محفوظات برائے 'جغرافیہ' زمرہ


بحیرہ مردار

دنیاکی سب سے نمکین جھیل جس کے مغرب میں مغربی کنارہ اور اسرائیل اور مشرق میں اردن واقع ہے۔ یہ زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے جو 420 میٹر (1378 فٹ) نیچے واقع ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا کی سب سے گہری نمکین پانی کی جھیل بھی ہے، جس کی گہرائی 330 میٹر (1083 فٹ) ہے۔ یہ جبوتی کی جھیل اسال کے بعد دنیا کا نمکین ترین ذخیرۂ آب ہے۔ 30 فیصد شوریدگی کے ساتھ یہ سمندر سے 8 اعشاریہ 6 گنا زیادہ نمکین ہے۔ اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحیرہ روم سے 9 گنا زیادہ نمکین ہے جس کی شوریدگی 3 اعشاریہ 5 فیصد ہے جبکہ مذکورہ ماہرین بحیرہ مردار کی شوریدگی کو 31 اعشاریہ 5 فیصد قرار دیتے ہیں۔ بحیرہ مردار 67 کلومیٹر (42 میل) طویل اور زیادہ سے زیادہ 18 کلومیٹر (11 میل) عریض ہے۔ یہ جھیل عظیم وادی شق پر واقع ہے جو ترکی کے کوہ ٹورس سے جنوبی افریقہ کی وادی زمبیزی تک 6 ہزار کلو میٹر طویل ایک عظیم وادی ہے ۔

بحیرہ مردار ہزاروں سالوں سے بحیرہ روم کے گرد بسنے والے سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش مقام ہے۔ بہت زیادہ شوریدگی کے باعث اس میں کوئی آبی حیوانات اور پودے نہیں پائے جاتے جبکہ اس میں کوئی انسان ڈوب بھی نہیں سکتا۔ اسے اس لیے بحیرہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا پانی نمکین ہے۔

جنوبی یورپ

براعظم یورپ کا جنوبی خطہ جنوبی یورپ کہلاتا ہے۔ اس کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے تاہم عموماً اسپین، پرتگال، اٹلی اور یونان اس خطے میں شمار ہوتے ہیں یا عام فہم انداز میں اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ تمام یورپی ممالک جو بحیرہ روم کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ فرانس کا جنوبی علاقہ اور ترکی کا وہ تین فیصد علاقہ جو یورپ میں شامل ہے، بھی اس اصلاح میں تحت جنوبی یورپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

اس علاقے کی جغرافیائی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ براعظم یورپ کا نصف جنوبی حصہ لیکن اس کی کوئی واضح حدود بیان نہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے اپنے باضابطہ کاموں اور اشاعتوں میں مندرجہ ذیل ممالک کو جنوبی یورپ کا حصہ سمجھتے ہیں:

* اسپین
* البانیا
* انڈورا
* اٹلی
* بلغاریہ
* بوسنیا و ہرزیگووینا
* پرتگال
* جبرالٹر
* سان مرینو
* سربیا
* سلووینیا
* کروشیا
* مالٹا
* مقدونیہ
* مونٹی نیگرو
* یونان

گیلی پولی

جزیرہ نما گیلی پولی (ترکی: Gelibolu Yarımadası) درہ دانیال کے مغرب اور بحیرہ ایجین کے مشرق میں ترکی کے یورپی علاقے ترک تھریس میں واقع ہے۔ یہ نام یونانی زبان کے لفظ Kallipolis سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے “خوبصورت شہر”۔

تاریخ

بازنطینی حکمران جسٹینین نے اس شہر کی قلعہ بندی کی اور انتہائی عسکری گودام تشکیل دیے۔ 1354ء کے تباہ کن زلزلے کے بعد یہ شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اسی سال یہ شہر یورپ کا پہلا علاقہ بنا جو عثمانی سلطنت کے زیر نگیں آیا اور بلقان اور وسطی یورپ تک عثمانیوں کی پیش قدمی کا نقطہ آغاز قرار پایا۔ سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں گیلی پولی کا شہر ولایت ادرنہ کا حصہ تھا جس کی آبادی 30 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جن میں یونانی، ترک، آرمینیائی اور یہودی بھی شامل تھے۔ جنگ عظیم اول کے دوران گیلی پولی ایک عظیم جنگ کا میدان بنا جو “جنگ گیلی پولی” کہلاتی ہے۔ یہ جنگ برطانیہ میں “درہ دانیال مہم” اور ترکی میں “جنگ چناکلی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور نیو فاؤنڈ لینڈ میں آج بھی گیلی پولی کی اصطلاح 8 ماہ کی اس مہم کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جنگ کےدوران 25 اپریل 1915ء کو برطانوی اور فرانسیسی دستے جزیرہ نما پر اترے اور اگلے 8 ماہ تک یہ علاقہ میدان جنگ بنا رہا جس کے دوران دونوں جانب بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم فتح ترک دستوں کی رہی اور برطانیہ اور فرانس کو پسپا ہونا پڑا۔ اس طرح جنگ عظیم اول کے دوران روس کو درہ دانیال کے راستے رسد کی فراہمی نہ ہوسکی۔ مجموعی طور پر اتحادی قوتوں کی 140،000 اور ترکوں کی 250،000 اموات ہوئیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آج بھی 25 اپریل کو ANZAC Day کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی ان چند جنگوں میں سے ایک ہے جسے دونوں حریف اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ یہ جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم جنگ ثابت ہوئی جو اس سے قبل صرف ایک معمولی کمانڈر تھے تاہم اس جنگ میں اپنے دستوں کی شاندار قیادت پر انہیں پاشا کا خطاب دیا گیا۔

راس امید

راس امید (انگریزی: Cape of Good Hope افریقان: Kaap die Goeie Hoop) جنوبی افریقہ کے ساحلوں پر واقع ایک راس ہے۔ عام طور پر اسے افریقہ کا جنوبی سرا مانا جاتا ہے لیکن افریقہ کا جنوبی سرا دراصل یہاں سے 150 کلومیٹر (90 میل) جنوب مشرق میں واقع راس اگولاس ہے۔ واسکوڈے گاما نے 1498ء میں افریقہ کے گرد گھوم کر ہندوستان اور مشرق بعید کا نیا راستہ دریافت کیا تھا جس کے بعد دونوں علاقے یورپی قابض قوتوں کی نو آبادیاں بن گئے۔ راس امید کی اصطلاح اتحاد جنوبی افریقہ کے قیام سے قبل 1652ء میں جزیرہ نما کیپ کے گرد قائم کی گئی کیپ کالونی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے 1910ء میں یہ پورا علاقہ صوبہ کیپ کا حصہ بنا دیا گیا۔ راس امید جزیرہ نما کیپ کا جنوب مغربی کونا ہے۔ جنوبی افریقہ کا معروف شہر کیپ ٹاؤن راس امید سے 30 کلومیٹر شمال میں جزیرہ نما کے شمالی کونے پر واقع ہے۔راس امیدکا علاقہ اپنے قدرتی حسن کے باعث بھی مشہور ہے۔ چند ماہرین سمجھتے ہیں کہ یورپی جہاز رانوں سے بہت پہلے چینی، عربی یا ہندی اس علاقے کو دریافت کر چکے تھے۔ اور 1488ء سے قبل تیار ہونے والے چند قدیم نقشے اس امر کے شاہد ہیں۔ اس علاقے میں پہنچنے والے پہلے یورپی پرتگال سے تعلق رکھنے والے جہاز راں بارتھولومیو ڈیاس تھے جنہوں نے 1488ء میں اسے راس طوفان (انگریزی: Cape of Storms پرتگیزی: Cabo das Tormentas) کا نام دیا۔ بعد ازاں جان ثانی از پرتگال نے ہندوستان اور مشرق کے اس نئے راستے سے وابستہ امیدوں کے باعث اسے راس امید (Cabo da Boa Esperança)کا نام دیا ۔ ولندیزی نو آبادیاتی منتظم جان وان ریبیک نے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے 6 اپریل 1652ء میں ایک چھاؤنی قائم کی جو بعد ازاں کیپ ٹاؤن کہلائی۔ برطانیہ نے 1795ء میں کیپ کالونی پر قبضہ کر لیا لیکن 1803ء میں اسے یہ علاقے کھونا پڑے۔ 19 جنوری 1806ء کو برطانوی افواج نے دوبارہ علاقے پر چڑھائی کی اور 1814ء کے اینگلو-ڈچ معاہدے کے تحت یہ علاقہ برطانیہ کو دے دیا گیا۔ برطانیہ کا قبضہ 1910ء میں آزاد اتحاد جنوبی افریقہ کے قیام تک قائم رہا۔

راس ہورن

راس ہورن (انگریزی: Cape Horn، ولندیزی: Kaap Hoorn، ہسپانوی: Cabo de Hornos) جنوبی چلی کے مجموعہ الجزائر ٹیرا ڈیل فیوگو کا آخری سرا ہے جو نیدر لینڈز کے شہر ہورن سے موسوم ہے۔ یہ براعظم جنوبی امریکہ کا سب سے جنوبی علاقہ ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین راسوں میں سب سے جنوبی میں واقع ہے۔ اس راس کے گرد سمندر کی لہریں بہت خطرناک ہیں اور سرد و تند و تیز ہواؤں، تیز لہروں اور سمندر میں تیرتے برفانی تودوں کے باعث یہ علاقہ بحری جہازوں کا قبرستان سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ ایک اہم تجارتی گذرگاہ رہی ہے جس کی اہمیت 1914ء میں پاناما نہر کے قیام سے بہت کم ہوگئی۔ لیکن اب بھی اس راس کے گرد چکر کاٹنا کشتی رانی کے کھیل میں سب سے خطرناک مہم سمجھی جاتی ہے۔ اور کشتی رانی میں وہی حیثیت حاصل ہے جو کوہ پیمائی میں ماؤنٹ ایورسٹ کو حاصل ہے۔ راس ہورن جنوبی امریکہ سے منسلک سب سے جنوبی علاقہ ہے جو ہرمائٹ جزائر کے جزیرہ ہورنوس (ہسپانوی: Isla Hornos) پر واقع ہے اور ٹیرا ڈیل فیوگو کے مجموعہ الجزائر کا آخری کونا ہے۔ یہ آبنائے ڈریک کا شمالی حصہ ہے جو جنوبی امریکہ اور انٹارکٹیکا کے براعظموں کو جدا کرتی ہے۔ راس پر چلی کی بحریہ کی ایک چھاؤنی بھی قائم ہے جس میں رہائشی و دفتری عمارات کے علاوہ گرجا اور روشن مینار بھی شامل ہیں۔ اس علاقے کا موسم سرد ہے۔ راس ہورن یا ملحقہ جزائر پر کوئی موسمیاتی مرکز قائم نہیں تاہم 1882-1883ء میں کیے گئے ایک تجزیے کے مطابق سالانہ 1357 ملی میٹر (53.42 انچ) بارش ہوتی ہے جبکہ سال کا اوسط درجہ حرارت 5.2 ڈگری سینٹی گریڈ (41.4 ڈگری فارن ہائٹ) رہتا ہے۔ ہوا کی رفتار اوسطاً 30 کلو میٹر فی گھنٹہ (19 میل فی گھنٹہ) ہے۔ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (62 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے آنے والے طوفان معمول کا حصہ ہیں۔  راس کا سب سے قریبی قصبہ پورٹو ٹورو ہے جو پورٹو ولیمز سے چند میل جنوب میں واقع ہے۔ یہ دنیا کا سب سے جنوب میں واقع رہائشی علاقہ ہے۔ ہورن اصل میں جنوری 1616ء میں علاقے کی بحری مہم میں شریک ایک بحری جہاز تھا جو پیٹاگونیا کے قریب تباہ ہو گیا اور جب اس مہم میں شریک دوسرا جہاز اینڈریچ راس ہورن کے مقام پر پہنچا تو اس نے اس راس کو “ہورن” سے موسوم کر دیا۔ پاناما نہر کی تعمیر کے باعث بحری سفر کے لیے خطرناک یہ علاقہ ویران ہو گیا اور تجارتی سامان سے لدا آخری بحری جہاز یہاں سے 1949ء میں گزرا جس کا نام پامیر تھا۔ یہ بحری جہاز آسٹریلیا سے فن لینڈ جا رہا تھا۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »