محفوظات برائے 'متفرق مضامین' زمرہ


ترجمان القرآن

ترجمان القرآن پاکستان سے شائع ہونے والا ایک مذہبی رسالہ ہے جسے جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی نے نکالا تھا۔ ترجمان کا پہلا شمارہ محرم الحرام 1352ھ بمطابق مئی 1933ء میں شائع ہوا۔

خصوصیات

مولانا مودودی نے اس شمارے کے پہلے اداریے میں ان خیالات کا اظہار کیا “پیش نظر کام قرآن مجید کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرنا اور اس کے حقائق و معارف کو اس سیدھے سادے طریقے سے سمجھانا ہے جس طرح قرن اول کے سچے مسلمان سمجھتے اور سمجھاتے تھے”۔

ترجمان القرآن نے علمی و عقلی بنیادوں پر اسلام کے تصور کو اجاگر کیا، عصر جدید کے تقاضوں کے مطابق مسائل زندگی کا حل پیش کیا اور اسلام کو ایک نظام زندگی کے طور پر واضح کیا۔ سید مودودی کے بعد عبدالحمید صدیقی اور نعیم صدیقی نے اسے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 90ء کے عشرے میں خرم مراد نے اس کی ادارت کی۔ 1997ء سے پروفیسر خورشید احمد اس کے مدیر ہیں۔

تاریخ

یہ رسالہ مئی 1933ء میں اپنی اشاعت کے آغاز سے جون 1947ء تک مسلسل چھپتا رہا لیکن جون 47ء سے مئی 1948ء تک اشاعت میں تعطل پیدا ہوگیا جس کی وجہ تقسیم برصغیر تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اکتوبر 1948ء تا جولائی 1949ء تک ایک مرتبہ پھر اشاعت میں رکاوٹ پیدا ہوئی جس کی وجہ سید مودودی کی گرفتاری اور حکومت پنجاب کی جانب سے ڈیکلیریئشن میں رکاوٹ تھی۔

مارچ تا مئی 1954ء میں ڈیکلیریئشن کی منسوخی کے باعث بھی ترجمان شائع نہ ہوسکا۔ اس کے بعد مئی تا جون 1964ء میں ایران پر مولانا خلیل احمد حامدی کے مضمون کی اشاعت کی بنا پر ترجمان پر پابندی عائد کردی گئی تاہم اس کے بعد سے یہ مسلسل آج تک شائع ہورہا ہے۔

موضوعات

ترجمان میں ان موضوعات پر تحاریر ہوتی ہیں:

* پیغام قرآنی، ارشادات سیرت نبوی
* دل، روح اور اخلاق کے تزکیے کا سامان
* ایمان، عبادت، اخلاق، آداب
* معیشت، سیاست، معاشرت
* دور حاضر میں اسلامی زندگی کی تشکیل
* فقہ و اجتہاد کے مباحث
* مسلم دنیا، سیاست عالم، پاکستان
* امت کا مشن اور دعوت
* عالمی اسلامی تحریک
* رسائل و مسائل
* کتابوں پر تبصرے و دیگر

ایف-35 لائیٹننگ

ایف-35 لائٹننگ (F-35 Lightning) دفاعی ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی تعاون کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 21 ویں صدی کے اس جدید ترین لڑاکا طیارے پر تحقیق اور تیاری کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 272 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے ۔

تیاری

ایف 35، جسے عرفِ عام میں “جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر (Joint Strike Fighter)” بھی کہا جاتا ہے، کے منصوبے میں برطانیہ، اٹلی، نیدرلینڈز، ترکی، کینیڈا، آسٹریلیا، ڈنمارک اور ناروے شریک ہیں۔

تازہ ترین تخمینے کے مطابق فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے طیارے کی قیمت 45 ملین جبکہ بحریہ کے لیے بنائے جانے والے طیارے کی قیمت 60 ملین امریکی ڈالر ہو گی۔ اس طیارے کے ٹھیکے کے لیے دو بڑی امریکی طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے درمیان پانچ سال تک سخت کشمکش جاری رہی لیکن بالآخر پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ پروٹوٹائپ ایکس۔35 کو امریکی فضائیہ، بحریہ اور میرین کور کے لیے منتخب کر لیا جسے اب ایف۔ 35 کہا جاتا ہے۔

خصوصیات

اس طیارے کی خاص بات اس میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس کی عمودی پرواز اور لینڈنگ کی صلاحیت ہے۔ یہ امریکی فضائیہ میں ایف 16 اور اے-10 تھنڈربولٹ جبکہ امریکی بحریہ اور میرین کور میں ایف-18 اور ہیریئر جمپ لڑاکا طیاروں کی جگہ لے گا۔ اس طیارے میں جدید ترین ریڈار، ایویونکس اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹم نصب ہیں اور یہ نہ صرف دورِ حاضر بلکہ مستقبل میں تیار کیے جانے والے مہلک روایتی ہتھیار، کروز میزائل اور گائیڈڈ بم بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عام معلومات

