محفوظات برائے 'تعمیرات' زمرہ


قوت اسلام مسجد

قوت اسلام مسجد ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں عہد خاندان غلاماں کی ایک عظیم یادگار جس کا “قطب مینار” عالمی شہرت کا حامل ہے۔ یہ قطب الدین ایبک کے دور کی تعمیرات میں سب سے اعلٰی مقام رکھتی ہے۔ یہ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی میں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1190ء کی دہائی میں ہوا۔

13 ویں صدی میں التمش کے دور حکومت میں اس میں توسیع کر کے حجم میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں اس میں مزید تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور عظیم مینار تعمیر کیا گیا۔

اس کے مشہور قطب مینار کی تعمیر کا آغاز 1199ء میں ہوا تھا۔ اور بعد ازاں آنے والے حکمران اس میں مزید منزلوں کا اضافہ کرتے گئے اور بالآخر 1368ء میں یہ مینار 72 اعشاریہ 5 میٹر (238 فٹ) تک بلند ہوگیا۔ اس طرح یہ مینار آج بھی اینٹوں کی مدد سے تعمیر کردہ دنیا کا سب سے بلند مینار ہے اور ہندی-اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ بنیاد پر اس کا قطر 14 اعشاریہ 3 جبکہ بلند ترین منزل پر 2 اعشاریہ 7 میٹر ہے۔ یہ مینار اور اس سے ملحقہ عمارات اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں۔

مسجد میں خط کوفی میں خطاطی کے بہترین نمونے موجود ہیں۔ مسجد کے مغرب میں التمش کا مزار ہے جو 1235ء میں تعمیر کیا گیا۔ مسجد کی موجودہ صورتحال کھنڈرات جیسی ہی ہے۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام “ضرب کلیم” میں ایک نظم “قوت اسلام مسجد” کے عنوان سے لکھی ہے:
” ہے مرے سینۂ بے نور میں اب کیا باقی

‘لا الہ’ مردہ و افسردہ و بے ذوقِ نمود
چشمِ فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقامِ محمود
کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی سے
کہ غلامی سے ہوا مثلِ زُجاج اس کا وجود
ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی نماز
جس کی تکبیر میں ہر معرکۂ بود و نبود
اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت، وہ گداز
بے تب و تابِ دروں میری صلوٰۃ و درود
ہے مری بانگِ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟

بنیا باشی مسجد

بنیا باشی مسجد (بلغاروی: Баня баши джамия یعنی بنیا باشی جامعہ، ترکی: Banya Başı Camii) بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں واقع ایک مسجد ہے۔ یہ یورپ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے جو 1576ء میں اس وقت تعمیر کی گئی جب صوفیہ عثمانی سلطنت کے زیر نگیں تھا۔ یہ مسجد عثمانی دور کے معروف معمار سنان پاشا نے تعمیر کی۔ اس مسجد کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدرتی گرم چشموں کے اوپر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ مسجد اپنے وسیع گنبد اور بلند میناروں کے باعث بھی مشہور ہے۔ بنیا باشی صوفیہ کی واحد مسلم عبادت گاہ ہے جس کی مسجد کی حیثیت ابھی تک قائم ہے۔ یہ بلغاریہ پر 5 صدیوں تک جاری رہنے والے عثمانی دور کی ایک عظیم یادگار ہے۔ یہ شہر میں مقیم ہزاروں مسلم باشندوں کے زیر استعمال ہے۔

میلو ویادو

میلو ویادو (انگریزی:Millau Viaduct، فرانسیسی:le Viaduc de Millau لی ویادو دمیلو) جنوبی فرانس میں دریائے ٹارن کی وادی پر قائم ایک عظیم پل ہے۔ انگریز ماہر تعمیرات نارمن فاسٹر اور پلوں کے فرانسیسی مہندس مائیکل ورلوگیوکس کا ڈیزائن کردہ یہ گاڑیوں کے لیے تیار کردہ دنیا کا بلند ترین پل ہے جس کے ایک ستون کی بلندی 343 میٹر (ایک ہزار 125 فٹ) ہے جو پیرس کے مشہور ایفل ٹاور سے بھی زیادہ ہے۔ ویادو پیرس سے بیزیرس جانے والے راستے اے 75-اے 71 کا حصہ ہے۔ اس کا افتتاح 14 دسمبر 2004ء کو فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کیا اور دو روز بعد اسے گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اس پل کی تعمیر کا آغاز 16 اکتوبر 2001ء کو ہوا تھا۔

پل کی تعمیر سے سڑک نیچے وادی میں میلو کے شہر میں اترتی تھی اور جولائی اور اگست کے تعطیلات کے ایام میں ٹریفک کے شدید مسائل پیدا ہوتے تھے۔ اس لیے ایک ایسے پل کی ضرورت محسوس کی گئی جو ٹریفک کو اس وادی کو با آسانی عبور کرنے کی سہولت دے۔ اس مقصد کے لیے یہ عظیم الشان منصوبہ تخلیق کیا گیا جو میلو ویادو جیسی عظیم تعمیر کی صورت میں منتج ہوا۔

میلو ویادو پل 7 کنکریٹ کے ستونوں کے سہارے قائم ہے جس پر 36 ہزار ٹن وزنی اور 2460 میٹر طویل سڑک تعمیر ہے جو 32 میٹر چوڑی اور 4.2 میٹر گہری ہے۔

کوبے مسجد

کوبے مسجد (جاپانی: 神戸モスク) جاپان کے شہر کوبے میں واقع ایک مسجد ہے جو اکتوبر 1935ء میں تعمیر کی گئی۔ اسے جاپان کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کوبے مسلم مسجد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر اسلامی مجلس کوبے کی جانب سے 1928ء سے 1935ء میں اس کی تکمیل تک ہونے والے مالی تعاون اور جمع کردہ عطیات کے باعث ممکن ہو سکی۔ 1943ء میں جاپانی شاہی بحریہ نے اس مسجد پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم اب اس کی مسجد کی حیثیت بحال ہے اور یہ شہر کے مسلمانوں کا مرکز ہے۔ اپنے مضبوط ڈھانچے اور بنیاد کے باعث ہانشن کے عظیم زلزلے میں بھی یہ مسجد محفوظ رہی۔ یہ مسجد روایتی ترکی انداز میں تعمیر کی گئی اور اسے چیک ماہر تعمیرات جان جوزف سواگر (1885ء تا 1969ء) نے تعمیر کیا جو جاپان میں متعدد مغربی مذہبی عمارات کے ماہر تعمیرات ہیں۔

الحاکم مسجد

الحاکم مسجد مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایک مسجد ہے جو فاطمی دور حکومت کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 990ء میں فاطمی خلیفہ ابو منصور نظار العزیز کے دور حکومت میں شروع ہوا اور ان کے بیٹے خلیفہ الحاکم بامر اللہ کے دور حکومت میں 1013ء میں اس کا کام تکمیل کو پہنچا۔

یہ مسجد قاہرہ میں آنے والے ایک زلزلے سے شدید متاثر ہوئی تھی اور 1989ء میں سیدنا محمد برہان الدین اور ان کے پیروکاروں نے اس کی تعمیر نو کی اور مصر کے اُس وقت کے صدر محمد انور السادات نے اس کا افتتاح کیا۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »