محفوظات برائے 'ممالک و شہر' زمرہ


بورڈیکس

بورڈیکس جنوب مغربی فرانس کا ایک ساحلی شہر ہے جس کی آبادی 1999ء کی مردم شماری کے مطابق 925،253 ہے۔

بورڈیکس شراب 8 ویں صدی سے اسی شہر کے گرد و نواح میں تیار کی جاتی ہے۔ اس شہر کو شراب کا عالمی دارالحکومت کہتے ہیں جو شراب کی صنعت کی سب سے بڑی عالمی تقریب Vinexpo کا میزبان ہے۔

علاوہ ازیں بورڈیکس عسکری، خلائی اور ہوا پیمائی کا تحقیقی و ساخت گری کا مرکز بھی ہے۔

یہ شہر 732ء میں اموی جرنیل عبدالرحمٰن الغافقی کے ہاتھوں فتح ہوا تاہم مسلمانوں کی یہ فتوحات زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئیں اور اسی سال 10 اکتوبر کو انہیں جنگ ٹورس میں شکست ہو گئی۔

جنگ 1870ء، جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم کے دوران فرانسیسی حکومت اس شہر سے دستبردار ہوئی تھی۔

تلمسان

تلمسان شمال مغربی الجزائر کا شہر اور صوبہ تلمسان کا دارالحکومت ہے۔ اس کی آبادی اندازاً ایک لاکھ 30 ہزار ہے۔ یہ ایسے خطے میں واقع ہے جو زیتون اور انگوروں کی کاشت کے حوالے سے سے جانا جاتا ہے۔ شہر میں چمڑے، قالین اور کپڑا تیار کرنے کی صنعتیں موجود ہیں جن کی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں۔

اپنی شاندار تاریخ کے باعث اس شہر میں عرب، بربر اور فرانسیسی ثقافتوں کا ملاپ نظر آتا ہے اور یہ ملاپ یہاں کے کپڑوں اور گھریلو مصنوعات میں صاف جھلکتا ہے۔ یہاں کا نسبتاً سرد موسم اسے الجزائر میں سیاحت کا مرکز بنا دیتا ہے۔

اس شہر کو 4ء میں رومیوں نے تعمیر کیا تھا جس کا نام پوماریا رکھا گیا۔ 708ء میں اسے عربوں نے فتح کرکے مسلم حکومت میں شامل کر لیا۔ آٹھویں اور نویں صدی میں یہ خارجیوں کا مرکز رہا۔ 11 ویں صدی میں موحدین کے زیر انتظام اس شہر سے شاندار ترقی کی۔

یہ شہر بنو عبدالوداد (زیانی خاندان) کا دارالحکومت تھا جو 1282ء میں قائم ہوئی اور 15 ویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچی۔ 16 ویں صدی میں یہ شہر ہسپانویوں کے حملوں کی زد میں آیا۔ تاہم ہسپانویں اور عثمانی ترکوں کے درمیان جنگوں میں سلطنت عثمانیہ کو فتح نصیب ہوئی اور 1553ء میں تلمسان سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں آگیا۔

1671ء میں یہ عثمانی سلطنت کے اثر سے باہر ہوگیا تاہم دارالحکومت کی حیثیت سے تلمسان کی حیثیت بھی ختم ہوگئی کیونکہ دارالحکومت الجزیرہ منتقل ہو گیا تھا۔

1834ء میں فرانس نے الجزائر پر قبضہ کرکے اسے اپنی نو آبادی بنا لیا۔ الجزائر کی آزادی کے عظیم رہنما عبدالقادر الجزائری نے ملک کی آزادی کے لیے جنگ لڑی لیکن 1844ء میں ان کی شکست سے آزادی کا خواب بکھر گیا۔

اجاکیو

اجاکیو (لاطینی: Ajax، فرانسیسی: Ajaccio، کورسیکن: Aiacciu) فرانس کا ایک قصبہ ہے جو جزیرہ کورسیکا اور ملحقہ جزائر پر مشتمل علاقے کا دارالحکومت ہے۔

یہ جزیرہ کورسیکا کے مغربی ساحلوں پر مارسیلز سے 210 بحری میل جنوب میں واقع ہے۔

دنیا کے مشہور فاتحین میں سے ایک نپولین بوناپارٹ اسی شہر میں 1769ء میں پیدا ہوا اور اس کی جائے پیدائش آج بھی یہاں کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

قونیہ

قونیہ ترکی کا ایک شہر ہے جو اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ 2000ء کے مطابق اس شہر کی آبادی 742690 تھی اور یہ صوبہ قونیہ کا دارالحکومت ہے جو رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔

تاریخ

رومی اس شہر کو اکونیم Iconium کہتے تھے۔ اس شہر پر 1071ء میں جنگ ملازکرد کے بعد سلجوقیوں کا قبضہ ہوگیا اور 1097ء سے 1243ء تک یہ سلاجقہ روم کا دارالحکومت رہا تاہم اس دوران صلیبی جنگوں کے باعث یہ عارضی طور پر عیسائیوں کے قبضے میں بھی رہا جن میں 1097ء میں گاڈفرے اور 1190ء میں فریڈرک باربروسا نے اس پر قبضہ کیا۔

قونیہ 1205ء سے 1239ء کے دوران اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب سلطان نے اناطولیہ، مشرق وسطی کے چند حصوں اور کریمیا پر بھی قبضہ کرلیا۔ 1219ء میں یہ شہر خوارزمشاہی سلطنت کے مہاجروں کی پناہ گاہ بنا جو منگولوں کے حملے اور خوارزم شاہ کی شکست کے بعد یہاں پہنچے۔ 1243ء میں قونیہ بھی منگولوں کے قبضے میں آگیا اور سلاجقہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

سلاجقہ روم کی حکومت کے خاتمے کے بعد قونیہ 1307ء سے 1322ء تک کرہ مانیوں کی امارت رہا۔ 1420ء میں عثمانیوں کے ہاتھوں فتح ہوا اور 1453ء میں اسے صوبہ کرہ مان کا دارالحکومت بنادیا گیا۔

تاریخی واقعات

* اس شہر میں صلاح الدین ایوبی اور عثمانی سلطان سلیم ثانی نے مساجد تعمیر کرائیں۔
* صوفی شاعر جلال الدین محمد رومی کا مزار بھی یہیں واقع ہے۔
* مشہور صوفی ابن عربی نے 1207ء میں اس وقت کے سلجوقی گورنر کی دعوت پر شہر کا دورہ کیا۔
* حضرت شاہ جلال 1271ء میں قونیہ میں پیدا ہوئے۔

ادرنہ

ادرنہ ترکی کے مغربی حصے میں تراقیا (تھریس) کے علاقے میں واقع شہر ہے ۔ اس شہر کی سرحدیں یونان اور بلغاریہ سے ملتی ہیں اور یہ ترکی کے یورپی حصے ميں واقع ہے۔ انگریزی زبان میں اس شہر کو پہلی جنگ عظیم تک ایڈریانوپل (Adrianople) کہا جاتا تھا۔ ادرنہ ترکی کے صوبہ ادرنہ کا صدر مقام ہے اور 2002ء کے مطابق اس شہر کی آبادی اندازاً 128،400 ہے۔

اس شہر کو 1360ء میں عثمانی سلطان مراد اول نے فتح کیا اور بعد ازاں دارالحکومت قرار دیا۔ یہ 1365ء سے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ تک عثمانی سلطنت کا دارالخلافہ رہا۔

اس شہر پر 1829ء میں یونانی جنگ آزادی کے دوران روس نے، 1878ء میں بلغاریہ کی آزادی کی جنگ کے دوران بلغاریہ اور 1920ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں یونان نے قبضہ کرلیا تھا۔

ادرنہ مغربی دنیا کے لئے “بابِ ترکی” کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ یورپ کی جانب سے ترکی آتے ہوئے پہلا شہر ہے۔ یہ یونان کی سرحد سے محض 7 اور بلغاریہ کی سرحد سے 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔

یہ خوبصورت شہر اپنی مساجد کے باعث مشہور ہے۔ جن میں سب سے مشہور سلیمیہ مسجد ہے جسے ترکی کے عظیم ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا نے 1575ء میں تعمیر کیا۔ اس مسجد کے مینار ترکی میں سب سے بلند ہیں جن کی بلندی 70.9 میٹر ہے۔ اس مسجد کا نام عثمانی سلطان سلیم دوم کے نام پر مسجد سلیمیہ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ سلطان مراد ثانی کا تعمیر کردہ ادرنہ محل بھی قابل دید مقامات میں سے ایک ہے۔

فاتح قسطنطنیہ عثمانی سلطان محمد ثانی اسی شہر میں پیدا ہوئے جبکہ بہائی مذہب کے بانی بہاء اللہ بھی 1863ء سے 1868ء تک یہاں مقیم تھے۔

کلام اقبال میں ادرنہ کا ذکر

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام بانگ درا میں محاصرۂ ادرنہ نامی نظم میں اس شہر کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

يورپ ميں جس گھڑی حق و باطل کی چھڑ گئی

حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گيا

گرد صليب گرد قمر حلقہ زن ہوئی

شکری حصار درنہ ميں محصور ہو گيا

مسلم سپاہيوں کے ذخيرے ہوئے تمام

روئے اميد آنکھ سے مستور ہو گيا

آخر امير عسکر ترکی کے حکم سے

‘آئين جنگ’ شہر کا دستور ہوگيا

ہر شے ہوئی ذخيرہ لشکر ميں منتقل

شاہيں گدائے دانۂ عصفور ہو گيا

ليکن فقيہہ شہر نے جس دم سنی يہ بات

گرما کے مثل صاعقہ طور ہو گيا

ذمی کا مال لشکر مسلم پہ ہے حرام

فتویٰ تمام شہر ميں مشہور ہو گيا

چھوتی نہ تھی يہود و نصاریٰ کا مال فوج

مسلم ، خدا کے حکم سے مجبور ہوگيا

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »