محفوظات برائے 'جغرافیہ' زمرہ


پیٹاگونیا

جنوبی ارجنٹائن کا بلند اور بنجر سطح مرتفع پیٹاگونیا 297000 مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا جنوبی علاقہ انتہائی خشک اور سرد ہے۔

کوہ انڈیز کے مشرق کی جانب واقع یہ علاوہ نیوکوین اور کولوراڈو دریاؤں کے جنوب میں ہے۔ یہ خطہ دو ملکوں ارجنٹائن اور چلی میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ علاقہ معدنی دولت سے مالا مال ہے اور کان کنی، ماہی گیری اور شمالی علاقوں میں زراعت کا پیشہ اہم صنعتیں ہیں۔

جزائر برطانیہ

براعظم یورپ کے شمال مغربی ساحلوں پر جزائر برطانیہ واقع ہیں جو دو بڑے اور 5 ہزار سے زائد چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہیں۔ سیاسی طور پر یہ علاقہ دو علاقوں میں منقسم ہے برطانیہ عظمٰی اور جمہوریہ آئرستان ۔ برطانیہ عظمٰی چار حصوں پر مشتمل ہے: انگلستان، ویلز، اسکاچستان اور شمالی آئرستان ۔ جغرافیائی طور پر جزائر برطانیہ شمال اور مغرب کے بالائی علاقوں اور جنوب اور مشرق کے زیریں علاقوں میں تقسیم ہیں۔

چھوٹی پہاڑیاں، وسیع بنجر علاقے اور بڑے احاطوں میں چھوٹے قطعات زمین جزائر برطانیہ کے روایتی مناظر ہیں۔ آئرستان کو اپنی سرسبزی و شادابی کے باعث “جزیرۂ زمرد” کہا جاتا ہے۔ اسکاچستان اور ویلز پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں۔

انگلستان کے زیریں علاقوں میں وسیع اور ہموار زمینیں اسے برطانیہ میں زراعت کا اہم ترین مرکز بناتی ہیں۔ حالانکہ ملک خوراک کے حوالے سے خود کفیل نہیں لیکن گندم، آلو اور سبزیاں وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ آئرستان اور وسطی انگلستان میں گلہ بانی بھی کی جاتی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں بھیڑیں پالنا معمول ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں میں برطانیہ کی روایتی صنعتیں یعنی کوئلے کی کان کنی، لوہا سازی اور پارچہ پافی زوال کی جانب گامزن ہیں اور ان کی جگہ گاڑیاں تیار کرنے کے جدید کارخانے، کیمیائی مادے اور برقی و جدید طرزیاتی مصنوعات کی صنعتیں لے رہی ہیں۔ بنکاری و بیمہ کاری کی صنعت میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ملک کا سب سے اہم قدرتی وسیلہ بحیرہ شمال کے تیل و گیس کے ذخائر ہیں۔

برطانیہ کی کثافت آبادی بہت زیادہ ہے یہاں کے بیشتر لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ جنوب مشرقی علاقہ ملک کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے۔ اسکاچ بالائی علاقوں میں سب سے کم آبادی ہے۔ آئرستان کی بیشتر آبادی دیہی ہے جہاں اکثریت زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔

وسطی یورپ

مغربی اور مشرقی یورپ کے درمیانی علاقے کو وسطی یورپ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں درج ذیل ممالک ہیں:

* آسٹریا
* چیک جمہوریہ
* ہنگری
* پولینڈ
* سلوواکیا
* جرمنی
* لیچٹنسٹین
* سلووینیا
* سوئٹزرلینڈ

وسطی یورپ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں جرمنی، آسٹریا، سویٹزرلینڈ،لیچٹنسٹین اور سلووینیا کو الپائن ممالک اور پولینڈ، چیک جمہوریہ، سلوواکیا اور ہنگری کو وائز گراڈ گروپ کہا جاتا ہے۔

الپائن ممالک

(مغرب سے مشرق کی جانب)

* سویٹزرلینڈ
* جرمنی
* لیچٹنسٹین
* آسٹریا
* سلووینیا

وائز گراڈ گروپ

(شمال سے جنوب کی جانب)

* پولینڈ
* چیک جمہوریہ
* سلوواکیا
* ہنگری

جرمنی الپائن خطے کا سب سے بڑا ملک ہے جو صنعتی لحاظ سے بھی بہت بڑی طاقت ہے۔ علاوہ ازیں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا سیاحت کے اعتبار سے دنیا میں معروف مقام رکھتے ہیں۔

وائز گراڈ گروپ کے ممالک کی آبادی کی اکثریت زیریں علاقوں میں رہتی ہے جیسے پولینڈ میں دریائے وستولا کے ساتھ ساتھ اور چیک جمہوریہ میں زیریں علاقوں میں۔ پہاڑی علاقوں کے ملک سلوواکیا میں بیشتر آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ صنعتی علاقے اور دارالحکومت سب سے زیادہ کثافت آبادی کے حامل ہیں۔ بڈاپسٹ، وارسا اور پراگ یہاں کے بڑے شہر ہیں۔

اس خطے کی اہم ترین زرعی مصنوعات مکئی، گندم، شکر قندی اور آلو ہیں۔ گرم موسم کے باعث ہنگری میں مرچیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ شراب سازی کے لیے انگوروں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ ہنگری اور پولینڈ کے عظیم میدانوں کو سوروں اور بھینسوں کے پالنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

تاریخ میں کئی مرتبہ یہ ممالک بیرونی جارحیت کا شکار بنے اور ان کی سرحدیں بہت تیزی سے تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد 1989ء تک اس خطے کے ممالک اشتراکی حکومتوں کے زیر نگراں رہے جنہیں سوویت یونین کی حمایت حاصل تھی۔ 1993ء میں عوام نے رائے دہی میں چیکو سلواکیہ کی دو حصوں میں تقسیم کرنے کی حمایت کی جس سے دنیا کے نقشے پر چیک جمہوریہ اور سلوواکیا نام کے دو ممالک ابھرے۔

اشتراکی دور میں کثیر تعداد میں صنعتوں کے قیام کے باعث وائز گراڈ گروپ کے ممالک میں ماحولیات کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ہنگری کے تیل اور پولینڈ کے کوئلے میں سلفر کی کثیر مقدار شامل ہوتی ہے اور ان کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے زبردست فضائی آلودگی پیدا ہو رہی ہے سلفر ڈائی آکسائیڈ کا فضا کی نمی میں ملنا تیزابی بارش کا باعث بنتا ہے۔

مشرقی یورپ

دریائے ڈینیوب اور بحیرہ اسود کے شمال میں پھیلا ہوا علاقہ مشرقی یورپ کہلاتا ہے۔ اس خطے کا بیشتر علاقہ میدانی ہے۔ بیلارس، مالڈووا، رومانیہ اور یوکرین مشرقی یورپ کے ممالک شمار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ قفقاز کے ممالک اور سرد جنگ کے دوران وسطی یورپ کے وائز گراڈ گروپ کے ممالک بھی مشرقی یورپ کا حصہ سمجھتے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں شمالی یورپ کی بالٹک ریاستیں اور یورپی روس کو بھی مشرقی یورپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہم اس مضمون میں وسطی یورپ، شمالی یورپ، بالٹک ریاستوں اور قفقاز کے علاقے کو چھوڑ کر مشرقی یورپ کے مخصوص ممالک کو موضوع بنائیں گے۔

آبادی کی خصوصیات

رومانیہ کی بیشتر آبادی دارالحکومت بخارسٹ یا دیگر بڑے شہروں میں رہتی ہے۔ یوکرین میں دو تہائی آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہے۔ بیلارس کی بیشتر آبادی بھی شہروں کی باسی ہے ۔ مالڈووا اس خطے کا سب سے زیادہ دیہی ملک ہے جہاں کی نصف آبادی دیہاتوں کی مکین ہے اور زراعت ان کا پیشہ ہے۔

ماحولیاتی خطرات

دنیا کی تاریخ سب سے خطرناک نیوکلیائی حادثہ 1989ء میں شمالی یوکرین کے چرنوبل نیوکلیائی پاور پلانٹ میں پیش آیا۔ اس حادثے کا 70 فیصد نقصان بیلارس کو بھگتنا پڑا جہاں کی زرعی زمینیں، جنگلات اور پانی کے ذخائر آلودہ ہوگئے۔ اب بھی 4 ملین یوکرینی باشندے خطرناک ریڈیو ایکٹو علاقوں میں رہتے ہیں۔

معیشت

زراعت کے میدان میں بہترین کارکردگی اور وسیع معدنی ذخائر کے باعث یوکرین سوویت یونین سے تخلیق پانے والے ممالک میں سب سے زیادہ مضبوط معیشت کا حامل ملک ہے۔ مالڈووا اور بیلارس بھی سوویت یونین کا حصہ تھے اور 1991ء میں آزاد ہوئے۔ رومانیہ 1945ء سے 1989ء تک سخت اشتراکی حکومت کے زیر اثر تھا۔

یوکرین کی بیشتر صنعت ملک سے نکلنے والے معدنی ذخائر پر منحصر ہے۔ یوکرین کا ڈونباس علاقہ یورپ میں کوئلے کی پیداوار کا سب سے بڑا علاقہ ہے اور لوہے کی پیداوار کا اہم مرکز بھی ہے۔ بیلارس کی اہم صنعت کیمیائی مادے،مشینوں کی تیاری اور غذائی مصنوعات ہیں۔ رومانیہ کی پیداواری صنعتیں بیرونی تعاون سے فروغ پا رہی ہیں۔

یوکرین کی مٹی انتہائی زرخیز ہے جس کی بدولت یہ اناج، شکر قندیوں اور سورج مکھی کا بڑا پیداواری ملک ہے۔ مالڈووا اور جنوبی رومانیہ کا موسم انگوروں کی کاشت کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے جس سے شراب کشید کی جاتی ہے جبکہ سورج مکھی اور کئی اقسام کی سبزیاں بھی یہاں پیدا ہوتی ہیں۔ مشرقی یورپ میں بھینسوں اور سؤروں کو پالنے کا رواج بھی عام ہے۔

بلقان

بلقان جنوب مشرقی یورپ کے خطے کا تاریخی و جغرافیائی نام ہے۔ اس علاقے کا رقبہ 5 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا 55 ملین ہے۔ اس خطے کو یہ نام کوہ بلقان کے پہاڑی سلسلے پر دیا گیا جو بلغاریہ کے وسط سے مشرقی سربیا تک جاتا ہے۔

اسے اکثر جزیرہ نما بلقان بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے تین جانب سمندر ہے جن میں مشرق میں بحیرہ اسود اور جنوب اور مغرب میں بحیرہ روم کی شاخیں (بحیرہ ایڈریاٹک، بحیرہ آیونین، بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ) ہیں۔

جنوب مشرقی یورپ بحیرہ ہائے ایجین، ایڈریاٹک اور اسود کے ساحلوں سے شروع ہوکر وسطی یورپ تک پھیلا ہوا علاقہ ہے جس میں یونان، بلغاریہ، کروشیا، سربیا، مونٹی نیگرو، بوسنیا و ہرزیگووینا، البانیا اور مقدونیہ کے ممالک شامل ہیں۔

مختصر تاریخ

قدیم یونان یورپی تہذیب کی جائے پیدائش ہے جس کے آثار آج بھی ماضی کی انسانی عظمت کے گواہ ہیں۔

علاوہ ازیں 1990ء کی دہائی کے اوائل تک البانیہ اور بلغاریہ اشتراکی اقتدار کے زیر اثر رہے اور خطے کا بقیہ علاقہ اشتراکی ریاستوں کے اتحاد یوگوسلاویہ کا حصہ تھا جو 1991ء میں خانہ جنگی کے نتیجے میں اب کئی حصوں میں منقسم ہو گیا ہے۔

جغرافیائی خصوصیات

جنوب مشرقی یورپ کا بیشتر علاقہ پہاڑی ہے جن میں سلسلہ ہائے کوہ جنوب مغرب سے شمال مشرق کی جانب ہیں۔ دینارک الپس ڈیلماٹین ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا جاتا ہے جبکہ کوہ پنڈس یونان میں اسی طرح ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ بحیرہ ایجین میں قدیم پہاڑی سلسلے کے ڈوبنے سے کئی جزائر وجود میں آئے جو جزائر ایجین کہلاتے ہیں۔

آبادی کی خصوصیات

یونان کی بیشتر آبادی شہری ہے اور ملک کے 50 فیصد سے زائد باشندے ایتھنز اور سالونیکا میں رہتے ہیں۔ بلغاریہ میں بھی آبادی کی اکثریت شہروں میں رہتی ہے جبکہ البانیہ اور مقدونیہ میں تقریباً نصف آبادی دیہی ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا، سربیا، مونٹی نیگرو اور کروشیا کے افراد خانہ جنگی کے بعد نسلی بنیادوں پر منقسم ہو کر اب الگ الگ رہتے ہیں۔

صنعت

یونان اور بحیرہ ایجین میں اس کے جزائر سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ علاوہ ازیں بحیرہ اسود کے ساحلی علاقوں میں بھی سیاحت فروغ پا رہی ہے۔ یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی کے باعث وہاں کی دیگر صنعتوں کے ساتھ سیاحت کو بھی شدید دھچکا پہنچا لیکن اب یہ دوبارہ اہم صنعت بنتی جا رہی ہے۔ کیمیائی، مہندسی اور جہاز سازی کی صنعتیں اب بھی بلغاریہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔

ماحولیاتی مسائل

صنعتی و ذرائع نقل و حمل کے دھوئیں کے باعث ایتھنز اور زغرب شہر کی فضا آلودہ ہو رہی ہے۔ ایتھنز میں آلودگی کا مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ وہاں خاص طور پر ایسے دن منائے جاتے ہیں جن دنوں میں گاڑی چلانا منع ہوتا ہے جبکہ اس فضائی آلودگی سے شہر کے آثار قدیمہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ بلغاریہ، یونان اور مقدونیہ زلزلے کی متحرک پٹی پر واقع ہیں۔ بڑے زلزلے 1953ء میں جزائر آیونین اور 1963ء میں مقدونیہ کے دارالحکومپ اسکوپے کو شدید متاثر کر چکے ہیں۔ بلغاریہ کا کوزلوڈے جوہری توانائی مرکز زلزلے کی اسی پٹی پر واقع ہے۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »