انگریزی

انگریزی (English) انگلستان سمیت دنیا بھر میں بولی جانے والی ایک وسیع زبان ہے جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

مادری زبان کے طور پر دنیا کی سب سے بڑی زبان جدید چینی ہے جسے 700 ملین افراد بولتے ہیں، اس کے بعد انگریزی ہے جو اکثر لوگ ثانوی یا رابطے کی زبان کے طور پر بولتے ہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوگئی ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 354 ملین افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جبکہ ثانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولنے والوں کی تعداد 150 ملین سے ڈیڑھ ارب کے درمیان ہے۔

انگریزی مواصلات، تعلیم، کاروبار، ہوا بازی، تفریح، سفارت کاری اور انٹرنیٹ میں سب سے برتر بین الاقوامی زبان ہے۔ یہ 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک اس کی باضابطہ زبانوں میں سے ایک ہے۔

انگریزی بنیادی طور پر مغربی جرمینک زبان ہے جو قدیم انگلش سے بنی ہے۔ سلطنت برطانیہ کی سرحدوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ یہ زبان بھی انگلستان سے نکل کر امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سمیت دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی اور آج برطانیہ یا امریکہ کی سابق نوآبادیوں میں سے اکثر میں یہ سرکاری زبان ہے جن میں پاکستان، گھانا، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقہ، کینیا، یوگینڈا اور فلپائن بھی شامل ہیں۔

سلطنت برطانیہ کی وسیع سرحدوں کے باوجود انگریزی 20 ویں صدی تک دنیا میں رابطے کی زبان نہیں تھی بلکہ اسے یہ مقام دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی فتح اور دنیا بھر میں امریکی ثقافت کی ترویج کے ذریعے حاصل ہوا خصوصاً ذرائع مواصلات میں تیزی سے ترقی انگریزی کی ترقی کا باعث بنی۔

روشنیروز بچتی وقت

روشنیروز بچتی وقت یا دھوپ بچاؤ وقت (Daylight saving time / DST) کو موسم گرما کا وقت بھی کہا جاتا ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے۔ عام طور پر اس میں بہار، موسم گرما کے لئے مقامی وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھادیا جاتا ہے۔

جن ممالک میں یہ نظام رائج ہے وہاں کی حکومتیں اسے “توانائی کی حفاظت” کے لئے ایک اقدام ٹھہراتی ہیں۔

اس کا خیال 1784ء میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بانیوں میں سے ایک بینجمن فرینکلن سے پیش کیا۔

اس پر پہلی بار پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے عملدرآمد کیا اور 30 اپریل 1916ء سے یکم اکتوبر 1916ء کے درمیان پہلی بار گڑھیاں ایک گھنٹہ آگے کی گئیں۔ اس کے فورا بعد برطانیہ نے 21 مئی سے یکم اکتوبر 1916ء تک اسے اپنایا۔ 19 مارچ 1918ء کو امریکی کانگریس نے امریکہ میں دھوپ بچاؤ وقت کی منظوری دی۔

پاکستان نے 2002ء میں دھوپ بچاؤ وقت کو آزمایا تاہم پھر اسے کچھ عرصے کے لیے موقوف کر دیا گیا۔ 15 اپریل 2009ء کو ملک میں ایک مرتبہ پھر اسے آزمایا گیا۔ ابتدائی طور پر اسے 30 ستمبر تک جاری رہنا تھا لیکن بعد ازاں اس میں ایک ماہ کی توسیع کر کے 31 اکتوبر تک کر دیا گیا۔

دنیا کا آٹھواں عجوبہ

دنیا میں قائم چند تعمیرات کو ان کی انفرادیت کےباعث ”دنیا کا آٹھواں عجوبہ“ قرار دیا جاتا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل تعمیرات شامل ہیں :

قدیم انسانی تعمیرات

ماچو پیچو، پیرو

بینیو رائس ٹیرس، فلپائن

فوجیوں کی مٹی سےبنی مورتیاں، ژیان، چین

کیتھرائن پیلس کا امبر روم، سینٹ پیٹرز برگ، روس

سینٹ لارنس کی خانقاہ، اسکورل، اسپین

ایاصوفیہ، قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) ترکی

پتھر تراش کر بنائےگئےگرجا گھر، لالیبیلا، ایتھوپیا

شگریا، سری لنکا

بعد از 1900ءکی انسانی تعمیرات

ہوسٹن ایسٹروڈوم، ہوسٹن، ٹیکساس، امریکا

گیٹ وے آرک، سینٹ لوئس، میسوری، امریکا

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، نیویارک، امریکا

جزائر نخیل، دبئی، متحدہ عرب امارات

نہر پاناما، پاناما

اکشردھم مندر، نئی دہلی، بھارت

سڈنی اوپیرا ہاؤس، سڈنی، آسٹریلیا

دریائےٹیمز کی سیلابی رکاوٹیں، لندن، برطانیہ

ویسٹ بیڈن اسپرنگس ہوٹل، ویسٹ بیڈن، انڈیانا، امریکا

سامی یوسف

سامی یوسف یا سمیع یوسف برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک گلوکار اور موسیقار ہیں۔ وہ جولائی 1980ء میں ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو موسیقی سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔

سامی نے بچپن سے ہی موسیقی کے مختلف آلات کو استعمال کرنا شروع کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ گلوکاری اور موسیقی ترتیب دینے میں ان کا رحجان بڑھتا چلا گیا۔ انہوں نے موسیقی کے دنیا کے معروف ترین ادارے رائل اکیڈمی آف میوزک لندن کے اساتذہ سمیت کئی معروف موسیقاروں سے تربیت حاصل کی۔ وہ مشرق وسطیٰ کی موسیقی کے انداز مقام کی مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

وہ ایک عملی مسلمان ہیں اور اپنی حمد و نعت اور گانوں کے ذریعے اسلام کا آفاقی پیغام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا پہلا البم 2003ء میں المعلم اور دوسرا البم 2005ء میں میری امت (My Ummah) کے نام سے جاری ہوا۔

ان کا پہلا البم المعلم انتہائی مقبول ہوا جس کی ایک لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں جبکہ دوسرے البم My Ummah نے بھی کافی مقبولیت سمیٹی لیکن اس کی فروخت کے اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں کیے گئے۔

سمیع یوسف برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آذربائیجان، سعودی عرب، سوڈان، جرمنی، مصر، کویت، متحدہ عرب امارات، فرانس، سویڈن، ہالینڈ، ترکی، آسٹریا، شام، یمن، اردن، بیلجیم، قطر اور دیگر ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

المعلم

المعلم میں مندرجہ ذیل نغمات شامل ہیں:

* المعلم
* غارِ حرا
* اللہ ہو
* خالق
* یا مصطفیٰ
* محبوب کون؟
* تفکر
* التجا

My Ummah

* میری امت
* حسبی ربی
* یا رسول اللہ
* مت رو
* محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)
* دعا کرو
* نغمۂ عید
* آزادی
* مناجات
* ماں (عربی)
* ہم کبھی گردن نہیں جھکائیں گے
* دعا
* ماں (ترکی)

زین الدین یزید زیدان

زین الدین یزید زیدان (انگریزی:Zinedine Zidane) (پیدائش: 23 جون 1972ء) المعروف زیزو فرانس کے مشہور فٹ بالر تھے جنہوں نے یوونٹس اور ریال میڈرڈ سمیت 4 فٹ بال کلبوں کی بھی نمائندگی کی۔ انہوں نے دو عالمی کپ ٹورنامنٹس میں فرانس کی نمائندگی کی جن میں 1998ء کا عالمی کپ بھی شامل ہے جس میں فرانس نے عالمی چیمپین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ علاوہ ازیں تین یورپی چیمپین شپس میں بھی ملکی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا جس میں سے 2000ء میں فرانس براعظمی چیمپین بنا تھا۔

زیدان 23 جون 1972ء کو فرانس کے ساحلی شہر مارسے (Marseille)میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین اسماعیل اور ملکہ کا بنیادی الجزائر سے تھا جو ہجرت کرکے فرانس آئے تھے۔ زیدان فرانس اور الجزائر دونوں ممالک کی شہریت کے حامل ہیں۔

زیدان نے اس وقت عالمی افق زبردست شہرت حاصل کی جب انہوں نے 1998ء کے ورلڈ کپ میں برازیل کے خلاف ہیڈر کے ذریعے دو گول کیے اور ملک کو تاریخ میں پہلی بار عالمی چیمپین بنا دیا۔ انہوں نے یورو 2000ء میں بھی ملک کو براعظمی فاتح بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلب سطح پر انہوں نے یوونٹس اور ریال میڈرڈ کی جانب سے بالترتیب اٹلی اور اسپین کی قومی چیمپین شپ جیتیں۔2006ء کے ورلڈ کپ کے اختتام پر انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جس پر انہیں گولڈن بال ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی زیر قیادت فرانسیسی ٹیم عالمی کپ کے فائنل میں پہنچی تاہم اطالوی حریف پر قابو نہ پا سکی۔ زیدان کے اس آخری میچ میں ان کے کیریر کا اختتام انتہائی افسوسناک انداز میں ہوا جب انہوں نے اطالوی دفاعی کھلاڑی مارکو میٹرازی کے سینے پر ٹکر مار کر انہیں زمین پر گرا دیا اور ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے باعث میدان بدر کر دیے گئے۔

زیدان نے تین مرتبہ (1998ء، 2000ء، 2003ء میں) فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز جیتتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کیا جبکہ وہ تین مرتبہ (1997ء، 2002ء، 2006ء میں) اس فہرست کے اولین تین کھلاڑیوں میں بھی شامل رہے۔ وہ 1998ء میں یورپین فٹ بالر آف دی ایئر بھی قرار پائے۔ 2001ء میں ان کی ریال میڈرڈ منتقلی کے لیے ادا کی گئی 66 ملین یورو (87 ملین امریکی ڈالرز، 47 ملین پاؤنڈز) کی رقم اب تک کا عالمی ریکارڈ ہے۔ 2004ء میں یوئیفا گولڈن جوبلی پول میں انہیں گذشتہ 50 سالوں کا بہترین یورپی کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ وہ عظیم برازیلی فٹ بالر پیلے کی 125 عظیم زندہ فٹ بالرز کی درجہ بندی “فیفا 100″ میں بھی شامل تھے۔

زیدان نے عالمی فٹبال کپ 2006ء کے بعد پیشہ ورانہ فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

« گزشتہ صفحہاگلا صفحہ »