محفوظات برائے 'قرآن' زمرہ


البینہ

نام

پہلی آیت کے لفظ البینہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی ہے اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ ابن الزبیراور عطاء بن یسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔ ابن عباس اور قتادہ کے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے مکی قرار دیتی ہیں۔ ابو حیان صاحب بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفرس صاحب احکام القرآن اس کے مکی ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے، اس میں کوئی علامت ایسی نہیں پائی جاتی جو اس کے مکی یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔

موضوع اور مضمون

قرآن مجید کی ترتیب میں اس کو سورۂ علق اور سورۂ قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ سورۂ علق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورۂ قدر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب پاک کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔ سب سے پہلے رسول بھیجنے کی ضرورت بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کے لوگ،خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، جس کفر کی حالت میں مبتلا تھے اُس سے اُن کا نکلنا اِس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک ایسا رسول بھیجا جائے جس کا وجود خود اپنی رسالت پر دلیل روشن ہو اور وہ لوگوں کے سامنے خدا کی کتاب کو اس کی اصلی اور صحیح صورت میں پیش کرے جو باطل کی ان تمام آمیزشوں سے پاک ہو جن سے پچھلی کتب آسمانی کو آلودہ کر دیا گیا ہے اور بالکل راست اور درست تعلقات پر مشتمل ہو۔ اس کے بعد اہل کتاب کی گمراہیوں کے متعلق وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے ان مختلف راستوں میں بھٹکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالٰی نے ان کی کوئی رہنمائی نہ کی تھی بلکہ وہ اس کے بعد بھٹکے کہ راہ راست کا بیانِ واضح ان کے پاس آ چکا تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی گمراہیوں کے وہ خود ذمہ دار ہیں، اور اب پھر اللہ کے اس رسول کے ذریعے سے بیانِ واضح آ جانے کے بعد بھی اگر وہ بھٹکتے ہی رہیں گے تو ان کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ اس سلسلے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے جو انبیاء بھی آئے تھے، اور جو کتب بھی بھیجی گئی تھیں، انہوں نے اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا تھا کہ سب طریقوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کی بندگی کاطریقہ اختیار کیا جائے، کسی اور کی عبادت و بندگی اور اطاعت و پرستش کو اس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے، نماز قائم کی جائے اور زکٰوۃ ادا کی جائے یہی ہمیشہ سے ایک صحیح دین رہا ہے۔ اس سے بھی یہ نتیجہ خود بخود برآمد ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے اس اصل دین سے ہٹ کر اپنے مذہبوں میں جن نئی نئی باتوں کا اضافہ کر لیا ہے وہ سب باطل ہیں، اور اللہ کا یہ رسول جو اب آیا ہے اسی اصل دین کی طرف پلٹنے کی انہیں دعوت دے رہا ہے۔ آخر میں صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ جو اہل کتاب اور مشرکین اس رسول کو ماننے سے انکار کریں گے وہ بدترین خلائق ہیں، ان کی سزا ابدی جہنم ہے، اور جو لوگ ایمان لا کر عملِ صالح کا طریقہ اختیار کر لیں گے اور دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے وہ بہترینِ خلائق ہیں، ان کی جزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔

القدر

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ القدر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ ابو حیان نے البحر المحیط میں دعویٰ کیا ہے کہ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ مدنی ہے۔ علی بن حمد الواحدی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہ پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئي۔ بخلاف اس کے الماوردی کہتے ہیں کہ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ مکی ہے، اور یہی بات امام سیوطی نے اتقان میں لکھی ہے۔ ابن مردویہ نے ابن عباس، ابن الزبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ سورت کے مضمون پر غور کرنے سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کو مکہ ہی میں نازل ہونا چاہے تھا۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع لوگوں کو قران کی قدر و قیمت اور اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب میں اسے سورۂ علق کے بعد رکھنے سے خود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس کتاب پاک کے نزول کا آغاز سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات سے ہوا تھا اس کے متعلق اس سورت میں لوگوں کو بتای گیا ہے کہ وہ کس تقدیر ساز رات میں نازل ہوئي ہے۔ کیسی جلیل القدر کتاب ہے اور اس کا نزول کیا معنی رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا ہے یعنی یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اپنی تصنیف نہیں ہے بلکہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اس کا نزول ہماری طرف سے شب قدر میں ہوا۔ شب قدر کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مقصود ہیں۔ ایک یہ وہ رات ہے جس میں تقدیروں کے فیصلے کر دیے جاتے ہیں، یا بالفاظ دیگر یہ کوئی معمولی رات عام راتوں جیسی نہیں ہے، بلکہ یہ قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے کی رات ہے۔ اس میں اس کتاب کا نزول محض ایک کتاب کا نزول نہیں ہے بلکہ یہ وہ کام ہے جو نہ صرف قریش، نہ صرف عرب، بلکہ دنیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ یہی بات سورۂ دخان میں بھی فرمائی گئی۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر و منزلت اور عظمت و شرف رکھنے والی رات ہے اور یہ ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے کفار مکہ کو گویا متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اپنی نادانی سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیش کی ہوئی اس کتاب کو اپنے لیے ایک مصیبت سمجھ رہے ہو اور کوس رہے ہو کہ یہ کیا بلا ہم پر نازل ہوئی ہے، حالانکہ جس رات کو اس کے نزول کا فیصلہ صادر کیا گیا وہ اتنی خیر و برکت کی رات تھی کہ کبھی انسانی تاریخ کے ہزار مہینوں میں بھی انسان کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا تھا جو اس رات میں کر دیا گیا۔ یہ بات بھی سورۂ دخان کی آیت 3 میں ایک دوسرے طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ آخر میں بتایا گیا کہ اس رات کو فرشتے اور جبریل اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر نازل ہوتے ہیں (جسے سورۂ دخان آیت نمبر 4 میں امرِ حکیم کہا گیا ہے) اور وہ شام سے صبح تک سراسر سلامتی کی رات ہوتی ہے، یعنی اس میں کسی شر کا دخل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالٰی کے تمام فیصلے بالآخر بھلائی کے لیے ہوتے ہیں، ان میں کوئی برائی مقصود نہیں ہوتی، حتٰی کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ بھی ہوتا ہے تو خیر کے لیے ہوتا ہے نہ کہ شر کے لیے۔

العلق

نام

دوسری آیت کے لفظ علق کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس سورت کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ اقرا سے شروع ہو کر پانچویں آیت کے الفاظ مالم یعلم پر ختم ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ کلآ ان الانسان لیطغٰی سے شروع ہو کر آخر سورت تک چلتا ہے۔ پہلے حصے کے متعلق علمائے امت کی عظیم اکثریت اس بات پرم تفق ہے کہ یہ سب سے پہلی وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی۔ اس معاملے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث جسے امام احمد، بخاری، مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے، صحیح ترین احادیث میں شمار ہوتی ہے، اور اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سن کر آغازِ وحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابن عباس، ابو موسٰی اشعری اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت سے بھی یہی بات منقول ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئیں وہ یہی تھیں۔ دوسرا حصہ بعد میں اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حرم میں نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی۔

آغاز وحی

محدثین نے آغازِ وحی کا قصہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زہری سے، اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی کی ابتدا سچے (اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور کئی کئی شب و روز غار حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زہری نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے، کیونکہ اس وقت تک اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایا گیا تھا) آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کر دیتی تھیں۔ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپ سے کہا “پڑھو” اس کے بعد حضرت عائشہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا “میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں”۔ اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے گی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا “میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں”۔ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا “میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں”۔ اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقرا باسم ربک الذی خلق (پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) یہاں تک کہ مالم یعلم (جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہ کے پاس پہنچ کر کہا “مجھے اُڑھاؤ، مجھے اُڑھاؤ” چنانچہ آپ کو اِڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہو گئی تو آپ نے فرمایا “اے خدیجہ، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے”۔ پھر سارا قصہ آپ نے ان کو سنایا اور کہا “مجھے اپنی جان کا ڈر ہے” انہوں نے کہا “ہر گز نہیں، آپ خوش ہو جائیے۔ خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں)، بے سہارا لوگوں کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں” پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی تھے، زمانۂ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے، بہت بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا بھائی جان، ذرا اپنے بھتیجے کا قصہ سنیے۔ ورقہ نے حضور سے کہا بھتیجے تم کو کیا نظر آیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ ورقہ نے کہا “یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ ہے) جو نے موسٰی علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپ کے زمانۂ نبوت میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا “کیا لوگ مجھے نکال دیں گے؟” ورقہ نے کہا “ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پرزور مدد کروں گا” مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ یہ قصہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ اس چیز کا طالب یا متوقع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا تاثر آپ کے اوپر وہی ہوا جو ایک بے خبر انسان پر اتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو مکہ کے لوگوں نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے، مگر ان میں کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے واے ہیں کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس قصے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبوت سے پہلے آپ کی زندگي کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کوئی کم سن خاتون نہ تھیں بلکہ اس واقعہ کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریک زندگی تھیں۔ بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں رہ سکتی۔ انہوں سے اس طویل ازدواجی زندگی میں آپ کو اتنا عالی مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو غار حراء میں پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامل انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ فی الواقع اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا ہے۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل بھی مکہ کے ایک بوڑھے باشندے تھے، بچپن سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی دیکھتے چلے آ رہے تھے۔ اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی جب یہ واقعہ سنا تو اسے کوئی وسوسہ نہیں سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسٰی علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک بھی آپ اتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابل تعجب امر نہ تھا۔

دوسرے حصہ کی شان نزول

اس سورت کا دوسرا حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اس کے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسلام کی علانیہ تبلیغ کرتے، آپ نے حرم میں اس طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کر دی جو اللہ تعالٰی نے آپ کو سکھائی تھی، اور یہی وہ چیز تھی جسسے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیرو ہو گئے ہیں۔ دوسرے لوگ تو اسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، مگر ابو جہل کی رگ جاہلیت اس پر پھڑک اٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کر دیا کہ اس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔ چنانچہ اس سلسلے میں کئی احادیث حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیں جن میں ابو جہل کی ان بیہودگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا “کیا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں؟” لوگوں نے کہا “ہاں” اس نے کہا “لات اور عزیٰ کی قسم، اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا” پھر ایسا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ آگے بڑھا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے، مگر یکایک لوگوں نے دیکھا وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہو گیا؟ اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اڑا دیتے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پاؤں تلے دبا دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آ پکڑیں گے (بخاری، ترمذی، نسائ، ابن جریر، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا اے محمد! کیا میں نے تم کو اس سے منع نہ کیا تھا؟ اور اس نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کیں۔ جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا اے محمد، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم، اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، طبرانی، ابن مردویہ)

انہی واقعات پر اس سورت کا وہ حصہ نازل ہوا جو کلآ ان الانسان لیطغٰی سے شروع ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر اس حصے کا مقام وہی ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اس سورت میں رکھا گیا ہے کیونکہ پہلی وہی نازل ہونے کے بعد اسلام کا اولین اظہار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز ہی سے کیا تھا اور کفار سے آپ کی مڈبھیڑ کا آغاز بھی اسی واقعہ سے ہوا تھا۔

التین

قرآن مجید کی 95 ویں سورت جس میں 8 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی لفظ التّین کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

قتادہ کہتے ہیں کہ یہ سورت مدنی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ لیکن جمہور علماء اسے مکی ہی قرار دیتے ہیں اور اس کے مکی ہونے کی کھلی ہوئی علامت یہ ہے کہ اس میں شہر مکہ کے لیے ھٰذا البلد الامین (یہ پرامن شہر) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر اس کا نزول مدینہ میں ہوا ہوتا تو مکہ کے لیے یہ شہر کہنا صحیح نہیں ہو سکتا تھا۔ علاوہ بریں سورت کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، کیونکہ اس میں کوئی نشان اس امر کا نہیں پایا جاتا کہ اس کے نزول کے وقت کفر و اسلام کی کشمکش برپا ہو چکی تھی، اور اس کے اندر مکی دور کی ابتدائی سورتوں کا وہی اندازِ بیان پایا جاتا ہے جس میں نہایت مختصر اور دل نشین طریقہ سے لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ آخرت کی جزا و سزا ضروری اور سراسر معقول ہے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع ہے جزا و سزا کا اثبات۔ اس غرض کے لیے سب سے پہلے جلیل القدر انبیاء کے مقامات ظہور کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ اگرچہ اس حقیقت کو دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً کہیں فرمایا کہ انسان کو خدا نے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور فرشتوں کو اس کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ کہیں فرمایا کہ انسان اُس امانتِ الٰہی کا حامل ہوا ہے جسے اٹھانے کی طاقت زمین و آسمان اور پہاڑوں میں بھی نہ تھی۔ کہیں فرمایا کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی۔ لیکن یہاں خاص طور پر انبیاء کے مقاماتِ ظہور کی قسم کھا کر یہ فرمانا کہ انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے، یہ معنی رکھتا ہے کہ نوع انسانی کو اِتنی بہتر ساخت عطا کی گئی کہ اس کے اندر نبوت جیسے بلند ترین منصب کے حامل لوگ پیدا ہوئے جس سے اونچا منصب خدا کی کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں ہوا۔

اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ انسان میں دو قسمیں پائی جاتی ہیں، ایک وہ جو اس بہترین ساخت پر پیدا ہونے کے بعد برائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اخلاقی پستی میں گرتے گرتے اُس انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے زیادہ نیچ کوئی دوسری مخلوق نہیں ہوتی، دوسرے وہ جو ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچ جاتے ہیں اور اُس مقامِ بلند پر قائم رہتے ہیں جو اُن کے بہترین ساخت پر پیدا ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔ نوع انسانی میں اِن دو قسموں کے لوگوں کا پایا جانا ایک ایسا امر واقعی ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا مشاہدہ انسانی معاشرے میں ہر جگہ ہر وقت ہو رہا ہے۔

آخر میں اس امر واقعی سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جب انسانوں میں یہ دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے قطعی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں تو پھر جزائے اعمال کا کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اگر پستی میں گرنے والوں کو کوئی سزا اور بلندی پر چڑھنے والوں کو کوئی اجر نہ ملے، اور انجامِ کار دونوں کا یکساں ہو، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی خدائی میں کوئی انصاف نہیں ہے۔ حالانکہ انسانی فطرت اور انسان کی عقلِ عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ جو شخص بھی حاکم ہو وہ انصاف کرے۔ پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ، جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، وہ انصاف نہیں کرے گا۔

الم نشرح

قرآن مجید کی 94 ویں سورت ہے جس میں 8 آیات ہیں۔

نام

پہلے ہی فقرے کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کا مضمون سورۂ ضحیٰ سے اس قدر ملتا جلتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں قریب قریب ایک ہی زمانے اور ایک جیسے حالات میں نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ مکۂ معظمہ میں والضحیٰ کے بعد نازل ہوئی۔

موضوع اور مضمون

اس کا مقصد و مدعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی دینا ہے۔ نبوت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کبھی اُن حالات سے سابقہ پیش نہ آیا تھا جن کا سامنا نبوت کے بعد دعوتِ اسلامی کا آغاز کرتے ہی یکایک آپ کو کرنا پڑا۔ یہ خود آپ کی زندگی میں ایک انقلابِ عظیم تھا جس کا کوئی اندازہ آپ کو قبلِ نبوت کی زندگی میں نہ تھا۔ اسلام کی تبلیغ آپ نے کیا شروع کی کہ دیکھتے دیکھتے وہی معاشرہ آپ کا دشمن ہوگیا جس میں آپ پہلے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہی رشتہ دار، دوست، اہل قبیلہ اور اہل محلہ آپ کو گالیاں دینے لگے جو پہلے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ مکہ میں کوئی آپ کی بات سننے کا روادار نہ تھا۔ راہ چلتے آپ پر آوازے کسے جانے لگے۔ قدم قدم پر آپ کے سامنے مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ اگرچہ رفتہ رفتہ آپ کو اِن حالات، بلکہ اِن سے بدرجہا زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت پر گئی، لیکن ابتدائی زمانہ آپ کے لیے نہایت دل شکن تھا۔ اسی بنا پر آپ کو تسلی دینے کے لیے پہلے سورۂ ضحیٰ نازل کی گئی اور پھر اِس سورت کا نزول ہوا۔

اس میں اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے آپ کو بتایا ہے کہ ہم نے آپ کو تین بہت بڑی نعمتیں عطا کی ہیں جن کی موجودگی میں کوئی وجہ نہیں کہ آپ دل شکستہ ہوں۔ ایک شرح صدر کی نعمت، دوسری یہ نعمت کہ آپ کے اوپر سے ہم نے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو نبوت سے پہلے آپ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ تیسری رفعِ ذکر کی نعمت جو آپ سے بڑھ کر تو درکنار آپ کے برابر بھی کبھی کسی بندے کو نہیں دی گئی۔

اس کے بعد رب کائنات اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ اطمینان دلاتا ہے کہ مشکلات کا یہ دور، جس سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے، کوئی بہت لمبا دور نہیں ہے بلکہ اس تنگی کے ساتھ ہی ساتھ فراخی کا دور بھی لگا چلا آ رہا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ ضحیٰ میں اس طرح فرمائی گئی تھی کہ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دورسے بہتر ہوگا اور عنقریب آپ کا رب آپ کو وہ کچھ دے گا جس سے آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔

آخر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ابتدائی دور کی اِن سختیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت آپ کے اندر ایک ہی چیز سے پیدا ہوگی اور وہ یہ ہے کہ جب آپ مشاغل سے فارغ ہوں تو عبادت کی مشقت و ریاضت میں لگ جائیں اور ہر چیز سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے رب سے لو لگائیں۔ یہ وہی ہدایت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سورۂ مزمل میں بھی دی گئی ہے۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »