محفوظات برائے 'تاریخ' زمرہ


تحریک خلافت

خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنھم کے بعد بنو امیہ اور بنو عباس سے ہوتی ہوئی ترکی کے عثمانی خاندان کو منتقل ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت اسلامی سلطنت کا مرکز ترکی تھا اور اس کے سربراہ خلیفہ عبدالحمید تھے۔

پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی جنگ میں شمولیت سے ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوئے کہ اگر انگریز کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیراعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی۔

جنگِ عظیم اول میں جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کردیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے “تحریک خلافت” کا نام دیا گیا۔

خلافت کمیٹی کا قیام

5 جولائی 1919ء کو خلافت کے مسئلے پر رائے عامہ کو منظم کرنے اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کر دی گئی جس کے صدر سیٹھ چھوٹانی اور سیکرٹری حاجی صدیق کھتری منتخب ہوئے۔

مقاصد

تحریک خلافت کے بڑے بڑے مقاصد یہ تھے:

1. ترکی کی خلاف برقرار رکھی جائے۔
2. مقامات مقدسہ ترکی کی تحویل میں رہیں۔
3. ترکی سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔

خلافت کمیٹی کا پہلا اجلاس نومبر 1919ء میں دہلی میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان انگریز کے جشن فتح میں شریک نہیں ہوں گے اور اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ حکومت سے عدم تعاون کریں گے۔ اس اجلاس میں ہندوؤں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔

ہندو مسلم اتحاد

کانگریس نے پہلے ہی رولٹ ایکٹ کے خلاف ملک گیر مہم شروع کر رکھی تھی۔ دسمبر 1919ء میں کانگریس مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے اجلاس امرتسر میں منعقد ہوئے جہاں گاندھی جی نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔

خلافت وفد انگلستان میں

1920ء میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک وفد انگلستان، اٹلی اور فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ وزیراعظم برطانیہ اور اتحادیوں کو ان کے وعدے یاد دلائے۔ وفد نے برطانیہ پہنچ کر وزیراعظم لائیڈ جارج سے ملاقات کی لیکن اس کا جواب “آسٹریلیا اور جرمنی سے خوف ناک انصاف ہو چکا اور ترکی اس سے کیوں کر بچ سکتا ہے۔“ سن کر مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد وفد نے اٹلی اور فرانس کا بھی دورہ کیا مگر اس کی کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی۔

معاہدہ سیورے

خلافت وفد ابھی انگلستان میں ہی تھا کہ ترکی پر معاہدہ سیورے مسلط کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں تمام بیرونی مقبوضات ترکی سے چھین لئے گئے، ترکی پر فضائی فوج رکھنے پر پابندی لگا دی گئی اور درہ دانیال پر اتحادیوں کی بالادستی قائم رکھی گئی۔

تحریک ترک موالات

وفد خلافت کی ناکام واپسی اور معاہدہ سیورے کی ذلت آمیز شرائط کے خلاف خلافت کمیٹی نے 1920ء میں تحریک ترک موالات کا فیصلہ کیا گاندھی جی کو اس تحریک کا رہنما مقرر کیا گیا۔ اس کے اہم پہلو یہ تھے۔

* حکومت کے خطابات واپس کر دئیے جائیں۔

* کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا جائے۔

* سرکاری ملازمتوں سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔

* تعلیمی ادارے سرکاری امداد لینا بند کر دیں۔

* مقدمات سرکاری عدالتوں کے بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔

* انگریزی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔

تحریک ہجرت

تحریک کے دوران میں کچھ علماء نے بر عظیم کو دارالحرب قرار دے کر یہاں سے ہجرت کرنے کا فتویٰ دیا۔ جس پر ہزاروں مسلمانوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر افغانستان کی راہ لی۔ یہ ہجرت حکومت افغانستان کے عدم تعاون سے ناکام ہوگئی اور مسلمانوں کو کافی جانی و مالی نقصان کا سامان کرنا پڑا۔

جامعہ ملیہ کا قیام

مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ کی انتظامیہ سے سرکاری امداد نہ لینے کی اپیل کی۔ کالج انتظامیہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں مولانا محمد علی جوہر نے بہت سے طلبہ کو اپنے ساتھ ملا کر جامعہ ملیہ علی گڑھ کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ 1925ء میں دہلی منتقل کر دیا گیا۔

موپلہ بغاوت

ساحل مالابار موپلہ مسلمانوں نے تحریک خلافت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ انہوں نے تنگ آ کر 1925ء میں بغاوت کر دی۔ حکومت نے اس بغاوت کو سختی سے کچل دیا اور ہزاروں موپلوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

چورا چوری کا واقعہ

5 فروری 1922ء کو تحریک خلافت کی حمایت میں لوگوں نے مشتعل ہو کر اترپردیش کے ایک گاؤں چورا چوری میں ایک تھانے کو آگ لگا دی جس میں 22 سپاہی جل مرے۔ اس واقعے کو آڑ بنا کر کر گاندھی نے اعلان کر دیا کہ چونکہ یہ تحریک عدم تشدد پر کار بند نہیں رہی اس لیے اسے ختم کیا جاتا ہے۔

ناکامی کے اسباب

ناپائیدار اتحاد

ہندوؤں اور مسلمانوں کا اتحاد سطحی، جذباتی اور وقتی تھا۔ دونوں قوموں کو حکومت کے خلاف نفرت نے عارضی طور پر اکھٹا کر دیا تھا لیکن شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں نےجلد ہی اس اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور تحریک خلافت کمزور ہونا شروع ہو گئی۔

مقاصد میں تضاد

مسلمانوں کی تحریک خلافت سیاسی فائدے کے بجائے مذہبی جوش و خروش پر مبنی تھی۔ ہندوؤں اس سے سیاسی فائدہ تلاش کر رہے تھے جو تحریک خلافت کی کامیابی سے ملنا مشکل تھا۔ چناں چہ جب تحریک خلافت کامیابی سے ہم کنار ہونے والی تھی تو گاندھی نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔

گاندھی جی کی قلابازی

گاندھی نے اس تحریک کو اس وقت ختم کرنے کا اعلان کیا جب مسلمانوں کے تمام رہنما جیل میں تھے اور تحریک کی قیادت سنبھالنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔ اس سے تحریک بھی ختم ہو کر رہ گئی اور مسلمانوں کا اپنے قائدین سے بھی اعتماد اٹھ گیا۔

گاندھی جی ہندوؤں کے مہاتما بن گئے اور مولانا محمد علی جوہر گوشہ گم نامی میں چلے گئے۔

ترکی میں صدارت کا اعلان

مارچ 1924ء میں مصطفی کمال پاشا اتاترک نے ترکی کے علاقے آزاد کراکے جمہوریہ کے قیام اور اپنی صدارت کا اعلان کر دیا اور ترکی میں خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔

یہودی وطن کے قیام کی سازش

پہلی جنگ عظیم کے دوران میں برطانوی حکومت نے اعلان بالفور کی رو سے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی سازش کی۔ اس لیے ترکی خلافت کی سابقہ حدود کو بحال کرنا نہیں چاہتی تھی۔

سعودی عرب کا قیام

شریف مکہ نے سازش کر کے سعودی عرب کو ترکی سلطنت سے الگ کر لیا تھا۔ جس پر شاہ عبدالعزیز نے سعودی عرب کے نام سے الگ مملکت کے قیام کا اعلان کر دیا جس سے تحریک خلافت ماند پڑ گئی۔

تحریک خلافت کے نتائج

تحریک خلافت جیسی عوامی تحریک کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی لیکن اس نے ہندوستان کی سیاست اور مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے نقوش مرتب کئے۔

موئن جو دڑو

موئن جو دڑو (سندھی:موئن جو دڙو اور اردو میں عموماً موہنجوداڑو بھی) وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی سندھ کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ سے 400 میل دور ہے یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم ہوگیا۔تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔

موئن جو دڑو کو 1922ء میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا اور ان کی گاڑی آج بھی موئن جو دڑو کے عجائب خانے کی زینت ہے۔

لیکن ایک مکتبہ فکر ایسا بھی ہے جو اس تاثر کو غلط سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے غیر منقسم ہندوستان کے ماہر آثار قدیمہ آر کے بھنڈر نے 1911ء میں دریافت کیا تھا۔ موئن جو دڑو کنزرویشن سیل کے سابق ڈائریکٹر حاکم شاہ بخاری کا کہنا ہے کہ”آر کے بھنڈر نے بدھ مت کے مقامِ مقدس کی حیثیت سے اس جگہ کی تاریخی حیثیت کی جانب توجہ مبذول کروائی، جس کے لگ بھگ ایک عشرے بعد سر جان مارشل یہاں آئے اور انہوں نے اس جگہ کھدائی شروع کروائی۔”

موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مُردوں کا ٹیلہ ہے۔

یہ شہر بڑی ترتیب سے بسا ہوا تھا۔ اس شہر کی گلیاں کھلی اور سیدھی تھیں اور پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام تھا۔ اندازا اس میں 35000 کے قریب لوگ رہائش پذیر تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ شہر 7 مرتبہ اجڑا اور دوبارہ بسایا گیا جس کی اہم ترین وجہ دریائے سندھ کا سیلاب تھا۔

یہ شہر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیئے گئے مقامات میں شامل ھے۔

ولیم والس

ولیم والس اسکاٹ لینڈ کا ایک جنگجو تھا جس نے قرون وسطیٰ میں انگلینڈ کے شاہ ایڈورڈ اول سے جنگ لڑی۔ وہ اسکاٹ لینڈ کی انگلستان سے آزادی کے بانیوں میں سے ایک تھا۔ وہ 1270ء میں پیدا ہوا اور 23 اگست 1305ء کو انگریزوں نے اسے سزائے موت دے دی۔ والس کے زمانے میں بھی اسکاٹ لینڈ انگلستان کے قبضے میں تھا اور والس نے اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔ 15 ویں صدی میں بلائنڈ ہیری نامی مصنف نے ایک کتاب لکھی جس کا نامThe Acts and Deeds of Sir William Wallace, Knight of Elderslie تھا۔ یہ کتاب والس کی اصل زندگی کے زیادہ ایک کہانی کی صورت میں لکھی گئی جس میں ولیم والس کو ایک افسانوی کردار کے طور پر دکھایا گیا۔ ہالی ووڈ کے معروف ہدایت کار میل گبسن کی فلم “بریو ہارٹ” اسی ناول سے ماخوذ ہے۔

ابتدائی زندگی

ولیم کی جائے اور تاریخ پیدائش کے بارے میں درست علم نہیں تاہم چند لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ 1272ء میں پیدا ہوا جبکہ 16 ویں صدی میں شائع ہونے والی کتاب History of William Wallace and Scottish Affairs میں اس کا سن پیدائش 1276ء لکھا گیا ہے۔ وہ رینفریوشائر میں پیسلے کے قریب گاؤں ایلڈرسلی میں پیدا ہوا۔

انگریزوں سے ٹکراؤ

1291ء میں اس کے والد انگریزوں سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مقامی بازار میں مچھلیاں پکڑنے کے مقابلے کے لئے دو انگریز سپاہیوں نے ولیم والس کو للکارا جس کے بعد ان کا تصادم شروع ہوگیا جس میں دونوں انگریز سپاہی مارے گئے۔ انگریز سرکار نے اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا۔

اس نے ڈونڈی شہر کے انگریز گورنر کے بیٹے کے قتل کرکے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے مزاحمت کا باقاعدہ آغاز کیا۔

اس نے 11 ستمبر 1297ء کو جنگ اسٹرلنگ برج میں انگریزوں کو شکست دی۔ اس جنگ میں اسکاچ دستوں کی قیادت والس اور اینڈریو مورے نے کی جس نے انگریز افواج کو کچل کر رکھ دیا۔

شکست

ایک سال بعد 1 اپریل 1298ء کو والس کو جنگ فالکرک میں انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوگئی۔ اس شکست کے نتیجے میں وہ رابرٹ ڈی بروس کے مقابلے میں محافظ اسکاٹ لینڈ کے لقب سے دستبردار ہوگیا۔ اس جنگ میں اسکاٹ لینڈ کا زبردست جانی نقصان ہوا۔ والس وطن چھوڑ کر فرانس چلا گیا اور وہاں اسکاٹ گارڈز میں شمولیت اور انگلستان کے خلاف دو جنگوں میں شرکت اور بعد ازاں روم کے دورے کے بعد وہ 1303ء میں پھر اسکاٹ لینڈ آگیا۔

گرفتاری اور موت

5 اگست 1305ء کو ایک اسکاٹ سپاہی نے مخبری کرکے والس کو گرفتار کروادیا۔ انگریز فوجی والس کو گلاسگو سے لندن لے گئے اور 22 اگست کو مقدمے کے بعد اسے برہنہ کرکے پورے شہر میں گھمایا گیا۔ بعد ازاں اسے بد ترین تشدد کا نشانہ بناکر سزائے موت دے دی گئی اور جسم کے کئی ٹکڑے کر دیئے گئے۔ اس کا سر لندن برج پر ایک نیزے کی انی پر رکھ دیا گیا۔ جبکہ دیگر حصے نیو کاسل، بروک، اسٹرلنگ اور ابرڈین میں منظر عام پر لائے گئے۔

ایک تلوار جس کا تعلق ولیم والس سے جوڑا جاتا ہے کئی سال تک ڈومبرٹن قلعہ میں موجود رہی اور آج کال اسٹرلنگ کے قریب واقع والس قومی یادگار میں محفوظ ہے۔

ادب میں ذکر

والس پر کئی کتابیں لکھی گئیں جن میں پہلی 1470ء کے قریب بلائنڈ ہیری نے تحریر کی۔ 19 ویں صدی میں والٹر اسکاٹ نے Exploits and Death of William Wallace میں والس کو “اسکاٹ لینڈ کا ہیرو” اور 1810ء میں جین پورٹر نے بھی ایک افسانہ لکھا جس کا نام The Scottish Chiefs تھا۔ جی اے ہینٹی نے 1885ء میں In Freedom’s Cause نامی ناول تحریر کیا۔

بریو ہارٹ

1995ء میں میل گبسن کی فلم “بریو ہارٹ” میں ولیم والس کی زندگی سب سے نمایاں کرکے دکھائی گئی ۔ اس فلم کے ہدایت کار بھی میل گبسن ہی تھے جبکہ کہانی رینڈل والس نے تحریر کی۔ فلم نے زبردست کامیابی حاصل کی اور بہترین فلم اور بہترین ہدایت کار سمیت 5 اکیڈمی ایوارڈز حاصل کئے۔

مائیکرو سوفٹ کے کمپیوٹر گیم “ایج آف ایمپائرز II:دی ایج آف کنگز” میں بھی ولیم والس کی جنگیں شامل ہیں۔

عبد الرحمٰن الداخل

عبدالرحمٰن اول (عربی: عبدالرحمٰن الداخل) اندلس میں امارت امویہ کا بانی تھا جو 756 سے 788ء تک اندلس میں حکمران رہا۔ وہ 731ء میں پیدا ہوا۔

خلافت امویہ کا خاتمہ اور عبدالرحمٰن کا فرار

عبدالرحمٰن خلافت بنو امیہ کے 10ویں خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا پوتا تھا۔ جب عباسیوں نے دمشق پر قبضہ کرکے خلافت امویہ کا خاتمہ کیا تو اس وقت عبدالرحمٰن اول کی عمر 20 سال تھی۔ وہ عباسیوں کے ہاتھوں خاندان امویہ کے قتل عام میں بچ جانے والا واحد فرد تھا۔ وہ اور اس کے بھائی یحییٰ نے محل سے فرار ہوکر صحرا میں ایک بدوی قبیلے کے پاس پناہ لے لی۔ اس دوران عباسی اپنے حریفوں کو بے رحمی سے قتل کرتے رہے اور ان دونوں بھائیوں کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران انہوں نے عبدالرحمٰن اور یحییٰ کا بھی پتہ چلالیا جس پر دونوں بھائی فرار ہوگئے اور دریائے دجلہ میں کود گئے۔ عباسی سپاہیوں نے واپس آنے پر امان دینے کا وعدہ کیا جس پر یحییٰ ان کے کہنے پر یقین کرکے دریا سے نکل پڑا تو عباسیوں نے اسے فوراً ہی قتل کردیا جبکہ عبدالرحمٰن تیر کر دریائے دجلہ عبور کرگیا اور بعد ازاں شام اور فلسطین سے ہوتا ہوا شمالی افریقہ پہنچ کر عباسیوں کی دسترس سے باہر ہوگیا۔

افریقہ میں قیام

خلافت بنو امیہ کے خاتمے کے بعد افریقہ کے صوبوں میں مقامی سرداروں نے حکومتیں قائم کرلی تھیں۔ سلطنت امویہ کے یہ سابق امیر امویوں اور عباسیوں دونوں سے آزادی چاہتے تھے اس لئے عبدالرحمٰن کو ان کی جانب سے زندگی کا خطرہ لاحق تھا اور اس نے مزید مغرب کی جانب فرار ہوکر ماریطانیہ میں بربر قبیلوں کے پاس پناہ لے لی۔

مراکش سے ہسپانیہ آمد

755ء میں وہ کیوٹا کے قریب موجودہ مراکش پہنچا جہاں اس نے اپنا ایک سفیر ہسپانیہ بھیجا تاکہ وہ خاندان امویہ کے وفادار سابق رہنماؤں کی حمایت حاصل کرسکے۔ ان رہنماؤں کی بڑی تعداد صوبہ الویرا، موجودہ غرناطہ میں مقیم تھی جہاں امیر یوسف کی کمزور حکومت موجود تھی جو ایک قبائلی گروہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ یہ افراد عربوں کے درمیان قبائلی اور عربوں اور بربروں کے درمیان نسلی اختلافات کے باعث پریشان تھے۔ عبدالرحمٰن نے اس کو بھرپور موقع سمجھا اور سابق وفادار پیروکاروں کی دعوت پر ستمبر 755ء میں ملاگا کے مشرق میں المنقب کے ساحل پر اترا۔

ہسپانیہ کی فتح

ابتداء میں عبدالرحمٰن نے اپنے حمایت یافتہ افراد سے مشورے لئے جو خطرات کے باعث محتاط تھے۔ امیر یوسف نے مذاکرات کے آغاز میں عبدالرحمٰن کو زمین اور اپنی ایک بیٹی نکاح میں دینے کی پیشکش کی۔ عبدالرحمٰن زیادہ کی امید لگائے بیٹھا تھا لیکن وہ دباؤ کے باعث یہ پیشکش قبول کرنے کے قریب تھا کہ امیر یوسف کے ایک اندلسی پیغام رساں کی عبدالرحمٰن کے ایک حامی عبید اللہ سے جھڑپ ہوگئی ۔ اپنی بہترین عربی لکھنے کی صلاحیت پر ٹوکنے پر عبید اللہ نے اس پیغام رساں پر حملہ کردیا جس کے باعث عبدالرحمٰن کا یوسف کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوگیا۔

756ء میں دونوں جماعتوں نے وادی الکبیر میں ایک جنگ لڑی جو 16 مئی کو قرطبہ کے قریب یوسف کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی۔ عبدالرحمٰن کی فوج نے بہترین اسلحے سے لیس نہ ہونے کے باوجود ایک تاریخی فتح حاصل کی۔ ان کے پاس صرف چند گھوڑے تھے حتیٰ کہ ان کے پاس عَلَم بھی نہ تھا اور ایک سپاہی نے اپنے نیزے پر اپنا سبز عمامہ لپیٹ دیا اور بعد میں یہی اندلس میں امویوں کا علم اور نشان قرار پایا۔

حکومت

عبدالرحمٰن کا طویل دور حکومت عرب اور بربر باشندوں کی بغاوتوں کیخلاف جدوجہد کرتے گزرا جن کی اکثریت آزادی چاہتی تھی۔ 763ء میں عبدالرحمٰن نے اپنے دارالحکومت کے قریب بھی ان باغیوں سے جنگ لڑی جو عباسیوں کی حمایت کررہے تھے۔ اس نے فیصلہ کن فتح حاصل کی ۔ آخری سالوں میں عبدالرحمٰن نے کئی محلاتی سازشوں کو بھی کچلا۔ اس نے فن تعمیر کے نادر شاہکار مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر اس کے بیٹے اور جانشیں ہشام اول کے دور میں بھی جاری رہی۔ اس نے جس حکومت کو قائم کیا وہ 1031ء تک ہسپانیہ پر حکومت کرتی رہی۔