محفوظات برائے 'سیاست' زمرہ


اقوام کی دولت مشترکہ

اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو نو آبادیاتی دور میں برطانیہ کی غلامی میں رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔

اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں

* اقتصادی تعاون کو فروغ دینا

* جمہوریت کو فروغ دینا

* اور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

مفید معلومات

* دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔
* دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (159 ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔
* ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
* تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔
* رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔

ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔

ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کردیا گیا۔

کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کے بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

نیٹو

شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم The North Atlantic Treaty Organisation (نیٹو) جسے شمالی اوقیانوسی اتحاد، اوقیانوسی اتحاد یا مغربی اتحاد بھی کہا جاتا ہے، ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو 4 اپریل 1949ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اس کا صدر دفتر بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں واقع ہے۔ فرانسیسی زبان میں اس کا باضابطہ نام Organisation du Traité de l’Atlantique Nord ہے۔

اس کے بانی ارکان میں امریکہ، بیلجیئم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، فرانس، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال، اٹلی، ناروے، ڈنمارک اور آئس لینڈ شامل ہیں۔ تین سال بعد 18 فروری 1952ء کو یونان اور ترکی نے بھی نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی۔

1954ء میں سوویت یونین نے تجویز دی کہ وہ یورپ میں قیام امن کے لئے نیٹو میں شمولیت چاہتا ہے تاہم نیٹو کے رکن ممالک نے اس کی مخالفت کی۔

9 مئی 1955ء کو مغربی جرمنی کی نیٹو میں شمولیت کو ناروے کے وزیر خارجہ نے براعظم کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا تھا۔ مغربی جرمنی کی نیٹو میں شمولیت پر سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کے درمیان 14 مئی 1955ء کو “وارسا پیکٹ” معاہدہ طے پایا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد 1999ء میں تین کمیونسٹ ممالک ہنگری، چیک جمہوریہ اور پولینڈ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ 29 مارچ 2004ء کو شمالی اور مشرقی یورپ کے مزید 7 ممالک اسٹونیا، لیٹویا، لتھووینیا، سلووینیا، سلوواکیا، بلغاریہ اور رومانیہ نیٹو میں شامل ہوئے۔

ان کے علاوہ نیٹو کی رکنیت کے خواہشمند ممالک میں البانیہ، مقدونیہ، جارجیا اور کروشیا شامل ہیں۔

غیر نیٹو اتحادی

غیر نیٹو اتحادی ایک عہدہ ہے جو امریکہ اپنے ان قریبی اتحادیوں دیتا ہے جو امریکہ کے ساتھی ہوں لیکن معاہدہ شمالی اوقیانوس (نیٹو) کے رکن نہ ہوں۔ غیر نیٹو اتحادی کی صورت میں دو طرفہ دفاعی معاہدہ ضروری نہیں لیکن اس کے نتیجے میں یہ ممالک ان ممالک سے زیادہ عسکری و مالی فوائد سمیٹتے ہیں جو نیٹو کے رکن نہیں۔

غیر نیٹو اتحادی کا عہدہ پہلی بار 1989ء میں کانگریس کی جانب سے امریکہ کے کوڈ برائے مسلح افواج ٹائٹل 10 میں شق 2350اے کی شمولیت سے طے پایا۔ ابتدائی طور پر آسٹریلیا، مصر، اسرائیل، جاپان اور جنوبی کوریا غیر نیٹو اتحادی قرار پائے۔

1996ء امریکی کوڈ برائے امور خارجہ ٹائٹل 22 میں سیکشن 2321 کے کی شمولیت سے یہ اتحادی اضافی عسکری و مالی فوائد کے مستحق قرار پائے۔

فہرست

آسٹریلیا (1989ء)

مصر (1989ء)

اسرائیل (1989ء)

جاپان (1989ء)

جنوبی کوریا (1989ء)

اردن (1996ء)

نیوزی لینڈ (1996ء)

ارجنٹائن (1998ء)

بحرین (2002ء)

فلپائن (2003ء)

تھائی لینڈ (2003ء)

کویت (2004ء)

مراکش (2004ء)

پاکستان (2004ء)

« گزشتہ صفحہ