محفوظات برائے 'پاکستان' زمرہ


پورٹ ٹاور کمپلیکس

پورٹ ٹاور کمپلیکس پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں تعمیرات کا ایک عظیم منصوبہ ہے۔ اس مجوزہ بلند عمارت کی بلندی 1947 فٹ ہوگی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اس منصوبے کے لئے 20 ارب روپے خرچ کرے گا جبکہ اس میں بیرونی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔

یہ عمارت 6 سال کے عرصے میں تعمیر ہوگی۔ اس میں ایک ہوٹل، ایک شاپنگ سینٹر اور ایک ایکسپو سینٹر موجود ہوگا۔ کراچی کی بلند عمارات میں اس اضافے کی سب سے اہم خاصیت اس کا متحرک ریستوران ہوگا جس کی بدولت شہر اور ساحل کا دلکش نظارہ دیکھا جاسکے گا۔

یہ ٹاور کلفٹن کے ساحل پر تعمیر ہوگا۔ تعمیر مکمل ہونے کی صورت میں یہ پاکستان کی بلند ترین اور برج دبئی کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت ہوگی۔

اس وقت پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور ہے۔

ایم سی بی ٹاور

ایم سی بی ٹاور کراچی میں قائم ایک بلند عمارت ہے جسے پاکستان کی بلند ترین عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ ایم سی بی بینک لمیٹڈ کا صدر دفتر ہے۔ یہ عمارت 2005ء میں مکمل ہوئی اور حبیب بینک پلازہ کا 4 دہائیوں تک پاکستان کی بلند ترین عمارت رہنے کا ریکارڈ توڑدیا۔

عمارت کی کل بلندی 116 میٹر ہے جبکہ منزلوں کی تعداد 29 ہے۔

یہ عمارت “پاکستان کی وال اسٹریٹ ” آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم ہے۔

حبیب بینک پلازہ

حبیب بینک پلازہ پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک بلند عمارت ہے جسے 1963ء سے 2003ء تک پاکستان کی بلند ترین عمارت کا درجہ حاصل رہا۔ یہ حبیب بینک کا صدر دفتر ہے۔ یہ 4 دہائیوں تک پاکستان کی بلند ترین عمارت رہی اور 2005ء میں ایم سی بی ٹاور نے اس کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ اس وقت یہ ایم سی بی ٹاور کے بعد ملک کی دوسری بلند ترین عمارت ہے۔ شہری حکومت نے عمارت کو 40 منزلوں تک کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے ماہر تعمیرات لیو اے ڈيلی تھے جبکہ تعمیراتی کام ایس محبوب اینڈ کمپنی نے انجام دیا۔

22 منزلہ حبیب بینک پلازہ 1963ء میں مکمل ہوا۔ اس کی کل بلندی انٹینا سمیت 101 میٹر اور چھت تک 95.5 میٹر ہے۔

یہ عمارت “پاکستان کی وال اسٹریٹ ” آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم ہے۔

حبیب بینک پلازہ میں رویت ہلال کمیٹی کا دفتر بھی واقع ہے اور ہر ماہ اسلامی مہینے کا چاند دیکھنے کے لئے تقریب اس کی چھت پر منعقد ہوتی ہے۔

جناح بین الاقوامی ہوا گاہ

جناح بین الاقوامی ہواگاہ یا جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ (Jinnah International Airport) (سابقہ “قائد اعظم بین الاقوامی ہوائی اڈہ“) پاکستان کا سب سے بڑا بین الاقوامی و قومی ہوائی اڈہ ہے۔ یہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ہے۔ مقامی باشندوں میں یہ جناح ٹرمینل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا نام قائد اعظم محمد علی جناح پر رکھا گیا ہے۔

تاریخ

1940ء کی دہائی میں کراچی ہوائی اڈہ کی موجودہ جگہ پر کالا چھپرا ہوتا تھا۔ یہ سیاہ رنگ کا ایک بڑا ہینگر تھا جسے برطانیہ کے آر 101 ایئرشپ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ دنیا میں آر 101 ایئرشپ کے لئے صرف تین ہینگر تیار کئے گئے جس میں سے ایک کراچی میں تیار ہوا لیکن بدقسمتی سے آر 101 طیارہ کراچی نہیں آسکا اور فرانس میں اپنے سفر کے دوران تباہ ہوگیا۔

1960ء کی دہائی میں صدر ایوب خان نے اسے ختم کرنے کا حکم دیا اور پاکستان کے فضائی ورثے کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔

1960ء سے 1980ء کی دہائی تک کراچی خطے کا مصروف ترین ہوائی اڈہ تھا جہاں برٹش ایئر ویز، لفتھانسا، انٹر فلگ، ٹیروم، الاطالیہ، جے اے ٹی، یوگوسلاویہ ایئر لائنز، ایرو فلوٹ، فلپائن ایئرلائنز، نائجیریا ایئرلائنز، ایتھوپین ایئرلائنز، ایجپٹ ایئر، ایسٹ افریقن ایئر ویز، کینیا ایئرویز، یمنیا، ایران ایئر، ایئر فرانس، کنٹاس، کے ایل ایم، پین ایم، ایم ای اے، سوئس ایئر، ایس اے ایس اور کویت ایئر ویز سمیت دنیا کے معروف ترین فضائی اداروں کے جہاز خدمات مہیا کرتے تھے۔ 1990ء کی دہائی میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کے ہوائی اڈے کے عالمی افق پر نمودار ہونے کے باعث کئی معروف فضائی اداروں نے کراچی کے لئے خدمات فراہم کرنا بند کردیں۔

گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں مضبوط معیشت کے باعث کئی فضائی ادارے ایک مرتبہ پھر کراچی لوٹ رہے ہیں جن میں کیتھے پیسفک اور سنگاپور ایئرلائنز قابل ذکر ہیں۔

جناح انٹرنیشنل کمپلیکس

جناح ٹرمینل کے 16 دروازے ہیں اور یہ بیک وقت 30 طیاروں کو خدمات مہیا کرسکتا ہے۔ ہر سال 60 لاکھ مسافر اس ٹرمینل کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ہوائی اڈے پر سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔

جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ قیام پاکستان سے آج تک پاکستان میں ہوابازی کی سب سے بڑی تنصیب ہے۔ یہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کا صدر دفتر ہے۔ پاکستان کی دیگر تمام نجی فضائی کمپنیوں کا مرکز بھی یہی ہے جن میں ایئر بلیو اور شاہین ایئر شامل ہیں۔

اصفہانی ہینگر

پی آئی اے کے طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کا اکثر کام بھی جناح بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر قائم اصفہانی ہینگر پر ہوتا ہے۔ یہ بیک وقت دو بوئنگ 747 اور ایک بوئنگ 737 کو سنبھالنے کی گنجائش رکھتا ہے۔

15 فروری 2006ء کو اصفہانی ہینگر میں بوئنگ 777 طیارے کی مرمت کا کام انجام دے کر پاکستان میں نئی تاریخ رقم کی گئی۔

پی آئی اے اپنے طیاروں کے علاوہ فلپائن ایئر لائنز اور ترک ایئرلائنز کے طیاروں کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے۔

فضائی ادارے

* ایئر بلیو
* ایئر چائنا
* بیمان بنگلہ دیش ایئر لائنز
* کیتھے پیسفک
* الامارات
* اتحاد ایئر ویز
* گلف ایئر
* ایران ایئر
* ملائشیا ایئر لائنز
* پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز
* فونکس ایوی ایشن
* قطر ایئر ویز
* سعودی عرب ایئر لائنز
* شاہین ایئر
* سنگاپور ایئرلائنز
* سری لنکن ایئرلائنز
* تھائی ایئرویز انٹرنیشنل
* ترکش ایئر لائنز

مال بردار فضائی ادارے

* عسکری ایوی ایشن
* اٹلس ایئر
* کارگو لکس
* ڈولفن ایئر
* ڈی ایچ ایل کارگو
* پاکستان انٹرنیشنل کارگو
* فونکس ایوی ایشن
* ٹی سی ایس کوریئر
* رائل ایئرلائنز کارگو
* شاہین ایئرانٹرنیشنل
* اسٹار ایئر

چارٹر ادارے

* جے ایس ایئر
* رائل ایئرلائنز
* شون ایئر

اہم واقعات

* 5 ستمبر 1986ء کو پین ایم کا بوئنگ 747 فلائٹ 73 کراچی ہوائی اڈہ پر اغوا ہوگیا۔ جس کے دوران 20 مسافر مارے گئے۔

سکھر

سکھر پاکستان کے صوبہ سندھ کا تیسرا سب سےبڑا شہر ہے جو ضلع سکھر میں دریائے سندھ کےمغربی کنارے پر واقع ہے۔ سکھر عربی زبان کےلفظ سقر سے نکلا ہےجس کا مطلب سخت یا شدید کے ہیں۔ 10 ویں صدی عیسوی میں عربوں نےسندھ فتح کیا تو سکھر میں انہوں نےشدید گرم و سرد موسم کا سامنا کیا جس پر اسے سقر کا نام دیا گیا اور یہی لفظ مقامی زبان میں بگڑ کر سکھر بن گیا۔ سکھر کو درياءَ ڏنو (دریا ڈنو) یا دریا کا تحفہ بھی کہا جاتا ہے۔ سکھر صوبہ سندھ کا وسطی شہر ہے۔

اعدادوشمار

سکھر کی آبادی اندازا 10 لاکھ سے زيادہ ہے۔ سکھر کی 4 تحصیلوں سکھر، روہڑی، صالح پٹ اور پنو عاقل ہیں جن کا رقبہ و آبادی درج ذیل ہے۔
آبادی رقبہ تحصیل
374,178 274 سکھر
224,362 1319 روہڑی
245,187 1233 پنو عاقل
64,646 2339 صالح پٹ

سكهر شھر کا کل رقبہ 5165 مربع کلو ميٹر ھے۔ ضلع سکھر کے شمال میں گھوٹکی اور شکارپور، مغرب میں شکارپور اور خیرپور، جنوب میں خیرپور اور مشرق میں گھوٹکی واقع ہے۔

1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع سكهر کی آبادی 9لاکھ 8ہزار تھی۔ 1981ء سے 1998ء تک آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.88 رہی۔

سکھر کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اور ضلع کی آبادی کے 96.13 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب97.30 فیصد اور شہری علاقوں میں 95.01 فیصد ہے۔ سب سے بڑی اقلیت ہندو برادری ہے جو کل ضلع کی آبادی کا 3.18 فیصد ہیں۔ دیہی علاقوں میں ہندو 2.29 فیصد اور شہری علاقوں میں 4.04 فیصد ہیں۔ عیسائیوں کی شرح 0.51 فیصد ہے۔ ان کے علاوہ قادیانی و دیگر اقلیتیں بھی موجود ہیں۔

1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی اکثریت کی مادری زبان سندھی ہے جبکہ دوسری بڑی زبان اردو ہے۔ ضلع کی کل آبادی کے 74.07 فیصد افراد سندھی بولتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں 92.01 فیصد اور شہری علاقوں میں 56.74 فیصد افراد کی مادری زبان سندھی ہے۔ ضلع کی کل آبادی کا 13.82 فیصد اردو بولتا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب صرف 1.71 فیصد ہے۔ شہری علاقوں کی 25.53 فیصد آبادی اردو بولتی ہے۔ ان کے علاوہ 6.63 فیصد افراد پنجابی، 1.53 فیصد افراد پشتو، 1.47 فیصد افراد بلوچی، 0.99 فیصد افراد سرائیکی اور 1.49فیصد افراد دیگر زبانیں بولتے ہیں۔

سکھر کا شرح خواندگی 46.62 فیصد ہے۔ جن میں مردوں کا تناسب 59.83 فیصد اور عورتوں کا 31.22 فیصد ہے۔

آبی ذخائر

دريا ئے سندھ سكهر کے شمال مغربی حصے ميں بہتا ہے۔ یہ سكهر اور روہڑی کے شہروں کے درمیان سے گزرتا ہے جہاں سکھر بیراج قائم ہے۔ دریا کے وسط میں بکھر کا جزیرہ بھی ہے۔

موسم

سكهر کا موسم خشک اور گرم لیکن کافی ہوادار ھے. گرم موسم اپريل سے شروع ہوکر اکتوبر تک جاری رہتا ہے. موسم گرما میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ موسم سرما میں درجہ حرارت 9 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔

0.59 سے 25.62 ملی میٹر سالانہ بارش ہوتی ہے۔ ضلع بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 88 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

نباتات

ضلع کی نباتات کا زيادہ تر حصہ جڑی بوٹيوں پر مشتمل ھے جو کہ صوبے بھر ميں بھی عام ہیں۔ ضلع کے پودوں ميں کچھ نقوش ھيں جو يہاں کہ خشک موسم اور سيم اور تھور سے آلودہ مٹی کے آئينہ دار ہيں۔ يہاں پر گھاس پھونس اور درختوں کے علاوہ دیگر پودوں کی کمی ہے۔ ان پودوں ميں “سار” اہم ہے جو دريا کے ساتھ اور نہروں سے نکلنے والی شاخوں کے اطراف کثرت سے پايا جاتا ہے۔ درختوں میں نيم اور بيد مشک بھی پائے جاتے ہيں۔ ’اک’ بھی ايسا پودا ھے جو نسبتاَ کم زرخيز مٹی ميں اگتا ہے۔

جنگلی حیات

کچھ عرصہ پہلے تک سکھر جنگلی حيات سے بھرا پڑا تھا۔ خصوصا پرانے مقبرے اور پہاڑی غار چمگادڑوں کی آماجگاہيں تھیں۔ آبادی میں اضافے اور پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ جنگلی حيات بالکل معدوم ہوگئی ہيں۔ گيدڑ بھی يہاں پر خاصی تعداد ميں ہیں جبکہ لگڑ بھگڑ شاذونادر ہی نظر آتے ہيں۔ ان کے علاوہ لومڑياں، نیولے، چھوٹے ہرن اور خرگوش بھی پائے جاتے ہیں۔

پرندوں ميں پائريج جنگلی علاقوں میں عام پایا جاتا ہے جبکہ سارس اور کونجیں گندم کے کھیتوں میں عام نظر آتے ہیں۔

زراعت

سکھر کی معیشت کا تمام تر انحصار زراعت پر اور زراعت کا تمام تر انحصار دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والی نہروں پر ہے۔ دریائے سندھ سکھر سے گزرنے والے واحد دریا ہے۔

ضلع میں کاشت کی جانے والی خريف کی اہم فصلوں ميں چاول، باجرہ، کپاس اور مونگ شامل ھيں. ربيع کے موسم ميں گندم، چنے مٹر وغیرہ اگائے جاتے ہیں۔

مویشی

اچھی نسل والی بھينسيں ، گائيں ضلع بھر ميں موجود ہیں۔ پنوعاقل گھوڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ 1996ء کے مطابق ضلع میں ایک لاکھ 70 ہزار 517 بھینسیں، 56 ہزار 218 بھیڑیں، 2 لاکھ 72 ہزار 172 بکریاں، 6 ہزار 781 اونٹ، 4 ہزار 541 گھوڑے، 690 گدھے، 15 ہزار 482 خچر اور 4 لاکھ 17 ہزار 662 پالتو جانور ہیں۔

صنعت و حرفت

سکھر کی بڑی صنعتوں ميں کپاس کی صنعت، سيمنٹ، چمڑا، تمباکو، سگريٹ، رنگ، دوائيں، زرعی اوزار، نلکوں و تالوں کی صنعت، چينی، بسکٹ وغيرہ قابل ذکر ہیں۔

دوسری چھوٹی صنعتوں ميں دهاگہ برتن اور دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ صنعتوں کی زیادہ تعداد تحصیل سكهر ميں ہے جبکہ سیمنٹ فيکٹری پنو عاقل ميں ہے۔ ان کے علاوہ چھوٹی صنعتيں ضلع کے مختلف علاقوں ميں ہیں جن میں پرنٹنگ، کشتی سازی، مچھلی کی ڈور اور پلاسٹک وغیرہ شامل ہیں۔

معدنیات

ضلع سکھر معدنيات کی دولت سے مالامال نہيں۔ نمک اور پتھر يہاں پائی جانے والی دو معدنيات ہیں۔ سکھر اور روہڑی ميں پتھر کی بھٹياں ھيں ان سے حاصل ہونے والا پتھر سڑکوں کی تعمير ميں استعمال ہوتا ہے۔

تجارت

سكهر شہر صوبہ سندھ کے اہم تجارتی مراکز ميں سے ايک ہے۔ یہاں کی اہم تجارتي اشيا ميں آٹا، سيمنٹ ،تمباکو ،سگريٹ ، ادویات، زرعي اوزار، چمڑے کی اشيا، کپڑاوغیرہ شامل ہیں۔ سكهر بلوچستان اور افغانستان کے خشک میوہ جات کے لئے تجارتی مرکز مانا جاتا ہے۔ سكهر شھر بسکٹ اور اچار کے لئے بھی مشہور ہے۔

ذرائع آمدورفت

آمدورفت ميں سڑکیں اور ريل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سکھر شہر بذریعہ کراچی تا پشاور قومی شاہراہ کے راستے پر ہے اور اسی کے ذریعے یہ ملک کے دیگر شہروں سے جڑا ہوا ہے۔ سکھر سے کوئٹہ جانے کے لئے جیکب آباد کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

ضلع کی سڑکوں کی کل لمبائی 523.71 کلومیٹر ہے۔ جبکہ کچی سڑکوں کی لمبائی630.07 کلومیٹر ہے۔ روہڑی ریلوے جنکشن ہے جو کراچی-پشاور مين ريلوے لائن پر قائم ہے۔

سكهر فضائی رابطے کے ذریعے بھی کراچی اور دیگر شہروں سے منسلک ہے۔ سكهر ميں نيا ايئرپورٹ ٹرمينل بھی تعمیر کیا گيا ہے۔ سكهر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ میں کشتیوں اور چھوٹے بحری جھازوں کے ذریعے بھی سفر کیا جاتا ہے۔

خاص تاریخی مقامات

1. اروڑ
2. روہڑي
3. بکھر کا جزيرا
4. لینس ڈاؤن پل
5. ايوب پل
6. معصوم شاھ کا مینار
7. مسجد منزل گاہ
8. سکھر بیراج

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »