئی اپنی ریاست و وجاہت وار مشیخت کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہا تھا اور کوئی یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان ہو کر ان مصائب میں مبتلا ہو جائے جن میں وہ ایمان لانے والوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مبتلا ہوتے دیکھ رہا تھا۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع یہ بتانا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔ آیت 2 اور 3 میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو علانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آحرت اور اس کی جزا و سزا اور اس کے ثواب و عِقاب کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرزِ عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔

القریش

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ قریش کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

اگرچہ ضحاک اور کلبی نے اس کو مدنی کہا ہے، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اس کے مکی ہونے پر متفق ہے اور اس کے مکی ہونے کی مکمل شہادت خود اس سورت کے الفاظ رب ھٰذا البیت (اِس گھر کے رب) میں موجود ہے۔ اگر یہ مدینہ میں نازل ہوتی تو خانہ کعبہ کے لیے “اِس گھر” کے الفاظ کیسے موزوں ہو سکتے تھے؟ بلکہ اس کے مضمون کا سورہ فیل کے مضمون سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ غالباً اِس کا نزول اُس کے متصلاً بعد ہی ہوا ہوگا۔ دونوں سورتوں کے درمیان اسی مناسبت کی بنا پر سلف میں سے بعض بزرگ اس بات کے بھی قائل ہوئے ہیں کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی سورت ہیں۔ اس خیال کو تقویت ان روایات کی بنا پر ملی ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں یہ دونوں ایک ساتھ لکھی ہوئی تھیں اور درمیان میں بسم اللہ مرقوم نہ تھی۔ نیز یہ کہ حضرت عمر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک مرتبہ کسی فصل کے بغیر ان دونوں کو ملا کر نماز میں پڑھا تھا لیکن یہ رائے اس وجہ سے قابل قبول نہیں ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم تعداد کے تعاون سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے جونسخے سرکاری طور پر لکھوا کر بلادِ اسلام کے مراکز بھجوائے تھے ان میں دونوں کے درمیان بسم اللہ درج تھی اور اس وقت سے آج تک تمام دنیا کے مصاحف میں یہ الگ الگ سورتوں کی حیثیت سے ہی لکھی جاتی رہی ہیں۔ مزید برآں دونوں سورتوں کا انداز بیاں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہے کہ یہ علانیہ دو الگ سورتیں نظر آتی ہیں۔

تاریخی پس منظر

اس سورت کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے جس سے اِس کے مضمون اور سورۂ فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔ قریش کا قبیلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جدِ اعلٰی قصی بن کلاب کے زمانے تک حجاز میں منتشر تھا۔ سب سے پہلے قصی نے اس کو مکے میں جمع کیا اور بیت اللہ کی تولیت اس قبیلے کے ہاتھ میں آ گئی۔ اسی بنا پر قصی کو مجمّع (جمع کرنے والے) کا لقب دیا گیا۔ اس شخص نے اپنے اعلٰی درجہ کے تدبر سے مکہ میں ایک شہری ریاست کی بنیاد رکھی، اور جملہ اطراف عرب سے آنے والے حاجیوں کی خدمت کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت رفتہ رفتہ عرب کے تمام قبائل اور تمام علاقوں میں قریش کا اثر و رسوخ قائم ہوتا چلا گیا۔ قصی کے بعد اس کے بیٹوں عبد مناف اور عبد الدار کے درمیان مکہ کی ریاست کے مناصب تقسیم ہو گئے، مگر دونوں میں سے عبد مناف کو اپنے باپ ہی کے زمانے میں زیادہ ناموری حاصل ہو چکی تھی اور عرب میں اس کا شرف تسلیم کیا جانے لگا تھا۔ عبد مناف کے چار بیٹے تھے ہاشم، عبد شمس، مطلب اور نوفل۔ ان میں سے ہاشم عبد المطلب کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پر دادا کو سب سے یہ خیال پیدا ہوا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا جائے جو عرب کے راستے بلاد مشرق اور شام و مصر کے درمیان ہوتی تھی اور ساتھ ساتھ اہل عرب کی ضروریات کا سامان بھی خرید کر لایا جائے تاکہ راستے کے قبائل ان سے مال خریدیں اور مکے کی منڈی میں اندرون ملک کے تجار خریداری کے لیے آنے لگیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اُس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلط قائم کر چکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستوں سے رومی سلطنت اور بلاد مشرق کے درمیان ہوتی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اس کا کاروبار بہت چمک اٹھا تھا۔ دوسرے عربی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیت اللہ کے خدام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔ حج کے زمانے میں نہایت فیاضی کے ساتھ حاجیوں کی جو خدمت قریش کے لوگ کرتے تھے اس کی بنا پر سب ان کے احسان مند تھے۔ انہیں اس امر کا کوئی حطرہ نہ تھا کہ راستے میں کہیں ان کے قافلوں پر ڈاکہ مارا جائے گا۔ راستے کے قبائل ان سے رہگذر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کر سکتے تھے جو دوسرے قافلوں سے طلب کیا جاتا تھا۔ ہاشم نے انہیں تمام پہلوؤں کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اپنی اس اسکیم میں اپنے باقی تینوں بھائیوں کو شامل کیا۔ شام کے غسانی بادشاہ سے ہاشم نے، حبش کے بادشاہ سے عبد شمس نے، یمنی امراء سے مطلب نے اور عراق و فارس کی حکومتوں سے نوفل نے تجارتی مراعات حاصل کیں۔ اس طرح ان لوگوں کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اسی بنا پر یہ چاروں بھائی متجّرین (تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہو گئے اور جو روابط انہوں نے گرد و پیش کے قبائل اور ریاستوں سے قائم کیے تھے ان کی بنا پر ان کو اصحاب الایلاف بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی “الفت پیدا کرنے والوں” کے ہیں۔ اس کاروبار کی وجہ سے قریش کے لوگوں کو شام، مصر، عراق، ایران، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے، اور مختلف ملکوں کی ثقافت و تہذیب سے براہ راست سابقہ پیش آنے کے باعث ان کا معیار دینش (بینش) اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ ان کی ٹکر کا نہ رہا۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں سب پر فائق ہو گئے اور مکہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ ان بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن مجید لکھنے کے لیے استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ انہی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تھا کہ قریش قادۃ الناس “قریش لوگوں کے لیڈر ہیں” حوالہ مسند احمد مرویات عمرو بن العاص۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت بیہقی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کان ھٰذا الامر فی حمیر فنزعہ اللہ منہم و جعلہ فی قریش “پہلے عرب کی سرداری قبیلۂ حمیر والوں کو حاصل تھی،پھر اللہ تعالٰی نے وہ ان سے سلب کر کے قریش کو دے دی۔” قریش اسی طرح ترقی پر ترقی کرتے چلے جا رہے تھے کہ مکہ پر ابرھہ کی چڑھائی کا واقعہ پیش آ گیا۔ اگر اس وقت ابرھہ اس شہر مقدس کو فتح کرنے اور کعبے کو ڈھا دینے میں کامیاب ہو جاتا تو عرب میں قریش ہی کی نہیں خود کعبہ کی دھاک بھی ختم ہو جاتی۔ زمانۂ جاہلیت کے عرب کا یہ عقیدہ متزلزل ہو جاتا کہ یہ گھر واقعی بیت اللہ ہے۔ قریش کو اس گھر کے خادم ہونے کی حیثیت سے جو احترام پورے ملک میں حاصل تھا وہ یک لخت ختم ہو جاتا۔ مکہ تک حبشیوں کی پیش قدمی کے بعد رومی سلطنت آگے بڑھ کر شام اور مکہ کے درمیان کا تجارتی راستہ بھی اپنے قبضے میں لے لیتی اور قریش اس سے زیادہ خستہ حالی میں مبتلا ہو جاتے جس میں وہ قصی بن کلاب سے پہلے مبتلا تھے۔ لیکن جب اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا کہ پرندوں کے لشکروں نے سنگریزی مار مار کر ابرھہ کی لائی ہوئی 60 ہزار حبشی فوج کو تباہ و برباد کر دیا، اور مکہ سے یمن تک سارے راستے میں جگہ جگہ اس تباہ شدہ فوج کے آدمی گر گر کر مرتے چلے گئے تو کعبہ کے بیت اللہ ہونے پر تمام اہل عرب کا ایمان پہلے سے بدرجہا زیادہ مضبوط ہو گیا، اور اس کے ساتھ قریش کی دھاک بھی ملک بھر پہلے سے زیادہ قائم ہو گئی۔ اب عربوں کو یقین ہو گیا کہ ان لوگوں پر اللہ کا فضلِ خاص ہے۔ وہ بے کھٹکے عرب کے ہر حصے میں جاتے اور اپنے تجارتی قافلے لے کر ہر علاقے سے گزرتے۔ کسی کی یہ جرات نہ تھی کہ ان کو چھیڑتا۔ انہیں چھیڑنا تو درکنار، ان کی امان میں کوئی غیر قریش بھی ہوتا تو اس سے کوئی تعرض نہ کیا جاتا تھا۔

مقصودِ کلام

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے زمانے میں یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے، اس لیے ان کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کے چار مختصر فقروں سے صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے جب تم خود اِس گھر (خانۂ کعبہ) کو بتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اس گھر کے طفیل یہ امن عطا کیا، تمہاری تجارتوں کو فروغ بخشا اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب فرمائی تو تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔

الفیل

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ اصحٰب الفیل سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول

یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور اس کے تاریخی پس منظر کو اگر نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نزول مکۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور میں ہوا ہوگا۔

تاریخی پس منظر

نجران میں یمن کے یہودی فرمانروا ذونواس نے پیروانِ مسیح علیہ السلام پر جو ظلم کیا تھا اس کا بدلہ لینے کے لیے حبش کی عیسائی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حمیری حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور 525ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ یہ ساری کارروائی دراصل قسطنطنیہ کی رومی سلطنت اور حبش کی حکومت کے باہم تعاون سے ہوئی تھی، کیونکہ حبشیوں کے پاس اس زمانے میں کوئی قابل ذکر بحری بیڑا نہ تھا۔ بیڑا رومیوں نے فراہم کیا اور حبش نے اپنی 70 ہزار فوج اسی کے ذریعے سے یمن کے ساحل پر اتاری۔ آکے کے معاملات سمجھنے کے لیے یہ بات ابتدا ہی میں جان لینی چاہیے کہ یہ سب کچھ مذہبی جذبے سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے معاشی اور سیاسی اغراض بھی کام کر رہی تھیں، بلکہ غالباً وہی اس کی اصل محرک تھیں اور عیسائی مظلومین کے خون کا انتقام ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ رومی سلطنب جب سے مصر و شام پر قابض ہوئی تھی اسی وقت سے اس کی یہ کوشش تھی کہ مشرقی افریقہ، ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ ممالک اور رومی مقبوضات کے درمیان جس تجارت پر عرب صدیوں سے قابض چلے آ رہے تھے، اسے عربوں کے قبضے سے نکال کر وہ خود اپنے قبضے میں لے لے، تاکہ اس کے منافع پورے کے پورے اسی کو حاصل ہوں اور عرب تاجروں کا واسطہ درمیان سے ہٹ جائے۔ اس مقصد کے لیے 24 یا 25 قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے ایک بڑی فوج رومی جنرل ایلیس گالون (Aelius Gallus) کی قیادت میں عرب کے مغربی ساحل پر اتار دی تھی تاکہ وہ اس بحری راستے پر قابض ہو جائے جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ لیکن عرب کے شدید جغرافیائی حالات نے اس مہم کو ناکام کر دیا۔ اس کے بعد رومی اپنا جنگی بیڑہ بحیرہ احمر میں لے آئے اور انہوں نے عربوں کی اس تجارت کو ختم کر دیا جو وہ سمندر کے راستے کرتے تھے اور صرف بری راستہ ان کے لیے باقی رہ گیا۔ اسی بحری راستے کو قبضے میں لینے کے لیے انہوں نے حبش کی عیسائی حکومت سے گٹھ جوڑ کیا اور بحری بیڑی سے اس کی مدد کر کے اس کو یمن پر قابض کرا دیا۔ یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے متعلق عرب مورخین کے بیانات مختلف ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ وہ دو امیروں کی قیادت میں تھی، ایک اریاط دوسرا ابرھہ اور محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس فوج کا امیر اریاط تھا اور ابرھہ اس میں شامل تھا۔ پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ابرھہ اور اریاط باہم لڑ پڑے، مقابلے میں اریاط مارا گیا، ابرھہ ملک پر قابض ہو گیا اور پھر اس نے شاہ حبش کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسی کو یمن پر اپنا نائب مقرر کرے۔ اس کے برعکس یونانی اور سریانی مورخین کا خیال ہے کہ فتح یمن کے بعد جب حبشیوں نے مزاحمت کرنے والے یمنی سرداروں کو ایک ایک کر کے قتل کرنا شروع کر دیا تو ان میں سے ایک سردار السمیفع اشوع (جسے یونانی مورخین Esymphaeus لکھتے ہیں) نے حبشیوں کی اطاعت قبول کر کے اور جزیہ ادا کرنے کا عہد کر کے شاہ حبش سے یمن کی گورنری کا پروانہ حاصل کر لیا لیکن حبشی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور ابرھہ کو اس کی جگہ گورنر بنا دیا۔ یہ شخص حبش کی بندرگاہ ادولیس کے ایک یونانی تاجر کا غلام تھا جو اپنی ہوشیاری سے یمن پر قبضہ کرنے والی حبشی فوج میں بڑا اثر و رسوخ حاصل کر گیا تھا۔ شاہ حبش نے اس کی سرکوبی کے لیے جو فوجیں بھیجیں وہ یا اس سے مل گئیں یا اس نے ان کو شکست دے دی۔ آخر کار شاہ حبش کے مرنے کے بعد اس کے جانشیں نے اس کو یمن پر اپنا نائب السلطنت تسلیم کر لیا (یونانی مورخین اس کا نام ابرامس Abrames اور سریاری مورخین ابراھام Abraham لکھتے ہیں۔ ابرھہ غالباً اسی کا حبشی تلفظ ہے کیونکہ عربی میں اس کا تلفظ ابراہیم ہے) یہ شخص رفتہ رفتہ یمن کا خود مختار بادشاہ بن گیا، مگر برائے نام اس نے شاہ حبش کی بالادستی تسلیم کر رکھی تھی اور اپ آپ کو مفوض الملک (نائبِ شاہ) لکھتا تھا۔ اس نے جو اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جب 543ء میں وہ سد مارب کی مرمت سے فارغ ہوا تو اس نے ایک عظیم الشان جشن منایا جس میں قیصر روم، شاہ ایران، شاہ حیرہ اور شاہ غسان کے سفرا شریک ہوئے۔ اس کا مفصل تذکرہ اس کتبے میں درج ہے جو ابرھہ نے سد مارب پر لگایا تھا۔ یہ کتبہ آج بھی موجود ہے اور گلیزر (Glaser) نے اس کو نقل کیا ہے۔ حوالہ: مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورۂ سبا، حاشیہ 37) یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کر لینے کے بعد ابرھہ نے اس مقصد کے لیے کام شروع کر دیا جو اس مہم کی ابتدا سے رومی سلطنت اور اس کے حلیف حبشی عیسائیوں کے پیش نظر تھا، یعنی ایک طرف عرب میں عیسائیت پھیلانا اور دوسری طرف اس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلادِ مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہ ضرورت اس بنا پر اور بڑھ گئی تھی کہ ایران کی ساسانی سلطنت کے ساتھ روم کی کشمکشِ اقتدار نے بلادِ مشرق سے رومی تجارت کے دوسرے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ابرھہ نے اس مقصد کے لیے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرایا جس کا ذکر عرب مورخین نے اَلقَلِیس یا اَلقُلَیس یا اَلقُلَّیس کے نام سے کیا ہے (یہ یونانی لفظ Ekklesia کا معرب ہے اور اردو کا لفظ کلیسا بھی اسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہے) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اس نے شاہ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا ( یمن پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ کعبہ کے مقابلے میں ایک دوسرا کعبہ بنائیں اور عرب میں اس کی مرکزیت قائم کر دیں۔ انہوں نے نجران میں بھی ایک کعبہ بنایا تھا) ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس نے یمن میں علی الاعلان اپنے اس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرادی۔ اس کی اس حرکت کا مقصد ہمارے نزدیک یہ تھا کہ عربوں کو غصہ دلائے تاکہ وہ کوئی ایسی کارروائی کریں جس سے اس کو مکہ پر حملہ کرنے اور کعبے کو منہدم کر دینے کا بہانہ مل جائے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے اس اعلان پر غضبناک ہو کر ایک عرب سے کسی نہ کسی طرح کلیسا میں گھس کر رفع حاجت کر ڈالی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ فعل ایک قریشی نے کیا تھا اور مقاتل بن سلیمان کی روایت ہے کہ قریش کے بعض نوجوانوں نے جا کر اس کلیسا میں آگ لگا دی تھی۔ ان میں سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے کیونکہ ابرھہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں اس پر کسی عرب، یا قریشی کا، یا چند قریشی نوجوانوں کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کرنا یا اس میں آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں تھی۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرھہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اسے مکہ پر چڑھائی کرنے کا بہانہ مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں مقاصد حاصل کر لے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، جب ابرھہ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ کعبے کے معتقدین نے اس کلیسا کی یہ توہین کی ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین نہ لوں گا جب تک کعبے کو ڈھا نہ دوں۔ اس کے بعد وہ 570ء یا 571ء میں 60 ہزار فوجی اور 13 ہاتھی (اور بروایت بعض 9 ہاتھی) لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں پہلے یمن کے ایک سردار ذونفر نے عربوں کا ایک لشکر جمع کر کے اس کی مزاحمت کی، مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہو گیا۔ پھر خثعم کے علاقے میں ایک عرب سردار نفیل بن حبیب خثعمی اپنے قبیلے کو لے کر مقابلے پر آیا، مگر وہ بھی شکست کھا کر گرفتار ہو گیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدرقے کی خدمت انجام دینا قبول کر لیا۔ طائف کے قریب پہنچا تو بنی ثقیف نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی طاقت کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے، اور ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ ان کے معبود لات کا مندر بھی تباہ نہ کر دے۔ چنانچہ ان کا سردار مسعود ایک وفد لے کر ابرھہ سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارا بت کدہ وہ معبد نہیں ہے جسے آپ ڈھانے آئے ہیں، وہ تو مکہ میں ہے، اس لیے آپ ہمارے معبد کو چھوڑ دیں، ہم مکہ کا راستہ بتانے کے لیے آپ کو بدرقہ فراہم کیے دیتے ہیں۔ ابرھہ نے یہ بات قبول کرلی اور بنی ثقیف نے ابو رغال نامی ایک آدمی کو اس کے ساتھ کر دیا۔ جب مکہ تین کوس رہ گیا تو المغمس نامی مقام پر پہنچ کر ابو رغال مر گیا اور عرب مدتوں تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔ بنی ثقیف کو بھی وہ سالہا سال تک طعنے دیتے رہے کہ انہوں نے لات کے مندر کو بچانے کے لیے بیت اللہ پر حملہ کرنے والوں سے تعاون کیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ المغمس سے ابرھہ نے اپنے مقدمۃ الجیش کو آگے بڑھایا اور وہ اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لے گیا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبد المطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکہ بھیجا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔ اگر تم نہ لڑو تو میں تمہاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہل مکہ اگر بات کرنا چاہیں تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکے کے سب سے بڑے سردار اس وقت عبد المطلب تھے۔ ایلچی نے ان سے مل کر ابرھہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچي نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں۔ وہ اس پر راضی ہو گئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اس قدر وجیہہ اور شاندار شخص تھے کہ ان کو دیکھ کر ابرھہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرھہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں بہت متاثر ہوا تھا، مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا کہ آپ اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دین آبائی کا مرجع ہے۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا میں تو صرف اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور انہی کے بارے میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ رہایہ گھر، تو اس کا ایک رب ہے،وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔ ابرھہ نے جواب دیا وہ اس کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا آپ جانیں اور وہ جانے۔ یہ کہہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ آئے اور اس نے ان کے اونٹ واپس کر دیے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت اس سے مختلف ہے۔ اس میں اونٹوں کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے ان سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابرھہ الصِفاح کے مقام پر پہنچا (جو عرفات اور طائف کے پہاڑوں کے درمیان حدود حرم کے قریب واقع ہے) تو عبد المطلب خود اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے، ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جاتے۔ اس نے کہاکہ میں نے سنا ہے یہ گھر امن کا گھر ہے، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ عبد المطلب نے کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے، آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرھہ نے جواب دیا ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں گے۔ عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں ہم سے لے لیں اور واپس چلے جائیں۔ مگر ابرھہ نے انکار کر دیا اور عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ دونوں روایتوں کو اس اختلاف کو اگر ہم اپنی جگہ رہنے دیں اور کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیں، تو ان میں سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہرحال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکہ اور اس کے
آس پاس کے قبائل اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابل فہم بات ہے کہ قریش نے اس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ قریش کو لوگ تو جنگ احزاب کے موقع پر مشرک اور یہودی قبائل کو ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار کی جمعیت فراہم کر سکے۔ وہ 60 ہزار فوج کا مقابلہ کیسے کرتے۔ محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ابرھہ کی لشکر گاہ سے واپس آ کر عبد المطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہو جائے۔ پھر وہ اور قریش کے چند سردار حرم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالٰی سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اس کے خادموں کی حفاظت فرماۃے۔ اس وقت خانۂ کعبہ میں 360 بت موجود تھے۔ مگر یہ لوگ اس نازک گھڑی میں ان سب کو بھول گئے اور انہوں نے صرف اللہ کے آگے دستِ سوال پھیلایا۔ ان کی جو دعائیں تاریخ میں منقول ہوئی ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں عبد المطلب کے جو اشعار نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں: خدایا! بندہ اپنے گھر کی حفاظۃ کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں غالب نہ آنے پائے اگر تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تو چاہے کر سُہَیلی نے روض الانف میں اس سلسلے کا یہ شعر بھی نقل کیا ہے صلیب کی آل اور اس کے پرستاروں کے مقابلے میں آج اپنی آل کی مدد فرما ابن جریر نے عبد المطلب کے یہ اشعار بھی نقل کی ہیں جو اس موقع پر دعا مانگتے ہوئے انہوں نے پڑھے تھے: اے میرے رب تیرے سوا میں اُن کا مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے میرے رب ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے۔ اپنی بساہ کو تباہ کرنے سے ان کو روک یہ دعائیں مانگ کر عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے، اور دوسرے روز ابرھہ مکے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر اس کا خاص ہاتھی محمود، جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تبر مارے گئے، آنکسوں سے کچوکے دیے گئے، یہاں تک کہ اسے زحمی کر دیا گیا، مگر وہ نہ ہلا، اسےجنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ اتنے میں پرندوں گے جھنڈ کے جھنڈ اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے آئے اور انہوں سے اس لشکر پر اُن سنگریزوں کی بارش کر دی۔ جس پر بھی یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع ہو جاتا۔ محمد بن اسحاق اور عکرمہ کی روایت ہے کہ یہ چیچک کا مرض تھا اور بلادِ عرب میں سب سے پہلے چیچک اسی سال دیکھی گئی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس پر کوئی کنکری گرتی اسے سخت کھجلی لاحق ہو جاتی اور کھجاتے ہی اس کی جلد پھٹتی اور گوشت جھڑنا شروع ہو جاتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت یہ ہے کہ گوشت اور خون پانی کی طرح بہنے لگتا اور ہڈیاں نکل آتی تھیں۔ خود ابرھہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا اجسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر رہا تھا اور جہاں سے کوئی ٹکڑا گرتا وہاں سے پیپ اور لہو بہنے لگتا۔ افراتفری میں ان لوگوں نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ نفیل بن حبیب خثعمی کو، جسے یہ لوگ بدرقہ بنا کر بلادِ خثعم سے پکڑ لائے تھے، تلاش کر کے انہوں نے کہا کہ واپسی کاراستہ بتائے۔ مگر اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا این المفر و الا لہ الطالب – والاشرم المغلوب لیس الغالب اب بھاگنے کی جگہ کہاں ہے جبکہ خدا تعاقب کر رہا اور نکٹا (ابرھہ) مغلوب ہے، غالب نہیں ہے اس بھگدڑ میں جگہ جگہ یہ لوگ گر گر کر مرتے رہے۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ سب کے سب اسی وقت ہلاک نہیں ہو گئے بلکہ کچھ تو وہیں ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گرتے چلے گئے۔ ابرھہ بھی بلاد خثعم پہنچ کر مرا۔ اللہ تعالٰی نے حبشیوں کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ فیل کے بعد یمن میں ان کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی، جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے، پھر ایک یمنی سردار سیف بن ذی یزن نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کر لی اور ایران کی صرف ایک ہزار فوج جو چھ جہازوں کے ساتھ آئی تھی، حبشی حکومت کا خاتمہ کر دینے کے لیے کافی ہو گئی۔ یہ 575ء کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی مخصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا تھا۔ صحیح مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حجۃ الوداع کا جو قصہ امام جعفر صادق نے اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے اس میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مزدلفہ سے منٰی کی طرف چلے تو محسر کی وادی میں آپ نے رفتار تیز کر دی۔ امام نووی اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصحاب الفیل کا واقعہ اسی جگہ پیش آیا تھا۔ اس لیے سنت یہی ہے کہ آدمی یہاں سے جلدی گزر جائے۔ موطا میں امام مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مزدلفہ پورا کا پورا ٹھیرنے کا مقام ہے، مگر محسر کی وادی میں نہ ٹھیرا جائے۔ نفیل بن حبیب کے جو اشعار ابن اسحاق نے نقل کیے ہیں ان میں وہ اس واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے۔ اے رُدَینَہ کاش تو دیکھتی، اور تو نہیں دیکھ سکے گی جو کچھ ہم نے وادی محصب کے قریب دیکھا میں نے اللہ کا شکر کیا جب میں نے پرندوں کو دیکھا اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں پتھر ہم پر نہ آ پڑیں ان لوگوں میں سے ہر ایک نفیل کو ڈھونڈ رہا تھا، گویا کہ میرے اوپر حبشیوں کا کوئی قرض آتا تھا یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں شہرت ہو گئی اور اس پر بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔ ان قصائد میں یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ سب سے اسے اللہ تعالٰی کی قدرت کا اعجاز قرار دیا اور کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں اُن بُتوں کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں پوجے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر عبد اللہ ابن الزبغریٰ کہا ہے کہ 60 ہزار تھے جو اپنی سرزمین کی طرف واپس نہ جا سکے اور نہ واپس ہونے کے بعد ان کا بیمار (ابرھہ) زندہ رہا) یہاں ان سے پہلے عاد اور جرھم تھے اور اللہ بندوں کے اوپر موجود ہے جو اسے قائم رکھے ہوئے ہے اٹھو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور مکہ و منٰی کی پہاڑیوں کے درمیان بیت اللہ کے کونوں کو مسح کرو جب عرش والے کی مدد تمہیں پہنچی تو اس بادشاہ کے لشکروں نے ان لوگوں کو اس حال میں پھیر دیا کہ کوئی خاک میں پڑا تھا اور کوئی سنگسار کیا ہوا تھا۔ یہی نہیں بلکہ حضرت ام ھانی اور حضرت زبیر بن العوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قریش نے 10 سال (اور بروایت بعض سات سال) تک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ ام ھانی کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتب حدیث میں نقل کی ہے۔ حضرت زبیر کا بیان طبرانی اور ابن مردویہ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کی تائید مزید حضرت سعید بن المسیب کی اس مرسل روایت سے ہوتی ہے و خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔ جس سال یہ واقعہ پیش آیا، اہل اسے اسے عام الفیل (ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں اور اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مبارکہ ہوئی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اصحاب الفیل کا واقعہ محرم میں پیش آیا تھا اور حضور کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے 50 دن بعد ہوئی۔

مقصودِ کلام

جو تاریخی تفصیلات اوپر درج کی گئی ہیں ان کو نگاہ میں رکھ کر سورۂ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس سورت میں اس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالٰی کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں اکتفا کیا گیا ہے۔ واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔ مکے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہل عرب اس بات کے قائل تھے کہ ابرھہ کے اس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے کی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں اور چند سال تک قریش کے لوگ اس واقعہ سے اس قدر متاثر رہے تھے کہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۂ فیل میں ان تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کی یاد دلانا کافی تھا، تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً، اور اہل عرب عموماً، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آخر اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے انہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔

الھمزہ

نام

پہلی آیت کے لفظ ھمزۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کے مکی ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ اور اس کے مضمون اور انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

اس میں چند ایسی اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں زرپرست مالداروں کے اندر پائی جاتی تھیں، جنہیں ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں فی الواقع اس کے معاشرے میں موجود ہیں، اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے، کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں ہیں۔ اس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اُن لوگوں کا کیا انجام ہوگا جن کا یہ کردار ہے۔ یہ دونوں باتیں (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں اس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں جس سے سامع کا ذہن خود بخود اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے، اور چونکہ دنیا میں ایسے کردار والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں، اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر ہے۔ اس سورت کو اگر اُن سورتوں کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے جو سورۂ زلزال سے یہاں تک چلی آ رہی ہيں تو آدمی بڑی اچھی طرح یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں کس طریقہ سے اسلام کے عقائد اور اس کی اخلاقی تعلیمات کو لوگوں کے ذہن نشین کیا گيا تھا۔ سورۂ زلزال میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کا پورا نامۂ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کوئی ذرہ برابری نیکی یا بدی بھی ایسی نہ ہوگی جو اس نے دنیا میں کی ہو اور وہاں اس کے سامنے نہ آ جائے۔ سورۂ عادیات میں اس لوٹ مار، کشت و خون اور غارت گری کی طرف اشارہ کیا گیا جو عرب میں ہر طرف برپا تھی، پھر یہ احساس دلانے کے بعد کہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں کا یہ استعمال اس کی بہت بڑی ناشکری ہے، لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی میں تمہارے افعال ہی کی نہیں، تمہاری نیتوں تک کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون آدمی کس سلوک کا مستحق ہے۔ سورۂ قارعہ میں قیامت کا نقشہ پیش کرنے کے بعد لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کے اچھے یا برے انجام کا انحصار اس پر ہوگا کہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ سورۂ تکاثر میں اس مادہ پرستانہ ذہنیت پر گرفت کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ مرتے دم تک بس دنیا کے فائدے اور لذتیں اور عیش و آرام اور جاہ و منزلت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، پھر اس غفلت کے برے انجام سے آگاہ کر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ دنیا کوئی خوانِ یغما نہیں ہے کہ اس پر تم جتنا اور جس طرح چاہو ہاتھ مارو، بلکہ ایک ایک نعمت جو تمہیں یہاں مل رہی ہے اس کے لیے تمہیں اپنے رب کو جواب دینا ہوگا کہ اسے تم نے کیسے حاصل کیا اور حاصل کر کے اس کو کس طرح استعمال کیا۔ سورۂ عصر میں بالکل دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا کہ نوع انسانی کا ایک ایک فرد، ایک ایک گروہ، ایک ایک قوم، حتیٰ کہ پوری دنیائے انسانیت خسارے میں ہے اگر اس کے افراد میں ایمان و عملِ صالح نہ ہو اور اس کے معاشرے میں حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کا رواج عام نہ ہو۔ اس کے معاً بعد سورۂ ھمزہ آتی ہے جس میں جاہلیت کی سرداری کا ایک نمونہ پیش کر کے لوگوں کے سامنے گویا یا سوال رکھ دیا گیا کہ یہ کردار آخر خسارے کا موجب کیوں نہ ہو؟

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »