محفوظات برائے 'شخصیات' زمرہ


سامی یوسف

سامی یوسف یا سمیع یوسف برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک گلوکار اور موسیقار ہیں۔ وہ جولائی 1980ء میں ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو موسیقی سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔

سامی نے بچپن سے ہی موسیقی کے مختلف آلات کو استعمال کرنا شروع کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ گلوکاری اور موسیقی ترتیب دینے میں ان کا رحجان بڑھتا چلا گیا۔ انہوں نے موسیقی کے دنیا کے معروف ترین ادارے رائل اکیڈمی آف میوزک لندن کے اساتذہ سمیت کئی معروف موسیقاروں سے تربیت حاصل کی۔ وہ مشرق وسطیٰ کی موسیقی کے انداز مقام کی مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

وہ ایک عملی مسلمان ہیں اور اپنی حمد و نعت اور گانوں کے ذریعے اسلام کا آفاقی پیغام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا پہلا البم 2003ء میں المعلم اور دوسرا البم 2005ء میں میری امت (My Ummah) کے نام سے جاری ہوا۔

ان کا پہلا البم المعلم انتہائی مقبول ہوا جس کی ایک لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں جبکہ دوسرے البم My Ummah نے بھی کافی مقبولیت سمیٹی لیکن اس کی فروخت کے اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں کیے گئے۔

سمیع یوسف برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آذربائیجان، سعودی عرب، سوڈان، جرمنی، مصر، کویت، متحدہ عرب امارات، فرانس، سویڈن، ہالینڈ، ترکی، آسٹریا، شام، یمن، اردن، بیلجیم، قطر اور دیگر ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

المعلم

المعلم میں مندرجہ ذیل نغمات شامل ہیں:

* المعلم
* غارِ حرا
* اللہ ہو
* خالق
* یا مصطفیٰ
* محبوب کون؟
* تفکر
* التجا

My Ummah

* میری امت
* حسبی ربی
* یا رسول اللہ
* مت رو
* محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)
* دعا کرو
* نغمۂ عید
* آزادی
* مناجات
* ماں (عربی)
* ہم کبھی گردن نہیں جھکائیں گے
* دعا
* ماں (ترکی)

زین الدین یزید زیدان

زین الدین یزید زیدان (انگریزی:Zinedine Zidane) (پیدائش: 23 جون 1972ء) المعروف زیزو فرانس کے مشہور فٹ بالر تھے جنہوں نے یوونٹس اور ریال میڈرڈ سمیت 4 فٹ بال کلبوں کی بھی نمائندگی کی۔ انہوں نے دو عالمی کپ ٹورنامنٹس میں فرانس کی نمائندگی کی جن میں 1998ء کا عالمی کپ بھی شامل ہے جس میں فرانس نے عالمی چیمپین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ علاوہ ازیں تین یورپی چیمپین شپس میں بھی ملکی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا جس میں سے 2000ء میں فرانس براعظمی چیمپین بنا تھا۔

زیدان 23 جون 1972ء کو فرانس کے ساحلی شہر مارسے (Marseille)میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین اسماعیل اور ملکہ کا بنیادی الجزائر سے تھا جو ہجرت کرکے فرانس آئے تھے۔ زیدان فرانس اور الجزائر دونوں ممالک کی شہریت کے حامل ہیں۔

زیدان نے اس وقت عالمی افق زبردست شہرت حاصل کی جب انہوں نے 1998ء کے ورلڈ کپ میں برازیل کے خلاف ہیڈر کے ذریعے دو گول کیے اور ملک کو تاریخ میں پہلی بار عالمی چیمپین بنا دیا۔ انہوں نے یورو 2000ء میں بھی ملک کو براعظمی فاتح بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلب سطح پر انہوں نے یوونٹس اور ریال میڈرڈ کی جانب سے بالترتیب اٹلی اور اسپین کی قومی چیمپین شپ جیتیں۔2006ء کے ورلڈ کپ کے اختتام پر انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جس پر انہیں گولڈن بال ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی زیر قیادت فرانسیسی ٹیم عالمی کپ کے فائنل میں پہنچی تاہم اطالوی حریف پر قابو نہ پا سکی۔ زیدان کے اس آخری میچ میں ان کے کیریر کا اختتام انتہائی افسوسناک انداز میں ہوا جب انہوں نے اطالوی دفاعی کھلاڑی مارکو میٹرازی کے سینے پر ٹکر مار کر انہیں زمین پر گرا دیا اور ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے باعث میدان بدر کر دیے گئے۔

زیدان نے تین مرتبہ (1998ء، 2000ء، 2003ء میں) فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز جیتتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کیا جبکہ وہ تین مرتبہ (1997ء، 2002ء، 2006ء میں) اس فہرست کے اولین تین کھلاڑیوں میں بھی شامل رہے۔ وہ 1998ء میں یورپین فٹ بالر آف دی ایئر بھی قرار پائے۔ 2001ء میں ان کی ریال میڈرڈ منتقلی کے لیے ادا کی گئی 66 ملین یورو (87 ملین امریکی ڈالرز، 47 ملین پاؤنڈز) کی رقم اب تک کا عالمی ریکارڈ ہے۔ 2004ء میں یوئیفا گولڈن جوبلی پول میں انہیں گذشتہ 50 سالوں کا بہترین یورپی کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ وہ عظیم برازیلی فٹ بالر پیلے کی 125 عظیم زندہ فٹ بالرز کی درجہ بندی “فیفا 100″ میں بھی شامل تھے۔

زیدان نے عالمی فٹبال کپ 2006ء کے بعد پیشہ ورانہ فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

ریحان

ریحان (انگریزی:Raihan) ملائشیا کا ایک نشید گروپ ہے جس نے اکتوبر 1996ء میں اپنے پہلے البم پوجی-پوجیان کے ذریعے ملک بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس گروپ کے بانی ارکان میں نظری جوہانی، چی عمران ادریس، ابو بکر محمد یتیم،عمران ابراہیم اور اظہری احمد شامل تھے۔ فرحین عبدالفتح کی جانب سے جاری کردہ اُن کے پہلے البم پوجی-پوجیان کی 6 لاکھ 50 ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں۔

29 اگست 2001ء کو گروپ کے بانی رکن اور سربراہ اظہری احمد دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے۔

گروپ کے باقی چاروں ارکان نظری جوہانی، چی عمران ادریس، ابو بکر محمد یتیم اور عمران ابراہیم گروپ سے وابستہ رہے۔ ریحان اب تک 11 البم جاری کر چکا ہے اور ملائشیا میں کئی اعزازات میں حاصل بھی اپنے نام کیے ہیں۔ اپنے شاندار بین الاقوامی دوروں کے باعث وہ تین مرتبہ AIM Anugerah Kembara حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ گروپ ملائشیا میں تاریخ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے البم کا اعزاز بھی رکھتا ہے جبکہ اسے سب سے زیادہ تیزی سے بکنے والے البم کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔

نظری جوہانی کے گروپ سے استعفے دینے اور ان کے متبادل نور الدین جعفر کے گروپ چھوڑ جانے کے باعث ان کی جگہ ذوالفضلی بن مستضیٰ کو گروپ کا حصہ بنایا گیا۔

ریحان سنگاپور، برطانیہ، جنوبی افریقہ، روس، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، کینیڈا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

مریم جمیلہ

مریم جمیلہ (پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس) معروف مصنفہ، صحافی، شاعرہ اور مضمون نگار ہیں جو 23 مئی 1934ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے شائع ہونے والے مسلم ڈائجسٹ کے لیے تحاریر لکھنے کے بعد انہوں نے 24 مئی 1961ء کو اسلام قبول کر لیا۔ جمیلہ اسلام کے حوالے سے دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں۔ وہ پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھیں۔ اس لیے اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں سکونت اختیار کی۔

ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ مسلم ڈائجسٹ میں سید مودودی کا چھپنے والا مضمون حیات بعد الموت تھا جس کے بعد انہوں نے 5 دسمبر 1960ء کو سید ابو الاعلیٰ مودودی سے بذریعہ خط پہلا رابطہ کیا۔

مودودی اور جمیلہ کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ 1962ء تک جاری رہا۔ ان خطوط کا موضوع اسلام اور مغرب ہوتا تھا۔ دونوں کے خطوط بعد ازاں مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت نامی ایک کتاب کے ذریعے شائع کیے گئے۔

1962ء میں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں ہی محمد یوسف خان نامی شخص سے شادی کی۔

وہ محمد پکتھال کے ترجمہ قرآن اور محمد اسد کی یہودیت چھوڑ کر اسلام کی کہانی سے بے حد متاثر تھیں۔

وہ آج کل لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

روبرٹو باجیو

روبرٹو باجیو (پیدائش: 18 فروری 1967ء) اٹلی کے سابق فٹ بالر ہیں جو 1990ء کی دہائی میں دنیا کے مقبول ترین کھلاڑی تھے۔ انہوں نے تین عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کی اور اٹلی کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین عالمی کپ میں گول اسکور کیے۔ وہ 1994ء کے عالمی کپ کے بہترین اطالوی کھلاڑی تھے جس میں ان کی کارکردگی کی بدولت اٹلی عالمی کپ کے فائنل تک پہنچا جہاں برازیل کے خلاف پنالٹی شوٹ آؤٹ کے مرحلے میں اُن کی جانب سے گول ضائع کرنے سے اٹلی عالمی کپ سے محروم ہو گیا۔ انہوں نے 1993ء میں یورپی فٹ بالر آف دی ایئر اور فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایئر کے اعزازات جیتے۔

انہوں نے اٹلی کی جانب سے کل 56 میچ کھیلے جن میں 27 گول کیے۔ وہ اٹلی کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے تین عالمی کپ (1990ء، 1994ء، 1998ء) میں شرکت کی جس میں انہوں نے9 گول کیے۔

باجیو پیدائشی کیتھولک عیسائی تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔

اگلا صفحہ »