محفوظات برائے 'جغرافیہ' زمرہ


رن کچھ

رن کچھ پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کی ریاست گجرات کے درمیان صحرائے تھر میں واقع ایک دلدلی علاقہ ہے۔ رن ہندی زبان میں “دلدل” کو کہتے ہیں جبکہ “کچھ” اس ضلع کا نام ہے جہاں یہ واقع ہے۔ رن کچھ خلیج کچھ اور دریائے سندھ کے ڈیلٹائی علاقے کے درمیان تقریباً 10 ہزار مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی ریاست راجستھان کا دریائے لونی رن کے شمال مشرقی علاقے میں گرتا ہے۔ مون سون کے دوران بارشوں کا پانی یہاں کے بیابانی و دلدلی علاقے میں جمع ہو جاتا ہے اور سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ مون سون کے دوران زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں مغرب میں خلیج کچھ اور مشرق میں خلیج کھمبے آپس میں ایک ہوجاتی ہیں۔ یہ علاقہ قدرتی گیس اور دیگر معدنیات سے مالا مال سمجھا جاتا ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان سر کریک جیسے سرحدی تنازعات کا سبب بھی ہے۔

خلیج منار

خلیج منار (انگریزی: Gulf of Mannar) بحر ہند میں کم گہرے پانی کی ایک خلیج ہے جو ہندوستان کے جنوب مشرقی کنارے اور سری لنکا کے مغربی ساحلوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ خلیج 160 سے 200 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔ خلیج میں چھوٹے چھوٹے جزیرے اور چٹانیں واقع ہیں جنہیں آدم کا پل یا راما کا پل کہا جاتا ہے، جو اسے آبنائے پالک سے جدا کرتا ہے۔

خلیج منار کی اہم بندرگاہوں میں کولمبو، سری لنکا اور ٹھوٹھوکوڈی، بھارت شامل ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں بندرگاہیں بڑے بحری جہاز سنبھال سکتی ہیں لیکن آبنائے پالک کے گم گہرے پانی کے سبب یہاں بڑے جہاز داخل نہیں ہو سکتے۔ 2005ء میں حکومت ہندوستان نے خلیج منار اور خلیج بنگال کو آپس میں براہ راست منسلک کرنے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد بھارت کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو سری لنکا کے گرد چکر کاٹے کے بغیر براہ راست بحری راستے سے منسلک کرنا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس منصوبے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آبنائے پالک اور خلیج منار میں سمندری حیات اور قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ڈیگو گارشیا

ڈیگو گارشیا بحر ہند کے وسط میں واقع ایک جزیرہ ہے۔ یہ بھارت اور سری لنکا کے جنوبی ساحلوں سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اصل میں یہ حلقہ نما مونگے کی چٹانیں ہیں جو مرجانی جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں جسے انگریزی میں Atoll کہا جاتا ہے۔ یہ بحر ہند میں واقع برطانوی مقبوضات کا حصہ ہے۔ 1973ء میں مقامی آبادی کی جبری بے دخلی کے بعد سے امریکہ اور برطانیہ اس جزیرے کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

جغرافیہ

یہ جزیرہ 37 میل (60 کلومیٹر) طویل ہے 5 میل (8 کلومیٹر) عریض ہے۔ مرجانی جھیل کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 98 فٹ (30 میٹر) ہے تاہم اس میں مرجانی چٹانوں کی کئی چوٹیاں باہر نکلی ہوئی ہیں جس کے باعث جہاز رانی خطرناک ہے۔ جزیرے کا کل رقبہ 66 مربع میل (170 مربع کلومیٹر) ہے جس میں سے 12 مربع میل (30 مربع کلومیٹر) زمینی علاقہ، 6 اعشاریہ 5 مربع میل (17 مربع کلومیٹر) پیرامونی علاقہ اور 48 مربع میل (124 مربع کلومیٹر) مرجانی جھیل پر مشتمل ہے۔

تاریخ

اس جزیرے کو 16 ویں صدی میں پرتگیزی جہاز رانوں نے دریافت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جزیرے کا نام بھی اولین سفر کے جہاز کے کپتان یا جہاز راں کے نام پر رکھا گیا ہوگا۔ جزیرہ 18 ویں صدی تک غیر آباد تھا جس کے بعد فرانسیسیوں نے غلاموں کی مدد سے یہاں کھوپرے کی پیداوار کا آغاز کیا۔ نپولینی جنگوں کے بعد ڈیگو گارشیا برطانیہ کے قبضے میں آگیا تاہم 1814ء سے 1965ء تک یہ موریشس کے زیر نگیں رہا۔

فوجی اڈہ

1965ء میں پورے علاقے (جزائر چیگوس) کو بحر ہند کے برطانوی مقبوضات کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1966ء میں برطانیہ نے تمام جزیرے اور اس کی پیداوار خرید لیں تاہم 1971ء میں تمام پیداوار روک دی گئیں کیونکہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ڈیگو گارشیا کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس کے لیے بظاہر تو برطانیہ کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ برطانیہ کو اس کے بدلے میں امریکہ سے پولارس میزائلوں کی 14 ملین امریکی ڈالر کی چھوٹ دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت جزیرے پر کوئی اقتصادی سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ 1971ء میں جزیرے پر دو ہزار مقامی افراد آباد تھے جو مشرقی ہند کے اُن کارکنوں اور افریقی غلاموں پر مشتمل تھ ےجو اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یہاں لائے گئے تھے۔ فوجی اڈے کے قیام کے باعث تمام مقامی آبادی کو جبری طور پر سیشلس اور موریشس بے دخل کر دیا گیا۔ مذکورہ افراد ہمیشہ سے جزیرے پر اپنے حق کو جتاتے آئے ہیں اس لیے اپریل 2006ء میں 102 باشندوں کو ایک ہفتے کے لیے ڈیگو گارشیا میں قیام اور اپنے آباو اجداد کی قبروں اور اپنے گھروں کو دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ یہاں پر ایک بحری اڈے کے علاوہ فضائیہ کا ایک عظیم اڈہ بھی قائم ہے جس میں جدید بمبار طیاروں بی 52 کا سب سے بڑا بیڑہ شامل ہے۔ عراق کے خلاف 1991ء اور 2003ء میں ہونے والی جنگوں اور افغانستان کے خلاف جارحیت میں اس اڈے نے اہم کردار ادا کیا اور بمبار طیارے اسی اڈے سے اڑ کر افغانستان اور عراق میں اہداف کو نشانہ بناتے تھے۔

ان جنگوں سے قبل سرد جنگ کے دوران امریکہ بحر ہند میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم کرنے کے لیے ایک اڈہ بنانے کا خواہشمند تھا اور اس کی خواہش کی تکمیل ڈیگو گارشیا میں اڈے قیام سے ہوگئی تاہم بھارت جو روس کا قریبی حلیف تھا اس کا سخت ترین مخالف رہا۔ لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ-بھارت تعلقات میں ڈرامائی طور پر بہتری دیکھنے میں آئی حتٰی کہ 2001ء سے 2004ء کے دوران امریکی اور بھارتی بحریہ کے درمیان کئی جنگی مشقیں بھی ہوئیں۔

دلچسپ معلومات

اس جزیرے کی ایک اور خاص بات یہاں امریکی خلائی جہازوں کی لینڈنگ کے لیے تیار کردہ فضائی مستقر ہے۔ اور یہ بحر ہند میں واحد ہوائی اڈہ ہے جہاں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو اپنے جہاز اتارنے کی اجازت ہے تاہم اس کی نوبت کبھی نہیں آئی۔

علاوہ ازیں گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کو چلانے میں مددگار جو تین انٹینا دنیا بھر میں نصب ہیں ان میں سے ایک اسی جزیرے پر ہے۔

قید خانہ

انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے امریکہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ڈیگو گارشیا کے اڈے کو گوانتانامو اور ابو غریب کی طرح ایک بڑے قید خانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور جون 2007ء میں یورپی کونسل نے اس دعوے کی تصدیق بھی کی۔ جس کے بعد برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا کو پارلیمان میں یہ تک کہنا پڑا کہ امریکی حکام نے بارہا یقین دلایا ہے کہ ڈیگو گارشیا میں کوئی قیدی نہیں لے جایا گیا۔ اکتوبر 2007ء میں برطانوی پارلیمان کی کل جماعتی امور خارجہ کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ ان دعووں کی تصدیق کے لیے معاملے کی چھان بین کرے گی۔

سینٹ ہلینا

سینٹ ہلینا (انگریزی: Saint Helena) جنوبی بحر اوقیانوس میں برطانیہ کے زیر قبضہ ایک جزیرہ ہے۔ یہ علاوہ جزیرہ سینٹ ہلینا، اسینشن اور ٹرسٹان دی کونہا کے جزائر پر مشتمل ہے۔

وجۂ شہرت

سینٹ ہلینا مشہور فرانسیسی فاتح نپولین بوناپارٹ کے آخری ایام کی قیام گاہ کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ نپولین کو 1815ء میں جلاوطن کر کے سینٹ ہلینا بھیج دیا گیا تھا جہاں 1821ء میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ نپولین کی قیام گاہ “لانگ ووڈ ہاؤس” اور ان کی آخری آرام گاہ “سین ویلی” کو 1858ء میں فرانسیسی حکومت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

تاریخ

جزیرے کو 21 مئی 1502ء کو پرتگیزی جہاز رانوں نے دریافت کیا اور اسے شہنشاہ قسطنطین اول کی والدہ سینٹ ہلینا سے موسوم کیا۔ اُس وقت یہ جزیرہ غیر آباد تھا۔ 1600ء تک یہ جزیرہ پرتگال، انگلستان، فرانس اور ہالینڈ کے جہاز رانوں میں مقبولیت حاصل کر چکا تھا اور وہ اسے غذا کے حصول کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 1645ء سے 1659ء تک ولندیزیوں نے اس پر قبضہ کیا جس کے بعد یہ انگلستان کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا گیا جو اسے راس امید سے وطن واپسی کی راہ لینے والے بحری جہازوں کے اڈے کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ 1673ء میں ولندیزیوں نے جزیرے پر دوبارہ قبضہ کیا لیکن صرف دو ماہ بعد انگریزی بحریہ نے انہیں نکال باہر کیا۔ 1815ء میں برطانوی حکومت نے نپولین بونا پارٹ کی جلا وطنی کے لیے سینٹ ہلینا کا انتخاب کیا۔ انہیں اکتوبر کے مہینے میں جزیرے پر لایا گیا جہاں مئی 1821ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ نپولین کی لاش 1840ء میں فرانس کے حوالے کی گئی۔ یہ واحد عرصہ تھا جس کے دوران باقاعدہ افواج کے ذریعے جزیرے کی حفاظت کی گئی اور فرانس کی جانب سے نپولین کو چھڑانے کی کوششوں کے خطرے کے پیش نظر برطانیہ نے قریبی اسینشن اور ٹرسٹان ڈی کونہا کے جزائر پر بھی قبضہ کر لیا۔ برطانیہ کے جنوبی افریقی مقبوضات اور ہندوستان کے درمیان طویل بحری سفر کے باعث یہ جزیرہ ترقی کی منازل طے کرتا رہا لیکن نہر سوئز کی تعمیر کے باعث راس امید کے گرد چکر لگا کر ہندوستان اور ایشیا کے دیگر ممالک جانے والے بحری جہازوں میں کمی کے باعث اس کی اہمیت گھٹ گئی۔

اضافی معلومات

سینٹ ہلینا کی آبادی چند ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں سے بیشتر افراد مغربی اور جنوبی افریقہ، جزائر برطانیہ اور اسکینڈے نیویا سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ چند دہائیوں میں لوگوں کی بڑی تعداد جزائر فاک لینڈ اور برطانیہ ہجرت کر گئی ہے۔ 21 مئی 2002ء کو جزیرے کی تمام آبادی کو باقاعدہ برطانوی شہریت عطا کی گئی۔ جزیرہ کا کل رقبہ 410 مربع کلومیٹر ہے جس میں تینوں جزائر کے مجموعے شامل ہیں۔ صرف سینٹ ہلینا کا رقبہ 122 مربع کلومیٹر ہے جبکہ اس کا دارالحکومت جیمز ٹاؤن ہے۔ اپریل 2005ء میں برطانوی حکومت نے سفر کی سہولیات کو آسان بنانے کے لیے جزیرے پر ہوائی اڈے کی تعمیر کا اعلان کیا جو 2012ء تک مکمل ہونے کا امکان ہے تاہم کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

باکو

باکو (انگریزی: Baku،آذری: Bakı) آذربائیجان کا شہر ہے۔ یہ 40.395278 درجے شمال، 49.882222 درجے مشرق پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 2,130 مربع کلومیٹر ( 822.4 مربع میل ) ہے۔ آبادی 2008ء میں 19 لاکھ 70 ہزار تھی۔ سطح سمندر سے بلندی منفی 28 میٹر (-92 فٹ) ہے یعنی یہ اوسطاً سطح سمندر سے بھی نچلی سطح پر واقع ہے۔ موجودہ ناظم کا نام حاجی بالا ابوطالبوف ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کاسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔

تاریخ

باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔

جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دارالحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔

اگلا صفحہ »