محفوظات برائے 'شخصیات' زمرہ


جان ایف کینیڈی

جان فزجیرالڈ کینیڈی المعروف جان ایف کینیڈی یا جے ایف کے (پیدائش: 29 مئی 1917ء، وفات: 22 نومبر 1963ء) ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 35 ویں صدر تھے۔ وہ 1961ء سے 1963ء میں اپنے قتل تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے کم عمر ترین اور واحد رومن کیتھولک صدر تھے۔

ان کا قتل بھی آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں لی ہاروے اوسوالڈ نامی ایک شخص نے قتل کیا جبکہ عوام سمجھتے ہیں کہ انہیں امریکی حکومت نے قتل کرایا۔

کینیڈی ایک امیر اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

امریکہ کے شہر نیویارک کا ہوائی اڈہ انہی کے نام سے “جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ” کہلاتا ہے۔

عمر مختار

عمر مختار (عربی: عمر المختار) لیبیا پر اطالوی قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت کے معروف رہنما تھے۔ وہ 1862ء میں جنزور نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1912ء میں لیبیا پر اٹلی کے قبضے کے خلاف اگلے 20 سال تک تحریک مزاحمت کی قیادت کی۔

اطالوی حملہ

اکتوبر 1911ء میں اٹلی کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر پہنچے۔ اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے مطالبہ کیا کہ لیبیا ہتھیار ڈال دے بصورت دیگر شہر تباہ کردیا جائے گا۔ حالانکہ لیبیائی باشندوں نے شہر خالی کردیا لیکن اٹلی نے ہر صورت حملہ کرنا تھا اور انہوں نے تین دن تک طرابلس پر بمباری کی اور اس پر قبضہ کرلیا۔ یہیں سے اطالوی قابضوں اور عمر مختیار کی زیر قیادت لیبیائی فوجوں کے درمیان جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

گوریلا جنگ

عمر مختار جو معلم قرآن تھے صحرائی علاقوں سے بخوبی واقف تھے اور وہاں لڑنے کی حکمت عملیوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ انہوں نے علاقائی جغرافیہ کے بارے میں اپنی معلومات کا اطالوی فوجوں کے خلاف بھرپور استعمال کیا۔ وہ اکثر و بیشتر چھوٹی ٹولیوں میں اطالویوں پر حملے کرتے اور پھر صحرائی علاقے میں غائب ہوجاتے۔ ان کی افواج چوکیوں، فوجی قافلوں کو نشانہ بناتی اور رسد اور مواصلات کی گزرگاہوں کو کاٹتی۔

عقوبت گاہیں

عمر مختار کی زیر قیادت مزاحمتی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے اطالویوں نے نئی چال چلی اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو عقوبت گاہوں میں بند کردیا۔ ان عقوبت گاہوں کا مقصد یہ تھا کہ مزید لیبیائی باشندوں کو عمر مختار کی مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے سے روکا جائے۔ ان کیمپوں میں ایک لاکھ 25 ہزار باشندے قید تھے جن میں سے دو تہائی شہید ہوگئے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی تحریک رکی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ملک اور عوام کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد جاری رکھی۔

گرفتاری و شہادت

عمر مختار کی 20 سالہ جدوجہد اس وقت خاتمے کو پہنچی جب وہ ایک جنگ میں زخمی ہوکر اطالویوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔

اس وقت ان کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی اور اس کے باوجود انہیں بھاری زنجیروں سے باندھا گیا اور پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یا تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں تلاوت کرتے۔

ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنادی گئی۔ تاریخ دان اور دانشور ان پر عائد مقدمے اور عدالت کی غیر جانبداری کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے “انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا۔

انہیں 16 ستمبر 1931ء کو سرعام پھانسی دے دی گئی کیونکہ اطالوی عدالت کا حکم تھا کہ عمر مختار کو پیروکاروں کے سامنے سزائے موت دی جائے۔

صحرا کا شیر

آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی ووڈ نے 1981ء میں ان کی زندگی پر ایک فلم “The Lion of Desert” یعنی “صحرا کا شیر” بنائی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفٰی العقاد تھے۔ فلم میں عمر مختار کا کردار انتھونی کوئن نے ادا کیا۔

مراد ہوف مین

مراد ہوف مین (پیدائش:1931ء) 1987ء سے 1994ء کے درمیان الجزائر اور مراکش میں جرمنی کے سفیر تھے اور اس سے پہلے برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر اطلاعات تھے۔ انہوں نے 1980ء میں اسلام قبول کیا۔ انہوں نے یونین کالج نیویارک سے تعلیم حاصل کی اور پھر میونخ سے جرمن قانون میں ایم اے اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ اسلام پر ان کی کتابوں میں “سفر مکہ”، اور “اسلام: ایک متبادل” مشہور ہیں۔ مراد ہوف مین یورپ اور شمالی امریکہ میں اکثر سفر کرتے رہتے ہیں۔

اب وہ ترکی میں رہائش پذیر ہیں۔

حمزہ یوسف

شیخ حمزہ یوسف ہینسن (پیدائش 1960ء، ولاولا، واشنگٹن میں بطور مارک ہینسن) کو مغرب میں نفیس ترین مسلم علماء میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ان کی پرورش شمالی کیلی فورنیا میں ایک بنیاد پرست یونانی عیسائی خاندان میں ہوئی۔ 1977ء میں ہینسن 17 سال کی عمر میں سانتا باربرا، کیلی فورنیا میں مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک میں چار سال حصول علم میں گزارے۔ پھر انہوں نے مغربی افریقہ کا سفر اختیار کیا اور کئی سال تک ماریطانیہ، الجزائر اور مراکش میں بہت سے علماء سے علم حاصل کرتے رہے۔ بیرونی ممالک میں حصول تعلیم کے اس دس سالہ سفر کے بعد وہ واپس امریکہ آگئے اور امپیریل ویلی کالج سے نرسنگ اور سان ہوزے اسٹیٹ یونیورسٹی سے دینیات میں ڈگریاں حاصل کیں۔

1996ءمیں ہانسن نے ہے ورڈ، کیلی فورنیا میں زیتونہ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اسلامی علوم کا احیاءاور روایتی طریقہ ہائے تدریس کو محفوظ کرنا ہے۔ مختلف ممالک کے بہت سے مشہور علماء نے مختلف اسلامی مضامین کی تدریس کے لیے ان کو اجازت دے رکھی ہے۔ وہ اسلامی روحانیت اور زمانی مسائل پر لیکچر دینے کے لیے دنیا بھر کا سفر کرچکے ہیں۔ ہینسن عربی کی بہت سی نابغہ روزگار کتب کا ترجمہ کرچکے ہیں اور فی الوقت ہے ورڈ، کیلی فورنیا میں ایک اسلامی مدرسہ قائم کرنے کی کوشش کی نگرانی کررہے ہیں۔

انگریزی اور عربی کے یہ بہترین مقرر مشرق وسطی میں اعلیٰ ترین درجے کی ٹیلی ویژن سیریز “حمزہ یوسف کے ساتھ سفر” کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ ڈیووس میں عالمی معاشی فورم پر بین الاقوامی رہنماﺅں کو مشاورت فراہم کرتے ہوئے وہ اسلام اور مغرب کے مابین پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔

ان کی گفتگو ہزاروں نوجوان مسلمانوں کے لیے باعث کشش ہے اور وہ 11 ستمبر 2001ء کے بعد سے قرآن پاک اور اسلامی روایات میں موجود رحم و کرم اورخدمت کے پیغام کی طرف پلٹنے کا پیغام دینے والی آوازوں میں سے نمایاں ہیں۔

وہ مراکش کی قدیم اور معتبر ترین “جامعہ قیروان”، فاس میں درس دینے والے پہلے امریکی ہیں۔

وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے 5 بیٹے ہیں۔

الحاج مفتی اعظم امین الحسینی

پیدائش: 1893ء

وفات : 1974ء

عرب مذہبی و سیاسی قائد۔ یروشلم میں پیدا ہوئے۔ ازہر یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1917ء میں یروشلم میں قائم شدہ عرب تحریک میں شامل ہوئے ۔ اس کا مقصد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کو روکنا تھا۔ اپریل 1920ء میں ‌یہودیوں کے خلاف فسادات برپا کرنے کی پاداش میں دس سال قید سخت کی سزا ہوئی۔ لیکن وہ اردن فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اگلے سال عام معافی کا اعلان ہوا تو یروشلم واپس آگئے اور ہائی کمشنر کے حکم پر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعدازاں مفتی اعظم کا لقب اختیار کیا۔ اور فلسطینی عربوں کے قائد بن گئے۔

دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں لبنان سے فرار ہو کر عراق پہنچے اور رشید گیلانی کی ناکام بغاوت میں اہم کردار ادا کیا۔ عراق سے فرار ہو کر برلن گئے جہاں ہٹلر نے انہیں عرب بیورو کے قیام کی اجازت دے دی۔ جرمنی کی شکست کے بعد مصر میں پناہ لی اور عرب لیگ کی قائم کردہ فلسطینی عربوں کی کمیٹی کے صدر بنائے گئے۔ 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عرب نیشنل گارڈ کی کمان کی۔ 1951ء میں عالمی مسلم کانفرنس منعقدہ کراچی اور 1952ء میں علمائے اسلام کانفرنس (کراچی) کی صدارت کی۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان کا بھی دورہ کیا اور وانا میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔ احمد زئی اور محسود علماء نے مفتی اعظم کو کشمیر میں بھارتی فوج سے چھینی گئی ایک رائفل بطور تحفہ پیش کی۔ 1967ء میں ایک مرتبہ پھر کراچی تشریف لائے۔

مفتی اعظم کی تجویز پر ہی مولانا محمد علی جوہر کو بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔ آخری عمر میں سیاست سے کنارہ کش ہوگئے تھے۔ بیروت میں انتقال کیا۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »