محفوظات برائے 'شخصیات' زمرہ


شاہ نواز فاروقی

شاہنواز فاروقی پاکستان کے معروف دانشور اور تجزیہ نگار ہیں۔ 1964ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ 1986ء میں جامعہ کراچی سے صحافت میں گریجویشن کیا اور وہیں سے 1988ء میں ماسٹرز کی سند امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔

انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کراچی سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالے ماہنامہ آنکھ مچولی سے کیا جس سے وہ ساڑھے تین سال تک وابستہ رہے۔ ابتداء میں ان کا انداز تحریر مزاحیہ ہوتا تھا جو بچوں اور نوجوانوں میں مقبول تھا۔

بعد ازاں انہوں نے سنجیدہ معاملات پر مضامین لکھنے شروع کیے اور ایک موقر اردو روزنامے سے وابستہ ہو گئے اور اپنے واضح نقطۂ نظر کے باعث بہت جلد ایک وسیع حلقے میں پسند کیے جانے لگے۔ پاکستان کے سب سے بڑے روزنامہ جنگ نے انہیں کالم نگار کی حیثیت سے کام کرنے کی پیشکش دی لیکن مکمل ازادئ اظہار کا مطالبہ منظور نہ کیے جانے پر انہوں نے جنگ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ شاہنواز فاروقی روزنامہ جنگ کی جانب کی پیشکش ٹھکرانے سے قبل میر میر خلیل الرحمٰن کے ہاتھوں جامعہ کراچی میں نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے پر میرخلیل الرحمٰن ایوارڈ گولڈ میڈل کی صورت میں حاصل کر چکے تھے۔ جو کہ اس وقت تک کراچی یونیورسٹی میں دیا جانے والا پہلا میر خلیل الرحمٰن گولڈ میڈل ایوارڈ تھا۔ آجکل وہ کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ جسارت سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف ٹیلی وژن چینلوں کے پروگرام میں تجزیہ نگار کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے ہیں اور کئی جامعات میں دروس دیتے ہیں۔

شاہنواز فاروقی انگریزی و اردو ادب، شاعری، سیاسی تجزیے، مذہب، مغربی تہذیب اور دیگر موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب کے بارے میں ان کے نظریات انتہائی واضح ہیں۔

ان کی دو کتابیں “کاغذ کے سپاہی” اور “اخبار صحافت” شائع ہوچکی ہیں جن میں سے اول الذکر ریسرچ اکیڈمی جبکہ آخر الذکر جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ نے شائع کی ہے۔ شاہنواز فارقی کی ایک اور کتاب “تہذیبوں کا تصادم” بھی شائع ہوچکی ہے جسے کراچی کے ادارہ مطبوعات طلبہ نے شائع کیا ہے۔

بلال فلپس

ابو امینہ بلال فلپس مشہور اسلامی داعی ہیں۔ جو جمیکن نژاد عیسائی خاندان کے فرد تھے اور بعد ازاں اسلام قبول کرلیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے نہ صرف موسیقی کو خیر باد کہا بلکہ اسلامی فقہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور خود کو تبلیغ اسلام کے لیے وقف کردیا۔

ابتدائی زندگی

ڈاکٹر بلال فلپس 1947ء میں جمیکا میں پیدا ہوئے لیکن ابتدائی زندگی کینیڈا میں گذاری اور تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ مذہباً عیسائی تھے۔ کالج سے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کیا۔ اس دور میں کمیونزم سے متاثر ہوئے اور چین کا دورہ بھی کیا۔ لیکن کمیونسٹ رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد اور نظم و ضبط کے فقدان سے دلبرداشتہ ہونے کے بعد وہ دہریت اور کمیونزم سے نفرت کرنے لگے۔

قبول اسلام

کینیڈا میں کالج کی تعلیم کے دوران ان کی ایک جاننے والی خاتون نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر اس کے بھائی نے بھی اسلام قبول کیا۔ تب ڈاکٹر بلال نے بھی مختلف ادیان کا مطالعہ شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک خواب بھی دیکھا جس نے ان کے اندر خدا کے وجود کا یقین پیدا کیا۔ حق کی تلاش کے دوران انہوں نے سید قطب کی کتاب “اسلام اور جدید ذہن کے شبہات” پڑھنے کا اتفاق ہوا اور پھر مولانا مودودی کے رسالہ دینیات کا انگریزی ترجمہ Towards understanding Islam پڑھا جس سے انہیں اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا۔ انہوں نے کالج میں اسلام کا دفاع کرنا شروع کردیا بالآخر کچھ عرصے کے غور و فکر کے بعد 1972ء میں اسلام قبول کرلیا۔

ڈاکٹر بلال فلپس قبول اسلام سے قبل کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک نائٹ کلب میں ایک میوزیکل گروپ کے رکن تھے اور اپنے میوزیکل بینڈ کے گٹارسٹ تھے۔ لیکن قبول اسلام کے بعد انہوں نے موسیقی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا اور خود کو تبلیغ اسلام سے وابستہ کرلیا۔

ڈاکٹر بلال فلپس کے والدین عیسائی تھے، والد انگریزی کے استاد تھے۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی اسلام پر کتابوں کی پروف ریڈنگ بھی کرتے تھے۔ ڈاکٹر بلال مسلسل اپنے غیر مسلم والدین کو اسلام کی تبلیغ کرتے رہے اور ہمت نہ ہاری بالآخر 20 سال کی محنت کے بعد ان کے والدین نے اسلام قبول کرلیا۔

تحصیلِ علومِ اسلامی

ڈاکٹر فلپس اسلامی علوم کی تحصیل کے لیے سعودی عرب چلے گئے اور مدینہ یونیورسٹی سے 1979ء میں “اصول الدین” میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر 1985ء میں ریاض یونیورسٹی سے اسلامی فقہ میں ایم اے کیا۔ 1979ء سے 1987ء تک ریاض کے سیکنڈری اور ہائی اسکولوں میں اسلامی علوم اور عربی زبان کی تعلیم دیتے رہے۔ 1994ء میں یونیورسٹی آف ویلز سے اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اسلام میں “جھاڑ پھونک کی رسم” The exorcist tradition in Islam کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔ اس تحقیق کے سلسلے میں انہوں نے 1991ء میں بھارت کا دورہ بھی کیا۔ 1997ء میں وہ ایک مرتبہ پھر بھارت آئے۔

وہ چند سال فلپائن کی شریف کننسوان اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی علوم کے شعبے میں ایم ایڈ کے طلباء کو اسلامی فقہ پر درس دیتے رہے۔

اتحادی افواج میں تبلیغ اسلام

1990ء کی دہائی میں سعودی فضائیہ کے محکمۂ مذہبی امور نے ڈاکٹر بلال کو سعودی عرب کے صحراؤں میں مقیم غیر مسلم فوجیوں میں اسلام کی تبلیغ کے کام کے لیے مامور کیا۔ ڈاکٹر بلال کے لیکچرز سے متاثر ہوکر سیکڑوں فوجیوں نے اسلام قبول کیا۔

تصانیف

ڈاکٹر بلال اسلامی فقہ کی درس و تدریس اور اسلام کی تبلیغ کے علاوہ متعدد اسلامی کتب کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی چند کتابیں درج ذیل ہیں جو تمام انگریزی زبان میں ہیں:

1. مذاہب فقہ کا ارتقاء
2. عربی کا فن خطاطی
3. امام ابن تیمیہ رحمت اللہ علیہ کا جنات کے متعلق مضمون
4. تفسیر سورۃ الحجرات
5. توحید کی بنیادیں
6. قرآن و سنت کے مطابق حج و عمرہ
7. قرآن کی تفسیر کے اصول
8. تلبیس ابلیس
9. اسلام اور تعداد ازدواج
10. اسلام میں جھاڑ پھونک کی رسم

برصغیر پاک و ہند میں ان کو مشہور اسلامی ٹیلی وژن چینل “پیس ٹی وی” کے پروگرامات کے ذریعے شہرت حاصل ہے جس پر ان کے پروگرامات روزانہ نشر ہوتے ہیں۔

یوسف اسلام

یوسف اسلام (پیدائشی نام: اسٹیون دمتری جیورجیو، المعروف: کیٹ اسٹیونز) 1966ء سے 1978ء تک موسیقی کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے معروف گلوکار تھے جو 21 جولائی 1948ء کو انگلستان کے دارالحکومت لندن میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1977ء میں موسیقی کو خیر باد کہتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔

بطور موسیقار و گلوکار 1970ء کی دہائی سے اب تک ان کے 60 ملین سے زائد البم فروخت ہوچکے ہیں۔ ان کے مشہور ترین البموں میں Tea for the Tillerman اور Teaser and the Firecat، جن کی 30،30 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں اور Catch Bull at Four شامل ہیں جس کی ابتدائی دو ہفتوں میں 5 لاکھ البمیں فروخت ہوئیں۔ ان کے مشہور گانوں میں “Morning Has Broken”, “Peace Train”, “Moonshadow”, “Wild World”, “Father and Son”, “If You Want To Sing Out, Sing Out”, “Trouble” اور “The First Cut Is the Deepest” شامل ہیں۔

انہوں نے 1977ء میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور 1978ء میں نام تبدیل کرکے یوسف اسلام رکھ لیا۔ قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا اور خود کو مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ سے وابستہ کردیا۔ ایک دہائی بعد سلمان رشدی کے خلاف جاری کئے گئے فتوے کی مبینہ حمایت پر زبردست تنازع پیدا ہوگیا، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا۔ انہوں نے 11 ستمبر اور 7 جولائی 2005ء کے لندن بم دھماکوں کی مذمت کی۔ 2004ء میں امریکہ جاتے ہوئے انہیں اس وقت روک لیا گیا جب امریکہ نے کہا کہ ان کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جنہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں۔

انہیں فلسطینیوں کی حمایت پر ایک مرتبہ اسرائیل سے بھی ملک بدر کیا جاچکا ہے۔

2006ء میں وہ موسیقی کی دنیا میں واپس آئے اور 28 سال بعد پہلی بار گانے ریکارڈ کروائے۔ اس نئے البم کا نام “An Other Cup” ہے۔ انہیں دنیا میں قیام امن کے لیے کام کرنے پر مختلف اعزاز سے نوازا گیا ہے جن میں 2004ء مردِ امن اور 2007ء میڈیٹرینین انعام برائے امن شامل ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ فوزیہ مبارک علی اور 5 بچوں کے ساتھ لندن میں رہتے ہیں اور سال کا کچھ حصہ دبئی میں گزارتے ہیں۔

اس وقت وہ لندن میں ایک اسلامی اسکول بھی چلارہے ہیں۔

البم

بطور کیٹ اسٹیونز

* Matthew and Son
* New Masters
* Mona Bone Jakon
* Tea for the Tillerman
* Teaser and the Firecat
* Catch Bull at Four
* Foreigner
* Buddha and the Chocolate Box
* Saturnight (ٹوکیو میں براہ راست)
* Numbers
* Greatest Hits
* Izitso
* Back to Earth
* Footsteps in the Dark: Greatest Hits, Vol. 2
* Majikat
* Gold (مجموعہ)

مجموعے

* The Very Best of Cat Stevens

بطور یوسف اسلام

* The Life of the Last Prophet
* Prayers of the Last Prophet
* A is for Allah
* I Look I See
* Indian Ocean
* Footsteps in the Light
* An Other Cup

جمی کارٹر

جیمز ارل “جمی” کارٹر (پیدائش: یکم اکتوبر 1924ء) 1977ء سے 1981ء تک امریکہ کے 39 ویں صدر رہے۔ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن تھے۔ ان کا تعلق ریاستہائے متحدہ امریکہ کے جنوبی علاقوں سے تھا جہاں وہ ریاست جارجیا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سینیٹر اور بعد ازاں جارجیا کے گورنر بنے۔ اس حیثیت سے انہیں نے نسلی امتیازات کو ختم کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں۔ وہ اپنے مونگ پھلی کے کاروبار کے باعث بھی مشہور تھے۔

انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصفیہ کرانے کی کوششیں کیں تاہم جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے سوویت یونین کے ساتھ معاہدے کی ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ ان کے بعد رونالڈ ریگن امریکہ کے صدر بنے۔

جمی کارٹر آجکل مختلف ممالک میں انتخابات کے آزاد مبصر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

اپنے دور صدارت میں جمی کارٹر کو کئی داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن میں توانائی اور اقتصادی بحران بھی شامل ہے۔ اس بحران کے خاتمے میں ناکامی ہی ان کی صدارت کے خاتمے اور رونالڈ ریگن کی آمد کا باعث بنی۔

انہیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی

سید ابوالاعلٰی مودودی (پیدائش:1903ء، انتقال:1979ء) مشہور عالم دین اور مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحاریک کے ارتقاء میں گہرا اثر ڈالا اور بیسیویں صدی کے مجدد اسلام ثابت ہوئے۔

اسلام کی دنیا بھر میں موجودہ پذیرائی سید ابوالاعلی مودودی اور شیخ حسن البناء (اخوان المسلمون کے بانی) کی فکر کا ہی نتیجہ ہے جنہوں نے عثمانی خلافت کے اختتام کے بعد نہ صرف اسے زندہ رکھا بلکہ اسے خانقاہوں سے نکال کر عوامی پذیرائی بخشی۔ سید ابوالاعلی مودودی کا پاکستانی سیاست میں بھی بڑا کردار تھا۔ پاکستانی حکومت نے انہیں قادیانی فرقہ کو غیر مسلم قرار دینے پر پھانسی کی سزا بھی سنائی جس پر عالمی دباؤ کے باعث عملدرآمد نہ ہوسکا۔ سید ابوالاعلی مودودی کو انکی دینی خدمات کی پیش نظر پہلے شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آپکی لکھی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر تفہیم القرآن کے نام سے مشہور ہے اور جدید دور کی نمائندگی کرنے والی اس دور کی بہترین تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔

ابتدائی زندگی

سید ابوالاعلٰی مودودی 1903ء بمطابق 1321ھ میں اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ و اجداد میں ایک مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین مودود چشتی گزرے تھے جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے شیخ الشیوخ تھے۔ سید مودودی کا خاندان انہی خواجہ مودود چشتی کے نام سے منسوب ہوکر ہی مودودی کہلاتا ہے۔

آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مودودی نے ابتدائی دور کے پورے گیارہ برس اپنے والد کی نگرانی میں رہے اور گھر پر تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ راست داخل کیا گیا۔

1914ء میں انہوں نے مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ اس وقت ان کے والدین اورنگ آباد سے حیدرآباد منتقل ہو گئے جہاں سید مودودی کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرایا گیا۔

اس زمانے میں دارالعلوم کے صدر مولانا حمید الدین فراہی تھے جو مولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ تاہم والد کے انتقال کے باعث وہ دارالعلوم میں صرف چھ ماہ ہی تعلیم حاصل کر سکے۔

بطور صحافی

کیونکہ سید مودودی لکھنے کی خداداد قابلیت کے حامل تھے اس لیے انہوں نے قلم کے ذریعے اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچانے اور اسی کو ذریعہ معاش بنانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار “مدینہ” بجنور (اتر پردیش)، “تاج” جبل پور اور جمعیت علمائے ہند کا روزنامہ “الجمعیت” دہلی خصوصی طور پر شامل ہیں۔

1925ء میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار”الجمعیۃ” کی ادارت چھوڑ دی۔

پہلی تصنیف

جس زمانے میں سید مودودی”الجمعیۃ” کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کی جس پر کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دینِ اسلام پر حملے کرنے لگے اور علانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔

انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی۔

اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
” اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے “

ترجمان القرآن

“الجمعیۃ” کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ جہاں اپنے قیام کے زمانے میں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں، اور 1932 میں حیدرآباد سے رسالہ”ترجمان القرآن” جاری کیا۔

1935ء میں آپ نے “پردہ” کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب ہوکر اسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تھا۔ اس کے علاوہ “تنقیحات” اور”تفہیمات” کے مضامین لکھے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے فرنگی تہذیب کی مرعوبیت ختم کردی۔

اسلامی قومیت

1938ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ہندوؤں کے ساتھ مل گئی۔

کانگریس کے اس نظریہ کو “متحدہ قومیت” یا “ایک قومی نظریہ” کانام دیا جاتا تھا۔ سید مودودی نے اس نظریے کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں “مسئلہ قومیت” اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش” حصہ اول و دوم کے ناموں سے شائع ہوئی۔ مولانا مودودی صاحب پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ قیام پاکستان کے خلاف تھے۔ اپنے ایک کتابچے میں لکھتے ہیں کہ:
” پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں۔۔۔ اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی “

حالانکہ ان کی تحریروں کو اگر کاٹ چھانٹ کر پیش کرنے کے بجائے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اور پورے جملے کو پڑھا جائے تو اصل صورتحال واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ چونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ اس تصور کو پیش کرنے، اسے نکھارنے اور فروغ دینے میں سید مودودی کی تحریرات کا حصہ تھا، اسے اس شخص کی زبان سے سنئے جو کہ قائداعظم اور خان لیاقت علی خان کا دست ِ راست تھا۔۔۔۔۔۔یعنی آل انڈیا مسلم لیگ کے جائنٹ سیکریٹری، اس کی مجلس ِ عمل Committee Of Action اور مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری ظفر احمد انصاری لکھتے ہیں۔
” اس موضوع پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے ’’مسئلہ قومیت“ کے عنوان سے ایک سلسلہ ءِ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زور ِ استدلال اور زور ِ بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچا بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہوگیا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلہ پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب کانگریس اور جمعیت علماء ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔ ہندوئوں کی سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی جدا گانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کرکے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں۔ خود مسلم لیگ نے اس بات کی کوشش کی کہ اس بحث کا مذہبی پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ عوام کانگریس کی کھیل کو سمجھ سکیں اور اپنے دین و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ “

مسلم لیگی رہنما مزید لکھتے ہیں۔
” دراصل پاکستان کی قرار داد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے ’’حکومت الہٰیہ“ ، ’’مسلم ہندوستان“ اور ’’خلافت ربانی“ وغیرہ کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک ’’مسلم ہندوستان“ کا تصور پیش کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومت الہٰیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چوہدری فضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافتَ ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔ جگہ جگہ سے اس آواز کا اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اپنے مخصوص طرز فکر کی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پوری شدت سے محسوس کررہے تھے اور حالات کے تقاضے کے طور پر ان کے عزائمِ خفتہ ابھر کر سامنے آرہے تھے “

علامہ اقبال اور سید مودودی

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحریرات سے بے حد متاثر تھے۔ بقول میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام)، علامہ موصوف ’’ترجمان القرآن“ کے اُن مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ اُن (مضامین) ہی سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا 1938 میں پنجاب آئے۔ میاں محمد شفیع صاحب اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں کہ:
” مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو درحقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ ’’مودودی ان کانگریسی مسلمانوں کی خبر لیں گے“۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد (مولانا آزاد) اور مدنی (مولانا حسین احمد مدنی) کے نقاد تھے وہاں وہ مولانا کا ’’ترجمان القرآن“ جستہ جستہ مقامات سے پڑھواکر سننے کے عادی تھے۔ اور اس امر کے متعلق تو میں سو فیصدی ذمہ داری سے بات کہہ سکتا ہوں علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا “

شریف الدین پیرزادہ کی گواہی

اس وقت کے مارشل لاء حکومت کے قائم کردہ دستوری کمیشن کے مشیر اور کمپنی لاء کمیشن کے صدر سید شریف الدین پیرزادہ اپنی کتاب ’’ارتقائے پاکستان“ Evolution of Pakistan میں لکھتے ہیں۔
” مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے ایک سلسلہ مضامین کے ذریعے جو کہ 1938 اور 1939 کے درمیان شائع ہوئے، کانگریس کے چہرے سے نقاب اتاری اور مسلمانوں کو متبنہ کیا۔ موصوف نے برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا، کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی اور یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کے لئے جمہوریت ناموزوں ہے۔ اس لئے کہ اس میں مسلمانوں کو ایک ووٹ اور ہندوئوں کو چار ووٹ ملیں گے۔ انہوں نے ہندوئوں کےقومی استعمار کی بھی مذمت کی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ محض مخلوط انتخاب یا اسمبلیوں میں کچھ زیادہ نمائندگی Weightage اور ملازمتوں میں ایک شرح کا تعین مسلمان قوم کے سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے۔ جو تجویز انہوں نے پیش کی اس میں تین متبادل صورتوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ “

ان صورتوں میں آخری صورت ہندوستان کی تقسیم کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سید شریف الدین پیرزادہ ارتقائے پاکستان میں جس نتیجہ پر پہنچتے ہیں اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ
” وہ تجاویز اور مشورے جو سر عبداللہ ہارون، ڈاکٹر لطیف، سرسکندر حیات، ’’ایک پنجابی“، سید ظفرالحسن، ڈاکٹر قادری، مولانا مودودی، چودھری خلیق الزمان وغیرہ نے دیئے، وہ ایک معنی میں پاکستان تک پہنچنے والی سڑک کے سنگہائے میل ہیں۔ “

ریفرنڈم میں پاکستان کی حمایت

صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا مشورہ دیا اور لوگوں کو اس موقع پر آمادہ کرنے کے لئے کہا:
” اگرمیں صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لئے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہورہی ہے تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ “

اس تاریخی موقع پر آئندہ کے نظام کے بارے میں مولانا نے لکھا:
” وہ نظام اگر فی الواقع اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جارہا ہے تو ہم دل و جان سے اس کے حامی ہوں گے، اور اگر وہ غیر اسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کرکے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدوجہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کررہے ہیں۔ “

مسلم لیگ علماء کمیٹی کی رکنیت

قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوان مسلم قومیت پر سید مودودی کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے۔ بعد ازاں مسلم لیگ یو پی نے اسلامی نظام مملکت کا خاکہ تیار کرنے کے لئے علماء کی ایک کمیٹی بنائی تو مولانا مودودی نے اس کی رکنیت قبول کرتے ہوئے اس کام میں پوری دلچسی لی۔ اس کا مسودہ کمیٹی سے وابستہ ایک معاون تحقیق مولانا محمد اسحاق سندیلوی نے Working Paper تیار کیا تھا۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں مولانا عبدالماجد دریا بادی لکھتے ہیں۔
” غالبا 1940 ء یا شاید اس سے بھی کچھ قبل جب مسلم لیگ کا طوطی ہندوستان میں بول رہا تھا۔ ارباب لیگ کو خیال پیدا ہوا کہ جس اسلامی حکومت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ شد و مد سے کیا جارہا ہے خود اس کا نظام نامہ یا قانون ِ اساسی بھی تو خالص اسلامی بنانا چاہئے۔ اس غرض سے یو پی کی صوبائی مسلم لیگ نے ایک چھوٹی سی مجلس ایسے ارکان کی مقرر کردی جو اس کے خیال میں شریعت کے ماہرین تھے کہ یہ مجلس ایسا نظام نامہ مرتب کرکے لیگ کے سامنے پیش کرے۔ اس مجلس ِ نظام ِ اسلامی کے چار ممبران کے نام تو اچھی طرح یاد ہیں۔ (1) مولانا سید سلیمان ندوی (2) مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (3) مولانا آزاد سبحانی (4) عبدالماجد دریا آبادی۔ “

جماعت اسلامی کا قیام

سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جمع ہوئے اور “جماعت اسلامی” قائم کی گئی۔ جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیاگیا۔

پہلی قید

تقسیم ہند کے بعد سید مودودی پاکستان آگئے۔ پاکستان میں قائد اعظم کے انتقال کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1948ء میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر آپ گرفتار ہو گئے۔ گرفتاری سے قبل جماعت کے اخبارات “کوثر”، جہان نو اور روزنامہ “تسنیم” بھی بند کردیے گئے۔

سید مودودی کو اسلامی نظام کا مطالبہ اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن الزام یہ دھرا گیا کہ وہ جہادِ کشمیر کے مخالف تھے۔ قرارداد مقاصد کی منظوری سے قبل اس کا متن بھی مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا تھا۔ انہیں 20 ماہ بعد 1950ء میں رہائی ملی۔

اپنی پہلی قید و بند کے دوران انہوں نے “مسئلہ ملکیت زمین” مرتب کی، “تفہیم القرآن” کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب “ابو داؤد” کا انڈکس تیارکیا، کتاب “سود” اور “اسلام اور جدید معاشی نظریات” مکمل کیں۔

قادیانی مسئلہ

1953ء میں سید مودودی نے “قادیانی مسئلہ” کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور پھرفوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنادیا۔ سزائے موت سنانے کے خلاف ملک کے علاوہ عالم اسلام میں بھی شدید ردعمل ہوا۔ جن میں مصر کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے رہنما علامہ حسن الہضیبی، کابل سے علامہ نور المشائخ المجددی، فلسطین کے مفتی اعظم الحاج محمد الحسینی کے علاوہ الجزائر اور انڈونیشیا کے علماء نے حکومت پاکستان سے رابطہ کرکے سید مودودی کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ شام کے دارالحکومت دمشق میں ان کی سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

بالآخر حکومت نے سزائے موت کو 14 سال سزائے قید میں تبدیل کردیا۔ تاہم وہ مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک زندان میں رہے اور بالآخر عدالتِ عالیہ کے ایک حکم کے تحت رہا ہوئے۔

فتنۂ انکار حدیث

1958ء میں مارشل لاء کے نفاذ کی سخت مخالفت کرنے کے بعد اس وقت کے صدر ایوب خان نے سید مودودی کی کتاب “ضبط ولادت” کو ضبط کرلیا اور ایوبی دور میں ہی فتنۂ انکار حدیث نے سر اٹھایا اور حکومتی سر پرستی میں ایسا طبقہ سامنے آیا جس کا کہنا تھا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں حتیٰ کہ مغربی پاکستان کی عدالت کے ایک جج نے حدیث کے بارے میں شک ظاہر کرتے ہوئے اسے سند ماننے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر سید مودودی نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو دلائل سے ثابت کرتے ہوئے دونوں کو اسلامی قانون کا سرچشمہ قرار دیا۔ انہوں نے فتنہ انکارِ حدیث کے خلاف اپنے رسالے “ترجمان القرآن” کا “منصب رسالت نمبر” بھی شائع کیا۔

قاتلانہ حملہ

مارشل لاء اٹھنے کے بعد اکتوبر 1963ء میں سید مودودی نے جماعت اسلامی کا سالانہ جلسہ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایوب خاں کی حکومت نے اس کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی اور منٹو پارک کی بجائے بھاٹی دروازے کے باہر تنگ جگہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی۔ بعد ازاں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا گیا۔ 25 اکتوبر کو جلسہ شروع ہوا۔ سید مودودی نے تقریر شروع ہی کی تھی جلسہ گاہ میں موجود نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کی جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا تاہم مودودی بچ گئے۔

جماعت پر پابندی

ایوب خاں نے 6 جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ سید مودودی اور جماعت اسلامی کے 65 رہنماؤں کو گرفتار کر کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس قید کا دورانیہ 9 ماہ رہا جس کے بعد انہیں عدالیہ عظمیٰ کے فیصلے پر رہا کردیا گیا۔

دوبارہ گرفتاری

1967ء میں عید کے چاند کے مسئلے پر شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں سید مودودی کو پھر گرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا گیا۔

یومِ شوکت اسلام

مشرقی پاکستان کے اشتراکی رہنما مولانا بھاشانی نے یکم جون 1970ء کو پورے ملک میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے اعلان کیا تب سید مودودی نے اسلام کی عظمت و شوکت کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے پورے ملک میں “یومِ شوکتِ اسلام” منانے کا اعلان کیا۔ اور 31 مئی 1970ء کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شوکتِ اسلام مظاہرہ ہوا اور سینکڑوں جلوس نکالے گئے۔

سقوط ڈھاکہ

جب مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی تو بھارت نے باغیوں کی مدد کے لیے مشرقی پاکستان پر کھلم کھلا حملہ کردیا۔ اس وقت سید مودودی اور جماعت اسلامی نے ملک بچانے کے لیے بھارتی فوجوں، ہندوؤں اور سوشلسٹوں کامقابلہ کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں لیکن ملک نہ بچ سکا اور بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ فوج نے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور تقریباً ایک لاکھ پاکستانی فوجی اور شہری بھارت کی قید میں چلے گئے۔ بالآخر 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

امارت سے علیحدگی

سید مودودی مسلسل خرابی صحت کی بنا پر 4 نومبر 1972ء کو جماعت اسلامی کی امارت سے علیحدہ ہوگئے۔ وہ 26 اگست 1941ء کو امیر جماعت مقرر ہوئے تھے اور قیدو بند کے وقفہ کے علاوہ 31 سال 2 ماہ اور8 دن تک جماعت کی امارت پر فائز رہے۔

تفہیم القرآن

امارت سے علیحدگی کے بعد انہوں نے تمام تر توجہ تصنیف و تالیف کے کام خصوصاً تفہیم القرآن کی طباعت اور توسیع اشاعت پر مرکوز کردی۔ چودہویں صدی ہجری میں اس عظیم کتاب کی تالیف نے اس صدی کو یادگار بنا دیا، اس عظیم علمی خدمت کو مسلمانوں کی تاریخِ علم و ادب کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔ اس کتاب نے لوگوں کی زندگیوں کےرخ بدل دیے، یہ وہاں تک پہنچی جہاں تک سید مودودی کی دیگر تصانیف نہ پہنچ سکتی تھیں۔اس نے جدید طبقے کو بھی مسخر کیا اور قدیم طبقے نے بھی اقامت دین کا سبق اس کتاب سے سیکھا ہے۔

بیرونی سفر

1956ء سے 1974ء تک کے عرصے میں آپ نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا۔ اپنے متعدد دوروں کے دوران انہوں نے قاہرہ، دمشق، عمان، مکہ، مدینہ، جدہ، کویت، رباط، استنبول، لندن، نیویارک، ٹورنٹو کے علاوہ کئی بین الاقوامی مراکز میں لیکچر دیے۔ انہی سالوں میں آپ نے 10عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1959ء اور 1960ء میں قرآن پاک میں مذکور مقامات کی جغرافیائی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کےلیے سعودی عرب، اردن، (بشمول یروشلم) شام اور مصر کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں مدعو کیا گیا۔ آپ 1962ء سے اس جامعہ کے قیام تک اس کی اکیڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ رابطہ عالم اسلامی کی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ اور اکیڈمی آف ریسرچ آن اسلامک لاء مدینہ کے بھی رکن تھے۔

آپ کی تصنیفات کا عربی، انگریزی، فارسی، ترکی، بنگالی، جرمن، فرانسیسی، ہندی، جاپانی، سواحلی، تامل، تیلگو سمیت 22 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ جبکہ مدینہ یونیورسٹی، ریاض، سوڈان، مصر اور دیگر کئی ممالک میں سید مودودی کی کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ ہیں۔

انتقال

1979ء میں سید مودودی کے گردے اور قلب میں تکلیف ہوئی جس کے علاج کے لیے آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ گئے جہاں ان کے صاحبزادے بطور معالج برسر روزگار تھے۔

آپ کے چند آپریشن بھی ہوئےمگر 22 ستمبر 1979ء کو 76 برس کی عمر آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کاپہلا جنازہ بفیلو، ریاست نیویارک میں پڑھا گیا اور پھرآپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں آپ کا جنازہ قطر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، سابق صدر اخوان المسلمون شام علامہ یوسف القرضاوی نے پڑھایا۔

تصنیفات

* تفہیم القرآن (6 جلدیں)
* تفہیمات (5 جلدیں)
* رسائل و مسائل (5 جلدیں)
* سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (2 جلدیں)
* پردہ
* الجہاد فی الاسلام
* تنقیحات
* مسئلہ قومیت
* خطبات
* دینیات
* شہادت حق
* دین حق
* سلامتی کا راستہ
* بناؤ اور بگاڑ
* اسلام اور جاہلیت
* اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر
* تحریک اسلامی: کامیابی کی شرائط
* اسلام کا نظام حیات
* اسلام کا سرچشمہ قوت
* سنت کی آئینی حیثیت
* اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی
* خلافت و ملوکیت
* حقوق الزوجین
* سود
* معاشیات اسلام
* اسلام اور ضبط ولادت
* شرکت و مضاربت کے چند شرعی اصول
* مسئلہ ملکیت زمین
* ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
* اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر
* قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں
* تجدید و احیائے دین
* تعلیمات
* سانحہ مسجد اقصی
* اسلامی کا نظریہ سیاسی
* اسلامی سیاست
* خطبات یورپ
* خطبات حرم

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »