محفوظات برائے 'اسلام' زمرہ


بایزید دوم

سلطنت عثمانیہ کے آٹھویں حکمران، جو اپنے والد محمد فاتح کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھے۔ انہوں نے 1481ء سے 1512ء تک حکومت کی۔

تخت نشینی

سلطان محمد فاتح کے انتقال کے وقت بایزید ثانی ایشیائے کوچک کے صوبے کے گورنر تھے جبکہ دوسرے صاحبزادے جمشید کریمیا کی گورنری پر مامور تھے۔ کیونکہ محمد فاتح نے کسی کو جانشین نامزد نہیں کیا تھا اس لیے محل کے مقتدر حلقوں میں اپنی مرضی کے شہنشاہ کی تقرری کی کھینچا تانی شروع ہو گئی۔ صدر اعظم محمد پاشا جمشید کا حامی تھا اس لیے محمد فاتح کی وفات کی خبر کو بایزید سے مخفی رکھا لیکن اسی دوران شہر میں ہنگامہ آرائی ہو گئی اور ینی چری نے سازشی منصوبے کا علم ہوتے ہی محمد پاشا کو قتل کر دیا۔ اسحاق پاشا کو نیا صدر اعظم مقرر کرنے کے بعد بایزید کے حامیوں نے با آسانی ینی چری کی حمایت حاصل کر لی اور بایزید کے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔ باپ کے انتقال کی خبر سنتے ہی بایزید اماسیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گیا جہاں پہنچتے ہی ینی چری نے تنخواہوں میں اضافے اور انعامات کا مطالبہ کر دیا جس کو تسلیم کرنے کے وعدے کے بعد 1481ء میں اسے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ بایزید نے ینی چری کو انعام و اکرام سے نوازا جس سے سلطنت عثمانیہ میں رسم بد چل پڑی جو اگلے تین سو سال تک (ینی چری کے خاتمے تک) بدستور قائم رہی اور ینی چری کے فوجی منہ زور ہوتے چلے گئے۔ ہر سلطان کی تخت نشینی پر وہ انعامات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے اور منظور نہ کرنے کی صورت میں قتل تک کی دھمکی دے دیتے۔ بایزید نے ان کا مطالبہ تسلیم کر کے ابتدا ہی سے ظاہر کر دیا کہ وہ اپنے باپ کی طرح قوی اور رعب و دبدبے والا سلطان نہیں۔

داخلی حکمت عملی

بغاوت

بایزید کو تخت نشین ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے بھائی جمشید کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ جمشید کا کہنا تھا کہ کیونکہ والد نے کسی کو جانشیں نامزد نہیں کیا اس لیے سلطنت پر حکمرانی اکیلے بایزید کا حق نہیں۔ اس لیے جمشید نے ایشیائی مقبوضات پر بایزید اور یورپی مقبوضات پر اپنی حکومت کی تجویز پیش کی جسے بایزید نے مسترد کر دیا جس پر جمشید نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ کیونکہ جمشید جانتا تھا کہ محمد فاتح نے “قتل برادران” کے جس خونیں قانون کو آئین سلطنت کا حصہ بنایا ہے بایزید اس پر ضرور عمل کرے گا اور اطاعت قبول کرنے کے باوجود اس سے باز نہ آئے گا۔ بایزید نے سلطنت کی تقسیم سے انکار کے باوجود جمشید کو اہل و عیال کے ساتھ بیت المقدس میں سکونت اختیار کرنے اور کریمیا کی آمدنی کا ایک حصہ عطا کرنے کی پیشکش کی جسے جمشید نے ٹھکرادیا اور نتیجتاً 1481ء میں دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ غداری کے باعث جنگ میں جمشید کو شکست ہو گئی اور وہ مصر بھاگ کھڑا ہوا جہاں مملوک سلطان نے اسے عزت و احترام کے ساتھ اپنا مہمان بنایا۔ سلطان نے نہ صرف اسے پناہ دی بلکہ فوجی و مالی امداد بھی کی جس کے بعد جمشید نے ایشیائے کوچک کے جنوب مغربی حصے سے سلطنت عثمانیہ پر چڑھائی کر دی اور 1482ء میں دونوں بھائی ایک مرتبہ پھر مد مقابل آ گئے۔ لیکن ایشیائے کوچک کے سرداروں کے عدم تعاون کے باعث اسے ایک مرتبہ پھر شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور اس مرتبہ شکست کھا کر مصر جانے میں شرم آڑے آ گئی اور جمشید نے اس مرتبہ عیسائیوں سے رابطہ کیا اور روڈس میں داخلے کی اجازت چاہی اور ایک معاہدے کے تحت روڈس پہنچ گیا جہاں کے عیار عیسائی حکمران نے ایک طرف اس سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ بایزید کے خلاف حق دلانے کے لیے اس کی مدد کرے گا اور دوسری جانب بایزید کو لکھوا بھیجا کہ جمشید کی نظر بندی کے لیے سالانہ 45 ہزار دوکات دیے جائیں جس پر بایزید رضامند ہو گیا اور اس طرح جمشید بظاہر پناہ اور حقیقتاً قید میں تھا۔ روڈس کے حکمران ڈی آبوسن کی عیاری کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بایزید سے رقم بٹورنے کے ساتھ ساتھ اس نے مصر میں جمشید کی والدہ کو بھی لکھوا بھیجا کہ سالانہ ڈيڑھ لاکھ بھیجتی رہو گی تو جمشید زندہ رہے گا بصورت دیگر قتل کر دیا جائے گا۔ اس طرح اس “نظر بند” شہزادے کو نیس، فرانس اور بعد ازاں مختلف مقامات پر پہنچایا گیا۔ ڈی آبوسن “سونے کی چڑیا” کو کھونا نہیں چاہتا تھا جبکہ یورپی طاقتیں اسے بایزید کے خلاف استعمال کرنا چاہتی تھیں تاکہ سلطنت عثمانیہ کو کمزور کیا جا سکے۔ آخر کار شاہ فرانس چارلس پنجم نے جمشید کو حاصل کیا اور بطور ضمانت روم بھیج دیا۔ جہاں و پوپ انوسینٹ ہفتم کی نظر بندی میں منتقل ہو گیا۔ بایزید جمشید کی نگرانی کے لیے پوپ کو 40 ہزار دوکات سالانہ ارسال کرتا تھا۔ پوپ کے انتقال کے بعد روم نے تین لاکھ دوکات کے عوض شہزادہ کے قتل کا سودا کرنا چاہا لیکن ابھی اس معاملے پر بات آگے ہی نہ بڑھی تھی کہ فرانس نے اٹلی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور پوپ 40 ہزار دوکات کی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ بالآخر 36 سال کی عمر میں ایک سازش کے ذریعے اسے زہر دے کر قتل کر دیا گیا اور یوں 13 سالہ قید و نظر بندی کے بعد جمشید کا انتقال ہو گیا۔ بایزید نے اس کی لاش منگوا کر بروصہ میں دفن کی۔

خارجی حکمت عملی

اٹلی میں شکست

سلطان فاتح کے آخری ایام میں ترک افواج اٹلی کے ساحلوں پر اتریں تھیں اور ساحلی شہر اوٹرانٹو پر قبضہ کر لیا۔ لیکن بایزید کی جانب سے اہم ترین سپہ سالار احمد کرک پاشا کو واپس بلانے اور اٹلی کی مہم میں امداد نہ دینے کے ناقص فیصلوں کی وجہ سے جلد ہی یہ قبضہ ختم ہو گیا۔ اس طرح بایزید کی ناقص حکمت عملی سے سلطنت عثمانیہ کو بہت نقصان ہوا اور محمد فاتح کی جانب سے فتح اٹلی کا جو دروازہ کھلا تھا وہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

فتوحات

ہرزیگووینا عثمانی سلطنت کی باجگزار ریاست تھی جس نے محمد فاتح کے دور میں باجگزاری اختیار کی لیکن بایزید نے اسے مکمل فتح کر کے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنایا۔ ہنگری اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن فتح کی نوبت نہ آ سکی اور بالآخر صلح ہو گئی۔ بایزید کے دور میں بحری معرکے بھی ہوئے اور 1498ء میں وینس سے ہونے والی جنگ میں ترکوں نے تین قلعے فتح کیے۔ اسی دور میں روس کا سفیر پہلی بار قسطنطنیہ آیا لیکن غرور و تکبر کا جو سبق اسے زار روس نے پڑھا کر بھیجا تھا اس پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے یہ سفارت ناکام ہو گئی۔ بایزید کے دور میں ہی ترکی اور مصر کی دشمنی کا آغاز ہوا۔ جبکہ مشرقی سمت ایران میں صفوی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کا ایک نیا حریف پیدا ہو گیا۔

سقوط غرناطہ

بایزید نے ہی سقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکالے گئے مسلمانوں اور یہودیوں کو بچانے کے لیے کمال رئیس کی زیر قیادت کئی بحری مہمات بھیجیں جنہوں نے ہزاروں مسلمانوں اور یہودیوں کی جانیں بچائیں۔

معزولی

بایزید کا عہد حکومت خانہ جنگی سے شروع ہوا اور اس کا خاتمہ بھی خانہ جنگی پر ہی رہا۔ اول الذکر میں حکومت کے لیے وہ اور اس کا بھائی جمشید مدمقابل رہے اور دور اختتام پر اس کے بیٹوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ بایزید کے تین بیٹے تھے اور جانشینی کے لیے اس کی نظر انتخاب دوسرے بیٹے احمد پر تھی لیکن چھوٹا بیٹا سلیم فوجی قابلیت کا حامل تھا اور فوج میں مقبولیت بھی رکھتا تھا۔ احمد کی طرف باپ کا رحجان دیکھ کر سلیم طرابزون سے قسطنطنیہ روانہ ہوا۔ بایزید نے سلیم کی آمد کا علم ہونے پر اسے واپس جانے کا حکم دیا لیکن طاقت کے نشے میں چور سلیم جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ باپ بیٹے میں جنگ ہوئی اور سلیم شکست کھا گیا۔ وہ کریمیا چلا گیا جہاں اس کا سسر فرمانروا تھا۔ اس کی مدد سے دوبارہ قسطنطنیہ آیا اور فوج کی مدد حاصل کی جس نے بایزید سے سلیم کے حق میں دستبرداری کا مطالبہ کر دیا۔

وفات

فوج کا رحجان دیکھ کر بایزید نے 1512ء میں سلیم کے حق میں دستبردار ہونے کا فیصلہ کر دیا اور تخت چھوڑ دیا۔ زندگی کے بقیہ ایام اس نے ایشیائے کوچک میں گزارنے کی خواہش لے کر سفر کا آغاز کیا لیکن وہاں تک ہی نہ پہنچ سکا اور تین دن بعد انتقال کر گیا۔ انہیں استنبول میں بایزید مسجد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

کردار

بایزید کا رحجان زیادہ تر مذہب و فلسفہ کی جانب تھا جس کی وجہ سے لوگ اسے صوفی کہتے تھے۔ سادہ و حلیم مزاج اور نرم خو ہونے کے علاوہ پابند شرع بھی تھا۔ شاعری سے خاص لگاؤ رکھتا تھا۔ سپاہیانہ شجاعت میں کم نہ تھا لیکن جنگ پسند نہیں تھا۔

سلیم دوم

سلطان سلیمان اعظم قانونی کا بیٹا جو 1566ء سے 1574ء تک سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھا۔ انتہائی نالائق حکمران تھا۔ اس کے دور میں تمام تر ریاستی انتظامات صدر اعظم محمد صوقوللی پاشا نے سنبھالے۔

تخت نشینی

1566ء میں سلیمان کے انتقال کے بعد اس کی موت کی خبر 50 روز تک عوام سے چھپائی گئی جس کے بعد سلیم ثانی قسطنطنیہ میں تخت نشین ہوا۔ اس وقت اس کی عمر 42 سال تھی۔ سلطنت عثمانیہ اس وقت بام عروج پر پہنچ چکی تھی لیکن اس عظیم الشان سلطنت کے حکمران کی حیثیت سے سلیم ثانی کسی طرح موزوں نہ تھا لیکن کیونکہ سلیمان کی کوئی اور اولاد نہ تھی اس لیے اسے تخت پر بٹھایا گیا۔

محمد صوقوللی

جس طرح عباسی سلطنت کا ذکر برامکہ کے بغیر ادھورا ہے اسی طرح عثمانی سلطنت خصوصاً سلیم ثانی کے دور کا تذکرہ محمد صوقوللی کے بغیر تشنہ رہ جائے گا۔ یہ عثمانیوں کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں ایسا قابل وزیر میسر آیا جس نے سلطنت کی شاندار روایات کو برقرار رکھا۔ محمد صوقوللی بوسنیا کے ایک علاقہ صوقول میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان صوقولوچ کہلاتا تھا۔ انتہائی قابل و ذہین آدمی تھا۔ اسے سلیمان کے عہد میں جبری بھرتی کے لیے والدین سے لیا گیا تھا۔ قابلیت کی بنیاد پر سلطان کے محل میں اہم عہدوں پر رہا اور پھر صدر اعظم (وزیر اعظم) کے عہدے پر پہنچا۔ سلیم ثانی کی بیٹی سے عقد کیا۔ ظاہری حکمران تو سلیم تھا لیکن حقیقی فرمانروا محمد صوقوللی تھا۔ اپنی ذہانت سے امور سلطنت کو بخیر و خوبی چلایا۔ مراد ثالث کے ابتدائی عہد تک عنان حکومت اس کے ہاتھ میں تھی لیکن بعد میں سازش کے تحت قتل کر دیا گیا۔ اسی کے دور میں وینس سے صلح ہوئی جس کے تحت قبرص پر سلطنت عثمانیہ کا قبضہ تسلیم کیا گیا۔

فتوحات

سلیم کے مختصر عہد میں عثمانی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور یمن میں بغاوت کے خاتمے کے علاوہ تونس اور قبرص کی اہم فتوحات ہوئیں۔ لیکن اس کے دور کا ایک اہم ترین واقعہ جنگ لیپانٹو تھا۔

جنگ لیپانٹو

قبرص کی فتح نے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں کھلبلی مچا دی کیونکہ سلیمان اعظم کی وفات کے بعد بھی عثمانیوں کی پیشقدمی نہیں رکی تھی۔ اس سلسلے میں عثمانیوں کی بحری طاقت کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جس کے لیے بحیرہ روم کی عیسائی ریاستوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا گیا جس کی قیادت آسٹریا کے سالار اعظم ڈان جان کے سپرد کی گئی۔ 1517ء میں یہ بیڑہ مسینا کے مقام پر اکٹھا ہوا جبکہ ترکی بیڑہ لیپانٹو میں لنگر انداز تھا جس کی امارت امیر البحر علی پاشا کے ہاتھ میں تھی۔ خلیج لیپانٹو کے کنارے دونوں بحری بیڑوں کا آمنا سامنا ہوا اور چند گھنٹوں میں ترکوں کو ایک عظیم شکست ہوئی اور علی پاشا مارا گیا۔ اس جنگ میں تیس ہزار ترک کام آئے، ترکی بیڑا عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا اور کئی جہاز غرق آب ہو گئے۔ اس شکست کے نتیجے میں بحیرہ روم کی عیسائی طاقتوں کے مقابلے میں عثمانی بحری طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن ترکوں نے اس کے بعد جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک اور شاندار بحری بیڑہ تیار کیا وہ ان کی عظمت کی دلیل ہے۔

روس سے ٹکراؤ

سلیم ثانی پہلا عثمانی حکمران تھا جس کے دور میں ترکوں کی روسیوں سے جنگ ہوئی۔ اس جنگ کا سبب صدر اعظم کی پیش نظر دو تجاویز تھیں جس میں انہوں نے خاکنائے سوئز میں نہر کھود کر بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کو اور دریائے ڈون اور دریائے وولگا کو ملانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن آخر الذکر کےلیے استراخان پر قبضہ ضروری تھا اور یہ شہر روس کے قبضے میں تھا اور ہر لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ اس شہر کی فتح کے لیے 1568ء میں صدر اعظم نے ینی چری کے 25 ہزار سپاہیوں پر مشتمل دستہ شہر ازوف کی جانب روانہ کی اور استراخان پر قبضہ کے لیے اس فوج کا روسیوں سے ٹکراؤ ہوا۔ ترک فوج شہر پر قبضہ نہ کر سکی اور واپسی پر فوج کا بیشتر حصہ بحیرہ اسود میں ایک طوفان کی نذر ہو گیا۔ ترک شہر پر قبضہ میں ناکام رہے لیکن روس ترکوں سے جنگ نہیں چاہتا تھا اس لیے جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد ایک صدی تک ترک اور روس ایک دوسرے کے مدمقابل نہ آئے۔

انتقال

سلیم کا انتقال 1574ء میں ہوا۔ اس نے کل 8 سال حکومت کی۔

کردار

سلیم ثانی پہلا عثمانی سلطان تھا جس کی زندگی حرم سرا میں گزری۔ وہ ان تمام صلاحیتوں سے محروم تھا جو بادشاہت کے لیے ضروری ہوتی ہیں بلکہ اس میں ان میں سے ایک بھی خوبی نہ تھی۔ کم عمری سے ہی شراب کا رسیا تھا اسی لیے تخت پر بیٹھتے ہی شراب کی ممانعت کے حکم کو منسوخ کر دیا اس لیے عوام نے اسے شرابی کا لقب دیا۔ کاہلی کی وجہ سے ہر وقت مست کیفیت میں حرم میں رہتا۔

جنگ گیلی پولی

ترکی کا جزیرہ نما گیلی پولی (Gallipoli) پہلی جنگ عظیم میں ایک تاریخی جنگ کا میدان تھا۔ گیلی پولی یورپی ترکی میں استنبول سے جنوب میں واقع ہے۔ اپریل 1915ء سے جنوری 1916ء کے درمیان یہاں عثمانی ترکوں اور اتحادیوں یعنی سلطنت برطانیہ اور فرانس کے مابین پہلی جنگ عظیم کی ایک اہم معرکہ آرائی ہوئی۔ اس جنگ میں ترکوں نے فتح حاصل کی۔

اسباب

اس جنگ کا مقصد سلطنت عثمانیہ کو شکست دے کر جنگ سے علیحدہ کرنا، روس کی امداد کے لیۓ راستہ بنانا اور یونان اور بلغاریہ کو اتحادیوں کی طرف شامل کرنا تھا۔

چرچل نے اس منصوبے کو پیش کیا:

مصطفی کمال ترک افواج کے کمانڈر تھا اور سر ہملٹن اتحادی فوجوں کا۔ اس جنگ میں 700000 ترک اور 550000 اتحادی فوجی مارے گئے۔

19 فروری 1915ء کو درہ دانیال پر گولہ باری کی گئی۔ 25 اپریل کو عام حملہ کیا گیا۔ اتحادیوں کا حملہ ترکوں نے بے مثل مزاحمت اور شجاعت سے روک دیا۔ اتحادیوں کو بہت سارار نقصان اٹھا کر 9 جنوری 1916ء کو گیلی پولی سے نکلنا پڑا۔

نتائج

اس فتح نے ترکوں کے حوصلے بلند کر دیۓ۔ چرچل کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا برطانوی وزیر اعظم ایسکویتھ کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ بعد میں برطانیہ نے اس ہاری ہوئی جنگ کو ہاشمی خاندان کے سردار سید حسین بن علی شریف مکہ کی مدد سے اپنی فتح میں بدلا۔

واقعۂ حرہ

یزید بن معاویہ کے دور میں سانحۂ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ مدینہ پر شامی افواج کی چڑھائی تھی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور مدینہ میں قتل عام کیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔

پس منظر

سانحۂ کربلا کے بعد حجاز میں یزید کے خلاف غم و غصہ اور نفرت اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور وہاں سے ایک انقلاب اٹھ رہا تھا۔ اہل مکہ نے عبد اللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل مدینہ نے بھی یزید کے خلاف کاروائی شروع کردی۔ اس صورتحال میں یزید سلطنت اسلامیہ میں کشت و خون نہیں چاہتا تھا اور اہل مدینہ کو سمجھانے کے لیے اس نے وفد بلوایا اور امیر مدینہ عثمان بن محمد نے ایک وفد عبد اللہ بن حنظلہ کے ہمراہ دارالحکومت دمشق روانہ کیا۔ یزید کے وفد سے نرم سلوک اور انعام و اکرام سے نوازنے کے باوجود سانحۂ کربلا سے پیدا ہونے والا خلا برقرار رہا اور اہل مدینہ امویوں کے مقابلے میں کھلم کھلا مخالفت اختیار کر گئے۔ اس مخالفت کے نتیجے میں اموی خاندان کے افراد کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔

واقعات

مدینہ پر چڑہائی

ان واقعات کا علم جب یزید کو ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ کو مدینہ پر فوج کشی کا حکم دیا۔ مسلم بن عقبہ یزید کے حکم پر بارہ ہزار آدمیوں کے لے کر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ لشکر کی روانگی کے وقت یزید نے بذات خود چند احکامات کی پابندی کا حکم دیا۔ وہ احکامات یہ تھے:

1. اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت دینا تاکہ وہ اس عرصے میں کوئی فیصلہ کر لیں۔
2. تین دن کے بعد اگر وہ اطاعت قبول نہ کریں تو جنگ کرنا۔
3. جنگ میں کامیابی کی صورت میں تین روز تک قتل عام جاری رکھنا اور مال و اسباب لوٹنا۔
4. علی بن حسین رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچانا۔

ان احکامات پر عمل کرنے کا وعدہ کر کے مسلم اپنے لشکر کے ہمراہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ مدینہ کے قریب پہنچ کر مسلم نے اہل مدینہ کو مصالحت کی دعوت دی اور ساتھ ہی تین دن کی میعاد مقرر کی۔ لیکن اس عرصے میں اہل مدینہ خاموش رہے۔ تین دن کے بعد مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو جنگ یا صلح میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی۔ اہل مدینہ یزید کی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہ تھے، انہوں نے جنگ کو ترجیح دی۔

جنگ میں مدنی لشکر کی قیادت عبد اللہ بن حنظلہ نے کی لیکن اہل مدینہ کو شکست ہوئی اور عبدالرحمٰن بن عوف اور عبد اللہ بن نوفل سمیت کئی اکابرین شہید ہوئے۔ مسلم نے فتح حاصل کرنے کے بعد یزید کے حکم کے مطابق قتل و غارت گری کی اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس واقعے میں 306 شرفائے قریش و انصار اور دیگر قبائل کے آدمی کام آئے۔ تین دن کےبعد باقی ماندہ لوگوں سے بیعت کرنے پر اصرار کیا گیا۔ ان سے جبراً بیعت لی گئی اور انکار کی صورت میں قتل کر دیا جاتا۔ امام زین العابدین بھی پیش ہوئے لیکن یزید کی ہدایت کے مطابق ان سے کوئی سختی نہ کی گئی۔ مدینۃ النبی پر حملہ 63ھ میں ہوا جو واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یہ یزیدی عہد کا ایک بڑا المیہ تھا۔

مکہ پر حملہ

یزیدیوں نے مکہ کی طرف پیش قدمی کی اور محاصرہ کر لیا۔ دو ماہ تک فوج وہاں رہی اور اس مقدس شہر کی بے حرمتی کرتی رہی۔ خانہ کعبہ پر پتھر برسائے گئے جس سے اس کی چھت اڑ گئی۔ جب مکہ میں کعبہ شریف پر پتھر برسائے جا رہے تھے اسی اثنا میں اللہ نے یزید کو عذاب سے ہمکنار کیا اور وہ تین دن میں تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ اس کے مرنے کی اطلاع پر فوج محاصرہ اور قبضہ ختم کر کے دمشق لوٹ گئی۔

ابن کثیر

ابن کثیر عالم اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور عرفیت ابن کثیر ہے۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔

حافظ ابن کثیر کی ولادت 701ھ میں مجدل میں ہوئی جو بصریٰ کے اطراف میں ایک قریہ ہے۔ کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد کو شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ حافظ ذہبی کی وفات کے بعد مدرسہ ام صالح اور مدرسہ تنکریہ میں آپ شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز رہے۔ اخیر عمر میں بینائی جاتی رہی۔ 26 شعبان بروز جمعرات 774ھ میں وفات پائی۔

آپ کی مشہور تصانیف : تفسیر القرآن الکریم جو تفسیر ابن کثیر کے نام سے معروف ہے اور اس کے اردو زبان میں کئی تراجم بھی ہیں، البدایہ و النہایہ ، رسالۃ فی فضائل القرآن ، شرح صحیح بخاری ، الاحکام الکبیر، السیرۃ النبویہ، الاجتہاد فی طلب الجہاد، الفصول فی اختصار سیرۃ الرسول آپ کی معروف تصانیف میں شامل ہیں۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »