محفوظات برائے 'تعمیرات' زمرہ


دولما باغچہ محل

دولماباغچہ محل یا دولمہ باغچہ سرائے (ترکی زبان: Dolmabahçe Sarayı) ترکی کے شہر استنبول میں واقع ایک تاریخی شاہی محل ہے جو 1853ء سے 1922ء تک سلطنت عثمانیہ کا انتظامی مرکز تھا۔ اس میں 1889ء تا 1909ء کا 20 سال شامل نہیں جس میں یلدز محل استعمال میں رہا۔ یہ استنبول کے یورپی حصے میں آبنائے باسفورس کے کنارے واقع ہے۔

تاریخ

دولما باغچہ استنبول کا پہلا یورپی طرز کا محل تھا جس کی تعمیر کا حکم سلطان عبد المجید اول نے دیا تھا اور 1842ء سے 1853ء کے دوران 5 ملین عثمانی گولڈ پاؤنڈز کی خطیر رقم سے تیار ہوا جو 35 ٹن سونے کے برابر ہے۔ اس میں سے 14 ٹن سونا صرف اندرونی چھت کی سجاوٹ میں استعمال ہوا۔ دنیا کا سب سے بڑا بوہیمیائی کرسٹل فانوس مرکزی ہال میں نصب ہے جسے برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا نے تحفے میں پیش کیا تھا۔ اس فانوس میں 750 چراغ ہیں اور اس کا وزن 4 اعشاریہ 5 ٹن ہے۔ دولماباغچہ میں بوہیمیائی اور بکارت کرسٹل فانوسوں کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔

دولماباغچہ دراصل باسفورس کی ایک خلیج تھی جسے شاہی باغ کی تعمیر کے لیے 18 ویں صدی کے دوران پُر کیا گیا تھا۔ یہ اصل میں دو الفاظ کا مجموعہ ہے دولما معنی “پُر کیا گیا” اور باغچہ مطلب “باغیچہ”۔ اصل لفظ دراصل باغیچہ سے ہی نکلا ہے لیکن تلفظ میں جا کر “باخچہ” بن گیا ہے۔ 18 ویں اور 19 ویں صدی کے دوران یہاں موسم گرما گزارنے کے لیے متعدد محل تعمیر کیے گئے۔ اب جو محل یہاں موجود ہے وہ 1842ء سے 1853ء کے دوران سلطان عبد المجید کے عہد میں قدیم ساحلی محل بشکتاش کی جگہ تعمیر ہوا۔ اس کی تعمیر آرمینیائی ترک ماہرین تعمیر غرابت امیرا بلیان اور ان کے صاحبزادے نگوگایوس بلیان نے کی۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد سلطان توپ کاپی محل سے یہاں منتقل ہوا۔ محل تین حصوں پر مشتمل ہے: مابینِ ہمایوں (یا سلیمالک، مردوں کی رہائش گاہ)، موایدِ سالونو (تقریباتی دربار) اور حرمِ ہمایوں (سلطان کے اہل خانہ کی قیام گاہ)۔ محل 45 ہزار مربع میٹر (11 اعشاریہ 2 ایکڑ) رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 285 کمرے، 46 دربار، 6 حمام اور 68 بیت الخلاء ہیں۔

دولماباغچہ محل اب ایک عجائب گھر ہے جو پیر اور جمعرات کے علاوہ ہر روز صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک عوام کے لیے کھلا ہوتا ہے۔ یہ محل آجکل ملی سرائے لر دائرہ بشکان لہی (نظامتِ قومی محلات) کے زیر انتظام ہے۔

جدید ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی محل میں گزارے اور 10 نومبر 1938ء کو اسی محل کے ایک کمرے میں انتقال کر گئے۔

باسفورس پل

باسفورس پل (ترکی زبان: Boğaziçi Köprüsü) استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر قائم ایک پل ہے۔ یہ شہر کے یورپی علاقے اورتاکوئے اور ایشیائی حصے بیلربے کو ملاتا ہے اور باسفورس پر قائم ہونے والا پہلا پل ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے جبکہ اس کی عرصے کا عرض 39 میٹر ہے۔ اس کے دونوں برجوں کے درمیان فاصلہ 1074 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے اور 1973ء میں تکمیل کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا سسپنشن پل بن گیا تاہم یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ سے باہر دنیا کا سب سے بڑا سسپنشن پل ہے۔

تاریخ

آبنائے باسفورس پر پل کی تعمیر کا فیصلہ پہلی بار 1957ء میں عدنان میندریس کے دور حکومت میں کیا گیا۔ اس کے نقشے کے لیے برطانیہ کے ادارے فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز کے ساتھ 1968ء میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ پل کا نقشہ معروف برطانوی ماہر تعمیرات سر گلبرٹ رابرٹس نے تیار کیا۔ تعمیر کا آغاز فروری 1970ء میں ہوا جس میں اُس وقت کے صدر جودت سونے اور وزیراعظم سلیمان ڈیمرل نے بھی شرکت کی۔ تعمیراتی کام ترک ادارے انکا انسات و صناعی نے انجام دیا۔ اس کام میں برطانیہ اور جرمنی کے دو ادارے میں شامل تھے۔ منصوبے پر 35 مہندسین اور 400 افراد نے کام کیا۔ پل کی تعمیر جمہوریہ ترکی کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کے صرف ایک روز بعد 30 اکتوبر 1973ء کو مکمل ہوئی۔ اس کا افتتاح صدر فہری کوروترک اور وزیراعظم نعیم تولو نے کیا۔ باسفورس پل کی تعمیر پر 200 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی۔

آمدورفت

روزانہ تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار گاڑیاں اس پل سے گذرتی ہیں۔ 29 دسمبر 1997ء کو اس پل سے ایک اربویں گاڑی گزری۔ اس پل کو استعمال کرنے کے لیے محصول دینا پڑتا ہے اور اس عمل کے لیے پل کی ایشیائی جانب ٹول پلازہ واقع ہے۔ محصول صرف یورپ سے ایشیا کی جانب آنے پر ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ مخالف سمت میں جانے پر کوئی محصول نہیں۔

دیگر استعمالات

* بین البراعظمی استنول یوریشیا میراتھن کے شرکا بھی اسی پل کے ذریعے آبنائے باسفورس پار کرتے ہیں۔ یہ دوڑ ہر سال اکتوبر میں منعقد ہوتی ہے جس کا آغاز استنبول کے ایشیائی حصے سے ہوتا ہے اور یورپی حصے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس دوران پل کو گاڑیوں کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔
* علاوہ ازیں پل سے کود کر خودکشی کرنے کا رحجان بھی موجود ہے اور 2001ء میں باسفورس پر واقع دو پلوں سے کود کر 146 افراد نے خودکشی کی کوشش کی جس میں 24 اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2002ء میں 190 اقدام خودکشی میں 38 افراد ہلاک ہوئے۔

دلچسپ معلومات

* 15 مئی 2005ء کو امریکہ کی معروف ٹینس کھلاڑی وینس ولیمز نے باسفورس پل پر مقامی کھلاڑی کے ساتھ نمائشی مقابلہ کھیلا جو تاریخ کا پہلا مقابلہ تھا جو دو براعظموں میں منعقد ہوا۔ اس مقابلے کا اہتمام 2005ء استنبول کپ کے انعقاد سے قبل تشہیر کے لیے کیا گیا تھا اور یہ مقابلہ 5 منٹ تک جاری رہا۔ نمائشی مقابلے کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے آبنائے باسفورس میں گیندیں پھینکیں۔
* 17 جولائی 2005ء کو معروف برطانوی فارمولا ون ڈرائیور ڈیوڈ کولٹ ہارڈ نے اپنی تیز رفتار کار اس پل پر دوڑائی اور اپنی مہارت سے شائقین کو محظوظ کیا۔ انہوں نے اپنی گاڑی دولماباخچی محل کے ایک باغیچے میں کھڑی کی۔

فاتح سلطان محمد پل

فاتح سلطان محمد پل (ترکی زبان: Fatih Sultan Mehmet Köprüsü) استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر واقع ایک پل ہے۔ یہ پل 15 ویں صدی کے عثمانی سلطان محمد ثانی المعروف محمد فاتح سے موسوم ہے جنہوں نے 1453ء میں استنبول فتح کیا تھا۔ یہ پل استنبول کے یورپی علاقے حصارشتو اور ایشیائی علاقے کاواجک کے درمیان واقع ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے اور اس کے عرشے کا عرض 39 میٹر ہے۔ برجوں کے درمیان فاصلہ 1090 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے اس کی بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ پل سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے۔ فاتح پل کو 1988ء میں اپنی تکمیل کے بعد دنیا کے چھٹے طویل ترین سسپنشن پل کا اعزاز ملا۔

تعمیر

تین جاپانی، ایک اطالوی اور ایک ترک ادارے کے مشترکہ بین الاقوامی منصوبے سے اس پل کی تعمیرات کا کام انجام دیا۔ اس کا نقشہ فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز نے بنایا۔ پل 3 جولائی 1988ء کو مکمل ہوا اور اس کا افتتاح اس وقت کے ترک وزیراعظم ترغت اوزال نے کیا جو اپنی گاڑی کے ذریعے اس پل کو پار کرنے والے پہلے شخص بھی تھے۔ پل پر 130 ملین امریکی ڈالر کی لآگت آئی۔

آمدورفت

یہ پل ادرنہ اور انقرہ کے درمیان “ٹرانس یورپین موٹر وے” پر واقع ہے۔ آجکل روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں اس پل کو استعمال کر کے یورپ اور ایشیا پہنچتی ہیں۔ اس پل کو استعمال کرنے کے لیے محصول ادا کرنا پڑتا ہے اور محصول کی ادائیگی صرف ان گاڑیوں کو کرنا پڑتی ہے جو یورپ سے ایشیا کی جانب سفر کرتی ہیں مخالف سمت میں سفر کرنے والی گاڑیاں محصول سے مستثنٰی ہیں۔

اضافی معلومات

پل سے چھلانگ لگا کر خودکشی ایک عام رحجان ہے۔ 2001ء میں 146 افراد نے باسفورس پر واقع دونوں پلوں سے کود کر خود کشی کی کوشش کی جس میں سے 24 اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2002ء میں 190 اقدامات خود کشی میں 38 افراد ہلاک ہوئے۔

اوریسنڈ پل

اوریسنڈ پل (انگریزی: Oresund Bridge، ڈینش: Øresundsbroen، سویڈش: Öresundsbron) ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان آبنائے اوریسنڈ پر واقع ایک پُل ہے۔ ریل اور عام ذرائع نقل و حمل کے لیے واقع یہ پل (بمع سرنگ) یورپ کا سب سے طویل مشترکہ (سڑک و ریل کا) پل ہے۔ یہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن اور سویڈن کے شہر مالمو کو آپس میں منسلک کرتا ہے۔

تاریخ

اس پل کی تعمیر کا آغاز 1995ء میں ہوا اور آخری حصہ 14 اگست 1999ء کو تعمیر کیا گیا۔ ڈنمارک کے ولی عہد شہزادہ فریڈرک اور ان کی سویڈش ہم منصب شہزادی وکٹوریا نے پل کے وسط میں اس کی تکمیل کا جشن منایا۔ پل کا باقاعدہ افتتاح یکم جولائی 2001ء کو ڈنمارک کی ملکہ مارگریٹ ثانی اور ان کے سویڈش ہم منصب کارل XVI گسٹاف نے کیا۔ بعد ازاں اسی روز پل کو تمام اقسام کے ذرائع آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ افتتاح سے قبل 12 جون 2000ء کو 79 ہزار 871 افراد نے ڈنمارک سے سویڈن کے درمیان ایک میراتھن دوڑ میں حصہ لیا۔

استعمالات و خصوصیات

ابتدا میں پل کے زیادہ استعمال کا امکان نہیں تھا لیکن 2005ء اور 2006ء میں پل پر آمدورفت کے حجم میں کافی اضافہ ہوا جس کی وجہ ڈنمارک کے شہریوں کی سویڈن میں رہائش اور پھر ڈنمارک میں کام کرنے کے لیے آمدورفت ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کوپن ہیگن کے مقابلے میں سویڈن کے شہر مالمو میں رہائشی سہولیات سستی ہیں۔ 2006ء میں پل کو پار کرنے والی کسی ایک گاڑی کو 235 ڈینش کرونا، 290 سویڈش کرونا یا 32 یورو (روز مرہ کے صارفین کو 75 فیصد رعایت دی جاتی ہے) اور ریل کو 90 سویڈش کرونا ادا کرنا پڑتے ہیں۔ 2004ء میں تقریباً 17 ملین افراد نے پل کو استعمال کیا جس میں سے 10.6 ملین سے گاڑیوں اور 6.2 ملین سے ریل گاڑی کے ذریعے اسے پار کیا۔ پل کی کل لمبائی 7845 میٹر ہے جو سویڈن اور ڈنمارک کے درمیانی فاصلے کا تقریباً نصف ہے۔ بقیہ سفر مصنوعی جزیرے Peberholm یعنی جزیرہ پیپر (4055 میٹر) اور 3510 میٹر طویل ایک زیر آب سرنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ پل سطح آب سے 57 میٹر بلند ہے لیکن بیشتر بحری آمدورفت آبنائے ڈروگڈین کے ذریعے ہوتی ہے جہاں سمندر کے نیچے واقع سرنگ سے گزرتا ہے۔ پل کا وزن 82 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اس پل اور سرنگ کی تعمیر پر کل 30.1 ڈینش کرونا کے اخراجات آئے۔ پل پر آنے والے کل اخراجات 2035ء تک نکل جائیں گے۔ سویڈن پل سے منسلک کرنے کے نئے ریل ربط کے لیے مالمو شہر میں (2006ء تا 2012ء) ایک سرنگ تعمیر کر رہا ہے جس پر 9.45 ارب سویڈش کرونا مزید خرچ ہوں گے۔

توپ قاپی محل

توپ قاپی محل یا توپقاپی محل (عثمانی ترک زبان: توپقاپی سرائے) 1465ء سے 1853ء تک دارالحکومت قسطنطنیہ میں عثمانی سلاطین کی باضابطہ رہائش گاہ تھی۔ یہ محل ریاستی معاملات کا مرکز تھا اور آج کل ایک عجائب گھر کی حیثیت سے استنبول کے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس محل کی تعمیر کا آغاز 1459ء میں سلطان محمد فاتح کے حکم پر ہوا۔ یہ محل 4 مرکزی احاطوں اور کئی چھوٹی عمارات کا مجموعہ ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں اس میں 4 ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔

یہ محل ہزاروں کمروں پر مشتمل ہے جن میں سے اہم ترین تک ہی عوام کو رسائی حاصل ہے۔ مذکورہ وزارت کے حکام اور ترک افواج کے مسلح دستے اس کی حفاظت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

محل عثمانی طرز تعمیر کا عظیم ترین نمونہ ہے اور اس میں اس دور کے ظروف، ملبوسات، ہتھیاروں، ڈھالوں، فن پاروں، خطاطی کے نمونوں اور عثمانی خزانوں اور زیورات نمائش کے لیےموجود ہیں۔

نام

توپ قاپی کا مطلب ہے توپ کا دروازہ۔ اردو میں اس کا نام عام طور پر ہر جگہ “توپ کاپی” لکھا جاتا ہے جو غلط ہے۔ عثمانی ترک زبان میں دروازے کو “قاپی” کہا جاتا تھا اس لیے اسے توپ قاپی کہا جانا چاہیے۔ اس کی ایک مثال اصفہان کا عالی قاپو محل ہے جس کا نام ترک زبان ہی میں ہے۔

تاریخ

1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کے قدیم شاہی محل کے کھنڈرات تلاش کروائے۔ اس جگہ پر عثمانی دربار نے اسکی سرائے یعنی قدیم محل کی تعمیر کا حکم دیا جو آجکل جامعہ استنبول کا حصہ ہے۔ سلطان مزید بہتر جگہ کی تلاش کے بعد 1459ء میں توپ قاپی کی موجودہ جگہ پر محل کی تعمیر کا حکم دیا۔ ابتدائی طور پر یہ ینی سرائے یعنی نیا محل کے نام سے معروف ہوا۔ توپ قاپی کا نام اسے 19 ویں صدی میں ملا۔

سلطان نے اس محل کی تعمیر کے لیے سلطنت کے مختلف علاقوں سے ماہرین اور کاریگروں کو طلب کیا جنہوں نے اپنے زمانے کے مہنگے اور نایاب ترین مواد استعمال کر کے اس محل کی تعمیر کی۔

تعمیرات

محل کے جنوبی اور مغربی جانب ایک عظیم شاہی باغ بھی تعمیر کیا گیا جو “گل خانہ باغ” کہلاتا ہے۔

اس محل میں داخلے کے کئی دروازے ہیں جن میں سے مرکزی دروازہ “بابِ ہمایوں” یا “بابِ سلطنت” کہلاتا ہے۔ یہ عظیم دروازہ پہلی بار 1478ء میں تعمیر کیا گیا تاہم 19 ویں صدی میں اس کو دوبارہ سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا۔ اس دروازے پر قرآن مجید کی آیات کی خطاطی اور مختلف سلاطین کے طغرے بھی نصب ہیں۔ یہ دروازہ فجر سے لے کر عشا کی نماز تک کھلا رہتا تھا۔ وزراء یا غیر ملکی اعلٰی شخصیات کے علاوہ کسی کو اس دروازے سے گذرنے کی اجازت نہ تھی۔

دوسرا دروازہ باب السلام ہے جس کے دونوں جانب دو برج ہیں جو سلطان سلیمان قانونی نے 16 ویں صدی میں تعمیر کرائے تھے۔ اس دروازے سے صرف سلطان کو گذرنے کی اجازت تھی۔

تیسرا دروازہ باب السعادہ کہلاتا تھا جو 15 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ جو محل کے رہائشی افراد کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس دروازے سے گذرنے کے لیے سلطان کی خاص اجازت درکار ہوتی تھی حتٰی کہ صدر اعظم کو بھی خاص دنوں اور مخصوص صورتحال میں اس دروازے سے گذرنے کی اجازت تھی۔ سلطان اہم تہواروں پر اس دروازے اور دیوان میدان کو استعمال کرتا تھا جبکہ سلطان کی آخری رسومات اور نماز جنازہ بھی اس دروازے کے سامنے ادا کی جاتی تھی۔

محل میں واقع کئی صحن یا احاطے واقع ہیں جن میں اعلٰی میدان، دیوان میدان، اندرون میدان اور صوفۂ ہمایوں شامل ہیں۔

دیوان ہمایوں

“دیوان ہمایوں” 15 ویں صدی میں سلطان سلیمان قانونی کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔ دیوان ہمایوں میں ریاست کے سیاسی، انتظامی و مذہبی کے علاوہ شہریوں کے اہم معاملات پر گفتگو ہوتی تھی اور اس کا اجلاس ہفتے میں چار بار ہوتا تھا جس میں صدر اعظم، اناطولیہ اور رومیلیا کے منصفین اعلٰی شریک ہوتے تھے اور وہ مسائل کے حل سلطان کو پیش کرتے تھے۔ یہاں مقدمات کے فیصلے بھی ہوا کرتے تھے اور کبھی کبھار مفتی اعظم (شیخ الاسلام) بھی ان اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں نشانچی (شاہی خطوط پر سلطان کی مہر ثبت کرنے کے ذمہ دار)، وزیر مالیات (دفتر دار)، وزیر امور خارجہ (رئیس الکتب) اور اجلاس کی کاروائی تحریر کرنے والے افراد شامل ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ سلطان کی صاحبزادیوں کی شادی کی تقریبات بھی یہی ہوتی تھیں۔ 18 ویں صدی میں اہم ریاستی معاملات کی “باب عالی” میں منتقلی کے باعث دیوان ہمایوں اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔

دیوان ہمایوں اور حرم کے درمیان بُرجِ عدالت واقع ہے جو محل کا سب سے بلند تعمیر ہے جو باسفورس سے صاف دکھائی دیتی ہے۔

اس کے علاوہ اندرون کتاب خانہ اور احمد ثالث کتب خانہ نامی دو کتب خانے بھی محل میں موجود ہیں۔

مقدس نوادرات

عجائب گھر میں سب سے مشہور حصہ وہ کمرہ ہے جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، ایک دندان مبارک، موئے مبارک کا بال، ایک خط مبارک اور چاروں خلفائے راشدین کی زیر استعمال تلواریں اور ہتھیار نمائش کے لیے موجود ہیں۔ جن کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمان توپ قاپی محل جاتے ہیں۔ اس خاص کمرے کے تقدس کا عالم یہ تھا کہ سلطان اور اس کے اہل خانہ کو بھی سال میں صرف ایک بار 15 رمضان کو اس کمرے میں جانے کی اجازت تھی۔

یہاں تصویریں کھینچنے کی اجازت نہیں اور کسی تحقیقی کام کے لیے اگر تصویریں حاصل کرنا ضروری ہو تو اس کے لیے باقاعدہ اجازت طلب کرنا پڑتی ہے۔

اس کے علاوہ عثمانی دور کی تمام یادگاریں بشمول عثمانی سلاطین کی تصاویر، ان کے ہتھیار، استعمال شدہ اشیاء، خزانے، زیورات، نوادرات، تاج و تخت اور اس طرح کی دیگر نادر و نایاب اشیاء یہاں موجود ہیں۔

باورچی خانہ

محل کی ایک اور خاص بات یہاں موجود باورچی خانے ہیں جو ادرنہ کے شاہی محل کی طرز پر تعمیر کیے گئے تھے۔ ان میں سلطان سلیمان قانونی نے توسیع کروائی لیکن 1574ء کی آگ سے یہ تباہ ہو گئے جس پر شاہی معمار سنان پاشا نے ان کو جدید طرز پر تعمیر کیا۔ اور 20 چوڑی چمنیوں کی دو قطاروں کا اضافہ بھی کیا۔ یہاں سلطان، اس کے حرم اور محل اور اس کے باہر کے دیگر باسیوں کے لیے اشیائے خورد و نوش تیار کی جاتی تھیں جن کی تعداد کا اندازہ تقریباً چار ہزار ہے۔ باورچی خانے کا عملہ 800 سے زائد افراد پر مشتمل تھا جو مذہبی تہواروں کے موقع پر ایک ہزار سے بھی تجاوز کرجاتا تھا۔ یہاں دنیا کا سب سے تیسرا بڑا برتنوں کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔

موجودہ حیثیت

17 ویں صدی کے اواخر تک توپ قاپی اپنی اہمیت کافی حد تک کھو بیٹھا تھا کیونکہ سلطان اپنا بیشتر وقت باسفورس کے کنارے واقع محلات میں گذارنے لگے تھے۔ 1853ء میں سلطان عبد المجید اول نے باقاعدہ طور پر اپنی رہائش گاہ باسفورس کے کنارے واقعے نو تعمیر شدہ دولما باغچی محل میں منتقل کر دی جو یورپی طرز کا تعمیر کردہ شہر کا پہلا محل تھا۔

1921ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد 3 اپریل 1924ء کو ایک حکومتی فیصلے کے مطابق توپ قاپی محل کو ایک شاہی عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ محل اب وزارت ثقافت و سیاحت کے زیر انتظام ہے۔

اگلا صفحہ »