پیمائش

* عملہ : 1
* لمبائی : 15.37 میٹر / 50.6 فٹ
* پر کی لمبائی : 10.65 میٹر / 35 فٹ
* اونچائی : 5.28 میٹر / 17.4 فٹ
* وزن : 12 ٹن

کارکردگی

* رفتار : ماک 1.8
* حد : 2222 کلومیٹر

یہودی

یہودی (جمع: یہود) یہودیت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں جو قدیم بنی اسرائیل کی اولاد ہیں۔ دنیا بھر میں یہودیوں کی موجودہ تعداد کا مکمل اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا تاہم ان کی تعداد 12 سے 14 ملین کے درمیان ہے جن کی اکثریت امریکہ اور اسرائیل میں رہائش پذیر ہے۔

تاریخ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق کے بھی دو بیٹے تھے ایک حضرت یعقوب علیہ السلام اور ایک حضرت عیسو۔ عیسو پیغمبر نہیں تھے جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام پیغمبر تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام “یہودہ” تھا۔ “یہودی” کا لفظ اسی سے ہے۔ دراصل حضرت عیسی علیہ السلام تک جتنے بھی پیغمبر آئے وہ سارے کے سارے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے تھے اور حضرت یعقوب کا لقب تھا “اسرائیل”۔ اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ یہی بنی اسرائیل یعنی اسرائیل کی اولاد “یہودی” کہلائے۔ ان کا مذہب اسلام ہی تھا بنی اسرائیل جب بھی دین کے معاملے میں انحراف کا شکار ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر بھیجے۔ چنانچہ حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسی، حضرت ہارون، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت دانیال، حضرت عزیر، حضرت یحیی، حضرت زکریا علیہم السلام سب بنی اسرائیل ہی کے نبی تھے اور یہودی ان سب انبیاء کو مانتے ہیں۔ البتہ وہ بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام اور تمام پیغمبروں کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے۔ اور ابھی تک آخری پیغمبر کے انتظار میں ہیں۔ وہ آخری نجات دہندہ کی پیش گوئی آسمانی کتاب میں پاتے ہیں وہ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اس طرح یہودی تورات (Old Testament) کے تمام آسمانی صحائف کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں لیکن انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے۔

عرب

عرب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہنے والا نسلی گروہ ہے جس کی زبان عربی ہے۔

قرآن، توریت اور بائبل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزادے سام کی اولاد میں سے ہیں۔

طبقات

عربوں کو تین طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

1. عرب بائدہ
2. عرب عاربہ
3. عرب مستعربہ

عرب بائدہ

یہ عرب کے وہ پرانے باشندے ہیں جن کا اب نام و نشان نہیں رہا۔ ان میں عاد ، ثمود ، جدیس ، طلسم ، عملاق ، اُ میم ، جُرہم ، اور جاسم شامل ہیں ۔ ان میں سے اکثر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔

عرب عاربہ

یہ یمن اور اس کے قرب و جوار کے باشندے ہیں اور بنو قحطان کہلاتے ہیں ۔ بنو جرہم اور بنو یعرب انہی کی شاخیں ہیں ۔ بنو یعرب میں سے عبدِ شمس جو سبائی کے نام سے مشہور ہے یمن کے تمام قبیلوں کا جد امجد ہے ۔ اسی نے یمن کا مشہور شہر معارب بسایا تھا اور وہاں تین پہاڑیوں کے درمیان ایک بہت بڑا بند باندھا تھا ۔ اس بند میں بہت سے چشموں کا پانی آ کر جما ہوتا تھا جس سے بلند مقامات کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔

یہ بند کچھ مدت بعد کمزور ہو کر ٹوٹ گیا تھا جس سے سارے ملک میں بہت بڑا سیلاب آ گیا تھا اس سیلاب کا ذکر قرآن کریم میں بھی آ یا ہے اور عرب کی کہانیوں اور شعروں میں بھی جا بجا موجود ہے۔اس سیلاب سے تباہ ہو کر یمن کے اکثر خاندان دوسرے مختلف مقامات پر جا بسے تھے۔

عرب مستعربہ

یہ حجاز اور نجد وغیرہ کے باشندے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہیں ۔ان میں بہت سے قبیلے ہیں جن میں ، ربیعہ اور مُضَر مشہور ہیں۔ مُضَر ہی کی ایک شاخ قریش بھی ہے جس میں نبی عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تعلق ہے۔عربِ مستعربہ کو ، بنو عدنان بھی کہتے ہیں۔

عرب کون؟

اسلام میں اس امر کی تشریح تو نہیں کی گئی کہ عرب کون ہے تاہم قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:

“کسی عربی کو عجمی (غیر عرب) پر برتری حاصل نہیں لیکن تقویٰ کی بدولت” حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث سے علم ہوتا ہے کہ وہ شخص عربی ہے جو عربی زبان بولتا ہے۔

جینیاتی طور پر عربی وہ شخص ہے جس کے آباؤ اجداد جزیرہ نما عرب یا صحرائے شام میں رہتے تھے۔

سیاسی طور پر وہ شخص عربی کہلاتا ہے جو کسی ایسے ملک کا باشندہ ہے جہاں عربی قومی زبان ہے یا ملک عرب لیگ کا رکن ہے۔

مذہب

عربوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے اور عیسائی اقلیت میں ہیں جبکہ عرب یہودی بھی پائے جاتے ہیں۔ عرب مسلمان سنی، شیعہ، علوی اسماعیلی اور دیگر فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرب عیسائی مشرق گرجوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں کوپٹک، میرونائٹ، گریک آرتھوڈوکس اور گریک کیتھولک شامل ہیں۔

ظہور اسلام سے قبل اکثر عرب بت پرستی کرتے تھے اور ان کے بڑے بتوں میں ہبل، لات، منات اور عزی شامل تھے۔ چند قبائل عیسائیت اور یہودیت کو مانتے تھے تاہم چند حنفی بھی تھے جو توحید کے قائل تھے۔

آجکل عربوں کی اکثریت سنی اسلام کو مانتی ہے اور شیعہ بحرین، جنوبی عراق، سعودی عرب سے ملحق علاقوں، جنوبی لبنان، شام کے علاقوں، شمالی یمن، جنوبی ایران اور اومان کے باطنی علاقوں میں ہیں۔

انگریز

انگلستان کے رہائشی یا انگریزی زبان بولنے والے انگریز کہلاتے ہیں۔ انگریزوں کی سب سے بڑی واحد آبادی برطانیہ عظمیٰ کے آئینی ملک انگلستان میں رہائش پذیر ہے۔

معروف شخصیات

انگریزی میں کئی معروف شخصیات گذریں ہیں جن میں آئزک نیوٹن، فرانسس کرک، ابراہم ڈیربی، مائیکل فراڈے، چارلس ڈارون اور فرینک وٹل، شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر، ناول نگار جین آسٹن، چارلس ڈکنز اور جارج اورویل، موسیقار ایڈورڈ ایلگر اور گستاف ہولسٹ، جہاز راں جیمز کوک اور فلسفی فرانسس بیکن، جون لوک، تھامس ہوبس، تھامس پین، جیرمی بینٹہیم، جان اسٹورٹ مل، برٹرینڈ رسل، مائیکل اوکشوٹ اور راجر اسکروٹن شامل ہیں۔

زبان

انگریز روایتی طور پر انگریزی زبان بولتے ہیں جو مغربی جرمنک زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ انگلستان اور ویلز کے سرحدی علاقوں اور عظیم لندن میں ویلش زبان بھی بولی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر زبانوں میں کورنش زبان بھی بولی جاتی ہے۔ 19 ویں میں نو آبادیاتی دور میں سلطنت برطانیہ کے عظیم پھیلاؤ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے بطور سپر پاور ابھرنے کے باعث انگریزی کاروبار، سائنس، مواصلات، ہوا بازی اور سفارت کاری کی عالمی زبان بن گئی۔ یہ دنیا بھر کے تقریباً 350 ملین افراد کی مادری زبان ہے جبکہ 150 ملین سے ڈیڑھ ارب افراد ثانوی زبان کے طور پر انگریزی بول سکتے ہیں۔

مذہب

16 ویں صدی میں رومن کیتھولک چرچ سے علیحدگی کے بعد سے انگریزوں کی عمومی اکثریت چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ رومن کیتھولک ازم اور میتھڈازم سے بھی وابستگی رکھتے ہیں۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق انگلستان اور ویلز کو 37 ملین عوام خود کو عیسائی قرار دیتے ہیں۔

17 ویں صدی میں یہودیوں کی ہجرت کے باعث یہودی انگریزوں کی بڑی تعداد بھی انگلستان اور ویلز میں موجود ہے۔ 2001ء کی آبادی کے مطابق انگلستان اور ویلز میں دو لاکھ 52 ہزار یہودی ہیں۔ یہ تعداد 50 سال قبل کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہے۔

1950ء کی دہائی میں پاکستان اور بھارت سے بڑی تعداد میں افراد کی انگلستان آمد سے یہاں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جن میں مسلمان 8 لاکھ 18 ہزار، ہندو 4 لاکھ 67 ہزار اور سکھ 3 لاکھ ایک ہزار ہیں۔

2001ء کی مردم شماری میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انگلستان کی کل آبادی کا 15 فیصد یعنی 71 لاکھ 71 ہزار 332 کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔

امتیازی نشان

انگلستان کے پرچم پر سفید پس منظر پر سرخ رنگ کی ایک صلیب بنی ہوئی ہے جسے سینٹ جارج کی صلیب کہا جاتا ہے۔ یہ نشان صلیبی جنگوں کے بعد اپنایا گیا۔

یہ پرچم انگلینڈ کی قومی فٹ بال اور کرکٹ ٹیمیں بھی استعمال کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ گلاب اور انگلش اوک بھی انگریزوں کے نشانات ہیں۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »