محفوظات برائے 'سیاست' زمرہ


مجلس ایران

مجلسِ ایران یا “اسلامی مجلس شوریٰ” (فارسی: مجلس شورای اسلامی)، جسے ایرانی پارلیمان بھی کہا جاتا ہے، ایران کا قومی قانون ساز ادارہ ہے۔ مجلس کے کل نمائندوں کی تعداد 290 ہے۔ یہ تعداد 18 فروری 2000ء کے انتخابات سے قبل 270 تھی۔ مجلس کے موجودہ اسپیکر غلام علی حداد عادل ہیں جبکہ ان کے اول نائب محمد رضا بہونر اور دوسرے نائب محمد حسن ابو ترابی فرد ہیں۔

تاریخ

انقلاب ایران سے قبل مجلس 1906ء سے 1979ء تک ایران کے ایوان زیریں کو کہا جاتا تھا جبکہ ایوان بالا سینیٹ کہلاتا تھا۔ اسے 1906ء کے ایرانی آئین کے ذریعے قائم کیا گیا تھا اور اس کا پہلا اجلاس 6 اکتوبر 1906ء کو ہوا۔ پہلوی خاندان کی حکومت کے دوران جو اہم ترین بل مجلس میں منظور کیے گئے ان میں تیل کی صنعت کو قومیانے کا بل (15 مارچ 1951ء) اور خاندانی تحفظ کا قانون (1967ء) شامل ہیں۔ آخر الذکر قانون کے ذریعے خواتین کو کئی بنیادی حقوق سے نوازا گیا جن میں طلاق کی صورت میں بچوں کی حوالگی کا قانون بھی شامل ہے۔ خواتین کو 1963ء تک مجلس کے لیے حق رائے دہی یا اس کے لیے منتخب ہونے کا حق حاصل نہ تھا۔ یہ حق شاہ کے “انقلاب سفید” کے نتیجے میں مذکورہ سال ملا۔ ان اصلاحات کو (جنہیں انقلاب سفید کا نام دیا گیا تھا) قدامت پسندوں خصوصاً شیعہ مذہبی رہنماؤں نے خطرناک مغربی روایات قرار دیا اور ان اصلاحات کے خلاف 5 جون 1963ء کو جو شورش برپا ہوئی اسی کے نتیجے میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کو جلا وطن کر دیا گیا۔ اس کے بعد 21 ویں قومی مشاورتی اسمبلی منتخب ہوئی جس میں خواتین نمائندگان بھی شامل تھیں۔ اس مجلس کا آغاز 6 اکتوبر 1963ء ہوا۔ انقلاب سے قبل مجلس کا آخری اجلاس 7 فروری 1979ء کو ہوا۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سینیٹ کا خاتمہ کر دیا گیا اور 1989ء میں آئین پر نظر ثانی کے بعد قومی مشاورتی مجلس کو اسلامی مشاورتی مجلس قرار دیا گیا۔

ڈھانچہ و اختیارات

مجلس کے اراکین کو 4 سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ موجودہ 290 میں سے 5 ارکان غیر مسلم مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مجلس عدم اعتماد کے ذریعے کابینہ کے وزراء کو خارج کر سکتی ہے اور صدر کا محاسبہ کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ مجلس کے تمام اراکین اور ان کی قانون سازی کی شوریٰ نگہبان سے منظوری لازمی ہے۔ حالانکہ مجلس اپنے خطے میں دیگر کئی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ جمہوری اقدار کی حامل ہے۔ 1979ء میں مجلس کا آغاز ایرانی سینیٹ کی عمارت میں ہوا تھا۔ مجلس 16 نومبر 2004ء کو موجودہ عمارت میں منتقل ہوئی۔

مجلس

مجلس ایک عربی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے “جائے نشست” اور یہ اصطلاح مختلف اسلامی ممالک یا ان سے زبانی یا ثقافتی طور پر متاثر ملکوں میں قانون ساز اداروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ لفظ چند اسلامی ممالک میں پارلیمان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے مالدیپ میں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں منعقدہ خصوصی نشست کو بھی مجلس کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے سب سے بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو بھی مختصراً مجلس کہا جاتا ہے جبکہ پارلیمان مجلس شوریٰ کہلاتی ہے۔

آج کل مندرجہ ذیل ممالک میں قانون ساز اداروں کا نام مجلس ہے:

* آذربا‏ئیجان: ملی مجلس
* ایران: مجلس شورائی اسلامی
* ترکی: ترکیہ بیوک ملت مجلسی
* مالدیپ: مجلس مالدیپ
* عمان: مجلس عمان
* سعودی عرب: مجلس سعودی عرب
* ترکمانستان: خلق مصالحتی یا مجلس
* ازبکستان: اولی مجلس
* انڈونیشیا: عوامی مشاورتی اسمبلی مجلس پرموسیاورتن رکیات کہلاتی ہے
* کویت: قومی اسمبلی کو مجلس الامہ کہا جاتا ہے
* قازقستان: مجلس
* پاکستان: پارلیمان کو مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے

جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم

جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک کی ایک اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے جو تقریباً 1 اعشاریہ 47 ارب لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ تنظیم 8 دسمبر 1985ء کو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان نے قائم کی تھی۔ 3 اپریل 2007ء کو نئی دہلی میں ہونے والے تنظیم کے 14 ویں اجلاس افغانستان کو آٹھویں رکن کی حیثیت تنظیم میں شامل کیا گیا۔

تاریخ

1970ء کی دہائی کے اواخر میں بنگلہ دیش کے صدر ضیاء الرحمٰن نے جنوبی ایشیائی ممالک پر مشتمل ایک تجارتی بلاک کا خیال پیش کیا۔ 1981ء میں کولمبو میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھارت، پاکستان اور سری لنکا نے بنگلہ دیشی تجویز کو تسلیم کیا۔ اگست 1983ء میں ان رہنماؤں نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک اجلاس میں جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کے معاہدے کا اعلان کیا۔ 7 ایشیائی ممالک جن میں نیپال، مالدیپ اور بھوٹان بھی شامل ہیں، نے مندرجہ ذیل شعبہ جات میں تعاون کا اظہار کیا:

* زراعت و دیہی ترقی
* مواصلات، سائنس، ٹیکنالوجی اور موسمیات
* صحت و بہبود آبادی
* ذرائع نقل و حمل
* انسانی ذرائع کی ترقی

افغانستان کو 13 نومبر 2005ء کی بھارت کی تجویز پر 3 اپریل 2007ء کو مکمل رکن کی حیثیت سے تنظیم میں شامل کیا گیا۔ افغانستان کی شمولیت سے تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے۔ اپریل 2006ء میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جنوبی کوریا نے مبصر کی حیثیت سے تنظیم میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔ یورپی یونین نے بھی مبصر کی حیثیت سے شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور جولائی 2006ء میں سارک وزراء کونسل میں اس حیثیت کے لیے باقاعدہ درخواست دی۔ 2 اگست 2006ء کو سارک وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکہ، جنوبی کوریا اور یورپی یونین کو مبصر کی حیثیت دے دی گئی۔ 4 مارچ 2007ء کو ایران نے بھی مبصر کی حیثیت کے لیے درخواست دی۔

غیر موثریت

جنوبی ایشیا کی ترقی میں سارک کا کردار موثر نہ ہونے کی بڑی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کو سمجھا جاتا ہے۔ انہی اقتصادی، سیاسی اور علاقائی کشیدگیوں کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک مشترکہ معیشت کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اپنے قیام سے آج تک یہ تنظیم “نشستند، گفتند، برخاستند” کی مثال بنی ہوئی ہے۔

سیاسی معاملات

سارک کی توجہ پاک بھارت تنازعۂ کشمیر اور سری لنکا کی خانہ جنگی جیسے اہم معاملات کے بجائے مندرجہ بالا معاملات پر رہی ۔ تاہم سیاسی معاملات سارک کے مختلف اجلاسوں میں زیر بحث رہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا۔ سارک اپنے رکن ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے بھی باز رہتا ہے۔ 12 اور 13 سارک اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سارک رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔

آزاد تجارت کا معاہدہ

سارک رکن ممالک وقتاً فوقتاً آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کے لیے اپنی عدم رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ حالانکہ بھارت مالدیپ، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا کے ساتھ متعدد تجارتی معاہدے کر چکا ہے لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش کے اس نوعیت کے معاہدے فریقین کے خدشات کے باعث نہ ہو سکے۔ 1993ء میں ڈھاکہ میں سارک ممالک نے خطے میں بتدریج کم محصولات کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ 9 سال بعد اسلام آباد میں 12 ویں سارک اجلاس میں سارک ممالک نے ایک اعشاریہ 4 ارب افراد کے لیے آزاد تجارتی علاقے کا ڈھانچہ ترتیب دینے کے لیے جنوبی ایشیائی آزاد تجارت کے معاہدے پر غور کیا۔ یہ معاہدہ یکم جولائی 2006ء سے نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے تحت سارک رکن ممالک 2007ء سے اپنے محصولات میں 20 فیصد کمی کریں گے۔

ارکان

مندرجہ ذیل ممالک سارک کے موجودہ ارکان ہیں:

* افغانستان
* بنگلہ دیش
* بھوٹان
* بھارت
* مالدیپ
* نیپال
* پاکستان
* سری لنکا

مبصرین

* چین
* یورپی یونین
* ایران
* جاپان
* جنوبی کوریا
* ریاستہائے متحدہ امریکہ

معتمدین عام

* ابو الحسن (بنگلہ دیش): 16 جنوری 1987ء تا 15 اکتوبر 1989ء
* کانت کشور بھرگوا (بھارت): 17 اکتوبر 1989ء تا 31 دسمبر 1991ء
* ابراہیم حسین زکی (مالدیپ): یکم جنوری 1992ء تا 31 دسمبر 1993ء
* یادیو کانت سلوال (نیپال): یکم جنوری 1994ء تا 31 دسمبر 1995ء
* نعیم الحسن (پاکستان): یکم جنوری 1996ء تا 31 دسمبر 1998ء
* نہال روڈریگو (سری لنکا): یکم جنوری 1999ء تا 10 جنوری 2002ء
* کیو اے ایم اے رحیم (بنگلہ دیش): 11 جنوری 2002ء تا 28 فروری 2005ء
* لیونپو چنکیاب ڈورجی (بھوٹان): یکم مارچ 2005ء تا حال

سارک اجلاس

1. 7 تا 8 دسمبر 1985ء ڈھاکہ بنگلہ دیش
2. 16 تا 17 نومبر 1986ء بنگلور بھارت
3. 2 تا 4 نومبر 1987ء کھٹمنڈو نیپال
4. 29 تا 31 دسمبر 1988ء اسلام آباد پاکستان
5. 21 تا 23 نومبر 1990ء مالے مالدیپ
6. 21 دسمبر 1991ء کولمبو سری لنکا
7. 10 تا 11 اپریل 1993ء ڈھاکہ بنگلہ دیش
8. 2 تا 4 مئی 1995ء نئی دہلی بھارت
9. 12 تا 14 مئی 1997ء مالے مالدیپ
10. 29 تا 31 جولائی 1998ء کولمبو سری لنکا
11. 4 تا 6 جنوری 2002ء کھٹمنڈو نیپال
12. 2 تا 6 جنوری 2004ء اسلام آباد پاکستان
13. 12 تا 13 نومبر 2005ء ڈھاکہ بنگلہ دیش
14. 3 تا 4 اپریل 2007ء نئی دہلی بھارت

مستقبل کی رکنیت

* اسلامی جمہوریہ ایران جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو سارک کا رکن نہیں ہے۔ ایران بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ مضبوط ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں بندھا ہوا ہے اور جنوبی ایشیائی تنظیم کے رکن کی حیثیت سے اپنی شمولیت کی خواہش ظاہر کر چکا ہے۔ 22 فروری 2005ء کو ایران کے اُس وقت کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے سارک میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ 3 مارچ 2007ء کو ایران نے بطور مبصر سارک میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔
* عوامی جمہوریہ چین سارک میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکا ہے جس کے لیے اسے پاکستان اور بنگلہ دیش کی حمایت حاصل ہے لیکن بھارت اس سلسلے میں تحفظات رکھتا ہے جبکہ بھوٹان کے تو چین سے سفارتی تعلقات تک نہیں۔ تاہم 2005ء ڈھاکہ اجلاس میں بھارت نے جاپان کے ساتھ چین کو مبصر کی حیثیت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ 14 ویں اجلاس میں نیپال نے چین کی بطور رکن شمولیت کی حمایت کی۔ اس طرح پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کی حمایت کے باعث چین سارک میں رکن کی حیثیت سے شمولیت کا مضبوط امیدوار ہے۔
* روس بھی سارک میں بطور مبصر شمولیت چاہتا ہے اور اس کے لیے اسے بھارت کی مضبوط حمایت حاصل ہے۔
* میانمار (برما) بھی سارک میں شمولیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم

جنوبی ایشیائی اقوام کی تنظیم جو “آسیان” کے نام سے معروف ہے جنوب مشرقی ایشیا کے 10 ممالک کی قائم کردہ سیاسی و اقتصادی انجمن ہے جو دسمبر 1967ء کو انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے مل کر قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد اشتراکیت کے ویت نام سے آگے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متحد ہونا تھا۔ اس کے علاوہ اقتصادی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں رکن ممالک کو ترقی دینا اور علاقائی امن کی ترویج تھا۔

2005ء کے مطابق اس اتحاد کا مشترکہ جی ڈی پی (فرضی/پی پی پی) 884 ارب امریکی ڈالرز /2.755 ٹریلین ڈالرز تھا جو سالانہ تقریباً 4 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے۔

رکنیت

آسیان 5 ممالک فلپائن، انڈونیشیا، ملائشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ نے قائم کی۔ برونائی نے 8 جنوری 1984ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے 6 روز بعد تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ ویت نام، لاؤس اور میانمار بعد میں تنظیم میں شامل ہوئے۔ ویت نام 28 جولائی 1995ء اور لاؤس اور میانمار 23 جولائی 1997ء کو آسیان کے رکن بنے۔ کمبوڈیا 30 اپریل 1999ء کو تنظیم کا آخری رکن قرار پایا۔

پاپوا نیو گنی 1976ء سے تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے داخل ہے۔ 23 جولائی 2006ء کو مشرقی تیمور کے وزیراعظم ہوزے راموس ہورتا نے بھی تنظیم میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست دی۔ آسٹریلیا بھی رکن بننے کا خواہشمند ہے لیکن چند ارکان اس کی شمولیت کے خلاف ہیں۔

ارکان

مندرجہ ذیل ممالک آسیان کے باقاعدہ ارکان ہیں:

* برونائی
* کمبوڈیا
* انڈونیشیا
* لاؤس
* ملائشیا
* میانمار
* فلپائن
* سنگاپور
* تھائی لینڈ
* ویت نام

امیدوارِ رکنیت

* مشرقی تیمور

مبصر

* پاپوا نیو گنی (1976ء سے)

آسیان پلس تھری

* چین
* جاپان
* جنوبی کوریا

مشرقی ایشیا کانفرنس

* آسٹریلیا
* بھارت
* نیوزی لینڈ

آسیان علاقائی فورم

* بنگلہ دیش
* کینیڈا
* یورپی یونین
* منگولیا
* شمالی کوریا
* پاکستان
* پاپوا نیو گنی
* روس
* مشرقی تیمور
* ریاستہائے متحدہ امریکہ

اقتصادی تعاون تنظیم

اقتصادی تعاون کی تنظیم (انگریزی:Economic Cooperation Organization) یا ای سی او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں 10 ایشیائی ممالک شامل ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ اس کے رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ای سی او کا صدر دفتر ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اقتصادی اتحاد کی طرح اشیاء اور خدمات کے لئے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔

یہ تنظیم 1985ء میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے علاقائی تعاون برائے ترقی (انگریزی:Regional Cooperation for Development) یعنی آر سی ڈی کی جگہ لی جو 1962ء میں قائم ہوئی اور 1979ء میں اس کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ 1992ء کے موسم خزاں میں افغانستان سمیت وسط ایشیا کے 7 ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی تنظیم کی رکنیت دی گئی۔

رکن ممالک کے درمیان 17 جولائی 2003ء کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم تجارتی معاہدہ (ECOTA) پر دستخط کئے گئے۔

اس تنظیم کے تمام رکن ممالک موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) کے بھی رکن ہیں جبکہ 1995ء سے ای سی او کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

اگلا صفحہ »