محفوظات برائے 'ممالک و شہر' زمرہ


بیروت

بیروت لبنان کا دارالحکومت، عظیم ترین شہر اور اہم بندرگاہ ہے۔ اس کی آبادی 938،940 اور 1،303،129 سے 2،012،000 کے درمیان ہے۔ شہر کی اصل آبادی کا علم اس لئے نہیں کیونکہ 1932ء کے بعد سے لبنان میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔

تاریخ

بیروت علاقے کا سابق تجارتی مرکز ہے اور اسے لبنان کی خانہ جنگی سے قبل یہ شہر “مشرق وسطی کا پیرس” کہلاتا تھا۔ 2006ء میں اسرائیل کی شہر پر بمباری اور 2005ء میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے باوجود حالیہ سالوں میں تعمیر نو کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

بین الاقوامی اہمیت

شہر میں کئی بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر ہیں جن میں اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA) کا صدر دفتر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی انجمن برائے محنت کشاں (ILO) اور اقوام متحدہ کی انجمن برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (UNESCO) کے علاقائی دفاتر بھی بیروت میں واقع ہیں جو عرب دنیا کا احاطہ کرتے ہیں۔

جڑواں شہر

* پیرس، فرانس
* یریوان، آرمینیا

ممبئی

ممبئی (مراٹھی : मुंबई)، سابقہ بمبئی، بھارت کی ریاست مہاراشٹر کا دارالحکومت ہے۔ تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ کی آبادی کا حامل یہ شہر آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اپنے مضافاتی علاقوں نوی ممبئی اور تھانے کو ملا کر یہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا شہری علاقہ بناتا ہے جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بنتی ہے۔ ممبئی بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور ایک گہری قدرتی بندرگاہ کا حامل ہے۔ بھارت کی نصف سے زائد بحری تجارت ممبئی کی بندرگاہ سے ہوتی ہے۔

یہ شہر تیسری صدی قبل مسیح میں سلطنت موریہ نے سات جزائر پر ہندو و بدھ ثقافت کے مرکز کی حیثیت سے قائم کیا۔ بعد ازاں یہ جزائر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہے اور بالآخر سلطنت برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر نگیں آئے جس نے ان سب کو ملا کر بمبئی کا نام دیا۔ 18 ویں صدی کے وسط میں یہ ایک اہم تجارتی قصبے کی حیثیت سے ابھرا۔ 19 ویں صدی میں اقتصادی و تعلیمی سرگرمیوں نے شہر کو شناخت بخشی۔ 20 ویں صدی کے دوران یہ بھارت کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم مرکز رہا اور ستیہ گڑھی تحریک اور بحریہ کی بغاوت یہیں سے سے پھوٹیں۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد شہر کر ریاست بمبئی کا حصہ بنایا گیا تھا۔ 1960ء میں ایک تحریک کے بعد مہاراشٹر کی نئی ریاست تشکیل دی گئی اور بمبئی کو اس کا دارالحکومت بنایا گیا۔ 1996ء میں شہر کا نام بدل کر ممبئی کر دیا گیا۔

ممبئی بھارت کا تجارتی و تفریحی مرکز ہے جو بھارت کے کل جی ڈی پی کا 5 فیصد پیدا کرتا ہے اور 25 فیصد صنعتی پیداوار، 40 فیصد بحری تجارت اور 70 فیصد سرمایہ کی لین دین کے ذریعے بھارت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممبئی اہم مالیاتی اداروں کا مرکز بھی ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا، بمبئی اسٹاک ایکسچینج، نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا اور کئی بھارتی و کثیر القومی اداروں کے دفاتر اسی شہر میں واقع ہیں۔ شہر میں ہندی فلموں اور ٹیلی وژن صنعت کا مرکز بھی واقع ہے جو “بالی ووڈ” کہلاتا ہے۔ ممبئی میں کاروبار کے وسیع مواقع اور بہتر طرز رہائش اسے بھارت بھر کے لیے لوگوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں اور یوں یہ شہر مختلف طبقات اور ثقافتوں کا مرکز بن چکا ہے۔

سنکیانگ

سنکیانگ (انگریزی: Xinjiang، چینی: 新疆) عوامی جمہوریۂ چین کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔ یہ ایک وسیع علاقہ ہے تاہم اس کی آبادی بہت کم ہے سنکیانگ کی سرحدیں جنوب میں تبت اور، جنوب مشرق میں چنگھائی اور گانسو کے صوبوں، مشرق میں منگولیا، شمال میں روس اور مغرب میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں۔ اکسائی چن کا علاقہ بھی سنکیانگ میں شامل ہے جسے بھارت جموں و کشمیر کا حصہ سمجھتا ہے۔

مانچو زبان میں سنکیانگ کا مطلب “نیا صوبہ” ہے، یہ نام اسے چنگ دور میں دیا گیا۔ یہاں ترکی النسل باشندوں کی اکثریت ہے جو اویغور کہلاتے ہیں۔ جو تقریباً تمام مسلمان ہیں۔ یہ علاقہ چینی ترکستان یا مشرقی ترکستان بھی کہلاتا ہے۔

صوبے کا دارالحکومت ارومچی ہے جبکہ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔

نگورنو کاراباخ

نگورنو کاراباخ جنوبی قفقاز میں ایک آزاد جمہوریہ ہے جو باضابطہ طور پر جمہوریہ آذربائیجان کا حصہ ہے اور دارالحکومت باکو سے 270 کلو میٹر (170 میل) مغرب میں اور آرمینیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

یہ علاقہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 1918ء میں روسی سلطنت سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ جنوبی قفقاز میں سوویت توسیع کے بعد 1923ء میں نگورنو کاراباخ کے علاقے کو آذربائیجان کا علاقہ بنادیا گیا۔ 10 دسمبر 1991ء کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کاراباخ میں ریفرنڈم کروایا گیا جس میں وہاں کے عوام نے آذربائیجان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تاہم اسے کسی عالمی تنظیم اور آرمینیا سمیت کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔

اس مسئلے پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے جسے “نگورونو کاراباخ جنگ” کہا جاتا ہے۔

متحدہ عرب جمہوریہ

متحدہ عرب جمہوریہ (عربی: الجمهورية العربية المتحدة) 1958ء میں مصر اور شام کے اتحاد سے طے پانے والی ریاست تھی۔ یہ 1961ء میں شام کے علیحدہ ہونے تک قائم رہی تاہم مصر 1971ء تک اس نام کو استعمال کرتا رہا۔

1956ء میں سوئز بحران کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی مقبولیت اور عرب قوم پرستی کے خیالات سے متاثر ہو شام کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کے ایک گروہ نے دونوں ممالک کے اتحاد کی تجویز پیش کی جس پر یکم فروری 1958ء کو عملدرآمد کیا گیا۔

دونوں ممالک کے صدور جمال عبدالناصر اور شکری القوتلی نے مصر و شام میں ریفرنڈم کے بعد 22 فروری 1958ء کو اتحاد کے معاہدے پر دستخط کئے۔ صدر ناصر کو اس نئی جمہوریہ کا صدر منتخب کیا گیا جبکہ قاہرہ دارالحکومت قرار پایا۔ ایک نیا وفاقی آئین بھی تشکیل دیا گیا۔

عرب جمہوریہ کا پرچم پر دو ستارے دونوں ریاستوں کی نمائندگی کرتے رہے۔ یہ پرچم آج بھی شام استعمال کرتا ہے جبکہ عراق میں اسی قسم کا پرچم استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس میں تین ستارے ہیں۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »